آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’نیٹو میری بدولت زندہ ہے، ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو فوجی اتحاد اُن کی بدولت قائم ہے اور اُن کے بغیر یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ بیان اُن کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ اگر اتحادی گرین لینڈ کے منصوبے کی مخالفت کریں تو وہ اُن پر ٹیرفز عائد کر سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کی قبول کرلی ہے
  • کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے
  • کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے
  • روسی صدر پوتن کو غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق
  • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر
  • رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی
  • کابل میں ریستوران کے باہر دھماکہ، ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    تاہم 21 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ’نیٹو کے لیے مجھ سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا‘ ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے لیے ان سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ آپ کو یہی بتائیں گے۔ آپ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے بھی اس بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نیٹو پر خطیر رقم خرچ کرتا ہے اور انھیں یقین ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر نیٹو ممالک کی مدد کرے گا، تاہم انھوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا نیٹو بھی امریکہ کی اسی طرح مدد کرے گا یا نہیں۔

    یاد رہے اس بریفنگ سے قبل ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ایک پیغام کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں مارک نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’آگے بڑھنے کا راستہ نکالنے کے لیے پُرعزم‘ ہیں۔

  3. ٹرمپ: ’مجھے یقین ہے سوئٹزرلینڈ میں میرا انتظار ہو رہا ہے اور مجھے خوش آمدید کہا جائے گا‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے وائٹ ہاؤس کے پوڈیم پر پہنچے جہاں انھوں نے ایک بڑی فائل بائنڈر ساتھ رکھی، وہ اسے اپنی ’کامیابیوں کی فہرست‘ کہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی سوئٹزرلینڈ کے ’خوبصورت مقام‘ پر جائیں گے، جس پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔

    اور مزید کہا: ’مجھے یقین ہے کہ مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ صدر کل ڈیوس، سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم میں شریک ہوں گے، جہاں ان کی اتحادیوں پر ٹیرفز عائد کرنے کی دھمکیوں پر کافی بات ہو رہی ہے۔

    فرانسیسی صدر نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ’نئے ٹیرفز کا لامتناہی اضافہ‘ ناقابل قبول ہے، اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

  4. بریکنگ, ’نیٹو میری بدولت زندہ ہے، ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو فوجی اتحاد کے لیے کسی بھی شخص یا صدر نے اُن کی طرح کام نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘

    یہ بیان اُن کی اس دھمکی کے بعد آیا ہے کہ اگر اتحادی گرین لینڈ کے حوالے سے اُن کے منصوبے کی مخالفت کریں تو وہ اُن پر ٹیرفز عائد کر سکتے ہیں۔

  5. ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں‘: کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی مکمل حمایت کا عزم

    کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور گرین لینڈ کے مستقبل کا تعین کرنے کے ان کے منفرد حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے اصول پر پورا یقین رکھتا ہے، جس کے مطابق ایک یا زیادہ ممالک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

    کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی بھی سخت مخالفت کرتا ہے۔

  6. ایمینوئل میخواں: ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکی ’ناقابل قبول‘ ہے

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے اب سے کچھ دیر قبل ڈیوس کے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا ہے۔

    انھوں نے کہا ’امن، استحکام اور قابلِ یقین صورتحال وقت کا تقاضا ہے۔‘

    اس جملے پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔

    میخواں نے کہا کہ واضح ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ’غیر استحکام اور عدم توازن‘ کا ہے۔۔ نہ صرف سکیورٹی کے لحاظ سے بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی ہے۔

    انھوں نے کہا ’حالات پر غور کریں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ اور اس کے ساتھ ’آمرانہ رجحان کی طرف تبدیلی‘ اور 2024 میں دنیا بھر میں جاری جنگوں کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ ’تنازع معمول بن گیا ہے۔‘

    میخواں نے پھر تحفظ پسندی اور ٹیرفز کی طرف توجہ دلائی۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کی تجارت میں مسابقت، جو ہمارے برآمدی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے، زیادہ سے زیادہ رعایتیں مانگتی ہے اور کھل کر یورپ کو کمزور اور تابع بنانے کی کوشش کرتی ہے، ساتھ ہی ’نئے ٹیرفز کے لامتناہی اضافے‘ کو ناقابل قبول قرار دیا۔

    میخواں نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ ٹیرفز ’علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیے جائیں۔‘

