سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان جو قتل ہونے کے خوف سے اپنی جیب میں ہمیشہ پستول رکھتے تھے

    • مصنف, ولی بدران
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سلطان محمد ششم وحید الدین وہ آخری فرد تھے جو سلطنت عثمانیہ کے سلطان کی مسند پر براجمان ہوئے۔ انھیں سنہ 1922 میں زبردستی اس عہدے سے ہٹایا گیا اور وہ ملک سے باہر چلے گئے۔

ان کی جلاوطنی کے بعد ایک برس سے بھی کم عرصے میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک حمہوریہ نے جنم لیا۔

سلطان محمد ششم 14 جنوری 1861 میں پیدا ہوئے تھے اور سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان تھے۔ وہ 16 مئی 1926 میں اٹلی کے شہر سان ریمو میں وفات پاگئے۔

سلطان محمد ششم نے ایسے تاریخی وقت پر تخت سنبھالا جب صورتحال نہایت پیچیدہ تھی اور سلطنتِ عثمانیہ فوجی شکستوں، بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلتیں اور عثمانی معاشرے میں تیز گہرے فکری و سیاسی تغیرات کے سبب اپنے زوال کے آخری مراحل سے گزر رہی تھی۔

اسی دور میں سلطان کے مرتبے پر فائز ہونے کی وجہ سے ان کا نام سلطنت عثمانیہ کے اختتام اور خلافت کے خاتمے کے ساتھ جڑ گیا اور وہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی عہد کے اختتام کے گواہ بنے۔

سلطان محمد ششم کون تھے اور وہ کیا حالات تھے جو ان کے دور میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کا باعث بنے؟

سلطان محمد ششم کی ابتدائی زندگی اور تخت تک کا سفر

سلطان عبدالمجید کے بیٹے محمد ششم سلطنتِ عثمانیہ کے اس وقت کے دارالحکومت استنبول میں واقع دولما باغچے محل میں پیدا ہوئے تھے۔

ان کی اس محل میں ایک ایسے دور میں پرورش ہوئی جب سلطنت عثمانیہ اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا بڑا حصہ کھو چکی تھی۔ ان کے والدین اس وقت وفات پا گئے جب وہ محض چار برس کے تھے اور پھر ان کی سوتیلی والدہ شیستہ خانم نے ان کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی۔

شہزادے نے بچپن میں اپنی سوتیلی والدہ کی سختی کے سبب بہت تکلیف اٹھائی اور صرف 16 برس کی عمر میں ان کا محل بھی چھوڑ دیا۔

وہ مطالعے کے بہت شوقین تھے، علم و فنون میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے نجی طور پر تعلیم حاصل کی تھی۔

انہوں نے خطاطی اور موسیقی کی تعلیم حاصل کی، نسخ خط میں لکھنا سیکھا اور قانون نامی آلہ بھی بجانا سیکھا جو کہ اناطولیہ کے روایتی سازوں میں سے ایک ہے۔

محمد ششم تصوف سے بھی وابستہ تھے اور مدرسے سے فقہ، کلام، تفسیرِ قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔

اپنی جوانی میں وہ تنظیمات کے دور سے گزرے یعنی (1839 سے 1876 تک) وہ زمانہ جب سلطنتِ عثمانیہ میں انتظامی، عدالتی اور سیاسی اصلاحات کی گئی تھیں۔

اسی دوران یورپی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور دور دراز صوبوں پر عثمانی کنٹرول کمزور پڑنے لگا۔ یہ وہ تبدیلیاں تھیں جنھوں نے محمد ششم کی بعد کی زندگی میں ان کی سیاسی اور فکری سوچ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے بھائی سلطان عبدالحمید ثانی (1876–1909) کی 33 سالہ حکومت کے دوران وہ ان کے قریب ترین بھائی سمجھے جاتے تھے اور اسی قربت نے بعد میں ان کے سیاسی مؤقف پر گہرے اثرات چھوڑے، جن میں 1909 کے انقلاب کے دوران عبدالحمید کو معزول کرنے والی ’جوان ترک‘ تحریک سے شدید نفرت اور جرمنوں پر عدم اعتماد شامل تھا۔

سنہ 1916 میں سابق سلطان عبدالعزیز کے بیٹے شہزادہ یوسف عزالدین کی خودکشی کے بعد وہ عثمانی خاندان کے ولی عہد بنائے گئے۔

اس وقت پہلی عالمی جنگ اپنے عروج پر تھی اور سلطنت نہایت خراب حالت میں تھی، جنوب میں برطانوی اور عرب افواج کا دباؤ تھا جبکہ مشرق سے روسی دباؤ بڑھ رہا تھا۔

