آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’قیمتی خزانہ‘ سونپنے کے لیے ’صحیح شخص‘ کی تلاش: 20 روپے میں خریدی گئی ڈائری جو پاکستانی شاعر برطانوی خاتون کو لوٹانا چاہتے ہیں
- مصنف, ہیری سٹیونز
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ناٹنگھم
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عتیق احمد کو برطانیہ کی کاؤنٹی ناٹنگھم شائر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے خاندان کی تلاش ہے اور اس کی وجہ ہے 1940 کی دہائی کی ایک ڈائری جو انھیں پاکستان میں ایک دکان سے ملی تھی۔
عتیق احمد کو یہ ڈائری نو برس قبل اپنے آبائی شہر میں کھلونوں کی ایک دکان سے ملی تھی۔
چمڑے کی جلد والی اس ڈائری کے اندر موجود عبارت کے مطابق وہ جین بیلامی کی ملکیت تھی، جو دوسری عالمی جنگ کے دوران نیدرفیلڈ کی کارنارون سٹریٹ میں رہتی تھیں۔
38 سالہ عتیق ایک شاعر ہیں اور انھوں نے اس بارے میں ناٹنگھم شائر کمیونٹی کے فیس بک پیج پر پیغام چھوڑا اور کہا کہ یہ ان کا ’خواب‘ تھا کہ وہ اس کی مالک کے بارے میں مزید جانیں اور اسے اس کے خاندان کو لوٹائیں۔
ڈائری میں جین کو اس کے دوستوں اور خاندان کی طرف سے لکھے گئے پیغامات شامل ہیں۔
’ڈیڈ‘ کا ایک پیغام، جو سات فروری 1944 کو لکھا گیا، کہتا ہے: ’سب سے اچھی چیز جو آپ کے پاس ہے وہ مزاح کی حس ہے۔‘
کتاب کے دیگر پیغامات میں ایل شیلٹن کا ایک پیغام بھی ہے، جو جنوری 1943 کی تاریخ رکھتا ہے۔ اس میں لکھا ہے: ’دوست بناتے ہوئے، پرانی دوستیاں تازہ کرو، جوان دوست چاندی ہوتے ہیں مگر پرانے دوست سونا۔‘
ایک صفحے پر لکھا ہے: ’اگر آپ کا کوئی دوست ہے تو اس سے ویسا ہی سلوک کریں لیکن اس دوست کو زیادہ کچھ مت بتانا، کیونکہ اگر وہ دوست دشمن بن گیا تو تمہارے راز دنیا بھر میں پھیل جائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور نوٹ میں لکھا ہے: ’ہم میں سے بدترین افراد میں بھی اتنی اچھائی اور بہترین میں اتنی برائی ہے کہ باقی لوگوں کے بارے میں بات کرنا ہمارے لیے مناسب نہیں۔‘
عتیق کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ اس ڈائری کو غلطی سے پھینک دیا گیا ہو اور پھر یہ پاکستان پہنچ گئی ہو اور یہاں کسی نے اسے کھلونوں کی دکان کو عطیہ کر دیا ہو۔
انھوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کسی ایسے شخص کی ملکیت ہو جو پاکستان منتقل ہوا ہو لیکن واپس جاتے ہوئے اسے یہاں چھوڑ گیا ہو۔
’میں نے اس کے لیے شاید 20 یا 30 روپے دیے کیونکہ مجھے پرانی چیزیں پسند ہیں اور میں انھیں جمع کرتا ہوں۔‘
عتیق نے مزید کہا ’یہ ڈائری پرانی ہے اور میں اسے اس کے مالک کو واپس دینا چاہوں گا۔ میں چند دن پہلے اپنی کتابیں دیکھ رہا تھا اور مجھے ڈائری دوبارہ مل گئی۔‘
عتیق کا کہنا ہے کہ اگر ڈائری کی مالکن جین اب زندہ نہیں تو وہ یہ کتاب ان کے ممکنہ بچوں یا پوتے پوتیوں کو دینا چاہیں گے۔
’میرا خیال ہے کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ یہ صرف کچھ کاغذات ہیں لیکن میرے لیے یہ ایک قیمتی خزانہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ صحیح شخص کو بھیجوں۔‘