سیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟

    • مصنف, ڈیوڈ رابسن
    • عہدہ, بی بی سی

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی رویے اور انسانوں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے موسموں کی تبدیلی کے ساتھ بدل سکتے ہیں، یعنی موسم کا اثر انسانی رویے اور اس کی قوت فیصلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اگرچہ سال کا سب سے چھوٹا دن (21 دسمبر) گزر چکا ہے، لیکن سردی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دسمبر کے آخری ہفتے کی تعطیلات کے بعد جنوری کا مہینہ بہت سے افراد کے لیے دل توڑ دینے والا ہوتا ہے۔

اور یہ صرف انسانی جذبات ہی نہیں ہیں جو بدلتے موسم سے متاثر ہوتے ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک سائنسی مقالے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ موسم کس طرح انسانی دماغ پر اثرانداز ہو سکتا ہے، خواہ وہ جنسی خواہشات ہوں، ہماری ذہانت ہو یا سماجی سرگرمیاں۔

یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ کینیڈا میں پائے جانے والے ہنس (پرندہ) یا سیاہ ریچھ جیسے جانور سال کے مختلف اوقات کے مطابق اپنے رویوں کو ڈھالتے رہتے ہیں۔ تاہم انسانی نفسیات میں یہ انتہائی لطیف تبدیلیاں کم ہی زیرِ بحث آتی ہیں، حالانکہ یہ ہماری قوت فیصلہ اور رویوں کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چند نمایاں نتائج خاص طور پر تحقیق کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔

موڈ

سرد موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والا ڈپریشن، جسے طبی اصطلاح میں ’سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر‘ کہا جاتا ہے، اب وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اس کی علامات میں کم از کم دو ہفتوں تک مسلسل اداسی یا بے چینی، ناامیدی، اپنے بے وقعت ہونے کا احساس، جسم میں توانائی میں کمی، حد سے زیادہ کھانا پینا اور زیادہ سونا شامل ہو سکتی ہیں۔

کئی افراد ایسے بھی ہیں جن میں یہ علامات قطعی ظاہر نہیں ہوتیں مگر اس کے باوجود اُن کا موڈ کچھ دبا دبا سے رہتا ہے۔ اس عمومی کیفیت کو غیر رسمی طور پر ’ونٹر بلیوز‘ کہا جاتا ہے۔

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیفیت سردیوں میں عام ہے۔ سنہ 2010 کی دہائی کے اوائل میں کارنیل یونیورسٹی (نیویارک) کے محققین نے84 ممالک سے کی گئی 509 ملین ٹویٹس کا تجزیہ کیا۔

اُن کے مطابق موسم میں تبدیلی، یعنی دن کے چھوٹا ہونے اور رات کے طویل ہونے، اور ٹویٹس میں موجود جذباتی مواد کے درمیان تعلق پایا گیا: سادہ الفاظ میں جیسے جیسے دن چھوٹے ہوتے گئے اور راتیں طویل ترین ہوتی گئیں (یعنی سردی بڑھتی گئی) ویسے ویسے صارفین اپنی ٹویٹس میں مثبت الفاظ کا کم استعمال کرنے لگے۔

ونٹر بلیوز اور سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر کی کئی ممکنہ وضاحتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک مقبول نظریہ یہ ہے کہ روشنی کی کمی (یعنی دن کا چھوٹا ہونا) جسم کی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کو متاثر کرتی ہے، جس سے دماغ میں موجود اُن کیمیائی مادوں کی صحت مند ترتیب بگڑ جاتی ہے جو جذباتی عمل کے ذمہ دار ہیں یا انھیں ترتیب دیتے ہیں۔

اسی نظریے سے متاثر ہو کر لائٹ تھراپی متعارف کرائی گئی، جس میں خاص لیمپ استعمال کیے جاتے ہیں جو سورج کی روشنی جیسے ہوتے ہیں تاکہ جسمانی گھڑی کو دوبارہ ترتیب دیا جا سکے۔ تاہم سنہ 2019 کے کوکرین سسٹیمیٹک ریویو نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس علاج کے مؤثر ہونے کے شواہد کم ہیں۔

ماہرِ نفسیات کاری لیبووٹز کی حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہمارا ذہنی رویہ بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹرومسو سے منسلک کاری لیبووٹز نے ناروے کے مختلف علاقوں سے آئے شرکا سے سردیوں کے بارے میں اُن کے خیالات دریافت کیے۔

مثال کے طور پر اُن سے پوچھا گیا کہ وہ کس حد تک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’سردی سال کا خوبصورت ترین وقت ہے‘، ’مجھے سردیوں کے مہینوں کی راحت پسند ہے‘ یا ’مجھے سردیوں میں سورج کی نرم روشنی اچھی لگتی ہے‘۔۔۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد ان بیانات سے زیادہ اتفاق کرتے پائے گئے وہ اپنی عمومی زندگی میں سردی اور اندھیرے کو بہتر انداز میں برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور اُن کی زندگی میں اطمینان زیادہ تھا اور سردیوں میں ان کے جذبات دیگر افراد کے جذبات سے زیادہ مثبت تھے۔

