آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران آزادی چاہتا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘ وہ گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہ چُکے ہیں کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انھیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔

خلاصہ

  • اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں امریکہ پر ایران میں بدامنی اور پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔
  • ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور ایرانی حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔
  • انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 50 مظاہرین اور 14 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • ایران کی شوریٰ عالی امنیت ملی (سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل) نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کو اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کا مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے۔
  • پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آٹھ جنوری کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ایران آزادی چاہتا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘

    ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انھیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکہ ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔

    امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ کہ جب عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔

    اس سے قبل دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس کے دوران عباس عراقچی نے عمان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ہر ملک کے داخلی معاملات اسی ملک سے متعلق ہیں اور کسی فریق کو حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت کرے یا ان پر فیصلہ مسلط کرے۔‘

    انھوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا عمان امریکہ کا پیغام ایران تک پہنچا رہا ہے یا نہیں۔

    یاد رہے کہ عمان کئی دہائیوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتا رہا ہے۔

  2. دنیا کے مختلف شہروں میں ایرانی مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے, بی بی سی فارسی

    ایران میں دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں میں اب شدت آگئی ہے۔ ایران کے متعدد شہروں تک پھیل جانے والے یہ احتجاج میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

    ایران کے علاوہ اب دُنیا کے متعدد شہروں میں آباد ایرانی بھی اب حکومت مخالف ان مظاہروں کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں۔

    نیوزی لینڈ کے شہر اوکلینڈ میں ایرانیوں نے حکومتِ ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    اوکلینڈ سے بی بی سی فارسی کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو حکومت مخالف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض مناظر میں مظاہرین انقلاب سے قبل کا ایرانی جھنڈا تھامے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    یہ مظاہرہ ایران کے اندر جاری ملک گیر احتجاجات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر ہوا۔ گزشتہ دو روز میں ایرانیوں نے بیرونِ ملک بھی مختلف شہروں میں حکومت مخالف اجتماعات کیے، جن میں سٹاک ہوم، ہیمبرگ، بوداپست، لندن اور نیویارک شامل ہیں۔

    ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایک پیغام میں ایران بھر میں عوام کے دوبارہ سڑکوں پر آنے پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بیرونِ ملک ایرانیوں کے کردار کو موجودہ حالات میں اہم قرار دیا۔

    دوسری جانب ہالینڈ کے شہر لاهے میں بھی ایرانی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں سینکڑوںافراد نے شرکت کی۔

    اس احتجاجی مظاہرہ میں ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے متعدد نمائندوں نے خطاب کیا اور ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا۔

    ایرانی مقررین نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ ایران کے سفیر کو ہالینڈ سے نکالا جائے۔

    آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بھی سنیچر کے روز ایران میں جاری مظاہروں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے سنہ 1979 کے انقلابِ ایران سے قبل والے جھنڈے اُٹھا رکھے تھے کہ جن پر شیر و سورج بنا ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بعض مظاہرین نے رضا پہلوی کی تصاویر بھی اٹھا رکھیں تھیں اور وہ ایران کے مظاہرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور شدید پابندیوں کے باعث درست اور بروقت خبر تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود، منظر عام پر آنے والی تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب بھی ایران کے مختلف شہروں، بشمول تہران، کرج، قم، مشہد، اصفہان، رشت، تبریز اور یزد میں بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے۔

    ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور دو مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر اور عملے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے طبی مراکز زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

  3. کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے: ایرانی وزیر خارجہ, بی بی سی فارسی

    عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    عباس عراقچی نے عمان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ہر ملک کے داخلی معاملات اسی ملک سے متعلق ہیں اور کسی فریق کو حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت کرے یا ان پر فیصلہ مسلط کرے۔‘

    انھوں نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا عمانی وزیر امریکہ کا کوئی پیغام ایران تک پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے ایک روز قبل بیروت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نہیں جانتے، انتظار کرنا ہوگا کہ وہ آئیں اور پھر دیکھیں۔‘

    یاد رہے کہ عمان کئی دہائیوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر نے ایران میں جاری مظاہروں کے آغاز کے بعد بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو قتل کرے گی تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔

  4. خامنہ ای پریشان ہیں کیونکہ ٹرمپ مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ایران میں تیرہ روز تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد مظاہرین کے اتحاد اور تبدیلی کی خواہش میں حکومت کا ’سب سے بڑا خوف‘ عیاں ہو گیا ہے۔

    وزارت کے فارسی اکاؤنٹ پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ تہران کے سرکاری بیانیے کے برعکس زمینی حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی حکومت کو سنگین بحران کا سامنا ہے۔

