آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات کو یمن کے بعد صومالیہ میں بھی مشکل صورتحال کا سامنا: امارات کے افریقی ملک سے خوشگوار تعلقات کشیدہ کیسے ہوئے؟
- مصنف, بشریٰ محمد
- عہدہ, بی بی سی افریقہ
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صومالیہ اسرائیل کی جانب سے اس کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔
سفارتی رابطوں اور اعلیٰ سطحی ٹیلی فونک بات چیت کے ذریعے صومالی حکومت نے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی اہم ممالک کی حمایت حاصل کر لی ہے، جو اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
تاہم ایک تعلق ایسا ہے جو تیزی سے خراب ہوا ہے اور وہ ہے متحدہ عرب امارات کے ساتھ صومالیہ کی دیرینہ شراکت داری۔
تیل سے مالا مال خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کو طویل عرصے سے صومالیہ کی سکیورٹی، معیشت اور سیاست میں ایک اہم کردار کا حامل سمجھا جاتا رہا ہے۔
صومالیہ کی 3000 کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی خلیجِ عدن اور بحرِ ہند کے ساتھ واقع ہے، جو ایک نہایت اہم سمندری خطہ ہے جہاں قزاقی اور اسلحے کی سمگلنگ جیسے مسائل نے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ دونوں میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے صومالیہ کی وفاقی حکومت اور اس کے مختلف خطوں کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات قائم کیے، اور وہ پنٹ لینڈ کے شہر بوساسو، جوبالینڈ کے کسمائیو اور صومالی لینڈ کے بربرہ کی بندرگاہوں کے انتظام میں بھی شامل رہا ہے۔
تاہم پیر کے روز صومالیہ کی وفاقی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بندرگاہوں کے انتظام اور سکیورٹی تعاون سے متعلق تمام معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس پر ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
غیر معمولی کابینہ اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا: ’ہمارے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچھے تعلقات تھے لیکن بدقسمتی سے انھوں نے ہمیں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ہمارے ساتھ رابطہ نہیں رکھا۔ محتاط جائزے کے بعد ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال ان بیانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر محقق عمر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کا فیصلہ اس پورے معاملے کا پس منظر بنا ہے۔
ان کے مطابق ’صومالیہ اس اقدام کو اپنی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پس پردہ اس فیصلے کی حمایت میں کردار ادا کیا۔‘
دسمبر کے آخر میں اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا۔ اس اعلان کے بعد صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں خوشی منائی گئی، کیونکہ صومالی لینڈ گذشتہ تیس برس سے خود کو صومالیہ سے الگ ایک ملک سمجھتا ہے اور اپنی حکومت، پاسپورٹ اور کرنسی رکھتا ہے، مگر اب تک کسی ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔
اس کے بدلے میں صومالی لینڈ نے 2020 کے ابراہم معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کیا، جن کے تحت اب تک متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ اس اقدام سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو اس وقت تقویت ملی جب وہ غزہ جنگ کے باعث شدید عالمی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
عمر محمود کے مطابق ’خطہ تیزی سے مختلف جغرافیائی و سیاسی بلاکس میں تقسیم ہو رہا ہے، جہاں ایک جانب متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک کھڑے ہیں۔‘
پیر کے روز خبر رساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ سفارتی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات نے صومالیہ کے شہر بوساسو میں واقع ایئر بیس سے اپنا سکیورٹی عملہ اور بھاری فوجی سازوسامان نکالنا شروع کر دیا ہے۔
ماہر عمر محمود کے مطابق صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات 2024 سے بتدریج خراب ہوتے جا رہے ہیں، جب خلیجی ریاست کے قریبی اتحادی ایتھوپیا نے اشارہ دیا تھا کہ وہ صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے بدلے ایتھوپیا کو صومالی لینڈ کے ساحل پر ایک بحری اڈا قائم کرنے کی اجازت ملنی تھی۔
