آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام مل گیا، مگر کیسے؟

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آج کا دن وینزویلا والوں کے لیے تاریخی دن ہے۔‘

خلاصہ

  • وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔
  • گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے۔
  • حماس کے مطابق اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں ایک سینئر کمانڈر سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔
  • امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے
  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے
  • ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں‘

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام مل گیا، مگر کیسے؟

    وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔

    ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن وینزویلا والوں کے لیے تاریخی دن ہے۔ یہ مرِیا کورینا مَچاڈو کی صدر ٹرمپ سے پہلی ملاقات ہے۔‘

    یہ ملاقات امریکہ کی جانب سے ویزنویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس سے حراست میں لے کر امریکہ لائے جانے کے دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔

    ٹرمپ نے تروتھ سوشل پر ایک بیان میں مَچاڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ’باہمی احترام کا ایک شاندار مظاہرہ‘ ہے۔

    تاہم امریکی صدر مَچاڈو کی وینزویلا کے نئے رہنما کے طور پر حمایت نہیں کر رہے۔ مَچاڈو کی جماعت وینزویلا کے سنہ 2024 انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔

    اس کے بجائے ٹرمپ وینزویلا کی قائم مقام سربراہ ڈیلسی روڈریگز جو کہ مادورو کی نائب صدر تھیں کے ساتھ معاملات کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے مَچاڈو سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ’حیرت انگیز خاتون‘ ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد مَچاڈو نے باہر موجود اپنے حامیوں سے ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہم صدر ٹرمپ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے صحافیوں سے انگریزی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔‘ انھوں نے اپنے اس اقدام کو ’ہماری آزادی کے ساتھ ان کی منفرد وابستگی کا اعتراف‘ قرار دیا۔

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایکس پر صدر ٹرمپ اور مَچاڈو کی تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا نوبل انعام کا تمغہ تھامے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

  2. یورپی فوج کی گرین لینڈ آمد، ’دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی،‘ وائٹ ہاؤس

    گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے، جس میں جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو ’ریکنائسنس مشن‘ یعنی ’جائزہ لینے والا مشن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ابتدائی دستے کو جلد ہی زمینی، فضائی اور بحری اثاثوں کے ساتھ مزید مضبوط کیا جائے گا۔ فرانسیسی سفارتکار اولیویئر پووردآور نے اس مشن کو ایک سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی مشق ہے۔۔۔ ہم امریکہ کو دکھائیں گے کہ نیٹو موجود ہے۔‘

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ ’اگرچہ بات چیت تعمیری رہی، لیکن فریقین کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ برقرار ہے۔‘ انھوں نے صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کی کوشش پر بھی تنقید کی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیں تو ڈنمارک کچھ نہیں کر سکتا، لیکن ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپی فوجی دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی اور نہ ہی گرین لینڈ کے حصول کے ہدف کو متاثر کرے گی۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ان کا ملک گرین لینڈ میں یورپی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے وہاں فوجی مداخلت کی تو یہ ’سیاسی تباہی‘ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’نیٹو کے ایک رکن ملک کی سرزمین پر دوسرے رکن ملک کا قبضہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔‘

    روس کے سفارتخانے نے بیلجیم میں جاری بیان میں آرکٹک کی صورتحال پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا اور نیٹو پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو اور بیجنگ کے خطرے کے بہانے فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

  3. غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں حماس کے رہنما سمیت 10 افراد ہلاک

    حماس نے کہا ہے کہ اس کے عسکری ونگ کے ایک سینئر کمانڈر جمعرات کو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اسرائیلی فوج نے تاحال اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ حماس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں محمد الحولی شامل ہیں، جو دیر البلح میں عسکری ونگ کے کمانڈر تھے۔

    مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ ’القدس بریگیڈز‘ کے کمانڈر اشرف الخطیب بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    حماس نے الحولی خاندان کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، بلکہ اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکے۔

    فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے میں عمارتیں مسمار کر کے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، جہاں اب 20 لاکھ سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے منگل کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔

  4. ٹرمپ کا مظاہرین کی سزائے موت رکنے کا خیرمقدم، ’حکومت کا مظاہرین کو سزائے موت دینے کا ارادہ نہیں،‘ ایرانی وزیرِ خارجہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ عرفان سلطانی نامی نوجوان پر عائد الزامات سزائے موت کے زمرے میں نہیں آتے۔

    امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’اچھی خبر‘ قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرتا ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت اقدام‘ کرے گا۔

    دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا ایسے افراد کو جو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے باعث گرفتار ہوئے ہیں سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

    گزشتہ روز ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا تھا کہ ’عرفان سلطانی‘ کو تاحال سزائے موت نہیں سنائی گئی۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’10 جنوری کو بدامنی کے دوران عرفان سلطانی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع، سازش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘

    مزید بتایا گیا کہ وہ اس وقت کرج سینٹرل جیل میں زیرِ حراست ہیں۔

    جمعرات کے روز ایرانی عدلیہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ ’اگر ان کے (عرفان سلطانی) خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور کسی عدالت سے قانونی فیصلہ جاری ہوتا ہے تو قانون میں اس جرم کی سزا قید ہے۔ ایسے الزامات کے لیے سزائے موت کا قانون موجود نہیں۔‘

    واضے رہے کہ اس سے قبل عرفان سلطانی کے ایک رشتہ دار نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ ’انتہائی تیز رفتار کارروائی میں صرف دو دن کے اندر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور خاندان کو بتایا گیا کہ انھیں 14 جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔‘

  5. غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان: ’20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے،‘ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے اراکین کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم یہ بات پوری یقین دہانی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ تاریخ کے کسی بھی دور اور کسی بھی مقام پر تشکیل دیا جانے والا سب سے عظیم اور باوقار بورڈ ہے۔‘

    اسی بیان اور بورڈ آف پیس کے قام سے متعلق بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں اس بورڈ سے متعلق کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے اعلان کے مطابق، غزہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے میں باضابطہ طور پر داخل ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’جنگ بندی کے بعد ٹیم نے غزہ میں انسانی امداد کی ریکارڈ سطح پر ترسیل کو یقینی بنایا ہے، جو شہریوں تک تاریخی رفتار اور پیمانے کے ساتھ پہنچی۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اس کامیابی کو بے مثال قرار دیا ہے۔ یہی نتائج اس نئے مرحلے کی بنیاد بنے ہیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بطور چیئرمین ’بورڈ آف پیس‘، ایک نئی فلسطینی تکنیکی حکومت ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کی حمایت کی جا رہی ہے، جسے بورڈ کے ہائی ریپریزنٹیٹو کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ فلسطینی قیادت امن کے مستقبل کے لیے پر عزم ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مصر، ترکی اور قطر کی حمایت سے حماس کے ساتھ ایک جامع غیر عسکری معاہدہ طے کیا جائے گا ہے، جس میں تمام ہتھیاروں کی حوالگی اور ہر سرنگ کے خاتمے کو شامل کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے پیغام کے آخر پر کہا کہ ’حماس کو فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، جس میں اسرائیل کو آخری لاش کی واپسی اور مکمل غیر عسکری ہونا شامل ہے۔‘

  6. خاران میں مسلح افراد کا حملہ، تھانے سے قیدیوں کو بھی چھڑوا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران کے مرکزی شہر میں جمعرات کے روز مسلح افراد کی بڑی تعداد داخل ہوئی اور شہر کے مختلف حصوں میں حملے کیے۔ مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا اور سرکاری و نجی بینکوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شہر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تھانے کی گاڑیوں اور اسلحے کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ اسلحہ حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلکار کے مطابق حملہ آور حوالات میں موجود زیرِ سماعت قیدیوں کو بھی زبردستی چھڑا کر لے گئے۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے کچھ افراد بازار میں داخل ہوئے اور دو سے تین بینکوں کو نقصان پہنچایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بینکوں سے رقم لے جانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

