’بھتیجیوں کو کیا کہوں کہ ان کے ابو کیوں نہیں آ رہے‘: گل پلازہ کی آگ میں لاپتا افراد کے خاندانوں کا کرب اور ریسکیو سرگرمیوں کے دوران بی بی سی نے کیا دیکھا؟

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی

’گھر جاکر ماں کو کیا بتاؤں، جو بھتیجیاں انتظار کر رہی ہیں انھیں کیا کہوں کہ آپ کے ابو اب نہیں رہے۔‘

محمد امین کراچی کے گل پلازہ کے عقبی حصے میں فٹ پاتھ کے ساتھ ٹیک لگائے اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ موجود تھے اور ان کی نظریں سامنے سرگرم ہیوی مشینری پر تھیں جو ملبہ ہٹا رہیں تھیں۔

امین کے بھائی یہاں بیڈ شیٹ کی دُکان پر کام کرتے تھے۔

کراچی کے علاقے صدر میں واقع گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد تیسرے روز بھی کولنگ کا کام جاری رہا اور وہاں ملبے میں ریسکیو حکام کی جانب سے زندگی کے آثار تلاش کیے جارہے تھے۔ ریسکیو حکام اب تک اس واقعے میں 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کا کہنا ہے کہ عمارت کا سٹرکچر شدید حد تک متاثر ہوچکا ہے اور کسی بھی وقت اس کے انہدام کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے تاکہ مزید خطرات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ آگ کی شدید حرارت اور طویل دورانیے کے اثرات کے باعث متعدد لاشیں ناقابلِ شناخت حالت میں تبدیل ہو چکی ہیں، جبکہ مختلف مقامات سے انسانی جسم کے اعضا بھی برآمد ہو رہے ہیں۔

’جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے اس وقت تک ہلاکتوں کی درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔‘

گل پلازہ سے میرا ذاتی تعلق بھی رہا ہے۔

ماضی میں ایم اے جناح روڈ پر میری رہائش تھی۔ یہاں سے بچوں کے کپڑے، کھلونے یا برتنوں کی خریداری کرنے والوں میں میری فیملی بھی شامل رہی ہے۔

یہاں چھوٹی چھوٹی دکانوں اور تنگ گلیوں میں بھی سٹال لگے ہوتے تھے، جس کے سبب وہاں تین لوگ بھی بمشکل ہی چل سکتے تھے۔ کچھ سیڑھیاں تو اس قدر تنگ تھیں کہ اگر ایک شخص اوپر چڑھ رہا تو دوسرے کو انتظار کرنا پڑتا تھا۔

یہاں میں نے کبھی بھی کسی راستے پر ہنگامی اخراج یا آگ بجھانے کے آلات نہیں دیکھے۔

گُل پلازہ بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور کے علاوہ تین منزلوں پر مشتمل ایک مارکیٹ تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں قائم تھیں۔ عمارت میں تقریباً 14 داخلی اور خارجی راستے موجود تھے۔

’ابا کیوں نہیں آ رہے‘

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازہ میں غیر معمولی رش تھا، جس کے باعث نقصان میں اضافہ ہوا۔

شدید آگ کی وجہ سے پلازہ کا عقبی حصہ منہدم ہوچکا ہے اور چھتوں کی کئی تہیں ملبے کے ڈھیر کی صورت میں موجود تھیں۔

پانچ، چھ ریسکیو اہلکار پہلے اندر جھانک کر دیکھتے اور پھر ہیوی مشنری کے ذریعے ملبہ ہٹایا جاتا۔ ڈمپرز اور کرین چلانے والوں نے کے ایم سی کی جیکٹس پہن رکھی تھیں۔

ان کے سپروائزر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ کے ایم سی کے ملازم نہیں بلکہ کانٹریکٹ پر آئے ہیں اور کے ایم سی کے لیے ندی نالے اور گٹر کی صفائی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی لاشوں کی موجودگی کا امکان ہے اس لیے احتیاط سے کام کر رہے ہیں ورنہ ملبے ہٹانے میں تاخیر نہیں ہوتی۔