    فرانسیسی صدر کے مطابق یورپی مسابقت امریکہ سے پیچھے رہ گئی ہے اور ہمیں کم نمو اور ناکافی سرمایہ کاری کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    میخواں نے کہا کہ فرانس اور یورپ واضح طور پر قومی خودمختاری اور آزادی کے پابند ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ’پرانی سوچ‘ نہیں ہے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے اسباق کو مکمل طور پر فراموش نہ کرنے اور تعاون کے عزم پر قائم رہنے کا معاملہ ہے۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ انھی اصولوں کی بنیاد پر ان کے ملک نے گرین لینڈ میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسی کو دھمکانا نہیں بلکہ ڈنمارک میں ایک اتحادی کی حمایت کرنا ہے۔

  7. خامنہ ای کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو حملہ آوروں کی ’دنیا کو آگ لگا دیں گے‘: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارنے کی ’کوشش‘ کی گئی تو ایران حملہ آوروں کے لیے دنیا غیر محفوظ بنا دے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ابو فضل شکارچی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے رہنما کی طرف کوئی جارحانہ ہاتھ بڑھا تو ہم ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے اور دنیا کی کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہنے دیں گے۔‘

    خیال رہے 17 جنوری کو پولیٹکو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کا دور ختم ہوگیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت لائی جائے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی دو رو قبل کہہ چکے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ کے رہنما پر حملے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہوگا۔‘

  8. متنازع ٹویٹس کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں بحال کر دیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    متنازع ٹویٹس سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں بحال کر دی ہیں۔

    اس سے قبل ایڈیشنل سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے عدالت سے غیر حاضری پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منسوخ کر دی تھیں۔

    دونوں شخصیات نے ٹرائل کورٹ کے جج کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں جسٹس محمد اعظم خان نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

    سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل کامران مرتضیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ انھیں متنازع ٹویٹس کیس میں گواہان سے جرح کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دلوائی جائے۔

    تاہم جسٹس اعظم خان نے انھیں اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ وہ گواہان سے جرح چار دنوں میں مکمل کریں۔

  9. متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

    متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی قبول کرلی ہے۔

    منگل کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے امریکہ کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبل کر لی ہے۔

    بیان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم شیخ عبداللہ بن زید کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے بہت اہم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی ’قیادت اور بین الاقوامی امن کی کوششوں‘ پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    ’متحدہ عرب امارات ’بورڈ آف پیس‘ کے مشن میں متحرک انداز میں اپنا حصہ ڈالنے، تعاون بڑھانے، استحکام اور سب کی خوشحالی کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

  10. چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے: کابل دھماکے کے بعد چین کا افغان طالبان سے مطالبہ, فلودا دروری، بی بی سی نیوز

    کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔

    پیر کو کابل میں ایک چینی ریستوران میں ہونے والے دھماکے میں چھ افغان اور ایک چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    دوسری جانب کابل پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’دھماکے کی نوعیت تاحال معلوم نہیں ہے اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔‘

    چین نے اپنے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ افغانستان کا سفر کرنے سے اجتناب برتیں۔

    منگل کو چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان گو جیاکن کا کہنا تھا کہ چین نے ’افغانستان کے نمائندوں سے فوری رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘

  11. بلوچستان میں احتجاج: کوئٹہ میں درجنوں سرکاری ملازمین گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ملازمین کے احتجاج کے پیشِ نظر کوئٹہ شہر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہیں۔

    بلوچستان بھر کے ملازمین ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے لیے احتجاج کررہے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں۔

    ملازمین کی تنظیموں کے الائنس نے مطالبے کو منوانے کے لیے آج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان بھر سے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ پہنچ گئی ہے۔

    تاہم ملازمین کے داخلے کو ریڈ زون میں روکنے کے لیے گذشتہ شب کنٹینرز لگا کر ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا تھا۔

    ریڈ زون میں راستے بند ہونے کے باعث ملازمین احتجاج کے لیے پریس کلب کے باہر جمع ہونے شروع ہوئے، لیکن پولیس نے انہیں وہاں بھی جمع نہیں ہونے دیا بلکہ وہاں سے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کرلیا۔

    ان گرفتاریوں کے بعد گرینڈ الائنس کی جانب سے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا گیا ہے۔

    جہاں انتظامیہ نے ریڈ زون کو سیل کردیا تھا وہیں دوپہر کو کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں اس احتجاج کے پیشِ نظر موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا۔

    انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  12. گرین لینڈ کے معاملے پر تناؤ: کیا ٹرمپ کے لیے یورپ کا نرم رویہ تلخ ہوتا جا رہا ہے؟, کاٹیا ایڈلر، بی بی سی یورپ ایڈیٹر

    ایسا لگتا ہے کہ یورپ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی یونین میں ڈنمارک کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کوپن ہیگن کا ساتھ چھوڑ دیں اور امریکہ کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھالنے دیں۔ دوسری صورت میں ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک کو امریکہ بھیجی جانے والی تمام مصنوعات پر مزید ٹیکسز برداشت کرنا ہوں گے۔

    یورپ معیشتوں کے لیے یہ دھمکی ایک ڈراؤنا منظر ہے کیونکہ وہ پہلے ہی سے مشکلات کا شکار ہیں۔ خاص طور پر جرمنی اور اٹلی، جن کی کار انڈسٹری اور دیگر مصنوعات کی مارکیٹ کا انحصار امریکہ پر ہے۔

    ٹرمپ کی دھمکیاں یورپی حکومت کے چہرے پر کسی چوٹ کی طرح محسوس کی گئی ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب یورپی یونین اور برطانیہ نے گذشتہ برس ہی امریکی صدر کے ساتھ ٹیرف کے معاہدے کیے ہیں۔

    فرانس کے وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکیور کہتے ہیں کہ ’ہم ایک مشکل راہ سے گزر رہے ہیں، ہم نے ایسا ماضی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ایک اتحادی، ایک 250 برس پرانا دوست ٹیرف کو بطور جیوپولیٹیکل ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔‘

    ان کے جرمن ہم منصب لارس کلنگبیل کہتے ہیں کہ: ’ایک لکیر کراس ہو چکی ہے۔ میں آج یہ نہیں کہہ رہا کہ آگے کیا ہوگا، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اب یورپ کو تیار رہنا ہوگا۔ ‘

    ایسے میں اچانک ٹرمپ کے لیے یورپ کے نرم رویے میں تبدیلی آ گئی ہے، جس کا استعمال یورپی رہنما امریکی صدر کے دوسرے دورِ اقتدار کی شروعات سے کر رہے تھے۔ لگتا ہے کہ وہ وقت اب گزر گیا ہے۔

  13. ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کا پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا: ’سمجھ نہیں آ رہا آپ گرین لینڈ کے معاملے پر کیا کر رہے ہیں‘

    گرین لینڈ کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تناؤ بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے اور ایسے میں امریکی صدر نے منگل کو ایک بار پھر اپنا مطالبہ دُہرایا ہے: ’ہمیں وہ (گرین لینڈ) لینا ہی پڑے گا۔ وہ (ڈنمارک) اس کا تحفظ نہیں کر سکتا۔‘

    صرف یہی نہیں امریکی صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک ایڈٹ شدہ تصویر بھی لگائی ہے جس میں وہ نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ امریکی جھنڈا پکڑے کھڑے ہیں اور ان کے سامنے گرین لینڈ کا بورڈ آویزاں ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا پیغام بھی شیئر کیا جس میں لکھا تھا کہ: ’ہم شام کے معاملے پر متفق ہیں، ایران پر اچھا کام کر سکتے ہیں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ گرین لینڈ کے معاملے پر کیا کر رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کی طرف سے شیئر کیے گئے پیغام میں صدر میکخواں بظاہر کہہ رہے ہیں کہ: ’میں جمعرات کو ڈیووس میں جی سیون کا اجلاس بُلا سکتا ہوں۔ یوکرین، ڈنمارک، شام اور روس کے لوگوں کو مدعو کر سکتا ہوں۔‘

    ’چلیں آپ کے امریکہ جانے سے قبل جمعرات کو ہم سب مل کر پیرس میں ڈنر کرتے ہیں۔‘

    فرانس کے صدر کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اس پیغام کے مستند ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔

  14. روسی صدر پوتن کو غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو امریکی تجویز کردہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    خیال رہے کہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی کے بعد دوسرے مرحلے میں اس کی تعمیر نو سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔

    سوموار کے روز روسی حکام نے کہا تھا کہ روسی صدر کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔ تاحال نہ ہی ماسکو اور نہ ہی ٹرمپ نے یہ بتایا ہے کہ آیا پوٹن نے یہ پیشکش قبول کر لی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے پوٹن کو یہ پیشکش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب روس نے امریکہ کی جانب سے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے تجویز کردہ امن معاہدے کو قبول نہیں کیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر اہم شخصیات اس کی رُکن ہوں گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ترکی، مصر، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    بعد ازاں صدر ٹرمپ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کو غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں امن برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دی۔

    غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا ’بانی ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی ہے جس کا کام سرمایہ کاری اور سفارت کاری ہو گا۔ جبکہ دوسرا ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ ہے، جو ایک اور مجوزہ انتظامی گروپ نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے ساتھ مل کر زمینی کام کی نگرانی کا ذمے دار ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کا ہر رُکن ایک قلمدان کا ذمہ دار ہوگا جو کہ 'غزہ میں استحکام کے لیے انتہائی اہم' ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ بورڈ کے کس رُکن کو کیا ذمہ داری سونپی جائے گی۔

  15. پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر

    مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہو گئے ہیں۔

    قائم مقام سیکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ کے دستخط سے راجہ ناصر عباس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مقرر کیا گیا تھا۔

    سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا نوٹیفکیشن 16 جنوری 2026 کو جاری کیا تھا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ برس اگست میں نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ ان میں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز بھی شامل تھے۔

  16. بلوچستان حکومت نے دہشتگردی کے شبہے میں پکڑے گئے افراد کے لیے حراستی مراکز کے قیام کے رولز کی منظوری دے دی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی کابینہ نے بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم رولز 2025 کی منظوری دے دی۔

    ان رولز کی منظوری کے بعد بلوچستان میں حراستی مراکز قائم کیے جا سکیں گے جہاں سکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے شبہے میں پکڑے گئے مشتبہ افراد کو رکھا جائے گا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ اور تربت میں ایسے دو حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کی کابینہ کا 22واں اجلاس سوموار کے روز سے جاری ہے جبکہ آج صبح اس قانون کے متعلق وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا ہے۔

    وزیراعلی بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔

    اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ’مختلف لوگ لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست کرتے ہیں لیکن ہم نے یہ پروپیگنڈا مستقل بنیادوں پر دفن کر دیا ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشتبہ افراد سے تفتیشی مراکز میں مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں تفتیش کی جائے گی جبکہ مشتبہ افراد کے گھر والوں کو ان سے ملاقات کی اجازت ہو گی۔

    سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 اور بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کے مقامات میں مدعیان اور گواہان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اہم قوانین اور رولز کی منظوری بلوچستان کابینہ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘

    کابینہ کے دیگر فیصلے

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ کابینہ نے بلوچستان میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان کے قیام کی منظوری دے دی۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق، زیارت انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ ہوگا۔

    اس کے علاوہ بلوچستان کابینہ نے چائلڈ لیبر سے متعلق اہم فیصلہ لیتے ہوِے 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت نہیں کرائی جا سکے گی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے محکمہ ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروسز قرار دے دیا جبکہ بلوچستان بھر میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی تعلیمی اسناد تصدیق کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو ڈگریوں کی تصدیق کا کام سونپ دیا ہے۔ جعلی ڈگری ہولڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

  17. پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، موجود مالی سال میں جولائی سے دسمبر کے عرصے میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 81 کروڑ ڈالر رہی۔ گذشتہ سال اسی عرصے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب 42 کروڑ ڈالر تھا۔

    تجزیہ کار اس نمایاں کمی کی وجہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات کو قرار دے رہے ہیں، جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی، ایران اور اسرائیل کا تنازع، اور امریکہ اور ایران کے درمیان پایا جانے والا تناؤ شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان عوامل کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

    دسمبر 2025 کے دوران کمزور سرمایہ کاری کا رجحان خاص طور پر نمایاں رہا جب خالص غیر ملکی سرمایہ کاری منفی میں چلا گیا۔ اس مہینے کے دوران 33 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئی جبکہ 46 کروڑ ڈالر ملک سے باہر چلے گئے۔ اس کے نتیجے میں 13 کروڑ ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 کی پہلے چھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ 42 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری چین نے کی جبکہ ہانگ کانگ نے ساڑھے 16 کروڑ ڈالر پاکستان میں لگائے۔

    چین اور ہانگ کانگ کی جانب سے کی جانے والی مجموعی سرمایہ کاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ہونے والی کل سرمایہ کاری کا 73 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے گیارہ کروڑ ڈالر جبکہ سوئٹزرلینڈ سے بھی تقریباً گیارہ ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئی۔

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے رجحان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی پالیسیوں اور سرحدوں پر کشیدگی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ مقامی سرمایہ کار بھی اس وقت ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کررہا ہے۔

    ماہر معیشت اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جی ڈی پی کے تناسب سے غیر ملکی سرمایہ کاری بارہ فیصد ہے جو بہت کم ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ملک کے صنعتی شعبے میں جو سرمایہ کاری 25 سال پہلے ہوئی تھی اس کے بعد سے اس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ڈاکٹر پاشا کہتے ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان سے رخصت ہو رہی ہیں جس کی وجہ پاکستان کے ٹیکس نظام کے ساتھ ساتھ یہاں کا ریگولیٹری نظام بھی ہے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔

    سابق وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت میں گروتھ نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو سازگار نہیں بناتے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ملک کی سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ سے بھی غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچپسی نہیں لے رہے۔

  18. چین کا گرین لینڈ کے معاملے پر موقف: ’امریکہ خود غرض مقاصد کے حصول کے لیے نام نہاد ’چین کے خطرے‘ کو بطور بہانہ استعمال کرنا بند کرے‘

    چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے فائدے کے لیے نام نہاد ’چین کے خطرے‘ کو بہانے کے طور پر استعمال کرنا بند کرے۔

    سوموار کے روز بین الاقوامی نشریاتی ادارے بلومبرگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کے الحاق کی مخالفت کرنے والے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات عائد کرنے کے اعلان پر چین کی وزارتِ خارجہ سے سوال کیا گیا۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چین متعدد مواقع پر گرین لینڈ کے حوالے سے اپنا موقف واضح کر چکا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بنائے گئے بین الاقوامی قوانین موجودہ عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور اس کی پاسداری جاری رکھی جانی چاہیے۔

    ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے خود غرض مقاصد کے حصول کے لیے نام نہاد ’چین کے خطرے‘ کو بطور بہانہ استعمال کرنا بند کرے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے آئے ہیں کہ وہ سلامتی کے خدشات کے باعث گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’دنیا کا امن خطرے میں ہے‘ اگر امریکہ روس اور چین کی دھمکیوں کے باعث ڈنمارک پر کنٹرول حاصل نہ کر سکا۔ تاہم یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

  19. ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال رد کرنے سے انکار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تواتر سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کے لیے ’قومی سلامتی‘ کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے اور وہ اسے ہر صورت حاصل کر کے رہیں گے۔

    انھوں نے اپنے اس منصوبے کی ٘مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    سوموار کے روز انھوں نے وہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو رد کرنے سے انکار کر دیا۔

    جب این بی سی نیوز نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا وہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے طاقت کا استعمال کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سو فیصد گرین لینڈ منصوبے کی مخالفت کرنے والے آٹھ ممالک پر محصولات عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ یکم فروری سے برطانیہ سے امریکہ آنے والی تمام مصنوعات پر 10 فیصد عائد کریں گے جسے جون میں بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تب تک جاری رہے گا جب تک واشنگٹن اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ کی فروخت کے متعلق معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

    ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے کا اطلاق ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر بھی ہوگا- یہ تمام ممالک دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ہیں جس کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی۔

    اس سوال پر کہ کیا وہ ٹیرف لگانے کی دھمکی پر عمل کریں گے، تو ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا: ’میں 100 فیصد ایسا کروں گا۔‘

  20. ’ایوان قرار داد منظور کرے کہ عمران خان کو جیل سے نکال دیا جائے‘: اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد محمود خان اچکزئی نے پہلی تقریر میں کیا کچھ کہا

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد سوموار کے روز اپنی پہلی تقریر میں محمود خان اچکزئی نے ایوان کی مضبوطی کے لیے غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی اور ’جو ہوا سو ہوا‘ کہہ کر غلطیاں سدھارنے کا مشورہ بھی دیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو ملک کا مضبوط ترین ادارہ ہونا چاہیے اور ’تحریک تحفظ آئین پاکستان سارے ملک کے ساتھ یہ وعدہ کرتی ہے کہ ایوان کو مضبوط کرنے کے لیے ہماری غیر مشروط حمایت حاصل ہو گی۔‘