سنہ 1918 کے أوائل میں انھوں نے سپہ سالار مصطفیٰ کمال پاشا کے ساتھ یورپ کا سفر کیا، جہاں انھوں نے جرمن اور آسٹریا-ہنگری سلطنتوں کا دورہ کیا اور کئی اعلیٰ سیاسی و عسکری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

سنہ 1918 میں تین جولائی کو سلطان محمد پنجم رشاد 73 برس کی عمر میں وفات پا گئے اور ان کی جگہ محمد ششم نے تخت سنبھالا۔

اس وقت سلطنت انتہائی زبوں حالی کا شکار تھی، برطانوی افواج اور شریف حسین کی افواج میسوپوٹیمیا، حجاز اور بیشتر شام پر قبضہ کر چکی تھیں اور پرانی ریاست مکمل انہدام کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق محمد ششم ذہین اور بصیرت رکھنے والے شخص تھے۔ انھوں نے 4 جولائی 1918 کو تخت سنبھالا اور ابتدا ہی سے اپنے بڑے بھائی عبدالحمید ثانی کی روش پر چلتے ہوئے حکومتی امور پر ذاتی اختیار قائم رکھنے کی کوشش کی۔

تاہم سلطان محمد پنجم رشاد کا جانشین بنتی ہی ان کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہوگیا تھا۔ 30 اکتوبر 1918 کو تخت سنبھالنے کے صرف چار ماہ بعد سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی عالمی جنگ میں شکست تسلیم کرتے ہوئے معاہدۂ مدروس پر دستخط کیے۔

اسی سال نومبر میں اتحادی افواج نے استنبول میں فوجی انتظامیہ قائم کی اور شہر کو برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

آٹھ دسمبر 1918 کو موجودہ حکومت ختم ہو گئی، گرینڈ وزیر (صدرِ اعظم) نے استعفیٰ دے دیا اور سلطنت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ’کمیٹی آف یونین اینڈ پروگریس‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

جماعت کے رہنما ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے الزام سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک فرار ہو گئے۔

سلطان محمد ششم، جو قوم پرستانہ نظریات کے مخالف اور عثمانی خاندان کے تسلسل کے حامی تھے، اتحادی دباؤ کے تحت 21 دسمبر 1918 کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر مجبور ہوئے اور قوم پرست تحریک کو کچلنے کا عزم ظاہر کیا۔

لیکن اناطولیہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں منظم ہونے والے قوم پرست ملکی سالمیت اور آزادی کی جدوجہد کے لیے سلطان کی حمایت چاہتے تھے۔

مذاکرات کے بعد سلطان نے نئے پارلیمانی انتخابات پر رضامندی ظاہر کی، جو 1919 کے آخر میں ہوئے اور نئی پارلیمنٹ میں قوم پرستوں کی اکثریت سامنے آئی۔

تاہم اتحادی طاقتیں ترک قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے اثر اور ترکی کی ممکنہ وحدت سے خوفزدہ ہو کر استنبول میں اپنا قبضہ مزید بڑھانے لگیں اور قوم پرست اراکینِ پارلیمنٹ کی گرفتاریاں اور جلاوطنی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

گیارہ اپریل 1920 کو سلطان نے ایک بار پھر پارلیمنٹ تحلیل کر دی۔ اس کے جواب میں انقرہ کے قوم پرستوں نے نئے انتخابات کا اعلان کیا، جن کے نتیجے میں 23 اپریل 1920 کو ’گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکی‘ تشکیل پائی اور مصطفیٰ کمال اس کے صدر منتخب ہوئے۔

اس اسمبلی نے اپنی حکومت قائم کر لی، جس کے بعد ملک میں دو متوازی حکومتیں وجود میں آئیں، ایک استنبول میں سلطان کے زیرِ قیادت اور دوسری انقرہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں۔

دس اگست 1920 کو سلطان محمد ششم نے فرانس میں طے پانے والے معاہدہ سیوریس کی توثیق کر دی کیونکہ انھیں خوف تھا کہ انکار کی صورت میں اتحادی ممالک دوبارہ جنگ چھیڑ سکتے ہیں، جس کا نتیجہ عثمانی فوج کی مکمل شکست اور شاید استنبول کے نقصان کی صورت میں نکل سکتا تھا۔