محمد امین نے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی جس کی عمر 42 سال ہے، ان کی دو بیٹیاں ہیں جو ہفتے کی رات سے رو رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی بھتیجیاں ’کہتی ہیں کہ ابا اس وقت گھر آتے ہیں، ابھی کیوں نہیں آرہے؟ ہم ان کو کیا کہیں؟ ہم انھیں کیسے بتائیں کہ ان کے بابا اب چلے گئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’میں گھر کیسے جا سکتا ہوں؟ میں اپنی ماں کو کیا جواب دوں؟ میں بچوں کو کیا جواب دوں؟ میں ان سے کیا کہوں؟ ہم یہاں بے بسی سے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اب بھی ہسپتال سے فون آتے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کہا جاتا ہے۔ کبھی ہم سول ہسپتال جاتے ہیں، کبھی وہاں جا رہے ہیں، کبھی ہم یہاں جا رہے ہیں۔‘

فلاحی ادارے اور ان کی سوشل میڈیا ٹیمیں

گل پلازہ کی اطرف پیر کو لوگوں کا جم غفیر جمع ہوتا نظر آیا۔ فلاحی ادارے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا اپنے تین کیمرہ مینوں کے ساتھ پہنچے۔

اس کے بعد جامعہ بنوریہ سمیت کئی مذہبی فلاحی تنظیموں کے لوگ اپنے ورکرز اور سوشل میڈیا ٹیموں کے ساتھ نظر آئے اور اپنا اظہار خیال کرتے رہے۔

گذشتہ روز سے جائے وقوع پر جے ڈی سی کے ظفر اقبال سمیت دیگر کی حکومت پر شدید تنقید کے بعد آج پیر کو لواحقین صبر اور حوصلہ کھو بیٹھے اور ایک خاتون نے کہا کہ ان سے (ریسکیو) کچھ نہیں ہو گا اس کے بعد لوگوں نے زبردستی عمارت میں اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن رینجرز او دیگر اہلکاروں نے انھیں کنٹرول کیا۔

ضلعی انتظامیہ کے پاس 74 افراد کے لواحقین نے گمشدگی کا اندراج کروایا ہے، جس میں سات بچے اور آٹھ کے قریب خواتین بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ 35 افراد کی موبائل فون لوکیشنز کے ذریعے ان کی گُل پلازہ میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔

محمد قیصر ڈی سی آفس کے دفتر کے ساتھ ایک کونے میں ریسکیو آپریشن پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی، ایک بہو اور ایک بہن اندر کہیں موجود ہیں۔

’انھوں نے کہا تھا کہ وہ بازار جا رہے ہیں۔ آخری بار ان سے رات کو آٹھ بجے رابطہ ہوا تھا، جب آگ لگنے کا پتا چلا تو ان کے بچے یہاں آئے لیکن کچھ معلوم نہیں ہو رہا۔‘

محمد قیصر نے شکایت کی کہ ’انتظامیہ انھیں کبھی برنس سینٹر بھیجتی ہے تو کبھی سول ہسپتال کے مردہ خانے میں۔‘

انھوں نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح سے یہاں پر ریسکیو عمل چل رہا ہے اگر کوئی سالم لاش بھی ہو گی تو وہ بھی سلامت نہیں ملے گی۔‘

انھوں نے حکام سے گزارش کی کہ وہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے ’کم از کم لاشوں کے ٹکڑے تو نہ ہوں۔‘

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ وہ آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ ریسکیو ورکرز کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

ریسکیو آپریشنز کے دوران دکانداروں اور انتظامیہ کے اہلکاروں کی کئی بار تلخ کلامی بھی ہوئی۔

’اتنی بڑی مارکیٹ مگر آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں‘

ادھر ہی ریحان فیصل بھی موجود تھے جن کی مین روڈ پر بیڈ شیٹس کی دُکان ہے۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے نزدیک گیٹ نمبر نو ہے اور وہ آگ لگنے کے بعد اسے توڑ کر باہر نکل آئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ آگ لگنے کے پانچ، سات منٹ میں پورا علاقہ ویران ہو گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ جل گیا۔

