ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام مل گیا، مگر کیسے؟
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔
ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن وینزویلا والوں کے لیے تاریخی دن ہے۔ یہ مرِیا کورینا مَچاڈو کی صدر ٹرمپ سے پہلی ملاقات ہے۔‘
یہ ملاقات امریکہ کی جانب سے ویزنویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس سے حراست میں لے کر امریکہ لائے جانے کے دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے تروتھ سوشل پر ایک بیان میں مَچاڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ’باہمی احترام کا ایک شاندار مظاہرہ‘ ہے۔
تاہم امریکی صدر مَچاڈو کی وینزویلا کے نئے رہنما کے طور پر حمایت نہیں کر رہے۔ مَچاڈو کی جماعت وینزویلا کے سنہ 2024 انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔
اس کے بجائے ٹرمپ وینزویلا کی قائم مقام سربراہ ڈیلسی روڈریگز جو کہ مادورو کی نائب صدر تھیں کے ساتھ معاملات کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مَچاڈو سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ’حیرت انگیز خاتون‘ ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد مَچاڈو نے باہر موجود اپنے حامیوں سے ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہم صدر ٹرمپ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے صحافیوں سے انگریزی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔‘ انھوں نے اپنے اس اقدام کو ’ہماری آزادی کے ساتھ ان کی منفرد وابستگی کا اعتراف‘ قرار دیا۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایکس پر صدر ٹرمپ اور مَچاڈو کی تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا نوبل انعام کا تمغہ تھامے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