یقیناً محض ذہنی رویے کی تبدیلی سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر کے شکار افراد کے لیے مکمل علاج نہیں ہو سکتی، لیکن کاری لیبووٹز کے مطابق بہت سے لوگ سردیوں کی مثبت خصوصیات، جیسا کہ اس کی قدرتی خوبصورتی، کو پہچان کر اور قبول کر کے ونٹر بلیوز پر قابو پا سکتے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہے کہ ذہنی رویے دیگر کئی مظاہر میں کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلاً اضطراب کے شکار افراد زیادہ تر کسی بھی معاملے کے منفی اور خوفناک پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جسے کاسٹروفائزنگ کہا جاتا ہے۔

کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی ایسے افراد کو زیادہ متوازن نقطہ نظر اپنانے میں مدد دیتی ہے، جس سے ان کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ کچھ شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ بات چیت پر مبنی علاج سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر کے خلاف بھی کارگر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کی حکمتِ عملیاں سال کے سب سے تاریک مہینے (جنوری) میں ہمارے حوصلے بلند کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

جنسی خواہشات اور سماجی میل ملاپ

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے رویوں میں گرمجوشی یا سردمہری محض ایک استعارہ ہے۔

لیکن نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ہماری آب و ہوا کے درجہ حرارت اور سماجی تعلق کے درمیان ایک پرانی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

’سوشل تھرمو ریگولیشن‘ کے مطابق ہم دوسرے انسانوں کو جسمانی گرمجوشی اور سکون کے ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس طرح ہم پینگوئن، اور اس طرح کی دیگر مخلوقات، سے ملتے جلتے ہیں جو قدرتی طور پر اپنے جسم کی حرارت ایک دوسرے کو منتقل کرنے کے لیے جھنڈ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

اگر یہ نظریہ درست ہے تو کم درجہ حرارت یعنی ہمیں زیادہ سماجی تعلق تلاش کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

فرانس کی ایک یونیورسٹی نے اس معاملے کو مزید جانچنے کے لیے شرکا کو ٹھنڈے اور گرم مشروبات پینے کا کہا گیا اور اُن کے خیالات کے موازنے کے لیے ایک سوالنامہ دیا گیا۔

اس کے نتائج سے پتہ چلا کہ ٹھنڈے مشروبات پینے والوں میں اپنے قریبی عزیزوں کے بارے میں سوچنے کا امکان زیادہ تھا۔

مزید ثبوت ہماری فلم دیکھنے کی عادات سے ملتے ہیں۔ آن لائن فلموں کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سرد موسم میں لوگ رومانوی فلموں زیادہ دیکھتے ہیں۔ دل کو گرما دینے والی فلم بظاہر باہر کی سردی کے باعث جذباتی گرمجوشی اور پیار کی ہماری ارتقائی خواہش کو پورا کرتی ہے۔

ہماری جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش ایک زیادہ پیچیدہ عمل کے بعد ہوتی ہے۔

پینسلوینیا کی ولانووا یونیورسٹی اور نیو جرسی کی رٹگرز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق گوگل کے صارفین سردیوں کے وسط اور موسم بہار کے آغاز میں پورن مواد زیادہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ ڈیٹنگ ایپس کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔

لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سردیوں میں جنسی ملاپ کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ مزید مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سردیوں میں غیر محفوظ سیکس کے ذریعے انفیکشنز زیادہ ہوتے ہیں۔

یادداشت اور توجہ

اگر آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ شام ڈھلنے کے ساتھ ہی آپ کے ذہن کے صلاحتیں یا تیزی بھی کم ہو رہی ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ایراسمس یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی محقق سانے مولڈائیک اور اُن کے ساتھیوں نے حال ہی میں ایک بڑے طویل مدتی مطالعے کا تجزیہ کیا، جس میں 10 ہزار سے زائد شرکا شامل تھے اور جن کی عمر 45 سال یا اس سے زیادہ تھی۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ سردیوں میں اس مطالعے کا حصہ بننے والے افراد میں سیکھنے، یادداشت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اُن افراد سے کم پائی گئی جو اسی مطالعے کا گرمیوں (یعنی جب دن طویل تھے اور راتیں چھوٹی) میں حصہ تھے۔

اس کی وجوہات زیادہ واضح نہیں ہیں۔ کسی بھی انسان میں کمزور ذہنی کارکردگی شاید عمومی اداسی اور ڈپریشن کا نتیجہ ہو کیونکہ جب ہم افسردہ ہوتے ہیں تو واضح انداز میں سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک اور امکان یہ ہے کہ سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ وٹامن ڈی جسم میں اُس وقت بنتا ہے جب ہماری جلد کو سورج کی روشنی میسر آتی ہے۔ اگرچہ کچھ غذاؤں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف خوراک کی مدد سے اس وٹامن کی مطلوبہ مقدار لینا نہایت مشکل ہے۔

خاص طور پر شمالی علاقوں میں سردیوں کے مختصر دن اور خراب موسم کی وجہ سے بہت سے افراد کو وٹامن ڈی کی مناسب مقدار حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

اس بنیادی میکانزم کو سمجھنے کی کوشش سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہے کہ اسی عرصے میں ڈیمینشیا کی تشخیص کیوں بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں میں ذہنی تیزی میں معمولی کمی پہلے سے موجود دماغی زوال کی علامات کو بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ افراد ڈیمینشیا کی طبی تعریف پر پورا اترنے لگتے ہیں۔