17 سالہ نوجوان کے پیٹ سے منسلک 15 کلو وزنی اضافی ٹانگیں، کولہے اور جنسی اعضا علیحدہ کرنے کا کامیاب آپریشن

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ڈاکٹروں نے ایک 17 سالہ لڑکے کی سرجری کر کے اس کے پیٹ سے منسلک اس کے جڑواں بھائی کو الگ کر دیا ہے۔

’پیراسیٹک ٹوئن‘ ایک ایسا جڑواں بچہ ہوتا ہے جو پیدائش سے قبل ہی بڑھنا بند کر دیتا ہے اور اپنے بہن یا بھائی کے جسم سے منسلک رہ کر اس سے طاقت حاصل کرتا رہتا ہے۔

ایسے کیسز انتہائی نایاب ہوتے ہیں۔ ان کی شرح ایک لاکھ زچگیوں میں سے ایک یا اس سے بھی کم ہوتی ہے۔۔

17 سالہ نوجوان کے سینے کی جانب سے اضافی ہاتھ اور پیر نکلے ہوئے تھے جنھیں دہلی کے ایک ہسپتال میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی سرجری کے بعد علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

یہ آپریشن کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر اسوری کرشنا نے بتایا کہ لڑکے کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ سرجری خاصی مشکل تھی۔ اُن کے مطابق چونکہ ایسے کیسز انتہائی نایاب ہوتے ہیں لہذا اس نوعیت کی سرجری کے لیے زیادہ طبی لٹریچر بھی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اُن کی ٹیم کو اپنی مہارت اور علم پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

انھوں نے بتایا کہ ’عالمی میڈیکل لٹریچر میں اس نوعیت کے بچوں کے صرف 40 سے 50 کیسز درج کیے گئے ہیں جن کے کیسز میں بچوں کی سرجری کی کوشش کی گئی تھی۔‘

’سرجری کے دوران نوجوان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر گیا‘

پیراسیٹک جڑواں بچے ماں کے رحم میں اُس وقت بنتے ہیں جب ایک جنین جزوی طور پر بڑھتے ہوئے دوسرے بچے کے جنین کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔

17 سالہ نوجوان کے کیس میں اس کے پیٹ سے دو مکمل طور پر تشکیل شدہ ٹانگیں، اضافی کولہے اور بیرونی جنسی اعضا منسلک تھے جن کا مجموعی وزن تقریباً 15 کلوگرام تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پیراسیٹک ٹوئن کے اعضا درد، چھونے اور درجہ حرارت میں تبدیلی محسوس کر سکتے تھے۔

ڈاکٹر کرشنا نے کہا کہ انھوں نے سب سے پہلے یہ شناخت کی کہ پیراسیٹک ٹوئن اور میزبان جڑواں بچے آپس میں کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔

سکین کے ذریعے ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ پیراسیٹک ٹوئن نوجوان کی چھاتی کی ہڈی سے جڑا ہوا تھا اور اس کے سینے کی ایک شریان سے خون حاصل کر رہا تھا۔

ڈاکٹر کرشنا کا کہنا تھا کہ ’جگر یا گردے جیسے دیگر اہم اعضا کے ساتھ اس کا زیادہ تعلق نہیں تھا۔‘

سرجری دو مراحل میں کی گئی تھی۔ پہلے میں پیراسیٹک ٹوئن کو ہٹایا گیا اور پھر آس پاس کے اعضا سے رطوبت سے بھری تھیلیاں نکالی گئیں۔

مختلف مہارتوں کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ڈھائی گھنٹے میں یہ آپریشن مکمل کیا۔

ڈاکٹر کرشنا نے کہا کہ ’مشترکہ خون کی شریانوں، اعصاب اور ٹشوز کی ایک جالی کو الگ کرنا پڑا۔ اس لیے اس بات کا خیال رکھنا تھا کہ نوجوان کے کسی بھی عضو یا ٹشو کو نقصان نہ پہنچے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’سرجری کے دوران اس نوجوان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر گیا تھا کیونکہ اس کے خون کا 30 سے 40 فیصد حصہ علیحدہ کیے گئے اس کے جڑواں بھائی میں چلا گیا۔‘

لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ اس کے لیے تیار تھے چنانچہ وہ جلد ہی بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر لے آئے۔ سرجری کے بعد نوجوان کو چار روز تک ہسپتال میں داخل رکھا گیا اور پھر انھیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ڈاکٹر کرشنا کہتے ہیں کہ ’وہ اب صحتمند ہے اور سرجری کے بعد اسے کسی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔‘

ایک نئی دنیا

آپریشن سے قبل اس نوجوان کی غیر معمولی ظاہری شکل و صورت کے باعث انھیں اپنے علاقے میں مذاق کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لوگوں کی جانب سے گھورے جانے اور مذاق اڑائے جانے کے باعث اس نوجوان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو گئی تھی۔

ایک انٹرویو میں نوجوان نے ’انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ ’میں کہیں بھی سفر نہیں کر سکتا تھا، اور نہ ہی کسی جسمانی سرگرمی کے لیے باہر نکل سکتا تھا۔‘

تاہم سرجری کے بعد اب اس نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں اور اب ایک فعال زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ’مجھے پڑھائی کرنے اور نوکری ملنے کی امید ہے۔ میرے لیے یہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔‘