آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اجیت ڈوول، انڈیا کی ’تاریخ کا بدلہ‘ اور تنقید: ’ہم کس ملک پر پہلے حملہ کریں‘
انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول کے ایک حالیہ پروگرام میں یہ کہنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ ’تاریخ کا بدلہ لینا ہوگا۔‘
اجیت ڈوول نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ ’تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے۔ ہر نوجوان کے اندر وہ آگ ہونی چاہیے۔ ’بدلہ‘ لفظ اچھا لفظ نہیں ہے، لیکن بدلہ خود ایک طاقت ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔‘
انڈیا میں اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے ان کے بیان کی مذمت کی ہے۔ تاہم بی جے پی سمیت کچھ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ڈوول کے بیان کو ’افسوسناک‘ قرار دیا۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈوول جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، جس کا فرض ملک کو اندرونی اور بیرونی مذموم عزائم سے بچانا ہے، نے نفرت کے فرقہ وارانہ نظریے میں ملوث ہو کر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا لیا ہے۔‘
این ڈی اے کی سابق اتحادی محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’21ویں صدی میں صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض ایک دھوکہ ہے جو غریب اور ناخواندہ نوجوانوں کو اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے اکساتا ہے، جسے پہلے ہی ہر طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔‘
’مندر لٹ گئے، ہم خاموش تماشائی بنے رہے‘
اجیت ڈوول نے سنیچر کے روز ’ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ - 2026‘ میں موجود نوجوان سامعین سے کہا کہ ’آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ ایک ایسے انڈیا میں پیدا ہوئے جو آزاد ہے۔ انڈیا ہمیشہ اتنا آزاد نہیں تھا جیسا کہ آپ کو نظر آتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اس کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، بہت ذلتیں برداشت کی ہیں، بھگت سنگھ کے دور سے بہت سے لوگ بے سہارا ہوئے ہیں۔ سبھاش چندر بوس کو ساری زندگی جدوجہد کرنی پڑی، مہاتما گاندھی کو ستیہ گرہ کرنا پڑا اور بے شمار لوگوں کو اپنی جانیں قربان کرنی پڑیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے گاؤں جلا دیے گئے، ہماری تہذیب کو تباہ کر دیا گیا، ہمارے مندروں کو لوٹ لیا گیا، ہم خاموش تماشائیوں کی طرح بے بسی سے دیکھتے رہے، یہ تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے۔ لفظ بدلہ اچھا نہیں ہے، لیکن انتقام بذات خود ایک بڑی طاقت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔ ہمیں اس ملک کو ایک ایسی جگہ پر واپس لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق، اپنے نظریات اور اپنے عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم انڈیا بنا سکتے ہیں۔‘
ڈوول نے کہا کہ ’ہماری بہت ترقی یافتہ تہذیب تھی، ہم نے کسی کے مندروں کو نہیں تباہ کیا، ہم نے کہیں بھی لوٹ مار نہیں کی، ہم نے باہر کے لوگوں پر حملہ نہیں کیا، جب کہ پوری دنیا بہت پسماندہ تھی، لیکن ہم اپنی سلامتی کو نہیں سمجھ سکے، تاریخ نے ہمیں سبق سکھایا۔‘
این ایس اے ڈوول نے کہا ’ہمارے گاؤں جلا دیے گئے ہیں، ہماری توہین کی گئی۔‘
موجودہ حکومت کے بارے میں ڈوول نے کہا ’آج ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ملک کو ایسی قیادت حاصل ہے۔ ایک ایسا لیڈر ہے جو 10 سالوں میں ملک کو کہاں سے کہاں لے گیا ہے۔‘
ڈوول کے بیان پر بحث اور تنقید
کانگریس کی قومی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’قومی سلامتی کے مشیر، جن کا فرض قوم کی حفاظت کرنا ہے، نوجوانوں کو تاریخ کا بدلہ لینے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ اجیت ڈوول کو پہلے ملک کو جواب دینا چاہیے: پلوامہ اور پہلگام حملوں کے پیچھے دہشت گرد کہاں ہیں؟ دہلی میں دھماکے کس نے کروائے؟ آپ انٹیلی جنس، پہلگام اور دیگر کئی حملوں میں ناکامی کے ذمہ دار ہیں، آپ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘
سینئر صحافی اور مصنف تولین سنگھ نے لکھا کہ ’ہمارے قومی سلامتی کے مشیر کی تقریر نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔ انھوں نے ہماری تہذیب کو تباہ کرنے والوں سے بدلہ لینے کی بات کی۔ تو ہم سب سے پہلے کس پر حملہ کریں، افغانستان، ازبکستان یا ترکی؟‘
دی ہندو کی سفارتی امور کی ایڈیٹر سوہاسینی حیدر نے لکھا ’کیا قومی سلامتی کے مشیر یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انڈیا بدلہ لے گا؟ برطانیہ یا ازبکستان سے؟‘
دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے پروفیسر اور کانگریس لیڈر ڈاکٹر رتن لال نے ایکس پر ڈوول کے بیان کے حوالے سے لکھا کہ ’اگر یہ خبر سچ ہے تو ڈوول کو پہلے اپنے بیٹے کو آگے بھیجنا چاہیے۔‘
تاہم بہت سے لوگوں نے اجیت ڈوول کی حمایت کی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار نتن گوکھلے نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹویٹس، شارٹس یا ریلوں کی بنیاد پر رائے قائم نہ کریں۔ پوری تقریر کو سنیں اور پھر اپنی رائے بنائیں۔ بصورت دیگر، غلط فہمی کا خطرہ ہے، جیسا کہ بہت سے تجربہ کار صحافیوں اور تبصرہ نگاروں کے ساتھ ہوا ہے۔‘
’ان کے مطابق، قیادت عہدے یا طاقت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ صحیح وقت پر درست فیصلے لینے اور پورے اعتماد کے ساتھ ان پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔‘
پروفیسر شریش کاشیکر نے لکھا کہ ’ہمارے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی یہ تقریر بہت متاثر کن ہے۔ انھوں نے قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کی واضح طور پر تعریف کی ہے۔ انھوں نے آج کے انڈین نوجوانوں کے لیے کچھ اہم تجاویز شیئر کی ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی کو ملک کے لیے مفید بنا سکیں۔‘
آندھرا پردیش کے وزیر ستیہ کمار یادو نے ایکس پر لکھا کہ ’ترقی یافتہ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ میں، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا کہ جنگیں خونریزی کے لیے نہیں بلکہ کسی ملک کی مرضی کو توڑنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔‘