آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور میں لوڈر رکشے پر ’سوار‘ شیر کے حملے میں بچی زخمی، پولیس نے مزید 10 شیروں کو بازیاب کروا لیا
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
لاہور کے علاقے بھیکے وال میں ایک شیر نے حملہ کر کے ایک کمسن بچی کو زخمی کر دیا، جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
تھانہ اقبال ٹاون پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب کچھ افراد ایک شیر کو لوڈر رکشے میں لے کر جا رہے تھے کہ بھیکے وال کے بازار میں رش دیکھ کر شیر نے بے قابو ہو کر وہاں پر موجود لوگوں پر حملہ کردیا۔
مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے بازار میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔
مقامی پولیس کے مطابق نو سالہ بچی جو دکان سے کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لیے گھر سے نکلی تھی، وہ شیر کے حملے کی زد میں آ گئی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ شیر کے حملے سے بچی کی گردن اور اس کے دونوں کانوں کے اردگرد زخم آئے ہیں۔
شیر کے حملے میں زخمی ہونی والی بچی کے والد خضر عباس کا کہنا ہے کہ اب ان کی بیٹی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ شیر علاقے کی با اثر سیاسی شخصیت کی ملکیت ہیں جس کی وجہ سے اہل محلہ ان کی شکایت اعلی حکام کو درج کروانے سے ڈرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان ہی افراد نے جو شیر کے ساتھ تھے، نے شیر کو قابو کیا اور لوڈر رکشے میں دوبارہ سوار کر کے فرار ہو گئے۔
تھانہ اقبال ٹاون پولیس نے خضر عباس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف لاہور کے ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث نہ صرف ان دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا بلکہ ان کے قبضے سے اس شیر کو بھی بازیاب کر لیا گیا جس نے بچی پر حملہ کر کے اسے زخمی کیا تھا۔
مزید 10 شیر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے
ایک بیان میں ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پولیس نے لاہور کے علاقے نواں کوٹ میں چھاپہ مار کر مزید 10 شیروں کو بازیاب کروا کر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ان شیروں کو نواں کوٹ کے علاقے میں فیکٹری میں رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ فیکٹری کے نیچے کڑھائی کا کام ہوتا تھا جبکہ عمارت کے فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بازیاب کرائے گئے ان شیروں کو چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور شفٹ کیا گیا تھا جبکہ ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق جس فیکٹری سے شیروں اور ان کے بچوں کو بازیاب کروایا گیا، اس فیکٹری کے مالکان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشز کا کہنا تھا کہ ملزمان نے شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یوٹیوبر رجب بٹ کے گھر سے بھی لاہور پولیس اور وائلڈ لائف کے عملے نے ایک شیر کا بچہ بازیاب کیا تھا۔ رجب بٹ کو شیر کا بچہ ان کے کسی دوست نے ان کی شادی پر تحفے کے طور پر دیا تھا۔
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے اس مقدمے میں یوٹیوب رجب بٹ کو ہر ماہ شکار کے خلاف ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