بشار الاسد کے دور میں سیاسی قیدی بنائی گئی شامی ماؤں کو اپنے بچوں کی تلاش: ’ایسی خواتین بھی ہیں جنھوں نے تین یا چار بچے کھوئے‘

    • مصنف, حیا البدرنہ
    • عہدہ, بی بی سی

ریم القاری ماؤں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ بیٹھی ہیں اور اپنے موبائل فون پر تصاویر دیکھ رہی ہیں اور ایسے میں وہ چہروں کو دیکھ کر وہ رُک جاتی ہیں جنھیں وہ پہچانتی ہیں۔

مہینوں میں پہلی بار ریم اب اپنے بیٹے کریم کی تلاش میں اکیلی نہیں ہیں، جو شام کی خانہ جنگی کے دوران اس وقت غائب ہو گیا تھا جب وہ صرف ڈھائی سال کا تھا۔ کریم اب 15 سال کا ہوگا۔

ستمبر 2025 میں ’شام کے اغوا شدہ بچے‘ کے عنوان سے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح بشار الاسد کی حکومت نے ملک کے اندر اور باہر نجی یتیم خانوں کا استعمال کر کے ان بچوں کو منظم طریقے سے لاپتا کیا، جن کے والدین سیاسی قیدی تھے۔

یہ دستاویزی فلم لائٹ ہاؤس رپورٹس نامی ایک تحقیقاتی صحافتی تنظیم اور شام سمیت دنیا بھر کے متعدد میڈیا پلیٹ فارمز کے تعاون سے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

تب سے ریم کو نئے اتحادی ملے ہیں۔۔۔ ان جیسی مائیں، اقوام متحدہ کے اہلکار اور انسانی حقوق کے معاون گروپس سمیت یہ سب ہی افراد اپنے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ریم کہتی ہیں: ’دوسرے خاندانوں سے ملنا جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔۔۔ یہ تکلیف دہ تو ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مددگار بھی ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ: ’میں نے سوچا کہ میں واحد ماں ہوں جو اپنے چھوٹے بچے کو تلاش کر رہی ہوں، یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا کہ ایسی مائیں بھی ہیں جنھوں نے تین یا چار بچے کھو دیے ہیں۔‘

ریم نے تصدیق کی: ’ہم سب ایک گروپ کا حصہ ہیں۔ اب ہمیں محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری آوازیں سنی جانے لگی ہیں۔‘

ریم کی آواز پر سکون تھی، باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں سالوں تکلیف سہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریم نے کہا کہ ان گمشدہ بچوں کے خاندانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے کیونکہ شفافیت کا فقدان ہے اور حکومتِ شام کی جانب سے کیے جانے والی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

ریم نے کہا: ’میں جانتی ہوں کہ بہت سے یتیم خانوں سے تاحال محققین نے رابطہ نہیں کیا۔۔۔ اگر ان کے پاس وسائل نہیں ہیں، تو کیا خاندانوں کو اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ شاید ہم مدد کر سکیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جن یتیم خانوں کا دورہ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، انھوں نے حکومت کی حمایت کے بغیر ان کے داخلے سے انکار کر دیا۔

بی بی سی نے متعدد بار شامی وزارتِ سماجی امور سے معلومات طلب کیں، جو قیدی بچوں کو یتیم خانوں میں منتقل کرنے کی ذمہ دار ہے۔ لیکن وزارت نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور محض جاری تحقیقات کا حوالہ دیا۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں رغدہ زیدان، جو شامی قید شدہ اور لاپتہ افراد کے بچوں کی تحقیقات کی کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے بتایا کہ وہ 314 بچوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جنھیں وزارتِ سماجی امور نے یتیم خانوں میں بھیجا تھا۔

کمیٹی نے 150 بچوں کو ٹریک کیا اور تصدیق کی کہ وہ اپنے خاندانوں کے پاس واپس آ گئے ہیں، جبکہ باقی بچوں کو واپس لانے کا عمل ابھی جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی آزاد ادارے برائے گمشدہ افراد کے مطابق کم از کم 530 بچے ایسے ہیں جنھیں سیکورٹی انتظامات کے تحت ان کے قید والدین یا لاپتہ والدین سے علیحدہ کر کے یتیم خانوں یا بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں رکھا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ادارے کی شام میں سربراہ کارلا کنٹانا نے کہا: ’ہمارے اعداد و شمار ان معاملات کی عکاسی کرتے ہیں جنھیں ہم مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ٹریک کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر ہمارے اعداد و شمار اور دیگر اداروں کے پاس موجود اعداد میں فرق ہے تو اسے متضاد نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک تکمیلی حیثیت رکھتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ گمشدہ بچوں تک پہنچنے کے لیے کوششوں کو مربوط کرنا ضروری ہے۔‘