اس توثیق نے قوم پرست تحریک کو مزید طاقت بخشی کیونکہ معاہدہ سیوریس کو عثمانی ریاست کے لیے نہایت ذلت آمیز سمجھا گیا، جس کے سبب اس کے عرب صوبے چھین لیے گئے، فوج کی تحلیل کا حکم آیا اور اناطولیہ کو مختلف اثر و رسوخ کے علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

انقرہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا اور ترک جنگِ آزادی کا آغاز کر دیا۔

یوں ترک قوم پرستوں اور سلطان محمد ششم کے درمیان اختلاف اتنا گہرا ہو گیا کہ استنبول کی ایک فوجی عدالت نے مصطفیٰ کمال کو غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی۔

سلطنت کا خاتمہ

ترک قوم پرست مختلف محاذوں پر ایک سلسلہ وار فوجی فتوحات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جن میں سب سے نمایاں یونانی افواج کی شکست تھی، جو اگست 23 سے 13 ستمبر 1921 تک جاری رہنے والی سکاریا کی جنگ میں سامنے آئی۔

یہ جنگ تحریکِ آزادی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس نے قوم پرستوں کی برتری ثابت کردی اور بعد کے مراحل میں اناطولیہ کے بیشتر حصوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔

جب اتحادی طاقتوں نے استنبول حکومت اور گرینڈ نیشنل اسمبلی دونوں کو لوزان امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، جو 20 نومبر 1922 کو شروع ہوئی، تو سلطان محمد ششم نے اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم اس فیصلے نے گرینڈ نیشنل اسمبلی کی کارروائیوں کو تیز کر دیا، جس نے یکم نومبر 1922 کو ایک قانون منظور کیا جس کے تحت سلطنت کو خلافت سے علیحدہ کر دیا گیا۔

اس طرح سلطنت مکمل طور پر ختم کر دی گئی جبکہ خلافت کو ایک مذہبی منصب کے طور پر عارضی طور پر برقرار رکھا گیا، جسے سیاسی اختیار سے محروم کر دیا گیا۔

خلافت عثمانی خاندان ہی میں رہنی تھی لیکن خلیفہ کے انتخاب کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دیا گیا۔

اس کے بعد قومی اسمبلی نے سلطان کو عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا، جن پر اب قوم پرستوں کی جانب سے غداری اور قابض قوتوں سے تعاون کا الزام لگایا جا رہا تھا۔

یوں قوم پرست تحریک کی نظر میں سلطان کی موجودگی اب اتحاد کی علامت نہیں رہی تھی بلکہ ایک تاریخی بوجھ بن چکی تھی، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری سمجھا گیا تاکہ ایک جدید ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے، ایسی ریاست جو موروثی حکمرانی کے بجائے قومی خودمختاری پر قائم ہو۔

سلطنت کے خاتمے کے صرف سولہ دن بعد یعنی 17 نومبر 1922 کو محمد ششم وحید الدین زندگی کو لاحق سنگین خطرات کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد صبح سویرے استنبول سے فرار ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔

وہ بھیس بدل کر ایک ایمبولینس میں نکلے جسے برطانوی محافظ چلا رہے تھے۔ محمد ششم کے ساتھ ان کے دس سالہ صاحبزادے شہزادہ محمد ارتغرل بھی موجود تھے۔

انھیں خفیہ طور پر برطانوی جنگی بحری جہاز ایچ ایم ایس ملایا تک پہچایا گیا، جہاں اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر جنرل چارلس ہیرنگٹن بھی موجود تھے۔

چند گھنٹے بعد ہی عثمانی محل کے حکام نے اپنے سلطان کی روانگی کی تصدیق کر دی تھی۔

اگلے چند ہفتوں میں محمد ششم نے گوشہ نشینی اور خاموشی کی زندگی گزاری۔ وہ 9 دسمبر 1922 کو مالٹا پہنچے اور بعد ازاں اطالوی ریویرا کو اپنی مستقل جلاوطنی کے لیے چن لیا۔

وہ سان ریمو کے شہر میں مقیم ہوئے، جہاں اٹلی کے نئے حکمران بینیٹو موسولینی نے ان کا خیرمقدم کیا اور انھیں اٹلی میں ایک ’باوقار‘ قیام کی پیشکس کی۔

سلطان محمد ششم کے فرار کے بعد انقرہ کی پارلیمنٹ نے ان کے چچا زاد بھائی عبدالمجید ثانی کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا۔

محمد ششم نے بعد میں حجاز میں خود کو خلیفہ منوانے کی کوشش کی مگر ان کی یہ کوشش اس سے پہلے ہی اس وقت ناکام ہو گئی جب 1924 میں خلافت کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