'ہمارے بہت سے دوست، جاننے والے اور گاہک میزانائن فلور پر تھے۔ کچھ دوست اور رشتہ دار ابھی تک اندر موجود ہیں، فائر برگیڈ کی گاڑیاں کافی تاخیر کا شکار سے پہنچیں جبکہ ایمبولینس جن کی اس وقت ضرورت بھی نہیں تھیں پہن چکی تھیں۔'

ریحان فضل نے بتایا کہ مارکیٹ کے 13 دروازے ہیں۔ ریمپ الگ ہے اور آگ لگنے کا واقعہ گیٹ نمبر تین کے اوپر پیش آیا۔

’لڑکے جانتے تھے کہ آگ لگ گئی ہے، شارٹ سرکٹ ہے اور یہ کسی بھی وقت بجھ جائے گی، لیکن بظاہر کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ اتنا پھیل جائے گی۔‘

متاثرہ عمارت کے ساتھ ہی ڈی سی جنوبی کا دفتر واقع ہے۔ ڈی سی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس گاڑیاں ساڑھے دس بجے کے قریب پہنچ چکی تھیں، جن میں سنارکل بھی شامل تھیں۔ ان کی مدد سے چھت سے لوگوں کو اتارا بھی گیا۔

ان کے مطابق سنیچر کو رات ساڑھے 11 بجے تک موقع پر 52 گاڑیاں پہنچ چکی تھیں۔

متاثرہ مارکیٹ کے باہر ایک خاتون بچوں سمیت موجود تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی پھوپھی کے خاندان کے پانچ لوگ ہیں جو شادی کی خریداری کے لیے آئے تھے اور وہ لاپتا ہیں۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ ’اتنی بڑی مارکیٹ بناتے ہیں لیکن آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں، کوئی راستے نہیں کوئی سینسر نہیں۔‘

دوسری جانب وزیر اعلی سید مراد علی شاھ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ اس کا سبب ہو سکتا ہے۔

کراچی میں آتشزدگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں شہر میں کوآپریٹو مارکیٹ، چیز اپ سٹور، میلینیم مال جیسے بڑے مالز میں بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

ڈی سی جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق 145 کمرشل عمارتوں کی حال ہی میں فائر آڈٹ کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فائر سکیوٹی کے انتظامات سب کی ذمہ داری ہیں، جن میں انتظامیہ کے علاوہ مارکیٹوں کی تنظمیں بھی شامل ہیں۔

گزرتے وقت کے ساتھ دم توڑتی امیدیں

19 سالہ شعیب سنیچر کی رات سے کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ کے باہر اس امید پر موجود ہیں کہ ان کے چچا زاد بھائی فیضان اور اُن کے علاقے (نیو گولی مار) سے تعلق رکھنے والے اُن کے لاپتا دوست احباب کی کوئی خبر انھیں مل جائے۔

شعیب خود بھی گُل پلازہ کی دوسری منزل پر واقع ڈیکوریشن کی ایک دکان پر کام کرتے تھے تاہم خوش قسمتی سے وہ اس المناک حادثے کے دوران اس عمارت سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لاپتا افراد کے لواحقین کی اُمیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔

بی بی سی نے بات کرتے ہوئے شعیب نے بتایا کہ سنیچر کی شب جب پلازے میں آگ لگنے کی شروعات ہوئیں تو وہ وہاں اپنے چچا زاد بھائی فیضان (جو اسی پلازے میں کام کرتے ہیں) اور نیو گولی مار کے رہائشی دیگر اپنے جاننے والوں کے ہمراہ کام میں مصروف تھے۔

شعیب کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب لگ بھگ 10 بجے کا وقت تھا جب اُن کے فلور تک اطلاع پہنچی کہ نیچے والی منزل میں کسی مقام سے دھواں نکل رہا ہے۔ ’بہت سے گاہک اور دکاندار نیچے والی منزلوں پر اوپر آ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ نیچے آگ لگ چکی ہے۔ ابھی میں صورتحال سمجھ ہی رہا تھا کہ سیٹھ نے کہا کہ دکان بند کرو اور یہاں سے نکلو۔‘

