طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت کابل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرنے والا فوجی ڈرون MQ-9 تھا۔ یہ طیارہ امریکی ساختہ ہے اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی پشتو کو بتایا کہ ایک ڈرون تکنیکی خرابی کی وجہ سے میدان وردک صوبے میں طالبان کے سپیشل فورسز کے ہیڈ کوارٹر اور ٹریننگ سینٹر کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
ان ذرائع کے مطابق طیارہ گرنے کے وقت فضا میں ایک اور ڈرون بھی دیکھا گیا۔
طالبان حکومت نے باضابطہ طور پر ڈرون حادثے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے ایک تحقیقاتی ٹیم کو علاقے میں بھیج دیا ہے، طیارے کے ملبے کو کابل منتقل کر دیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکی ڈرون ہے۔‘
طالبان کے ایک اور سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو اس ڈرون طیارے کی مختلف تصاویر بھی دکھائیں اور بتایا کہ یہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرون ہے جو اس سے پہلے افغانستان میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں ڈرون گرنے کے بارے میں بی بی سی کو دیے گئے مختصر ردِعمل میں اس واقعے کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔
پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہمارے پاس اس پر کہنے کو کچھ نہیں ہے۔‘
بی بی سی نے گرنے والے ڈرون طیارے کی تصاویر کا بھی جائزہ لیا اور پتہ چلا کہ تصاویر اصلی تھیں، ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی تھی اور یہ MQ-9 طیارے سے کافی مشابہت رکھتی ہیں۔
ڈرون طیارے کے انٹینا ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اور ان پر ایک ہی طرح کے فوسیلج نصب ہوتے ہیں۔ سامنے کی طرف ایک ڈش کی شکل کا اینٹینا نظر آتا ہے جو مواصلاتی رابطوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
امریکی فضائیہ کی سرکاری معلومات کے مطابق یہ ڈرون طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہدف کو پہچان کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پہلے مرحلے میں اسے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے متحرک اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
طویل مدت تک فضا میں موجود رہنے، وسیع سینسرز، متعدد قسم کے مواصلاتی آلات اور درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیار اسے اہداف کو ٹھیک طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔
یہ ڈرون امریکہ کے ساتھ ساتھ نیٹو کے کچھ رُکن ممالک برطانیہ، فرانس، سپین اور اٹلی بھی استعمال کرتے ہیں۔ سنہ 2024 میں انڈیا نے امریکہ سے ان طیاروں کی خریداری کے لیے چار ارب ڈالرز کے معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔
سنہ 2011 میں ایک MQ-9 طیارے کے مکمل پیکج کا تخمینہ لگ بھگ 56 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، جس میں چار ڈرونز بشمول سینسر، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن اور پریڈیٹر کا مرکزی سیٹلائٹ لنک شامل تھا۔