    سول ہسپتال خاران کے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا، جن میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ چار بچے دھماکے کے نتیجے میں اسپلنٹرز لگنے سے زخمی ہوئے۔

    شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ خاران شہر کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

    خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے متاثر ہیں۔ اگرچہ اس ضلع میں بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، لیکن مرکزی شہر میں مسلح افراد کی اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

  7. مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

    امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔

    جمعرات کو ویڈیو پیغام میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ’آپ چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد روک دیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔‘

    بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ہر وہ اقدام کرے گا جس سے ایران کی ’آمرانہ حکومت کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘

    امریکہ نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ایرانی تیل کی برآمدات اور جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان پابندیوں کے تحت افراد اور کمپنیوں کو امریکہ میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں دی جائے گی اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ تاہم یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس امریکی اداروں میں فنڈز موجود نہیں ہیں۔

    ان پابندیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے ’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔ شیڈو بینکنگ سے مراد وہ مالیاتی سرگرمیاں اور ادارے ہیں جو بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن روایتی بینکاری نظام کے ضوابط سے باہر ہوتے ہیں۔

  8. ایران میں پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    ہفتہ وار بریفننگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بطور پڑوسی، دوست اور برادر ملک، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالیاتی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔

    انھوں نے ایران کو ایک ’مضبوط قوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گا۔

  9. افغان طالبان کی جانب سے قیادت میں اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر ردعمل

    افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے بی بی سی کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں قیادت کے اندر انٹرنیٹ کی بندش سمیت دیگر معاملات پر اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت میں ’اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔‘

    ’امارت اسلامیہ کی صفوں میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔ تمام امور اسلامی شریعت کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

    ’قیادت کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی پر زور دینے والے بیانات یا معمولی معاملات میں رائے کے فرق کو کسی صورت اختلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امارت اسلامیہ کے اندر مضبوط اتحاد، اطاعت اور یکجہتی موجود ہے اور اختلاف کا کوئی خدشہ نہیں۔‘

    بی بی سی کی اس رپورٹ میں افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کی لیک شدہ آڈیو کا ذکر ہے جس میں انھیں حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    وہ اس دوران خبردار کرتے ہیں کہ ’اس تقسیم کی وجہ سے امارات ختم ہو سکتی ہے۔‘

    بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک آڈیو نے ظاہر کیا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ کو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔ یہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرہ ہے۔

    طالبان نے 2021 میں امریکی انخلا کے ساتھ ہی ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

  10. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ 28 دسمبر کو معاشی مسائل پر شروع ہونے والے پُرامن مظاہروں کو ’دہشت گرد عناصر‘ نے ’مسلح فسادات‘ میں بدل دیا تھا۔
    • ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہییں۔‘ ایک بیان میں خاقان فيدان نے کہا کہ ایران میں معاشی بے چینی کو ’غلط انداز میں بغاوت کے طور پر‘ پیش کیا گیا ہے۔
    • ایران کے وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پُرتشدد مظاہروں میں اکثر ہلاکتیں ’چاقو کے وار، گلا گھونٹنے اور تقریباً 60 فیصد سر پر ضرب لگانے سے ہوئی ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں 150 سے زیادہ اشیا خورد و نوش کی دکانیں تباہ ہوئیں مگر انھیں ’لوٹا نہیں گیا۔‘
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی بظاہر اچھے انسان لگتے ہیں مگر انھوں نے اس بارے میں غیر یقینی ظاہر کی کہ آیا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں۔ اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گِر سکتی ہے۔
    • پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
  11. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    یہاں آپ کو پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں، تجزیے اور تبصرے پیش کیے جائیں گے۔

    گذشتہ روز کے لائیو پیج پر جانے اور خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کر سکتے ہیں۔