شعیب کا کہنا تھا کہ ’ابھی میں دکان بند ہی کر رہا تھا کہ اچانک دھواں زیادہ ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھواں اتنا بڑھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور اس دوران بھگڈر بھی شدید تر ہو چکی تھی۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، بس سب لوگ اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔ مجھے پلازے سے باہر نکلنے کے کچھ راستے پتا تھے۔ میں ایک راستے کی طرف نکلا تو وہ بند تھا جبکہ دوسرے راستے پر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور وہاں لوگ بہت زیادہ تھے۔‘

شعیب کے مطابق ’میں واپس پلٹا تو پتا نہیں کیسے مجھے شیشے لگا، اس وقت دھواں اتنا زیادہ ہوا کہ میں گر کر اپنے حواس کھو بیٹھا۔ پھر مجھے نہیں پتا کہ کون وہاں سے مجھے اٹھا کر لایا۔ باہر آ کر تھوڑی دیر بعد میرے حواس بحال ہوئے۔‘

شعیب سنیچر کی شب سے گُل پلازہ کے باہر موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں روزانہ صبح گولی مار سے اپنے چچا زاد بھائی اور دیگر دوستوں کے ہمراہ کام پر آتا اور واپس جاتا تھا۔ اب اُن کے بغیر گھر واپس جانے کا دل نہیں کر رہا ہے، اسی انتظار میں ہوں کہ شاید ان کو زندہ عمارت سے نکال لیا جائے۔‘

شعیب کے مطابق اُن کے فون کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے کیونکہ فیضان کے اہلخانہ اور دیگر محلے داروں کے لواحقین پوچھتے رہتے ہیں کہ ’بیٹا کچھ پتا چلا۔ مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔‘

شعیب کے مطابق عمارت سے باہر نکل کر جب اُن کے اوسان بحال ہوئے تو انھوں نے اپنے کزن فیضان کو فون کیا جس نے بتایا کہ ابھی باہر بہت دھواں ہے، اس لیے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔ شعیب کے مطابق اس کے بعد ان کا اپنے کزن سے رابطہ ختم ہو گیا اور اب بھی اس کی تلاش کا کام جاری ہے۔

شعیب نے بتایا کہ جب وہ باہر نکلنے کی تک و دو میں مصروف تھے تو اُن کے ساتھ ان کی پڑوس میں واقع دکان کا ملازم عبدالقیوم بھی تھا۔ ’میں نے اور عبدالقیوم نے ایک ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کی تھی۔ میں تو بے ہوش ہو گیا اور باہر نکال لیا گیا مگر عبدالقیوم کا ابھی تک کچھ پتا نہیں ہے۔‘

’بھائی نے ماں کو بھی فون کیا کہ کوئی مجھے آگ سے بچا لے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی کے ہارون نامی شہری نے بتایا کہ جب آگ لگی تو اُس وقت پلازے کے اندر ان کے تین بھائی موجود تھے، جن میں سے دو تو باہر نکل آئے مگر تیسرے بھائی اب بھی لاپتا ہیں اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی ہے۔

ہارون کے مطابق ’پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انھوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انھیں بچا نہ سکا۔‘

اسی پلازے میں کراچی کے رہائشی محمد حسین کے بھتیجے محمد عارف بھی تھے، جو برتنوں کی ایک دکان پر کام کرتے تھے۔ محمد حسین نے بتایا کہ اُن کے بھتیجے کا فون صبح گیارہ بجے سے بند ہے۔ ان کے مطابق ’اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا تھا۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’گذشتہ کچھ عرصے کے بعد یہ تیسری بار ہے کہ کراچی صدر کے علاقے میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟‘

عبدالطیف اور ان کے چند قریبی رشتہ دار گُل پلازہ میں دکانوں کے مالک ہیں۔ عبدالطیف کے دو بھانجے اور سگے بھائی نعمت اور عبداللہ، جو ایک ہی دکان کرتے تھے، لاپتا ہیں۔

