آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محدود فضائی حملہ، سائبر کارروائیاں اور جواب کا ڈر: ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں؟
- مصنف, پال ایڈمز
- عہدہ, سفارتی نامہ نگار، واشنگٹن
صدر ٹرمپ کے لیے فیصلہ لینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ 10 دن قبل انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے اگر ان کے خلاف تشدد کا استعمال کیا گیا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکہ بلکل تیار بیٹھا ہے۔‘ لیکن یہ بیان ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن سے پہلے دیا گیا تھا۔ اور اب جبکہ یہ واضح ہو رہا ہے کہ کس طرح سے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلا جا رہا ہے، دنیا اس انتظار میں ہے کہ ٹرمپ کا جواب کیا ہو گا۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ دنیا انتظار کر سکتی ہے اور اندازہ لگا سکتی ہے۔‘
لیکن کب تک؟
سینئر امریکی حکام منگل کے دن صدر ٹرمپ کو ممکنہ حکمت عملی پر بریفنگ دینے والے ہیں۔ اتوار کو ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ’چند بہت مضبوط راستے‘ موجود ہیں۔
وینیزویلا میں کامیابی کے بعد عسکری طاقت کا ایک بار پھر سے استعمال یقینا ان کے ذہن میں ہو گا۔ گزشتہ سال موسم گرما میں یہ واضح ہو چکا تھا کہ امریکہ ایک فاصلے سے بھی حملہ کر سکتا ہے جب بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیاروں نے امریکہ سے اڑ کر 30 گھنٹوں کے سفر میں ایران کی جو اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکہ ایک بار پھر ایسا ہی کرے گا یا پھر ایرانی حکومت کو نشانہ بنائے گا، یہ واضح ہے کہ واشنگٹن کے پاس اہداف کی کمی نہیں ہے۔
بی بی سی کے پارٹنر نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے پنٹاگون ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار حکمت عملی میں خفیہ طریقے بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ’سائبر کارروائیاں اور ایرانی کمانڈ کے خلاف نفسیاتی حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ایران میں وینیزویلا جیسی کارروائی کو دہرانا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران وینیزویلا نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ سخت جان ہے اور کسی ایک شخصیت کو ہٹانے سے پورے ملک کو امریکی مرضی کے مطابق جھکایا نہیں جا سکتا۔
ٹرمپ نے حال ہی میں 1980 میں سابق صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ کی اس ناکام کارروائی کا حوالہ بھی دیا جب تہران کے امریکی سفارت خانے میں مغویوں کو چھڑوانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو کسی قسم کی زمینی کارروائی سے جڑے خطرات کا بخوبی ادراک ہے۔
اس کارروائی کے دوران ایک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے تھے اور آٹھ امریکی فوجی ایران کے مشرقی صحرا میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس ناکام آپریشن اور تہران میں کیمروں کے سامنے مغوی امریکیوں کی پریڈ سے جڑی شرمندگی نے اسی سال جمی کارٹر کی الیکشن میں شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے نیو یارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ وہ الیکشن جیت سکتے تھے یا نہیں، لیکن اس ناکامی کے بعد یقینا کوئی امکان باقی نہ تھا۔‘
46 سال بعد امریکی عسکری حکمت عملی پر غور کرنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران میں کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیذ کے مشرق وسطی پروگرام کے سینئر فیلو ول ٹوڈمین کا کہنا ہے کہ ’یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹرمپ کیا کریں گے کیوں کہ ان کا مقصد واضح نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’ٹرمپ شاید ایرانی حکومت کے رویے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں نہ کہ اسے گرانے کی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کا تختہ الٹنے سے اتنے زیادہ خطرات جڑے ہیں کہ شاید یہ ان کا بنیادی مقصد نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ جوہری مزاکرات میں ایران سے کچھ منوانا چاہتے ہوں۔ یا مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون میں کمی مقصد ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا ارادہ یہ ہو کہ وہ ملک میں اصلاحات کروانے پر مجبور کریں۔‘
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے مزاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے ’جو پیغامات وصول ہو رہے ہیں وہ اس بات سے مختلف ہیں جو وہ عوامی سطح پر کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق سفارتکاری پہلا آپشن ہے۔
ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان اعلی حکام میں شامل ہیں جو ٹرمپ کو سفارت کاری کا استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ جمعرات کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ امریکہ سے جوہری پروگرام پر مزاکرات کریں۔
لیکن اگر ایران میں مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے روکنے کی کوشش جاری رہی تو شاید سفارت کاری کو ایک کمزوری کی طرح دیکھا جائے۔ ٹوڈمین کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ ناکافی ہوئی تو مظاہرین کا مورال متاثر ہو گا۔‘
شاید اسی لیے ایک ایسے وقت میں جب ایران سے کافی پریشان کن تصاویر سامنے آ رہی ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارت ذریعے سے پہلے بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ چند افراد کا ماننا ہے کہ ایک محدود پیمانے پر حملہ مظاہرین کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے اور ایرانی حکومت کو خبردار کر سکتا ہے کہ اس سے بھی برا ہو سکتا ہے۔
بلال ساب چیٹھم ہاوس کے مشرق وسطی اور شمالی امریکی پروگرام میں ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’ٹرمپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ ایرانی حکومت میں افراتفری مچ جائے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ امریکی فضائی حملہ مظاہرین کا حوصلہ بڑھا سکتا ہے اور حکومت کی توجہ ہٹا سکتا ہے۔
لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عسکری کارروائی سے الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’عسکری کارروائی ایرانی حکومت کا عزم مذید پختہ کر سکتی ہے اور اب بھی ملک میں اس کی حمایت کافی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔‘
یقینی طور پر امریکی صدر کو کافی سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہو گا کیوں کہ ایران بھی یہ دھمکی دے چکا ہے کہ کسی قسم کی عسکری کارروائی کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔ اور ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں بلیسٹک میزائل موجود ہیں۔
مشرق وسطی میں ایرانی اتحادی کمزور ضرور ہوئے ہیں، جیسا کہ شام کے بشار الاسد اور لبنان میں حزب اللہ، لیکن مزاحمت کا یہ اتحاد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ یمن میں حوثی باغی اور عراق میں موجود عسکری گروہ کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن صدر ٹرمپ کو جرات مندانہ قدم اٹھانے کا مشورہ دینے والی آوازوں میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جو یہ پیشکش بھی کر رہا ہے کہ وہ ایران پر حکومت کر سکتا ہے۔ رضا پہلوی، سابق شاہ ایران کے بیٹے، نے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کو جلد فیصلہ لینا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایران میں کم سے کم لوگ ہلاک ہوں، جلد مداخلت کرنا ہو گی۔ تاکہ یہ حکومت ختم ہو اور تمام مسائل کا بھی خاتمہ ہو۔‘
ان کی بات بظاہر بہت سادہ ہے لیکن امریکی حکام جانتے ہیں کہ یہ سب اتنی سادگی سے ہونے والا نہیں۔
کائلا ایپسٹین کی اضافی رپورٹنگ کے ساتھ