کبھی ’امیر وکیل‘ تو کبھی ’خوبصورت ڈاکٹر‘: وہ عورت جس نے مرد کا روپ دھار کر برسوں تک کئی خواتین کو دھوکے میں رکھا

    • مصنف, سٹیون لیہرسٹ
    • عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ

ایبی ڈریپر کے لیے گذشتہ چند برس ایک طوفان کی طرح تھے۔

وہ مس سکاٹ لینڈ مقابلوں کی فائنلسٹ تھِیں، جس کے بعد اُنھوں نے ایک ایئر لائن میں فضائی میزبان کے طور پر ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔

لیکن سنہ 2014 کے آخر میں فیس بک پر آنے والی ایک فرینڈ ریکوئسٹ نے اگلی ایک دہائی کے دوران اُن کی زندگی کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔

اپنے دادا کو فالج کا دورہ پڑنے کے بعد وہ کلمارنک میں گھر واپس آئی تھیں۔

دوستی کی درخواست ڈیوڈ گراہم نامی ایک شخص کی طرف سے تھی جسے وہ نہیں جانتی تھیں اور جس نے کہا تھا کہ وہ ان کے دادا کے ڈاکٹر ہیں۔

ایبی نے کہا کہ پروفائل تصویر میں وہ واقعی ایک خوبصورت نوجوان لگے اور یہ حقیقی پروفائل لگ رہا تھا۔

ڈیوڈ گراہم کے دوست بھی تھے اور اُنھوں نے ہسپتال کے اندر اپنے دوستوں کے ساتھ اور اپنی بھانجی کی خوبصورت ویڈیوز بھی اپنے پروفائل پر لگا رکھی تھیں۔

لیکن ایبی کی والدہ نے اُنھیں بتایا کہ اُنھوں نے ڈیوڈ کو کبھی ہسپتال میں نہیں دیکھا تھا۔

ایبی نے ایک ڈانس گروپ بنایا اور اس کی ویڈیوز فیس بک پر ڈالنا شروع کیں، اس دوران ڈیوڈ نے اُن سے دوبارہ رابطہ کیا اور کہا کہ وہ گلاسکو کے ایک ہوٹل میں ایک فلاحی پروگرام کے لیے ڈانسرز کی تلاش میں ہیں۔

ایبی نے اس پروگرام میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی اور اس چیریٹی پروگرام کا ایک پرومو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔

اُسی وقت اُنھیں ایک پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ’آپ جو بھی کریں لیکن ڈیوڈ گراہم پر بھروسہ نہ کریں۔‘

اس پر ایبی کو تشویش ہوئی لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے اس پیغام کی تصدیق کا فیصلہ کیا۔ ایبی نے گلاسکو کے اس ہوٹل میں فون کیا، جہاں سے اُنھیں معلوم ہوا کہ یہاں ایسا کوئی پروگرام نہیں ہو رہا۔

خطرے کی گھنٹی بجتے ہی ایبی کو یہ جاننے کی جستجو ہوئی کہ آخر یہ ڈیوڈ گراہم اصل میں ہیں کون؟ ڈاکٹرز کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر بھی نہیں تو آخر وہ کون ہیں اور چاہتے کیا ہیں؟

ایبی نے اپنے فیس بک پروفائل میں گہرائی سے نظر دوڑائی، مختلف خواتین سے پوچھا کہ کیا وہ ڈیوڈ گراہم کو جانتی ہیں۔ اُنھوں نے 007 نامی فیس بک گروپ چیٹ میں بھی بات چیت شروع کی۔

ایک خاتون نے اُنھیں بتایا کہ گراہم نے انھیں ماربیلا میں چھٹیوں کے دوران فون کیا اور ایک مرحلے پر اُنھوں نے بظاہر اپنا فون ایک ایڈیل نامی دوست کو دیا تھا۔

35 سالہ ایبی کہتی ہیں کہ ’میں نہیں جانتی تھی کہ ایڈیل کون ہیں لیکن وہ کلمارنک کی ایک لڑکی ہیں اور وہ ہم سب کی عمر کے برابر ہیں۔‘

بعدازاں ایبی نے فیس بک پر جا کر ایڈیل کی تصویر دیکھی، جس نے اُنھیں اپنے دادا کے ہسپتال کے وارڈ تک پہنچا دیا۔ ایڈیل ایک نرس تھیں۔

ایبی کے بقول مجھے یاد آیا کہ میں نے اس ہسپتال میں دیکھا تھا، وہ میرے والد کی دیکھ بھال کے لیے کئی مواقع پر میرے سامنے آ چکی تھی۔

سنہ 2014 کے آخر میں ایبی نے ہسپتال میں فون کیا اور اُنھیں بتایا کہ ایڈیل ڈاکٹر بننے کا ڈرامہ کر رہی ہیں۔

ہسپتال والوں کو اس پر یقین نہ آیا تو پھر ایبی نے پولیس سے رُجوع کیا۔

ایبی کے بقول پولیس والوں نے کہا کہ کیٹ فشنگ (بھیس بدلنا) کوئی جرم نہیں۔

اُن کے بقول پولیس نے کہا کہ آن لائن بھیس بدلنا اُس وقت جرم نہیں جب تک کوئی اس کے ذریعے دھمکی یا کسی کے ساتھ فراڈ نہیں کرتا۔

پولیس سے مایوس ہو کر ایبی نے اس سارے معاملے کو فیس بک پر پوسٹ کیا اور لکھا کہ ڈیوڈ گراہم ایک فرضی کردار ہیں اور درحقیقت وہ ایڈیل نامی ایک خاتون ہیں۔ ان کا ان باکس جلد ہی جوابات کے ساتھ بھر گیا۔

ایڈیل کو سکاٹ لینڈ کی سب سے زیادہ پرکشش ’کیٹ فش‘ سمجھا جاتا ہے، جس سے 100 سے زائد خواتین متاثر ہوئیں۔

کچھ لوگوں کو قابل اعتراض تصاویر کے تبادلے کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا گیا اور اُنھیں دھمکی دی گئی کہ اگر اُنھوں نے رابطہ منقطع کیا تو ان تصاویر کو وائرل کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کی تین حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’دی بیوٹی کوئین اینڈ دی کیٹ فش‘ نے چھ خواتین سے بات کی جنھیں 15 سال کے عرصے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان میں سمانتھا بھی شامل ہیں، جن کا نام ان کی درخواست پر تبدیل کیا گیا ہے۔

انھیں سنہ 2015 میں ڈیوڈ گراہم کی طرف سے فرینڈ ریکوئسٹ موصول ہوئی تھی، جس کے بعد فوری طور پر پیغامات موصول ہوئے، جس میں اُنھوں نے ہسپتال میں اپنے گزرے دن اور مریضوں کی دیکھ بھال سے متعلق تصاویر شیئر کیں۔

سامنتھا کہتی ہیں کہ ’وہ ایک بہت اچھے اور گپ شپ کرنے والے شخص کی طرح بات کرتی تھی۔‘

سامنتھا کے بقول وہ جلد ہی فون پر بات کرنے لگے اور اُنھیں تحائف بھی ملنے لگے۔ ہر دو ہفتوں بعد اُنھیں پھول بھجوائے جاتے جو ہر دفعہ ایشلی نامی ایک خاتون اُنھیں پہنچاتی تھیں۔

سامنتھا کہتی ہیں کہ ایشلی نے اُنھیں بتایا کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ڈیوڈ جیسا شخص ان کا دوست ہے۔

سمانتھا اس سے ملنا چاہتی تھیں لیکن وہ ہمیشہ ذاتی طور پر ملنے سے بچنے کا بہانہ بناتا تھا۔

اس کے بجائے، اس نے مسلسل فون کالز کو ترجیح دی۔ وہ صبح چھ بجے فون کرتا اور گھنٹوں لائن پر رہتا، پھر دن میں ٹیکسٹ کرتا۔ مزید تحائف اور محبت بھرے پیغامات بھیجے جاتے۔

وہ سامنتھا سے کہتا کہ اگر اس نے یہ پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ ایک موقع پر ڈیوڈ نے ایک کانسرٹ کے موقع پر ملنے پر اتفاق کیا۔