    اپوزیشن لیڈر نے ماضی کی غلطیاں اور تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا: ’بھلے حکمرانی آپ کی ہو، ہوتی ہیں دنیا میں غلطیاں۔ بیٹھیں، سوچیں۔ انگریزی میں کہتے ہیں سلیپ آن اِٹ، بس جو ہوا وہ ہوا۔ ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھانے سے، برا بھلا کہنے سے کام نہیں بنے گا۔‘

    قائد حزب اختلاف نے سیاسی بد زبانی کا راستہ روکنے کی بھی بات کی اور یہ مشورہ دیا کہ ایوان میں اور ایوان کے باہر ایسی باتیں نہ کی جائیں جو گھر کی خواتین کے سامنے نہیں کی جا سکتیں۔

    تاہم ان کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں انھوں نے ایوان کی ایک قرار داد کے ذریعے جیل میں قید افراد پر مقدمات ختم کرنے کی بات کی۔ انھوں نے واضح تو نہیں کیا لیکن سیاق و سباق سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیاسی مقدمات کی بات کر رہے تھے۔

    محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا: ’کیا آسمان گرے گا اگر ایوان یہ قرار داد پاس کرے کہ جن بچوں کے خلاف کیس ہیں، ہم نے سب ختم کر دیے۔ کیا آسمان گرے گا اگر ایوان میں قرار داد پیش کی جائے کہ جیل میں قید بڑی عمر کی عورتوں پر کیس ختم کر کے انھیں چھوڑا جاتا ہے۔‘

    اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں محمود خان اچکزئی نے قرار داد کے ذریعے ہی تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’کیا آسمان گرے گا اگر ایوان کہہ دے کہ عمران خان اس ملک کے سب سے مقبول رہنما ہیں۔ غلطی ہوئی ہے، وہ جیل میں ہیں، یہ ہاؤس متفقہ فیصلہ کرتا ہے کہ انھیں جیل سے نکال دیا جائے۔‘

    محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو سارا سیاسی درجہ حرارت نیچے آ جائے گا، ’یہ ساری باکسنگ ختم ہو جائے گی۔‘ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایوان کی قرار داد کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں تو ان کی ملاقاتوں پر لگائی گئی پابندی فوری ختم کی جائے۔

    اہم بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی پہلی تقریر تقریباً 30 منٹ لمبی تھی جسے قومی اسمبلی کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا۔ تاہم اس دوران ان کی آواز تین مواقع پر بند (میوٹ) کی گئی۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ برس اگست میں نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا، جن میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی شامل تھے۔

    اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کے منصب کے لیے محمود خان اچکزئی کا انتخاب کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کا نوٹیفکیشن 16 جنوری 2026 کو جاری کیا تھا۔

    محمود اچکزئی کی تقریر کب، کب میوٹ کی گئی؟

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد سوموار کے روز محمود اچکزئی نے جو پہلی تقریر کی، وہ قومی اسمبلی کے یو ٹیوب چینل سے بھی براہ راست نشر کی گئی، اور تین مواقع پر اسے میوٹ کیا گیا یعنی محمود خان اچکزئی تو بول رہے تھے لیکن ان کی آواز بند کر دی گئی۔

    تقریر کے دوران محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی اپنے والد کا، اپنے بھائی کا یا کسی بھی قریبی عزیز کا ہاتھ نہیں چوما لیکن پاکستان کے ’آرمی چیف اگر اپنے حلف کی تابعداری کریں اور آئین کے دائرے میں آ کر پاکستان کے فوجیوں کی رہبری کریں تو میں ان کا ہاتھ چوموں گا۔‘

    اس بات کے بعد ان کی تقریر کچھ لمحوں کے لیے میوٹ کر دی گئی۔

    آواز دوسری بار مرتبہ اس وقت بند کی گئی جب وہ ملک میں بد امنی کا ذکر کر رہے تھے۔ جب انھوں نے کہا ’تمام اختلاف کے باوجود یہ میرا ایمان ہے، پاکستان کی فوج، پاکستان کا پولیس سسٹم، پاکستان کا ۔۔۔‘ اور اس کے بعد آواز میوٹ کر دی گئی۔

    تیسری بار محمود اچکزئی کی تقریر تب میوٹ کی گئی جب وہ کہہ رہے تھے کہ گزشتہ 20 سال کے دوران دہشت گرد ڈھونڈنے کے نام پر سوات، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں ہزاروں سال سے آباد افراد کو گھروں سے نکالا گیا۔