    جمعہ کی رات اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مظاہرین ’امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے عوامی املاک کو تباہ کر رہے ہیں۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی اکاؤنٹ نے ایک اور ٹویٹ میں علی خامنہ ای کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: ’شاید جو چیز واقعی انھیں پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی عوام نے 47 سال کی جھوٹ اور اس حکومت کی مکمل ناکامی کو سمجھ لیا ہے، اور یہ کہ ریاستِ متحدہ کے 47 ویں صدر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

  5. ایرانی فوج: ہم طاقت کے ساتھ قومی مفادات، سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا تحفظ کریں گے

    ایرانی فوج نے آج ایک بیان جاری کیا جس میں ملک کے ’قومی مفادات، سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک‘ کے تحفظ کا عہد کیا گیا ہے۔

    اس بیان میں فوج نے اسرائیل پر ’شہروں میں امن و امان کو خراب کرنے اور ملک میں عوامی سلامتی کو متاثر کرنے کی ایک اور سازش‘ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا اور کہا: ’دشمن، جس کے ہاتھ 12 روزہ جنگ میں اس قوم کے بچوں کے خون سے رنگے ہیں، ایرانی عوام کی حمایت کے جھوٹے دعوے کے تحت ایک اور فتنے کو ہوا دینے کے درپے ہیں۔‘

    دیگر ایرانی حکام نے پہلے ہی عوامی املاک کی تباہی کے خلاف خبردار کیا تھا، بشمول اسلامی جمہوریہ کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای کے، جنھوں نے کل خبردار کیا تھا کہ حکومت ’توڑ پھوڑ اور فساد کرنے والوں کے سامنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘

  6. رضا پہلوی: انقلاب کی فتح کے وقت قوم کے ساتھ رہنے کے لیے وطن واپس آنے کی تیاری کر رہا ہوں

    ایک نئے پیغام میں رضا پہلوی نے جمعہ کی شام ایران بھر میں سڑکوں پر لوگوں کی واپسی پر تعریف کا اظہار کیا اور احتجاج جاری رکھنے پر زور دیا۔

    اس ویڈیو پیغام میں انھوں نے اہم اقتصادی شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں اور ملازمین سے ملک گیر ہڑتال پر جانے کی اپیل بھی کی۔

    اپنے پیغام کے آخر میں، انھوں نے کہا کہ وہ ایران واپس جانے کی ’تیاریاں‘ کر رہے ہیں تاکہ ’جب ہمارا قومی انقلاب کامیاب ہو اس وقت میں ایران کی عظیم قوم، میں آپ کے ساتھ رہ سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دن بہت قریب ہے۔‘

    گذشتہ دو راتوں کے دوران رضا پہلوی کی کال کے بعد، ایران بھر میں سینکڑوں افراد احتجاجی مظاہروں میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

  7. روبیو: امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کی حمایت پر زور دیا ہے۔

    روبیو نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’امریکہ ایران کے بہادر لوگوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

    گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار ایرانی حکومت کے اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ اگر ماضی کی طرح اُنھوں نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم کارروائی کریں گے۔

    انھوں نے کہا ’ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم انھیں پوری شدت سے ماریں گے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔‘

  8. عراقچی: احتجاج ہر جمہوریت میں فطری بات ہے

    لبنان کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حزب اللہ سے وابستہ المنار ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کی صورتحال عمومی طور پر بہتر ہے، اگرچہ کچھ مسائل ایسے ہیں جو پابندیوں اور اقتصادی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔‘

    انھوں نے جاری مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’ایران میں کچھ احتجاج ہوتے ہیں جہاں لوگ اپنے مطالبات کا اظہار کر سکتے ہیں اور یہ احتجاج ایسی حکومت کے لیے جو عوامی حاکمیت اور جمہوریت پر مبنی ہو، فطری ہیں۔ اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘

    عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ’عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو بدامنی پھیلا رہے ہیں، عوامی مقامات پر حملے کر رہے ہیں اور آگ لگا رہے ہیں اور اس مسئلے کو احتیاط سے حل کیا جانا چاہیے۔‘

    انٹرویو کے ایک اور حصے میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حکام خود ’ٹوئیٹس اور انٹرویوز میں اعلان کرتے ہیں کہ موساد کے ایجنٹ تہران میں موجود ہیں اور ان مظاہروں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

  9. ایران میں مظاہرے جاری: طبی مراکز زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار

    ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کو منظم انداز میں وارننگز جاری کی جا رہی ہیں۔ اس دوران دو مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر اور عملے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے طبی مراکز زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ تہران کے ایک آنکھوں کے ہسپتال کو ہنگامی صورتحال (کرائسس موڈ) میں جانا پڑا، جبکہ بی بی سی کو ایک دوسرے ہسپتال میں کام کرنے والے کارکن کا پیغام بھی موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں سرجنز کی شدید کمی ہے۔