سمانتھا کے بقول جب وہ کانسرٹ میں پہنچی تو اُسے وہاں وہی خاتون نظر آئی، جو اُنھیں تحائف پہنچاتی تھیں۔ اُس نے بتایا کہ ڈیوڈ واش روم تک گیا ہے۔

دونوں نے ڈیوڈ کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ سمانتھا ایشلی کو اپنے گھر لے گئیں اور دوبارہ ڈیوڈ کو فون کیا۔ اس بار اس نے جواب دیا اور معذرت کی کہ اُسے کچھ دوست مل گئے تھے، وہ ان کے ساتھ چلا گیا تھا۔

یہ جاننے کے لیے کہ کیا ہو رہا ہے، سمانتھا نے ایک منصوبہ بنایا جب ڈیوڈ نے اُنھیں سالگرہ کا تحفہ دینے کا وعدہ کیا۔

اُنھوں نے یہ تحفہ اپنی والدہ کے گھر پہنچانے کا کہا اور پھر اُن کی والدہ اندھیرے میں اس انتظار میں رہیں کہ کون یہ تحفہ لے کر آیا۔

وہ یہ تو نہیں دیکھ پائیں کہ یہ تحفہ دینے کون آیا لیکن اُنھوں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا، جس میں کوئی یہ تحفہ دینے آیا تھا۔

سمانتھا پھر اُس جگہ پر آئیں، جہاں ڈیوڈ اپنی گاڑی کھڑی کرتا تھا۔ جیسے ہی گاڑی اُوپر آئی تو سمانتھا اس سے فون پر بات کر رہی تھیں لیکن جب ڈرائیور باہر نکلا تو سمانتھا یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ وہ ایک عورت تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہ وہی پھول پہنچانے والی خاتون تھیں۔ ڈیوڈ کا رُوپ دھارنے والی خاتون آواز تبدیل کرنے والی ایپ کا استعمال کر رہی تھیں۔

ایبی کے دادا سنہ 2015 میں انتقال کر گئے۔

ایبی کہتی ہیں کہ جو سارا وقت اُنھوں نے ایڈیلی کی حقیقت کھوجنے پر صرف کیا یہ وقت وہ اپنا دادا کے ساتھ گزار سکتی تھیں۔

راز کھلنے اور پولیس کے آنے کے بعد ایڈیلی نے بھیس بدلنے کا کام چھوڑ دیا اور ڈاکٹر گراہم کا پروفائل بھی ڈیلیٹ کر دیا۔

لیکن کچھ وقت کے بعد ایبی کو ایک پیغام موصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ وہی پروفائل سوشل میڈیا ایپ ٹنڈر میں ’میتھیو‘ کے نام سے استعمال ہو رہی ہے۔

ایبی کا کہنا تھا کہ یہ صرف دوبارہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ یہ زیادہ خوفناک ہو رہا تھا۔

ہسپتال میں اندرونی تحقیقات اور مزید کیسز سامنے آنے کے بعد پولیس نے نومبر 2015 میں ایڈیل رینی کو گرفتار کر لیا۔

ایڈیل رینی کو 18 الزامات اور 10 متاثرین کو دھوکہ دینے کا قصوروار قرار دیا گیا۔ اُن پر غیر اخلاقی چیٹ اور 10 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سٹاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

ایڈیل کو دسمبر 2017 میں 22 ماہ قید کی سزا سنائی گئی اور اُنھیں 10 برس تک جنسی مجرموں کے ریکارڈ میں شامل رکھا گیا۔

متاثرین کو سب سے زیادہ دلچسپی اس بات کی تھی کہ آخر ایڈیل نے یہ سب کچھ کیوں کیا۔ ایبی کے بقول ہمارے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔

ایڈیل کی کہانی کو برطانوی اخبارات میں بھی بھرپور جگہ ملی، پھر مزید درجنوں کیسز سامنے آئے، جس میں مزید خوفناک انکشافات سامنے آئے۔

ایڈیل رینی کو اکتوبر 2018 میں جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن مہینوں کے اندر وہ دوبارہ پولیس کی نظروں میں آ گئیں۔

ایڈیل رینی کے جھانسے میں آنے والی ایک متاثرہ خاتون نے ایک اور پراسرار پروفائل کا انکشاف کیا۔ اس کیس میں انھیں ایک امیر وکیل کا رُوپ دھار کر خواتین کو اپنی برہنہ تصاویر بھیجنے اور ورغلانے کے الزام میں سنہ 2019 میں مزید تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

