محصولات کے باوجود چین نے ’تجارتی سرپلس کا عالمی ریکارڈ‘ کیسے قائم کیا؟

    • مصنف, اوسمنڈ چیا اور نک مارش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

چین نے 2025 میں اپنی برآمدات کا ایک نیا ریکارڈ حاصل کیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ایک جانب بیجنگ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد محصولات کا سامنا رہا تو دوسری جانب عالمی معیشت امریکی تجارتی پالیسی کے باعث ہلچل کا شکار رہی۔

بدھ کے دن جب چین کی جانب سے بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران بیرون ملک برآمدات کی مدد سے ایک عشاریہ 19 کھرب امریکی ڈالر مالیت کا سرپلس حاصل ہوا تو یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی سرپلس بھی تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین نے ایک سال میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ تجارتی سرپلس حاصل کیا ہے۔ اس سے پہلے 2024 میں یہ ہندسہ 993 ارب ڈالر پر تھا۔

واضح رہے کہ چین کا ماہانہ برآمدی سرپلس گزشتہ سال کے دوران سات بار 100 ارب ڈالر سے تجاوز کیا تھا جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات باقی دنیا سے چینی تجارت کو بلکل متاثر نہیں کر پائے۔

چین کی امریکہ سے تجارت کمزور ضرور ہوئی لیکن اس کے جواب میں چین نے جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ کو برآمدات بڑھا دیں اور اس کمی کو پورا کر لیا۔

چین میں کسٹمز کے ڈپٹی ڈائریکٹر وانگ جن نے بدھ کے دن ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ اعداد و شمار جو غیرمعمولی ہیں عالمی تجارت کو درپیش چیلنجز کے باوجود بہت محنت سے حاصل کیے گئے۔‘ انھوں نے گرین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے جڑی مصنوعات کی برآمد میں اضافے کے رجحان کو بھی اجاگر کیا۔

اتنے بڑے سرپلس کی وضاحت بیرون ملک چینی سامان کی بڑھتی ہوئی مانگ سے ممکن ہے کیوں کہ جنوبی ایشیا سمیت افریقہ اور یورپ کو چینی برآمدات بڑھی ہیں جبکہ مقامی مارکیٹ مندی کا شکار رہی۔

چین کی معیشت پراپرٹی مارکیٹ کے بحران اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے کا شکار رہی جس کی وجہ سے ایک طرف سرمایہ کار محتاط ہو گئے تو دوسری جانب عام لوگوں نے پیسہ خرچ کرنا کم کر دیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ درآمدات کی ضرورت کم رہی اور ان میں صرف صفر عشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری طرف کمزور چینی کرنسی اور مغربی ممالک میں افراط زر نے مل کر چینی برآمدات کو زیادہ پرکشش بنا دیا۔

تجارتی امور کی تجزیہ کار ڈبورا المز، جن کا تعلق ہنرچ فاؤنڈیشن سے ہے، کے مطابق ’یہ نتائج بیجنگ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 2026 میں یہ رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے کیوں کہ چینی سامان اور سروسز عالمی کاروبار کے لیے اہم ہو چکے ہیں۔

چین میں ان اعداد و شمار کو ایسی علامت کے طور پر دیکھا جائے گا کہ اب امریکہ کے علاوہ پوری دنیا میں ان کے گاہک موجود ہیں تاہم وانگ نے خبردار کیا کہ چین کو جس بیرونی منظر نامے کا سامنا ہے اس میں ’کچھ بھی واضح نہیں۔‘

بہت سے ممالک نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی منڈیوں میں کم قیمت والی چینی مصنوعات کی بھرمار ہو چکی ہے جس کا مقابلہ مقامی مصنوعات نہیں کر پاتیں۔ عالمی سطح پر کاروبار ٹرمپ انتظامیہ کے محصولات کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال ٹرمپ نے اس وقت عالمی معیشت میں بھونچال مچا دیا تھا جب انھوں نے 90 سے زیادہ ممالک پر محصولات میں اچانک بے پناہ اضافہ کر دیا تھا لیکن امریکہ کو سب سے زیادہ سامان بیچنے والے ملک، یعنی چین، کو شدید محصولات کا سامنا کرنا پڑا۔

دنیا کی دو بڑی معیشتوں میں لڑی جانے والی تجارتی جنگ میں دھمکیاں بھی سامنے آتی رہیں۔

اس وقت ماہرین نے اس لڑائی کو چین کے امتحان کے طور پر دیکھا تھا جو امریکی منڈی پر انحصار کر رہا تھا تاہم بیجنگ کا اصرار تھا کہ امریکہ پوری دنیا میں صرف ایک ہی منڈی نہیں ہے۔

اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد یہ معاملہ تھما اور تجارتی تعلقات مکمل طور پر ختم ہونے سے بچ گئے تھے۔ لیکن ابھی بھی چند محصولات موجود ہیں جو امریکہ کو پہنچنے والی چینی برآمدات کو متاثر کرتے ہیں۔