شواہد اکٹھے کرنے میں سست پیش رفت

دارِ امان، حکومت کے زیر انتظام یتیم خانوں میں سے ایک ہے، جس نے پہلے بھی ان بچوں کو قبول کیا ہے جن کے والدین اسد کے نظام کے تحت قید تھے۔ بی بی سی نے ان بچوں کے دستاویزات کی کاپیاں حاصل کی ہیں۔

دارِ امان کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ انھیں مئی 2025 میں قائم ہونے والی سرکاری تحقیقات کی کمیٹی کی جانب سے دستاویزات کے بارے میں کوئی سوال نہیں موصول ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دارِ امان کے ایک اعلیٰ انتظامی اہلکار نے کہا: ’وزارت سماجی امور سے کسی نے بھی کچھ نہیں پوچھا۔‘

اہلکار نے مزید کہا: ’یہاں موجود تمام بچے یتیم یا قید والدین کے بچے ہیں اور اگر ان سے سوال کیا جائے تو وہ جواب دیں گے کہ ان کے والدین قید خانوں میں وفات پا گئے یا حکومت انھیں لے گئی۔ ان کی دستاویزات موجود ہیں لیکن حکومت نے کبھی بھی انھیں دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔‘

ریم القاری جیسے والدین امید رکھتے تھے کہ اسد کے نظام کے خاتمے کے بعد دستاویزات تک مکمل رسائی ممکن ہو جائے گی۔ لیکن ان کے مطابق اب تک گمشدہ بچوں کے اہل خانہ کے لیے کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

شام میں ایس او ایس چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل: ’ناکامیوں اور خصوصی تحقیقات کی ذمہ داری‘

بین الاقوامی ادارہ چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل شام میں اپنی شاخ کے ذریعے ان بچوں کے بارے میں علیحدہ تحقیقات کر رہا ہے جنھیں حکومت نے ان کے پاس رکھا تھا۔

شام میں تنظیم کی شاخ نے تسلیم کیا کہ اس نے قیدی والدین کے 139 بچوں کو قبول کیا تھا اور پچھلے سال زیادہ تر بچوں کو واپس حکومتِ شام کے حوالے کر دیا گیا تھا، لیکن ان کے بعد کے حالات یا سفر کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں تھا۔

شامی بچوں کے اغوا کے کیس کی تحقیقات کے بعد چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل کی شام میں شاخ کو تین سال کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ویانا میں ادارے کے چیف ایگزیکٹو نے ایک ای میل میں کہا کہ مرکزی دفتر اس ’ناکامی‘ کا ذمہ دار ہے۔

ای میل میں بتایا گیا کہ گمشدہ شامی بچوں کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپس بھیجنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، ساتھ ہی بچوں کے اہل خانہ کے ڈیٹا کا جائزہ اور شام میں تنظیم کے بڑے عہدیداروں کی سیاسی وابستگیوں کی جانچ بھی شامل ہے۔

جن خاندانوں کے بچوں کو شام میں چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل نے رکھا، انھیں مناسب معاوضہ دینے کے اہل قرار دیا جائے گا۔

تاہم بی بی سی کی رپورٹ میں شامل خاندانوں سے ابھی تک اس بین الاقوامی ادارے کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

تلاش جاری ہے

ریم کو ان افراد کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں جو اُس رات چیک پوائنٹ پر موجود تھے جب 2015 میں اُن کے شوہر اور بچے غائب ہوئے تھے۔

ریم کہتی ہیں: ’یہ معلومات مجھے کچھ امید دے رہی ہیں کہ شاید کچھ تفصیلات معلوم ہو جائیں لیکن یہ محض حقیقت کے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔‘

دوسری طرف کچھ دیگر خاندان بھی قانونی مشورے لینے لگے ہیں۔ حدیل، ایک اور ایسی ماں ہیں جن کے دو بچے اُن کے گرفتار کیے جانے کے فوراً بعد چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل بھیجے گئے تھے اور انھوں نے وہاں 11 سال گزارے، وہ حال ہی میں اپنے دونوں بڑے بچوں سے پہلی بار ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

بی بی سی کے دستاویزی پروگرام ’شام کے اغوا شدہ بچے‘ نے گمشدہ بچوں کے اہل خانہ کو حکام کے ساتھ براہِ راست رابطہ کرنے میں مدد دی ہے۔

وہ بچے جو امید کی کرن بن رہے ہیں

محمد غبیس، وہ سب سے کم عمر بچہ جسے حکومت کی طرف سے یتیم خانے میں رکھا گیا تھا، کو یومِ اطفال کے موقع پر دمشق کے دیہی علاقے کا علامتی گورنر منتخب کیا گیا تھا۔

اب غبیس بچوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، خاص طور پر اُن بچوں کے لیے جو اپنے والدین کی حراست کے دوران زیادہ تر بچپن یتیم خانوں میں گزار چکے ہیں یا جنھیں بعض معاملات میں اپنی پوری فیملی ہی کھو دینی پڑی۔