محمود کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا اور صومالی لینڈ کے درمیان 2024 میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد صومالیہ میں متحدہ عرب امارات پر شکوک بڑھ گئے، کیونکہ صومالیہ کو خدشہ تھا کہ یو اے ای اس معاہدے کی حمایت کر رہا ہے، جس کی وہ سخت مخالفت کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’ایتھوپیا نے صرف تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اسرائیل نے عملی طور پر صومالی لینڈ کو تسلیم کر لیا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ صومالیہ نے متحدہ عرب امارات پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین استعمال کر کے یمن کے علیحدگی پسند رہنما عیدروس الزبیدی کو ملک سے نکلنے میں مدد دی۔ یہی معاملہ ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے تعلقات میں آخری دھچکا ثابت ہوا۔
صومالیہ کے نائب وزیر خارجہ علی عمر نے الجزیرہ کو بتایا ’صومالیہ کی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کو کسی مفرور شخص کو نکالنے کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔‘
گذشتہ ہفتے یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بھی ایسا ہی الزام لگایا تھا۔ ان کے مطابق، یمن کے علیحدگی پسند سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی پہلے بحری جہاز کے ذریعے بربرہ پہنچے اور پھر متحدہ عرب امارات کے افسران کی نگرانی میں موغادیشو کے راستے ایک کارگو طیارے کے ذریعے ابو ظہبی منتقل کیے گئے۔ تاہم متحدہ عرب امارات یمن کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات خراب ہوئے ہوں۔ 2018 میں اس وقت کے صدر محمد عبداللہ فرماجو کے دور میں صومالیہ نے متحدہ عرب امارات سے تعلقات منقطع کر دیے تھے اور اس پر داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت موجودہ صدر حسن شیخ محمود اپوزیشن میں تھے اور یو اے ای کے کردار کا دفاع کرتے تھے، مگر اب وہ بالکل مختلف مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور یمن جنگ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلقیس انسائٹ تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار سمیرا قائد کے مطابق ’اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے اور یمن میں بدلتی علاقائی صورتحال، خاص طور پر سعودی عرب اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے کردار نے صومالی حکومت پر دباؤ بڑھایا، جس کے بعد اس نے فیصلہ کن قدم اٹھایا۔‘
تاہم ماہر عمر محمود کا کہنا ہے کہ صومالیہ کی وفاقی حکومت کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بندرگاہوں کے معاہدے ختم کرنے کے اپنے فیصلے پر عملی طور پر عملدرآمد کرا سکے، کیونکہ وفاقی حکومت کا علیحدہ ہونے والی ریاست صومالی لینڈ پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
اسی طرح وفاقی حکومت کا پنٹ لینڈ اور جوبالینڈ کی بندرگاہوں پر بھی زیادہ کنٹرول نہیں، جو صومالیہ کے اندر نیم خودمختار علاقے ہیں۔
عمر محمود کے مطابق ’ان علاقوں میں صومالی حکومت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ وفاقی نظام میں اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر ان علاقائی حکومتوں کے ساتھ سیاسی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے۔‘
دبئی میں قائم لاجسٹکس کمپنی ’ڈی پی ورلڈ‘ نے وفاقی حکومت کے اعلان پر کوئی خاص تشویش ظاہر نہیں کی اور کہا ہے کہ صومالی لینڈ کی بربرہ بندرگاہ پر اس کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
ڈی پی ورلڈ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا ’ڈی پی ورلڈ بندرگاہ کے محفوظ اور مؤثر انتظام پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے اور صومالی لینڈ اور پورے ہارن آف افریقہ کے لیے تجارتی سہولت اور معاشی فوائد فراہم کرتا رہے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ سیاسی فیصلوں، حکومتی بات چیت یا سفارتی مؤقف سے متعلق سوالات متعلقہ حکام سے کیے جائیں۔
یہ بیان حیران کن نہیں تھا کیونکہ صومالی لینڈ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کے تمام معاہدے قانونی اور مؤثر ہیں۔
جہاں تک جوبالینڈ کا تعلق ہے، وہاں کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کے فیصلے کو ’کالعدم‘ قرار دیا، جبکہ پنٹ لینڈ نے اس فیصلے کو ’آئینی طرزِ حکمرانی کے اصولوں کے خلاف‘ کہا ہے۔
تاہم عمر محمود کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود صومالیہ کے پاس متحدہ عرب امارات اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کے کچھ ذرائع موجود ہیں۔
ان کے مطابق ’موغادیشو ملک کی فضائی حدود کو کنٹرول کرتا ہے اور اسے سفارتی دباؤ کے ساتھ استعمال کر کے متحدہ عرب امارات اور علاقائی حکومتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ صومالیہ ممکنہ طور پر ترکی اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل کرے گا۔
عمر محمود کو مستقبل قریب میں صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی، کیونکہ ان کے بقول ’اعتماد ٹوٹ چکا ہے، اور اسے بحال کرنے کے لیے غیر معمولی سفارتی کوششوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔‘