وزن کم کرنے والے ٹیکے: ’انھیں چھوڑنے کے بعد وزن ڈائٹنگ کرنے والوں کے مقابلے میں چار گنا تیزی سے بڑھتا ہے‘

    • مصنف, مشیل روبرٹس
    • عہدہ, صحت کی نامہ نگار

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے مونجارو یا ویگووی جیسے ٹیکے استعمال کرنے والے افراد اگر یہ علاج چھوڑ دیں تو اُن کا وزن دوبارہ کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔ یہ رفتار اُن لوگوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہوتی ہے جو روایتی طریقے سے کچھ عرصہ ڈائٹنگ اور ورزش کرنے کے بعد اسے ترک کر دیتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان ٹیکوں کا استعمال کرنے والے مریض اوسطاً اپنے جسمانی وزن کا پانچواں حصہ کم کر لیتے ہیں لیکن جب علاج ختم ہوتا ہے تو ہر ماہ تقریباً 800 گرام وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس رفتار سے مریض کا وزن صرف ڈیڑھ سال میں پہلے جتنا ہی ہو جاتا ہے۔

تحقیق کی سربراہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سوزن جیب نے خبردار کیا کہ ’انجیکشن یا ٹیکے خریدنے والے افراد کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ علاج ختم ہونے کے بعد وزن تیزی سے واپس بھی آ سکتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ بات بھی واضح انداز میں کہی کہ یہ نتائج حقیقی زندگی پر نہیں بلکہ طبی تجربات پر مبنی ہیں، اس لیے ابھی اس معاملے پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے 37 تحقیق کی مدد سے ایسے نو ہزار سے زائد مریض کا جائزہ لیا کہ جن میں سے کُچھ نے وزن کم کرنے والے ٹیکوں کا اور کُچھ نے روایتی گولیوں اور ڈائٹنگ کی مدد حاصل کی۔

ان میں سے صرف آٹھ مطالعات نے جدید جی ایل پی ون (GLP-1) ادویات جیسے ویگووی اور مونجارو کا تجزیہ کیا اور ایک سال تک اس کا جائزہ لیا جاتا رہا، اس لیے یہ اعداد و شمار اندازے پر مبنی ہیں۔

دوسری جانب وہ افراد جو صرف ڈائٹنگ پر انحصار کرتے ہیں، انجیکشن استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کم وزن ضرور کم کرتے ہیں، تاہم علاج یا پرہیز ختم ہونے کے بعد اُن کا وزن نسبتاً آہستہ رفتار سے بڑھتا ہے، اوسطاً ہر ماہ تقریباً 100 گرام۔

دوبارہ بیماری کے لوٹ آنے کا خطرہ

نیشنل ہیلتھ سروس نے واضح کیا ہے کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز جیسے ویگووی اور مونجارو صرف ان افراد کے لیے تجویز کیے جائیں جو موٹاپے کے ساتھ صحت کے سنگین خطرات کا شکار ہیں۔ یہ انجیکشن ان لوگوں کے لیے نہیں ہیں جو صرف تھوڑا سا سلم یعن بس معمولی سا وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو انجیکشن کے ساتھ ساتھ مریضوں کو طرزِ زندگی میں تبدیلیاں بھی تجویز کرنی چاہئیں، جن میں صحت مند غذا اور مناسب ورزش شامل ہے تاکہ وزن دوبارہ نہ بڑھے۔

کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ علاج دراصل طویل مدتی یا زندگی بھر کے لیے ہونا چاہیے، کیونکہ علاج ختم کرنے کے بعد وزن دوبارہ بڑھنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

ایسے افراد جنھوں نے وزن کم کرنے والے انجیکشنز (ویگووی، مونجارو وغیرہ) کا استعمال ترک کیا ہے وہ اس تجربے کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جیسے ’ایک سوئچ آن ہو جائے اور اچانک شدید بھوک لگنے لگے۔‘

ایک خاتون نے کہا کہ ’ایسا لگا جیسے دماغ میں کوئی دروازہ کھل گیا ہو اور آواز آئی ہو کہ سب کچھ کھا لو، یہ سب تمہارے ہی لیے ہے کیونکہ تم نے یہ سب کُچھ کھانے کے لیے بہت انتظار اور صبر کیا ہے۔‘

یونیورسٹی آف سرے کے غذائی ماہر ڈاکٹر ایڈم کولنز کے مطابق یہ کیفیت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ انجیکشن دماغ اور جسم میں بھوک کو قابو کرنے والے قدرتی ہارمون جی ایل پی ون کی نقل کرتے ہیں۔

اُنھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب طویل عرصے تک مصنوعی طور پر جی ایل پی ون کی سطح کو غیر معمولی حد تک بڑھایا جاتا ہے تو جسم قدرتی طور پر جی ایل پی ون کی پیداوار کم کر دیتا ہے اور اس کے اثرات کے لیے حساسیت بھی گھٹ جاتی ہے۔

یہ مسئلہ انجیکشن کے استعمال کے دوران سامنے نہیں آتا، تاہم جیسے ہی اس کا اثر ختم ہوتا ہے یا علاج روک دیا جاتا ہے تو بھوک پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے اور اشتہا میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر کولنز نے مزید کہا کہ اچانک انجیکشن چھوڑ دینا ایک بڑا چیلنج ہے۔

’یہ صورتحال اس وقت مزید بگڑ جاتی ہے جب مریض نے صرف جی ایل پی ون پر انحصار کیا ہو اور اپنی خوراک یا رویے میں کوئی پائیدار تبدیلی نہ کی ہو جو طویل مدت میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔‘

یونیورسٹی کالج لندن کے محققین کے تازہ اندازوں کے مطابق گذشتہ سال کے دوران تقریباً 16 لاکھ برطانوی بالغ افراد نے وزن کم کرنے والے انجیکشنز استعمال کیے جن میں زیادہ تر نے یہ انجیکشنز پرائیویٹ نسخوں کے ذریعے حاصل کیے نہ کہ این ایچ ایس سے۔

مزید 33 لاکھ افراد نے کہا ہے کہ وہ آئندہ سال ان ’سکنی جیبز‘ کو آزمانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں ہر 10 میں سے ایک بالغ یا تو یہ انجیکشن استعمال کر چکا ہے یا استعمال کرنے کا خواہشمند ہے۔

یہ اعداد و شمار سنہ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں کیے گئے قومی سطح کے سروے سے حاصل ہوئے، جنھیں کینسر ریسرچ یوکے نے فنڈ کیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ انجیکشنز کا استعمال خواتین میں مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ عام ہے جبکہ یہ رجحان زیادہ تر 40 اور 50 سال کی عُمر والے افراد میں پایا گیا۔

موٹاپے کی دائمی نوعیت اور وزن کم کرنے والے انجیکشنز

گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر نوید ستار کا کہنا ہے کہ ’وزن کم کرنے والے انجیکشنز تیزی سے وزن گھٹانے کے ذریعے اضافی طبی فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ممکن ہے کہ اگر کوئی شخص دو سے تین سال تک کم وزن کے ساتھ زندگی گُزارے تو جوڑوں، دل اور گردوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات کافی کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم اس سوال کا جواب دینے کے لیے بڑے اور طویل مدتی نتائج پر مبنی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

پروفیسر ستار نے مزید کہا کہ ’اگر یہ ادویات تین سے چار سال تک مسلسل استعمال کی جائیں تو مریض اپنا وزن نمایاں طور پر کم سطح پر برقرار رکھ سکتے ہیں، جو عام طور پر صرف طرزِ زندگی کی تبدیلیوں سے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وقت کے ساتھ زیادہ تر افراد دوبارہ وزن بڑھا لیتے ہیں۔‘

این ایچ ایس کے مطابق جی پیز اور سپیشلسٹ ویٹ مینجمنٹ سروسز مریضوں کو خودکار طور پر مونجارو یا ویگووی تجویز نہیں کر سکتیں، چاہے مریض انھیں پرائیویٹ طور پر پہلے استعمال کر چکے ہوں۔ یہ ادویات صرف ان افراد کو دی جا سکتی ہیں جنھیں سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہو اور جو مخصوص معیار پر پورا اترتے ہوں جیسے وزن سے متعلقہ بیماریوں کا شکار ہونا وغیرہ۔

فی الحال این ایچ ایس میں مونجارو کے نسخے کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں، جبکہ ویگووی زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے تجویز کی جا سکتی ہے۔

دوا ساز کمپنی ایلی لِلی، جو مونجارو تیار کرتی ہے کا کہنا ہے کہ ’وزن کم کرنے والی ادویات کے ساتھ صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی اور وقت پر طبی معائنہ لازمی ہونا چاہیے۔‘

کمپنی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’جب علاج ختم کیا جاتا ہے تو وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے، جو اس بیماری کی حیاتیاتی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ مریض کی جانب سے کوشش یا ارادے کی کمی کو۔‘

نوو نورڈسک جو ویگووی تیار کرتی ہے کا کہنا ہے کہ ’یہ نتائج موٹاپے کی دائمی نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وزن اور مجموعی صحت میں بہتری برقرار رکھنے کے لیے مسلسل علاج ضروری ہے بالکل اسی طرح جیسے ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے۔‘