انڈیا میں پادری کو زدوکوب کرنے کے الزام میں چار افراد زیر حراست: ’مندر کے سامنے سجدہ کرنے اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا‘

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی ریاست اڑیسہ میں ایک مسیحی پادری کو زدوکوب کرنے کے الزام میں پولیس نے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ کئی اور مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ 4 جنوری کو پیش آیا لیکن یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔

بعض خبروں میں بتایا گیا کہ پادری کو مبینہ طور پر جبراً گوبر بھی کھلایا گیا تاہم ایس پی پولیس ابھینو سونکر کے مطابق گوبر کھلانے کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔

پادری نائک کی اہلیہ نے بتایا کہ انھوں نے اس واقعے کی شکایت مقامی پولیس سٹیشن میں اسی روز درج کروائی تھی لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد انھوں نےسپریٹنڈنٹ آف پولیس ابھینو سونکر سے رجوع کیا جس کے بعد پولیس نے 13 جنوری کو باضابطہ کیس درج کیا۔

ایس پی ابھینو سونکر نے بتایا کہ بدھ کے روز چار مشتبہ افراد کو پادری پر حملہ اور زدوکوب کرنے کے معاملے میں حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

دھین کنال ضلع کے پادری بپن بہاری نائک کی بیوی وندنا کی شکایت کے مطابق ان کے شوہر قریب کے ایک گاؤں میں اپنے ایک دوست سے ملنے گئے تھے۔

’وہاں وہ مقامی مسیجی برادری کے لیے دعا اور عبادت کر رہے تھے کہ اچانک وہاں مبینہ طور پر دائیں بازو کی ایک ہندو تنطیم سے تعلق رکھنے والے پندرہ بیس لوگ پہنچ گئے جنھوں نے پادری نائک پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔‘

’ہجوم نے انھیں پکڑ لیا اور ان کے چغے اور چہرے پر سندور مل دیا۔ انھیں مارا پیٹا اور گلے میں چپلوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا گیا۔‘

’انھیں نالی کا گندا پانی پلایا گیا اور ایک ہندو مندر کے سامنے سجدہ کرنے اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔‘

’سپریم کورٹ کو اس واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہیے‘

اڑیسہ میں اپوزیشن پارٹی بی جے ڈی نے ایک بیان میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات ریاست کی مذہبی آہنگی کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے تاہم حکمران جماعت بی جے پی نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ اس واقعے کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تفصیلات سامنے آتے ہی شدید ردعمل آیا۔

مبصر سواتی چترویدی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ بہت گری ہوئی حرکت ہے۔ یہ شرپسند جیل میں ہونے چاہيیں۔ اس کا ہندو ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔‘

انڈیا کے زیر انتطام کشمیر کی سیاسی رہنما التجا مفتی نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’یہ ملکی اقدار کو تاریک دور میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔‘

ایک اور صارف سرود چندرا نے لکھا کہ ’ہم بالکل بنگلہ دیش کے بنیاد پرستوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہم ان سے شکایت بھی کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کو کیا ہو گیا، جو ایک عشرے پہلے تک اتنا خوبصورت تھا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کو اس واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہیے اور ریاستی حکومت سے اس کے بارے میں وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ حملہ آوروں کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جانی چاہیے اور اگر پادری نے کسی غیر قانونی فعل کا ارتکاب کیا ہے تو ان کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہیے۔‘

بعض صارف ایسے بھی ہیں جنھوں نے پادری پر حملہ کرنے والوں کی حمایت میں پیغام لکھا۔

رادھا شری نام کے ایک ہینڈیل سے پوسٹ کیے گئے پیغام میں لکھا گیا کہ ’مذہب تبدیل کرنے والوں کو اسی طرح عزت دینی چاہیے۔ یہ آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔‘

اڑیسہ میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد ہندو تنطیمیں کئی بار یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ ریاست میں مسیجی مشنریاں قبائلی اور غریب آبادی کو لالچ دے کر یا جبری طور پر مذہب تبدیل کر رہی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں مسیحی عبادت گاہوں اور دعائیہ تقاریب پر متعدد حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

مسیحی تنطیموں کا کہنا ہے کہ وہ لالچ اور جبر سے تبدیلی مذہب کے فعل میں قطعی طور پر ملوث نہیں۔ ان کا کہنا ہے ہندو تنظیمں مسیحی برادری کو تبدیلی مذہب کا بہانہ بنا کر دانستہ طور پر ہدف بنا رہی ہیں۔

کرسچین فورم کے سربراہ ارون پنا لال نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

’اس صورتحال میں پورے سماج کو سوچنا ہو گا سبھی کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ ملک ایک سیکولر آئین کے تحت ہی آگے بڑھے گا۔ اگر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی تو سب کچھ منتشر ہو جائے گا۔‘