آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عالمی منڈیوں میں مسلسل دوسرے روز مندی کا رجحان: ’یورپی پارلیمان امریکی تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا سوچ رہی ہے‘

یورپی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تجارتی کمیٹی سے قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس معاہدے سے معطلی کا اعلان آج یعنی بدھ کے روز فرانس کے شہر سٹرسبورگ میں کیے جانے کا امکان ہے۔

خلاصہ

  • متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کی قبول کرلی ہے
  • کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے
  • کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے
  • روسی صدر پوتن کو غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق
  • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر
  • رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی
  • کابل میں ریستوران کے باہر دھماکہ، ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. عالمی منڈیوں میں مسلسل دوسرے روز مندی کا رجحان: ’یورپی پارلیمان امریکی تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا سوچ رہی ہے‘

    یورپی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تجارتی کمیٹی سے قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اس معاہدے سے معطلی کا اعلان آج یعنی بدھ کے روز فرانس کے شہر سٹرسبورگ میں کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ اقدام امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کی علامت ہوگا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کی اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں اور اس معاملے پر ہفتے کے آخر میں نئے محصولات یعنی ٹیرف لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    اس تعطل نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تجارتی جنگ کی باتیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور امریکہ کے تجارتی اقدامات کے جواب میں ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    منگل کے روز بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب حصص یعنی شئیرز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، یورپی سٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے دن بھی خسارہ دیکھنے کو ملا۔

    امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس ایک اعشاریہ سات فیصد سے زیادہ گراوٹ کا شکار نظر آیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں دو فیصد سے زائد کمی آئی اور نیسڈیک تقریباً دو اعشاریہ چار فیصد کم ہو کر بند ہوا۔

    بدھ کے روز ایشیا پیسیفک خطے کی سٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا، جاپان اور آسٹریلیا کے بڑے اعشاریے قدرے نیچے رہے، جبکہ چین کے مین لینڈ میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ جاری رہا اور یہ پہلی بار 4800 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔ چاندی کی قیمت ریکارڈ سطح 94 ڈالر فی اونس سے کم ہو گئی۔

    غیر یقینی حالات میں قیمتی دھاتوں کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران سونے اور چاندی دونوں کی ہی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا ہے، حالانکہ راتوں رات اس کی قدر میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئی تھی جو دسمبر کے آغاز کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

    امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی جولائی میں اس وقت کم ہو گئی تھی جب دونوں فریقوں نے سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے ٹرن بیری گالف کورس پر ایک معاہدہ کیا تھا۔

    اس معاہدے کے تحت زیادہ تر یورپی اشیا پر امریکی محصولات 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے، جو اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ’لبریشن ڈے‘ ٹیرف مہم کے تحت دھمکی دی گئی 30 فیصد شرح سے کم تھے۔ اس کے بدلے یورپ نے امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے اور براعظم میں ایسی تبدیلیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا جن سے امریکی برآمدات میں اضافے کی توقع تھی۔

    تاہم اس معاہدے کو باضابطہ بننے کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے۔

    لیکن سنیچر کے روز، گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی محصولات کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد، یورپی پارلیمنٹ کے بااثر جرمن رکن مانفریڈ ویبر نے کہا کہ ’اس مرحلے پر منظوری ممکن نہیں ہے۔‘

    اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے کہا کہ ’گرین لینڈ پر دھمکیوں کی وجہ سے معاہدے کو معطل کرنے کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔‘

    لانگے نے مزید کہا کہ ’ایک یورپی یونین کے رکن ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو دھمکی دے کر اور ٹیرف کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر کے، امریکہ یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کے استحکام اور پیش گوئی کے قابل ہونے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ لانگے کی کمیٹی کو معاہدے پر دستخط کرنے ہوتے ہیں اس کے بعد ہی یہ حتمی ووٹ کے لیے پارلیمنٹ میں جاتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ٹرن بیری کی دو قانون سازی تجاویز پر کام اس وقت تک معطل کر دیا جائے جب تک امریکہ تصادم کے بجائے تعاون کے راستے پر دوبارہ آمادہ نہیں ہوتا اور اس سے پہلے کہ کوئی مزید اقدامات کیے جائیں۔‘

  2. نیٹو کے لیے مجھ سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے لیے ان سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ آپ کو یہی بتائیں گے۔ آپ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے بھی اس بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نیٹو پر خطیر رقم خرچ کرتا ہے اور انھیں یقین ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر نیٹو ممالک کی مدد کرے گا، تاہم انھوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا نیٹو بھی امریکہ کی اسی طرح مدد کرے گا یا نہیں۔

    یاد رہے اس بریفنگ سے قبل ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ایک پیغام کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں مارک نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’آگے بڑھنے کا راستہ نکالنے کے لیے پُرعزم‘ ہیں۔

  3. مجھے یقین ہے سوئٹزرلینڈ میں میرا انتظار ہو رہا ہے اور مجھے خوش آمدید کہا جائے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے وائٹ ہاؤس کے پوڈیم پر پہنچے جہاں انھوں نے ایک بڑی فائل بائنڈر ساتھ رکھی، وہ اسے اپنی ’کامیابیوں کی فہرست‘ کہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی سوئٹزرلینڈ کے ’خوبصورت مقام‘ پر جائیں گے، جس پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔

    اور مزید کہا: ’مجھے یقین ہے کہ مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ صدر کل ڈیوس، سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم میں شریک ہوں گے، جہاں ان کی اتحادیوں پر ٹیرفز عائد کرنے کی دھمکیوں پر کافی بات ہو رہی ہے۔

    فرانسیسی صدر نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ’نئے ٹیرفز کا لامتناہی اضافہ‘ ناقابل قبول ہے، اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

  4. ’نیٹو میری بدولت زندہ ہے، ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو فوجی اتحاد کے لیے کسی بھی شخص یا صدر نے اُن کی طرح کام نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘

    یہ بیان اُن کی اس دھمکی کے بعد آیا ہے کہ اگر اتحادی گرین لینڈ کے حوالے سے اُن کے منصوبے کی مخالفت کریں تو وہ اُن پر ٹیرفز عائد کر سکتے ہیں۔

  5. ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں‘: کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی مکمل حمایت کا عزم

    کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور گرین لینڈ کے مستقبل کا تعین کرنے کے ان کے منفرد حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے اصول پر پورا یقین رکھتا ہے، جس کے مطابق ایک یا زیادہ ممالک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

    کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی بھی سخت مخالفت کرتا ہے۔

  6. ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکی ’ناقابل قبول‘ ہے: ایمینوئل میخواں

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے اب سے کچھ دیر قبل ڈیوس کے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا ہے۔

    انھوں نے کہا ’امن، استحکام اور قابلِ یقین صورتحال وقت کا تقاضا ہے۔‘

    اس جملے پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔

    میخواں نے کہا کہ واضح ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ’غیر استحکام اور عدم توازن‘ کا ہے۔۔ نہ صرف سکیورٹی کے لحاظ سے بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی ہے۔

    انھوں نے کہا ’حالات پر غور کریں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ اور اس کے ساتھ ’آمرانہ رجحان کی طرف تبدیلی‘ اور 2024 میں دنیا بھر میں جاری جنگوں کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ ’تنازع معمول بن گیا ہے۔‘

    میخواں نے پھر تحفظ پسندی اور ٹیرفز کی طرف توجہ دلائی۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کی تجارت میں مسابقت، جو ہمارے برآمدی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے، زیادہ سے زیادہ رعایتیں مانگتی ہے اور کھل کر یورپ کو کمزور اور تابع بنانے کی کوشش کرتی ہے، ساتھ ہی ’نئے ٹیرفز کے لامتناہی اضافے‘ کو ناقابل قبول قرار دیا۔

    میخواں نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ ٹیرفز ’علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیے جائیں۔‘

    فرانسیسی صدر کے مطابق یورپی مسابقت امریکہ سے پیچھے رہ گئی ہے اور ہمیں کم نمو اور ناکافی سرمایہ کاری کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    میخواں نے کہا کہ فرانس اور یورپ واضح طور پر قومی خودمختاری اور آزادی کے پابند ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ’پرانی سوچ‘ نہیں ہے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے اسباق کو مکمل طور پر فراموش نہ کرنے اور تعاون کے عزم پر قائم رہنے کا معاملہ ہے۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ انھی اصولوں کی بنیاد پر ان کے ملک نے گرین لینڈ میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسی کو دھمکانا نہیں بلکہ ڈنمارک میں ایک اتحادی کی حمایت کرنا ہے۔

  7. خامنہ ای کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تو حملہ آوروں کی ’دنیا کو آگ لگا دیں گے‘: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارنے کی ’کوشش‘ کی گئی تو ایران حملہ آوروں کے لیے دنیا غیر محفوظ بنا دے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ابو فضل شکارچی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے رہنما کی طرف کوئی جارحانہ ہاتھ بڑھا تو ہم ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے اور دنیا کی کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہنے دیں گے۔‘