یوں نومبر 1922 میں سلطان کے عہدے کا خاتمہ محض ایک قانونی کاروائی نہیں تھا بلکہ ایک زلزلہ خیز واقعہ تھا جس نے صدیوں پر محیط عثمانی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔

اس طرح محمد ششم اس طویل تاریخی سلسلے کی آخری کڑی ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں ریاست اور اقتدار کے تصور میں بنیادی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی۔

زندگی کے آخری دنوں میں محمد ششم کا خلافت سے تعلق پیچیدہ ہو گیا تھا۔ وہ خلیفہ کا لقب رکھتے تھے لیکن خلافت کا حقیقی اثر پہلے ہی بہت کمزور ہو چکا تھا کیونکہ زیادہ تر مسلم علاقے عثمانی اختیار سے باہر ہو گئے تھے۔

اس کے باوجود انھوں نے یورپی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی مذہبی حیثیت کو ایک علامتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی مگر پہلی عالمی جنگ کے بعد کی دنیا میں یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہ ہوسکی، جہاں طاقت اور نوآبادیاتی مفادات کا غلبہ تھا۔

محمد ششم کی موت اور اس سے پہلے کے حالات

اپنی معزولی کے چار برس تک محمد ششم قتل ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی جیب میں ہمیشہ ایک پستول رکھتے تھے۔ 16 مئی 1926 کو اٹلی کے شہر سان ریمو میں شریان بند ہونے کے باعث ان کا انتقال ہوا۔

اس وقت تک سابق سلطان دیوالیہ ہو چکے تھے اور بھاری قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

اٹلی کے حکام نے تدفین کے اخراجات ادا نہ ہونے پر ان کا تابوت ضبط کر لیا اور ان کی بیٹی رقیہ صبیحہ کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ضروری رقم اکٹھی کرنی پڑی۔

اس کے بعد محمد ششم کو دمشق میں دفن کیا گیا، وہ شہر جو کبھی سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم ترین دارالحکومتوں میں شامل ہوتا تھا۔

ان کی تدفین کی جگہ، اناطولیہ اور استنبول سے بہت دور، اس عظیم سلطنت کے المناک انجام کی علامت تھی جو صدیوں تک اسلامی دنیا پر حکمرانی کرتی رہی مگر آخرکار جلاوطنی میں اپنے تاریخی مرکز سے دور ختم ہوئی۔

محمد ششم نے پانچ شادیاں کیں: نزاکت خانم، جو ان کی پہلی بیوی تھیں اور ’سلطانہ‘ کا لقب رکھتی تھیں۔ انشراح خانم، جن سے بعد میں علیحدگی ہوگئی۔ مفدت قادین، جن سے ان کا اکلوتا بیٹا پیدا ہوا۔ نوّارہ خانم، جن سے وہ الگ ہو گئے اور نیوزاد خانم۔

ان کے ہاں صرف ایک بیٹے شہزادہ محمد ارتغرل کی پیدائش ہوئی جبکہ ان کی تین بیٹیاں بھی تھیں: منیرہ سلطان، فاطمہ علویہ سلطان اور رقیہ صبیحہ سلطان۔

محمد ششم کی شخصیت کو اس تاریخی پس منظر سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا جس میں انھوں نے حکومت کی۔

انھوں نے ایسے غیر معمولی حالات میں تخت سنبھالا جب سلطنتِ عثمانیہ پہلی عالمی جنگ کے بعد شکست خوردہ، معاشی طور پر تباہ حال، اتحادی افواج کے عملی قبضے میں اور ایسے سخت معاہدوں کی پابند تھی جنھوں نے اس کے فوجی اور سیاسی اداروں کو تحلیل کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

خود استنبول برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔ اسی دوران عرب ریاستیں عثمانی حکومت سے الگ ہو رہی تھیں اور اناطولیہ کو بین الاقوامی منصوبوں کے تحت تقسیم کیے جانے کا خطرہ لاحق تھا۔

محمد ششم کے سلطان کے منصب پر سوالات اُٹھ رہے تھے کیونکہ بہت سے فوجی افسران اور دانشور عثمانی دربار کو شکست اور زوال کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔

ان کے نزدیک سلطنت کا جاری رہنا ایک جدید اور قابلِ عمل ریاست کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ یہی تقسیم استنبول اور انقرہ کے درمیان کھلے ٹکراؤ کی شکل میں سامنے آئی، جب قوم پرست تحریک نے متوازی ادارے پارلیمنٹ، فوج اور شہری انتظامیہ قائم کرنا شروع کیے، جو سلطان کے اختیار کو چیلنج کرتے تھے۔

قوم پرست تحریک کے بارے میں محمد ششم کی پالیسی متزلزل اور غیر مستقل رہی۔ کبھی وہ اسے قابو میں لانے یا اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرتے اور کبھی ایسے اقدامات کی حمایت کرتے جو اسے کمزور کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے، جن میں اس کے رہنماؤں کے خلاف مذہبی فتوے جاری کرنا بھی شامل تھا۔

لیکن ان پالیسیوں نے صرف ان کے اور ترک عوام کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کیا اور انھیں غیر ملکی قابض قوتوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ کار کی صورت میں پیش کرنے کی تاثر کو مضبوط کیا۔

محمد ششم سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہو گئے تھے، انھیں عوامی حمایت حاصل نہیں تھی اور جب کمالسٹ تحریک اناطولیہ کے بڑے حصوں سے غیر ملکی افواج کو نکالنے میں کامیاب ہوئی تو قوم پرستوں کی نظر میں سلطان کا عہدہ ایک تاریخی بوجھ بن گیا۔

مؤرخین نے محمد ششم کی شخصیت اور اس دور میں ان کے کردار کے بارے میں مختلف آرا پیش کی ہیں۔ کچھ انھیں ایک کمزور حکمران قرار دیتے ہیں، جن میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور وژن کی کمی تھی۔

دوسری جانب بعض مؤرخین انھیں بین الاقوامی حالات کے دباؤ کا اسیر سمجھتے ہیں، جن کے لیے گنجائشِ عمل نہایت محدود تھی۔ ان کے مطابق صرف ان ہی کو ریاست کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانا، اس وقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جس میں سلطنت پہلے ہی کمزور ہو رہی تھی۔

اس نقطۂ نظر کے تحت سلطان نے جنگ جیتنے کے امکانات ختم ہو جانے کے بعد فاتح طاقتوں سے سمجھوتے کی پالیسی کے ذریعے ریاست کے بچے کھچے حصوں کو بچانے کی کوشش کی۔

وہ سمجھتے تھے کہ دارالحکومت اور تخت کو بچانے کے لیے سیاسی لچک اور بعض تکلیف دہ رعایتیں ناگزیر ہو چکی تھیں۔

محمد ششم کے بارے میں بحث آج بھی تاریخی تحریروں میں جاری ہے۔

جدید ترکی میں کئی دہائیوں تک سرکاری بیانیہ غالب رہا، جو انھیں سخت تنقید کا نشانہ بناتا تھا اور ریاست کے زوال کا ذمہ دار ٹھہراتا تھا جبکہ مصطفیٰ کمال کو جمہوریہ ترکی کے بانی کے طور پر عظیم بنا کر پیش کیا جاتا۔

تاہم حالیہ مطالعات زیادہ متوازن نقطۂ نظر کی طرف مائل ہیں، جن میں محمد ششم کے زوال کو ایک پیچیدہ تاریخی دور کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ایک ایسا فرد جسے تنہا ایک زوال پذیر سلطنت کے خاتمے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

بالآخر محمد ششم روایتی سلطنتوں کے عہد کے خاتمے اور ترکی میں قومیت پسند ریاست اور سیکولرازم کے نئے دور کے آغاز کی علامت ہیں۔

چاہے انھیں ایک کمزور حکمران سمجھا جائے یا ایک ایسے بے بس شخص کے طور پر دیکھا جائے جو ریاست کے باقی ماندہ حصوں کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، ان کی حیثیت تاریخ میں اُس فیصلہ کن موڑ سے جڑی ہوئی ہے جس نے خطے اور پوری اسلامی دنیا کی صورتحال بدل کر رکھ دی۔

اسی تناظر میں محمد ششم اور مصطفیٰ کمال اتاترک کے درمیان علامتی کشمکش ابھی ختم نہیں ہوئی۔

یہ محض ذاتی یا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کے بارے میں دو مختلف تصورات کا ٹکراؤ بھی ہے: ایک تصور سلطنت کو ایک تاریخی نظام سمجھتا ہے، جس میں اصلاح کر کے اس کا کردار بحال کیا جا سکتا تھا جبکہ دوسرا تصور ماضی سے مکمل قطع تعلق ایک جدید ریاست کی تعمیر کے لیے لازمی شرط سمجھتا تھا۔

ایک صدی سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود یہ ورثہ ترکی کی سیاسی اور تاریخی یادداشت میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