رحیم یار خان میں پانچ سالہ بچے کے سینے سے ’بغیر سر والا بچہ‘ نکالنے کی انوکھی سرجری

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں ایک پانچ سالہ بچے کے سینے سے ایک مکمل طور پر تشکیل نہ پانے والے ایک بچے کو کامیاب سرجری کے بعد نکال لیا گیا ہے۔

پیر کے روز اس پیچیدہ سرجری کو سرانجام دینے والے ڈاکٹر سلطان اویسی کے مطابق آپریشن کے ذریعے نکلایا گیا ’فیٹس‘ دل کی مرکزی شریان کے پاس موجود تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ یہ ’فیٹس ان فیٹو‘ کا کیس تھا، یعنی جب ایک بچے کے جسم میں پوری طرح تشکیل نہ پانے والا جنین ہو۔

انھوں نے بتایا کہ ایسے کیسز میں ’زیادہ تر بچہ نما یہ چیز پیٹ میں پائی جاتی ہے‘ لیکن یہ کیس اس لیے بھی منفرد تھا کہ اس میں ’بچہ سینے میں پایا گیا۔‘ ان کے مطابق بچے کے کئی اعضا تشکیل پا چکے تھے لیکن پانچ سال تک اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔

’پیدائش کے بعد سے بچے کو سانس لینے میں دشواری تھی‘

ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ پانچ سال قبل جب بچہ ’18 دن کا تھا تو تب سے اسے سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن اور کھانسی ہوتی تھی اور اکثر بخار بھی رہتا تھا۔

’بچے کو متعدد ڈاکٹروں کے پاس لے جایا گیا مگر اب جب بچے کا سی ٹی سکین کروایا گیا تو تشخیص ہوئی کہ یہ ’فیٹس ان فیٹو‘ ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ پانچ سالہ بچے کے اندر سے جو بچہ نکالا گیا اس کے کچھ اعضا تشکیل پا چکے تھے۔

’اس کی ریڑھ کی ہڈی، بال دانت اور دیگر اعضا بھی تھے، سوائے سر کے ساری چیزیں موجود تھیں۔ اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا۔‘

ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ جس بچے کی سرجری کی گئی وہ اب بالکل ٹھیک ہے۔ ’وہ کھا پی رہا ہے، حرکت کر رہا ہے اور جمعے کے روز اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔‘

’فیٹس ان فیٹو‘ کیا ہے؟

طب کی دنیا میں اس کیس کو ’فیٹس ان فیٹو‘ کا نام دیا گیا ہے لیکن اس اصطلاح اور نظریے پر سائنس کی دنیا متفق نہیں۔

امریکی پیڈیاٹرک جنرل کے مطابق پانچ لاکھ میں سے ایک بچے میں ایسا کیس سامنے آتا ہے اور پاکستان میں اس نوعیت کا یہ پہلا کیس نہیں۔

سنہ 2023 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک نو ماہ کی بچی کے پیٹ سے دوران آپریشن بچہ نکالا گیا تھا۔

سنہ 2006 میں بھی ایک ایسا ہی منفرد کیس اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں سامنے آیا تھا جب ایک دو ماہ کی بچی کے پیٹ سے دو فیٹس یا مردہ بچے نکالے گئے تھے۔

اس وقت آپریشن کرنے والے ڈاکٹر ظہیر عباسی نے اسے پاکستان کا ایسا پہلا کیس قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ بچی کے پیٹ سے دو جڑواں بچے نکالے گئے جو مر چکے تھے۔

پروفیسر ندیم اختر پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا پمز ہسپتال میں پیڈیاٹرک سرجری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں جنھوں نے ایسے کیسز پر کافی تحقیق کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فیٹس ان فیٹو‘ کی اصطلاح سے عام طور پر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اس مرض کا حمل سے تعلق ہے، جو ضروری نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک بچہ نما چیز پیٹ میں پلتی ہے لیکن اکثر یہ ایک ٹیومر سرطان یا رسولی ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ جسم میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔‘

’یہ جس مقام پر ہوتا ہے اسی جگہ پر رہتا ہے، زیادہ تر پیٹ کے نچلے حصے میں۔‘

پروفیسر ندیم اختر کے مطابق اس کیفیت کا نام ’فیٹس ان فیٹو‘ اس لیے رکھا گیا کیوں کہ ’فیٹس میں تین تہیں ہوتی ہیں جو اس ٹیومر میں بھی ہوتی ہیں۔‘

’اکثر بہت سے اخبارات میں لوگ اس کو اور رنگ دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے سمجھتے نہیں اور خاندان والے پریشان ہو جاتے ہیں۔‘

’دوسرا اس کو ٹوئن کا نام دیا جاتا ہے کہ دوسرا جڑواں بچہ تھا اور یہ ایک نظریہ ہے لیکن یہ سائنسی اعتبار سے سو فیصد ثابت نہیں ہو سکا۔‘

اس طبی نظریے کے مطابق عام طور پر یہ ایسے کیسز میں ہوتا ہے جب کسی خاتون میں جڑواں بچے ہوں لیکن حمل کے آغاز میں ہی ایک بچہ کسی وجہ سے دوسرے جڑواں بچے سے جڑ کر کسی نہ کسی حالت میں باقی رہتا ہے لیکن زندہ نہیں رہتا۔

منفرد بات یہ ہے کہ ایسے کیسز صنف پر منحصر نہیں ہوتے اور بچوں یا بچیوں دونوں میں ہی ہو سکتے ہیں۔

سنہ 2023 میں پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک نو ماہ کی بچی کے پیٹ سے دوران آپریشن بچہ نکالنے والے ڈاکٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ یہ دو مختلف قسم کے کیسز ہوتے ہیں۔ ’ایک وہ جن میں بچہ نکلتا ہے جس کے انسانی خدوخال نمایاں ہوتے ہیں اور دوسرا وہ جس میں ٹیومر یا سرطان نکلتا ہے اور ایسے کیسز میں کسی مریض کے پیٹ سے دانت یا ہڈیاں ملتی ہیں لیکن انسانی خدوخال رکھنے والا بچہ نہیں ہوتا اور اسے ٹیراٹوما کہتے ہیں۔‘

پروفیسر ندیم اختر کا کہنا ہے کہ ’آپریشن میں اگر مکمل طور پر اسے نکال لیا جائے اور اس کا کوئی حصہ جسم میں باقی نہ رہنا دیا جائے تو پھر اس رسولی کا دوبارہ سے بن جانے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔‘

’اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور غیر ضروری طور پر تشخیص میں وقت لگے تو اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

طب کی دنیا میں اب تک اس مرض کی وجوہات مکمل طور پر طے نہیں کی جا سکیں تاہم اتنا واضح ہے کہ یہ پیدائشی مرض ہے جس کی بروقت تشخیص مشکل تو ہے لیکن اتنی ہی ضروری بھی۔

حالیہ کیس کی تشخیص میں اتنا وقت کیوں لگا؟

لیکن ماضی میں سامنے آنے والے کیسز کے برعکس حالیہ کیس میں تشخیص میں پانچ برس کیوں لگ گئے؟

اس حوالے سے ڈاکٹر سلطان اویسی نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کا خاندان گاؤں کا رہنے والا ہے اور انھوں نے متعدد ڈاکٹروں کو دکھایا لیکن شاید کسی نے اس طرف سوچا ہی نہیں۔

’ڈاکٹر یہ سمجھتے رہے کہ یہ سینے کا انفیکشن یا دمہ ہے اور وہ اسی کا علاج ہی کرتے رہے لیکن اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اب جب ہم نے سینے کا معائنہ کیا تو ہمیں ایک لوتھڑا محسوس ہوا جس کے بعد سی ٹی سکین کروایا گیا اور پتہ چلا کہ یہ تو فیٹس ان فیٹو کا کیس ہے۔‘

ڈاکٹر سلطان اویسی کہتے ہیں کہ ابتدائی سٹیج پر ہر الٹرا ساؤنڈ اور سی ٹی سکین کی مدد سے جلدی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

’والدین کو چاہیے کہ وہ صحیح ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے۔‘