    خیال رہے 17 جنوری کو پولیٹکو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کا دور ختم ہوگیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت لائی جائے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی دو رو قبل کہہ چکے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ کے رہنما پر حملے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای گذشتہ سات ماہ کے دوران اب دوسری بار روپوش ہو گئے ہیں۔ انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ انھیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے پائے جائیں یا گھر کی بالکونی پر سکون سے فرصت کے لمحات گزار پائیں۔

    اس حوالے سے بی بی سی اردو نے ایران کے ’روپوش‘ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا مستقبل کیا ہو گا؟کے عنوان سے ایک خبر شائع کی تھی جسے آپ یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

  8. خاتون کا پولیس حراست کے دوران مبینہ ریپ، عدالت کا تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع جیکب آباد کی ایک عدالت نے پولیس حراست کے دوران گینگ ریپ کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کردی ہے اور مقدمے میں ایس ایچ او کو ملوث نہ کرنے پر ایس ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرف الدین شاہ نے خاتون کے ساتھ ہونے والی مبینہ گینگ ریپ کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ پولیس نے منگل کو ڈی ایس پی ٹھل پولیس اور تفتیشی افسر غلام مصطفیٰ ابڑو، متاثرہ خاتون اور اُن کی دادی جو مدعی بھی ہیں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    پولیس اہلکاروں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد چھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متاثرہ خاتون سمیت نامزد اہلکاروں کے ڈی این اے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

    متاثرہ خاتون کے ورثا نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ابھی تک مرکزی ملزمان، انچارج ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کے نام کیس میں شامل نہیں کیے جس پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی ملزمان کے نام ہی شامل نہیں ہیں، تو یہ کیسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے؟

    انھوں نے ایس ایس پی کو طلب کیا اہلکاروں نے بتایا کہ وہ ایک پیشی کے سلسلے میں ہائیکورٹ گئے ہوئے ہیں۔

    عدالت نے مقدمے کی تحقیقات وفاقی ادارے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا اور قرار دیا کہ پولیس رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ خاتون کا تھانے کے اندر دورانِ حراست ریپ کیا گیا، جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔

    عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے (سرکل لاڑکانہ) ایک غیر جانبدار افسر کے ذریعے قانون کے مطابق تفتیش مکمل کر کے مقررہ وقت میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

    یاد رہے کہ ٹھل تھانے کی حدود میں خواتین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد دوران حراست ریپ کیا گیا، یہ خبر میڈیا میں آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے اس کا نوٹس لیا اور پولیس کو مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جس کے بعد ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کی دادی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔

    مدعی نے الزام لگایا کہ ان کے مردوں پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا سات جنوری کو چھ پولیس اہلکار آئے مردوں کی عدم موجودگی میں انھیں اور ان کی دو پوتیاں جن کی عمریں 17 سال اور 15 سال ہیں جو بہنیں ہیں کو حراست میں لیا اور ایک مکان میں بند کردیا۔

    مدعی مقدہ متاثرہ خاتون کی دادی کی جانب سے پولیس پر یہ الزام لگایا گیا کہ 12 جنوری کی شب آٹھ بجے کے قریب ان کی بڑی پوتی 17 سالہ کو دوسرے کمرے میں لے گئے اور چھ پولیس اہلکاروں نے ان کا ریپ کیا اور انھیں دہمکایا گیا کہ کسی کے ساتھ یہ بات نہیں کرنی ہے اس کے بعد وہ واپس گھر آگئے، خوف کی وجہ سے وہ فوری مقدمہ درج نہیں کراسکے تھے۔

    دوسری جانب ایس ایس پی جیکب آباد کلیم ملک کا کہنا ہے کہ تمام نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کیا گیا اور ان کا ریمانڈ بھی لیا گیا ہے اس کے علاوہ ایس ایچ او، چوکی انچارج کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جو میرٹ پر تحقیقات کرے گی کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائیگی، اس وقت ایس ایچ او سمیت نامزد اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔

  9. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • متنازع ٹویٹس سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں بحال کر دی ہیں۔ اس سے قبل ایڈیشنل سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے عدالت سے غیر حاضری پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منسوخ کر دی تھیں۔
    • متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی قبول کرلی ہے۔ منگل کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے امریکہ کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبل کر لی ہے۔
    • کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ پیر کو کابل میں ایک چینی ریستوران میں ہونے والے دھماکے میں چھ افغان اور ایک چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
    • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملازمین کے احتجاج کے پیشِ نظر کوئٹہ شہر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہیں۔
    • مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہو گئے ہیں۔ قائم مقام سیکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ کے دستخط سے راجہ ناصر عباس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