’سب سے سستا فلیٹ ایک ارب روپے کا‘: لگژری گاڑیوں کی کمپنی جو دبئی میں فلک بوس عمارت بنا رہی ہے

    • مصنف, سمیر ہاشمی
    • عہدہ, بزنس رپورٹر
    • مقام, دبئی

بوگاٹی کا نام بہترین کارکردگی والی انتہائی مہنگی سُپر کارز کے ساتھ منسوب ہے۔ لیکن پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی یہ فرانسیسی کمپنی اب ایک مختلف دوڑ میں شامل ہو رہی ہے۔ یہ دوڑ سڑک پر نہیں بلکہ آسمان پر ہو گی۔

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے وسط میں بوگاٹی اپنی پہلی رہائشی عمارت تعمیر کر رہی ہے۔

اس جگہ سب سے سستا اپارٹمنٹ بھی 52 لاکھ ڈالرز کا ملے گا (تقریباً 39 لاکھ پاؤنڈ، پاکستانی روپوں میں یہ رقم ایک ارب 46 لاکھ بنتی ہے)۔ یہ کمپنی اب امیر ترین افراد کے لیے ’برانڈڈ رہائش گاہیں‘ بنانے کے تیزی سے پھیلتے کاروبار میں داخل ہو رہی ہے۔

پرتعیش مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بھی اب اس کاروبار میں آ رہی ہیں، جن میں کاریں بنانے والی کمپنیاں پورشے، اور آسٹن مارٹن شامل ہیں۔ یہ چمکتے دمکتے مکمل فرنشڈ اپارٹمنٹ ہوتے ہیں جہاں برانڈ کا نام اور نشان (لوگو) اکثر نمایاں انداز میں اور بار بار دکھایا جاتا ہے۔

گھڑیاں بنانے والی سوئس کمپنی ’جیکب اینڈ کو‘ اور اطالوی فیشن ہاؤس فینڈی اور میسونی بھی اسی شعبے میں آ چکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے ڈیویلپر بن گھاٹی پراپرٹیز کے ساتھ مل کر بوگاٹی 43 منزلہ دبئی ٹاور بنا رہی ہے۔ اس عمارت کے مہنگے پینٹ ہاؤسز میں بڑی بڑی لفٹس ہوں گی جن کے ذریعے مالکان اپنی گاڑیاں بھی اپارٹمنٹ کے اندر ہی پارک کر سکیں گے۔

بن گھاٹی پراپرٹیز کے چیئرمین محمد بن گھاٹی کہتے ہیں 'کاروں اور گھڑیوں کے شوقین بہت سے افراد کے لیے یہ صرف گاڑی یا گھڑی خریدنے کا معاملہ نہیں بلکہ وہ جائیداد کے ذریعے اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اسی برانڈ کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ بوگاٹی پراجیکٹ کے خواہش مندوں میں برازیل کے فٹ بال سٹار نیمار جونیئر اور اوپرا گلوکار آندریا بوچیلی شامل ہیں۔' کہا جاتا ہے کہ نیمار نے ایک پینٹ ہاؤس کے لیے پانچ کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر ادا کیے۔

رئیل سٹیٹ کمپنی نائٹ فرینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں 'برانڈڈ رہائش گاہوں' کی مانگ بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2011 میں ایسے منصوبوں کی تعداد 169 تھی جو اب 611 ہو چکی ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر 1019 ہو جائے گی۔

اس وقت امریکہ میں برانڈڈ عمارتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو میامی اور نیو یارک میں واقع ہیں۔ لیکن نائٹ فرینک کے مطابق دوسرے نمبر پر مشرق وسطیٰ ہے جہاں ایسی عمارتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 'اس کی بڑی وجہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں تیزی سے ہوتی ترقی ہے۔'

نائٹ فرینک مشرق وسطیٰ میں شعبہ تحقیق کے سربراہ فیصل درانی کہتے ہیں 'برانڈڈ رہائش گاہیں ان لوگوں کو زیادہ پسند آتی ہیں جو کسی برانڈ کے بہت ہی زیادہ وفادار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو برانڈ کے ساتھ ہی جیتے ہیں اور سانس لیتے ہیں۔'

ایک اور پراپرٹی کمپنی سیولز نے بھی الگ سے اپنی رپورٹ تیار کی ہے۔ اس کے مطابق، اگر شہروں کا موازنہ کیا جائے تو متحدہ عرب امارات کی حد تک برانڈڈ رہائش گاہوں کے سب سے زیادہ منصوبے دبئی میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ امیر افراد بڑی تعداد میں اس شہر منتقل ہو رہے ہیں اور پرتعیش رہائش گاہیں خرید رہے ہیں۔

فیصل درانی مزید کہتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے شہروں کے مقابلے پر کم ٹیکس والے شہر دبئی میں برانڈڈ اپارٹمنٹس اکثر کم قیمت پر مل جاتے ہیں۔ ان کے مطابق 'نیو یارک اور لندن سے مقابلہ کیا جائے تو دبئی میں ایسی جائیدادوں کی قیمت کہیں مناسب ہے۔'

اب سے کچھ وقت پہلے تک برانڈڈ رہائش گاہوں پر فور سیزنز اور رٹز کارلٹن جیسی ہوٹل چینز کا غلبہ تھا، لیکن اب استعمال کی پرتعیش اشیا بنانے والے برانڈ اس شعبے میں آگے آ رہے ہیں۔ پورشے کا ڈیزائن کردہ ٹاور میامی میں 2017 میں کھولا گیا جب کہ میامی میں ہی آسٹن مارٹن کی رہائش گاہیں گزشتہ سال شروع کی گئیں۔ متحدہ عرب امارات کے ال مرجان جزیرے پر جیکب اینڈ کو کا منصوبہ 2027 میں تیار ہو گا۔

رئیل سٹیٹ ایسی کمپنیوں کے لیے آمدنی کا نیا ذریعے فراہم کرتی ہے، ایسا ذریعہ جو نسبتاً محفوظ ہے۔ کیوں کہ عمارتیں تعمیر کرنا پراپرٹی ڈیویلپمنٹ والے شراکت داروں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خریدار وہ جائیداد اس لیے مہنگے داموں خریدتے ہیں کیوں کہ اس کے ساتھ برانڈ کا نام جڑا ہوتا ہے۔

بن گھاٹی کے مطابق برانڈ والا ایک اپارٹمنٹ بغیر برانڈ والے لگژری اپارٹمنٹ کی نسبت 30 سے 40 فیصد مہنگا ہوتا ہے۔

کئی نئے برانڈڈ منصوبے نجی ممبرز کلب، صحت و تندرستی (wellness) کی سہولیات اور خصوصی خدمات فراہم کرتے ہیں، جیسے کہ ڈرائیور کے ساتھ گاڑیاں، تفریحی کشتیوں (Yacht) تک رسائی اور نجی طیاروں میں شراکت داری۔

برانڈڈ جائیدادوں کی ایک نئی قسم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے جو مشترکہ دلچسپیوں پر مبنی ہو گی۔ جیسے کہ کھانے کا شوق، صحت و تندرستی، یہاں تک کہ طویل عمر سے متعلق سائنس۔

لندن کے علاقے بیزواٹر میں سکس سینسز ہوٹل چین کی طرف سے سکس سینسز ریذیڈنسیز بنائی جا رہی ہیں۔ اس میں زندگی گزارنے کے طریقے تبدیل کر کے جسمانی اور ذہنی صحت بہتر بنانے والا بائیوہیکنگ مرکز بھی ہو گا۔ اس مرکز میں کرائیوتھراپی جیسا علاج فراہم کیا جائے گا۔ اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جسم کو انتہائی سرد درج حرارت میں رکھ کر توانائی بڑھائی جاتی ہے اور جلد بہتر کی جاتی ہے۔

دوسری جانب، ٹیکساس میں ڈسکوری لینڈ کمپنی جو منصوبہ لا رہی ہے وہ مصنوعی جھیل کے کنارے بنایا جائے گا۔

کاروبار اور صارفین کی نفسیات جاننے والے ماہرین کہتے ہیں پرتعیش برانڈڈ رہائش گاہوں کا بڑھتا رجحان لوگوں میں اپنا سماجی رتبہ دکھانے اور الگ نظر آنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔

کنگز کالج لندن میں مارکیٹنگ کی پروفیسر جیانا ایکہارٹ کے مطابق ایسے گھر اپنی سماجی حیثیت ظاہر کرنے کا نیا طریقہ بن گئے ہیں۔ ایسے ہی جیسے کوئی نایاب ہینڈ بیگ یا ہیرے کی بڑی سی انگوٹھی۔ ان کا کہنا ہے 'امیر ترین افراد ایسے اثاثے چاہتے ہیں جو اور کسی کے پاس نہ ہوں۔'

صارفین کے رویوں اور برانڈنگ کی ماہر جیانا ایکہارٹ کے مطابق برانڈ ’سماج میں کسی فرد کا رتبہ ظاہر کرتا ہے۔ لوگ ان برانڈز کے ساتھ منسلک سماجی مقام بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

بن گھاٹی بھی اس بات سے متفق ہیں ’ہر اپارٹمنٹ ہی منفرد ہے اور اسے خریدنے والوں کو احساس ہوتا ہے کہ جو چیز ان کے پاس ہے وہ اور کسی کے پاس نہیں۔‘

کاروبار کی نفسیات سمجھنے والے بزنس سائیکالوجسٹ سٹورٹ ڈف کا تعلق برطانوی فرم پرن کینڈولا سے ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ برانڈڈ رہائش گاہوں کا تصور بہت سے لوگوں کے لیے نا پسندیدہ بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب برانڈ کا نام حد سے زیادہ نمایاں ہو۔ انھوں نے کہا 'اپارٹمنٹ بلاک میں اگر ہر جگہ ہی برانڈ موجود ہو گا تو اس سے انفرادیت کا تاثر کم ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو یہ احساس ہو گا کہ دکھاوا کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی برا یہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو یہ فحش اور بیہودہ لگنے لگے۔'