عبدالطیف نے بتایا کہ اُن کے بھائی نعمت کی عمر 23 سال ہے اور وہ شادی شدہ اور ایک بچی کا باپ ہے جبکہ عبداللہ کی عمر صرف 15 سال ہے۔

عبدالطیف بتاتے ہیں کہ وقوعہ کی رات ان کی اپنے بھائی عبداللہ سے فون پر بات ہوئی تھی جس نے بتایا گیا کہ اسے باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہے۔ ’میں نے اس سے کہا کہ کمیٹی والے راستے سے نکلنے کی کوشش کرو۔۔۔ اس کے بعد میں فون کالیں کرتا رہا مگر میری ان میں سے کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ اب وہ اپنے دونوں بھائیوں اور دو بھانجوں کے حوالے سے مثبت خبر آنے کی توقع اور دعا کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ سنیچر کی شب دس بجے کے بعد گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سینکڑوں افراد پلازے میں موجود تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو پلازے سے باہر نکلنے میں مدد کی۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’میری دکانیں، میری آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم ان دکانوں سے سامان بھی نہیں نکال سکے۔ بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘

زین کے بقول اُن کی گل پلازہ میں بیگز کی تین دکانیں ہیں، جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔

گُل پلازہ کے سفیان نامی ایک اور دکاندار کہتے ہیں کہ اُن کی پلازہ کے گرنے والے حصے میں جیولری کی دکان تھی۔

سفیان کا کہنا تھا کہ اُن کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے، جن کا تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

زین کے مطابق گل پلازہ کے بہت سے داخلی دروازے ہیں اور آگ لگنے کے بعد ریسکیو اہلکار کسی بھی راستے سے اندر جا کر آگ بجھانے کی کوشش کر سکتے تھے، لیکن ان کے پاس مطلوبہ سامان ہی نہیں تھا جس سے وہ اتنے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر قابو پا سکتے۔

20 سالہ عامر کی عید کے بعد شادی تھی

گُل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث ہلاک ہونے والوں میں 20 سالہ عامر بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ عید الفطر کے بعد اُن کی شادی تھی۔

عامر کے بھائی آصف کا کہنا ہے کہ جب پلازے میں آگ لگی تو عامر نے فون پر اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور فی الحال باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آصف کے بقول اس کے بعد سے عامر سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

’ہم ہسپتال گئے اور وہاں اُسے تلاش کیا، لیکن کچھ پتا نہیں چلا، اس کے بعد ہم واپس گُل پلازہ آئے۔ وہاں کچھ لاشیں موجود تھیں، جن میں سے ایک عامر کی تھی۔‘

اُن کے بقول عید کے بعد عامر کی شادی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور وہ پورے گھر میں خوشی کا ماحول تھا، جو اب غم میں بدل گیا ہے۔

گُل پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر نہیں

گل پلازہ 1990 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ گُل پلازہ میں اصل میں1017 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی اور انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ وہاں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں۔

گل پلازہ کی اضافی تعمیر کے لیے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے اجازت نامہ 1998 میں جاری کیا گیا تھا۔

اس کے مطابق جینوا سینٹر عرف گل پلازہ کو پریڈی کوارٹرز کے پلاٹ پر تعمیر کی اجازت دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تھرڈ فلور کو پارکنگ میں تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ پارکنگ چوتھے فلور پر منتقل کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

تعمیر کے اس نقشے کے مطابق بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور، میزنائن، فرسٹ فلور، سیکنڈ فلور اور اس کے بعد پارکنگ کے لیے چھت شامل ہے۔

اس اجازت نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سٹریکچرل انجنیئر عمارت کی مکمل سیفٹی کے ذمہ دار ہوں گے۔

واضح رہے کہ پورے نقشے میں ہنگامی اخراج یا فائر ایگزٹ کا کوئی ذکر فکر نہیں نظر آتا۔