رینی کی والدہ کرسٹین نے دستاویزی فلم میں کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی حرکتوں سے ’غم زدہ اور شرمندہ‘ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ قبول کرنا کافی مشکل ہے کہ آپ کا بچہ اس قسم کے کاموں میں ملوث ہو۔

رینی کو سنہ 2021 میں جب دوسری مرتبہ رہا کیا گیا تو اُن کی والدہ نے محسوس کیا کہ اب وہ سدھر جائیں گی۔

اُن کی والدہ کو محسوس ہوا کہ اب وہ مختلف محسوس کر رہی ہیں اور مستقبل میں کچھ کرنا چاہتی ہیں۔

ایبی بھی اپنی زندگی آگے بڑھ گئیں اور اگلے چار برس تک اُنھوں نے ایڈیل کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ اُنھیں لگا کہ اب شاید یہ کہانی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

لیکن اکتوبر سنہ 2023 میں اُنھیں ایک پیغام میں ٹنڈر پروفائل دیکھنے کا کہا گیا۔ اُنھیں بتایا گیا کہ اندازہ لگائیں کہ یہ کون ہو سکتا ہے؟ اور وہ ایڈیل تھیں۔

سائبر نفسیات کی ماہر ڈاکٹر نکولا فاکس ہیملٹن کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کوئی اس قسم کے رویے میں کیوں ملوث ہے۔ اُن کے بقول اس کا تعلق بجپن میں ہونے والے واقعات سے ہو سکتا ہے۔

رینی کی والدہ نے بتایا کہ اُن کی بیٹی کو بجپن میں مختلف صدمات سے گزرنا پڑا اور جیل میں بھی اُنھیں اس حوالے سے مدد دی گئی۔

کرسٹینا کا کہنا تھا کہ اُن کی پہلی شادی بہت مشکل تھی، جس میں میرے شوہر کے ساتھ گالم گلوچ معمول کی بات تھی۔

کرسٹینا کہتی ہیں کہ وہ کافی اچھے والد تھے لیکن بدقسمتی سے وہ شراب پیتے تھے، جس کی وجہ سے مجھے مار پڑتی تھی اور رینی ان سب چیزوں کا مشاہدہ کر رہی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اُس وقت ہوتا تھا، جب ہم سونے کے لیے بستر پر ہوتے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ بچے سو گئے ہیں۔

ایڈیلی کے والد نے اُس وقت اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، جب وہ صرف چھ برس کی تھیں لیکن اُن کی والدہ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اُن کی موت کیسے ہوئی۔

کرسٹینا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کے ساتھ مشکل رشتے نے ایڈیل پر منفی اثر ڈالا، جس کا مجھے افسوس ہے۔

اُن کے بقول آپ یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کون کس مشکل سے اور کن حالات سے گزر رہا ہے اور وہ اس پر کیا ردعمل دے سکتا ہے۔

کیس ختم

ایڈیل رینی کو گذشتہ سال جنوری میں تیسری بار جیل سے رہا کیا گیا تھا، وہ اپنی آدھی سزا پوری کر چکی تھیں۔

دس دن بعد اُنھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اُنھوں نے پچھلے شکار کو ٹیکسٹ کیا تھا، جس پر ان کی رہائی کی شرائط کے تحت پابندی لگا دی گئی تھی۔

اُنھیں چوتھی بار جیل بھیج دیا گیا اور اُنھیں اپنی باقی سزا کے علاوہ مزید 100 دن جیل میں کاٹنے کا حکم دیا گیا۔

رینی جو مارچ میں رہا ہونے والی ہیں، نے دستاویزی فلم کے لیے ایک بیان دیا ہے۔

اپنے بیان میں رینی کا کہنا ہے کہ ’وہ معافی مانگتی ہیں اور اپنی غلطیوں کا احتساب کرتی ہیں، جس کی وجہ سے معصوم خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ جیل میں اُنھوں نے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے رویے سمیت اپنے مسائل پر کام کر سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ مجھے کبھی بھی اپنے اندرونی خلفشار اور عدم تحفظ کو دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