    دو انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 50 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جمعرات کی شام سے ایران میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ ہے جس کے باعث معلومات حاصل کرنا اور ان کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

    ایران سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر، جنھوں نے جمعے کی رات سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے بی بی سی سے رابطہ کیا، بتایا کہ تہران کا مرکزی آنکھوں کا فارابی ہسپتال، ہنگامی حالت میں داخل ہو چکا ہے اور ایمرجنسی سروسز شدید دباؤ میں ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ غیر ہنگامی داخلے اور سرجریاں معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ ہنگامی کیسز سے نمٹنے کے لیے اضافی عملے کو طلب کیا گیا ہے۔

    بی بی سی کو جمعرات کے روز جنوب مغربی شہر شیراز کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے رکن کی ویڈیو اور آڈیو پیغام بھی موصول ہوا۔ اس شخص کے مطابق بڑی تعداد میں زخمیوں کو ہسپتال لایا جا رہا ہے اور مریضوں کے اس ہجوم سے نمٹنے کے لیے سرجنز ناکافی ہیں۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ بہت سے زخمیوں کو سر اور آنکھوں میں گولیوں کے زخم آئے ہیں۔

    امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب تک کم از کم 50 مظاہرین اور 15 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2311 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

  10. پاکستان بحریہ کا زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل ایل وائی 80 (این) کے کامیاب تجربے کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں ایک جامع بحری مشق کے دوران زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ورٹیکل لانچنگ سسٹم سے داغا گیا ایل وائی-80 (این) میزائل توسیعی رینج پر اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کرنے میں کامیاب رہا، جس سے پاکستان بحریہ کے جدید فضائی دفاعی نظام کی مؤثر اور طویل فاصلے تک صلاحیتوں کی تصدیق ہوئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مشق کے دوران پاکستان بحریہ نے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا، جس میں بدلتی ہوئی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق روایتی اور بغیر پائلٹ نظاموں کی صلاحیتیں نمایاں کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں لوئٹرنگ میونیشن (ایل ایم) کے ذریعے سطحی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا مظاہرہ بھی شامل تھا جس سے پاکستان بحریہ کی درست اور مؤثر نشانہ لگانے کی صلاحیت اجاگر ہوئی۔

    بیان کے مطابق لوئٹرنگ میونیشن نے سطحی اہداف کو مؤثر انداز میں تباہ کیا جو جدید بحری جنگ میں اس کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بغیر پائلٹ جہاز کے کامیاب کھلے سمندر میں آزمائشی تجربات بھی کیے گئے، جو خودکار بحری ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان آزمائشوں کے دوران اس پلیٹ فارم کی تیز رفتاری، مشن کے دوران پائیداری، غیر معمولی چابک دستی، درست نیویگیشن اور خراب موسمی حالات میں کارکردگی کی صلاحیتوں کی توثیق کی گئی۔ یو ایس وی کم خطرے اور زیادہ اثر رکھنے والا ایک مؤثر نظام ہے جو سٹیلتھ خصوصیات کے ساتھ ایک ٹیکٹیکل انٹرسیپٹر کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  11. ایران میں جاری مظاہروں کو اسرائیل میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے

    ایران میں جاری مظاہروں کو اسرائیل میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔

    9 جنوری کو ایرانی مظاہروں کی وسیع کوریج کے ساتھ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ اسرائیل مظاہروں اور جاری پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    اخبارات کے پہلے صفحات مظاہروں کے لیے وقف تھے، جن میں ’ایران بھر میں ایک ڈرامائی رات‘ جیسی سرخیاں تھیں۔

    دائیں بازو کے اسرائیلی اخبار ہیوم اور اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن نے کہا کہ ایران میں مظاہرے بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچ چکے ہیں۔

    چینل 12 نے مظاہروں میں اضافے کی وجہ ایران کے آخری شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی طرف سے اسلامی جمہوریہ کی قیادت کے خلاف احتجاج کی کال کو قرار دیا۔

    چینل 12 کے ایک فوجی نمائندے نیر ڈووری نے 8 جنوری کو شام کے خبروں کے حصے میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایران میں ’غیر معمولی حرکات‘ دیکھی ہیں اور انھیں پاسدارانِ انقلاب کی مشقوں سے جوڑ دیا۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو خدشہ ہے اس صورت حال میں اسرائیل یا ایران دوسرے فریق کے ارادوں کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھ پائیں گے اور صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔

    ڈووری کے مطابق اسرائیل نے صورتحال کو ’سائیڈ لائنز سے دیکھنے‘ کا فیصلہ کیا ہے اور مداخلت کی کسی بھی کوشش کی صورت میں امریکہ کو ممکنہ کارروائی کی قیادت کرنے کی اجازت دی ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران ملکی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر حملہ کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس برانچ کے سابق سربراہ تمیر ہیمن نے چینل 12 پر لکھا کہ ’غلطی‘ کے امکان کی وجہ سے ایران کے ساتھ جنگ ​​کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ صورت حال کو مزید خراب نہ کرے: ’اس وقت ایرانیوں کے لیے کوئی بیرونی خطرہ پیش کرنا درست نہیں ہے اور ہمیں اندرونی طور پر حالات کو آگے بڑھنے دینا چاہیے۔‘

  12. امریکہ: عراقچی کے اسرائیل اور واشنگٹن پر مظاہروں کو ہوا دینے کے الزامات ’فریب‘ ہیں

    امریکہ نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ان بیانات کو، جن میں انھوں نے اسرائیل اور واشنگٹن پر مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھا، ’توہم آمیز‘ قرار دیا ہے۔

    امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے لبنان کے دورے کے دوران عراقچی کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ بیانات عوامی رائے عامہ کو ان بڑے چیلنجوں سے ہٹانے کی ایک فریبانہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں جن کا ایرانی حکومت کو مقامی طور پر سامنا ہے۔‘

    عراقچی نے گذشتہ روز بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاجات لبنان کے احتجاج سے مشابہ ہیں، جو ان کے بقول دونوں ہی کرنسی کے نرخوں کے ردِعمل میں ہوئے ہیں۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ان احتجاجوں میں فرق یہ ہے کہ ایران کے معاملے میں ’امریکہ اور اسرائیل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ان ہنگاموں میں ملوث ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ان پُرامن احتجاجات کو تشدد کی طرف دھکیلیں۔‘

  13. ایران کا سلامتی کونسل کو خط، امریکہ پر ملک میں ’بدامنی اور پرتشدد کارروائیوں‘ کو ہوا دینے کا الزام

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں امریکہ پر ایران میں بدامنی اور پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔

    امیر سعید ایروانی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دھمکیوں، لوگوں کو اکسا کر، جان بوجھ کر تشدد کی حوصلہ افزائی اور امن و استحکام میں خلل ڈال کر ایران میں مداخلت کرتا ہے۔

    انھوں نے امریکی رویے اور امریکی کی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی بھی مذمت کی ہے۔

    28 دسمبر کو ایران میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے ایرانی حکومت مظاہرین اور ’فسادیوں‘ کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر زیادہ زور دیتی آئی ہے حالانکہ اس سے قبل ماضی میں ایرانی حکومت ملک گیر مظاہروں میں شامل مظاہرین کے لیے بلا امتیاز ’فسادیوں‘ کا لفظ استعمال کرتی آئی ہے۔

  14. ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر چین کا ردعمل: معنی خیز خاموشی اور محدود میڈیا کوریج

    چین کے سرکاری میڈیا نے ایران میں بڑھتے ہوئے حکومت مخالف مظاہروں کی اب تک بہت محدود پیمانے پر کوریج کی ہے اور ان مظاہروں کی خبریں چائنا ٹیلی ویژن کے مرکزی نیوز پروگرام میں نہیں دکھائی جا رہی ہیں۔

    چین کی جانب سے احتجاجی صورتحال پر سرکاری سطح پر واحد تبصرہ محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیانات سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    چینی حکام اور سرکاری میڈیا نے ایران میں 13 روز سے جاری ملک گیر احتجاج کے حوالے سے انتہائی محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔ چین کا اس معاملے پر نقطہ نظر بیجنگ کی خاموشی، مین سٹریم ٹیلی ویژن پر احتجاج کے متعلق خبروں کی عدم موجودگی اور چینی اور انگریزی زبان کی رپورٹوں کے درمیان فرق سے واضح ہے۔

  15. چہرہ ڈھانپنے کے لیے ٹی شرٹس کے استعمال سے زخموں کی مرہم پٹی کے متعلق مشورے: ایرانی صارفین انسٹاگرام کو احتجاج کے لیے کیسے استعمال کر رہے ہیں؟, سروش پاکزاد، بی بی سی

    ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور اس سے کئی شہروں میں نظامِ زندگی بھی بڑی حد تک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

    ایرانی حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’ملکی حالات‘ کے پیش نظر ’سکیورٹی اداروں‘ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    تاہم انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود ایرانی صارفین مختلف ذرائع سے سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے اپنی بند دکانوں کی تصاویر اور مختصر ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں دکانوں کے شٹر پر ’یہ قیمتیں آپ کے لیے نہیں‘ جیسے نوٹس چسپاں دکھائی دے رہے ہیں۔

    کئی افراد اپنی پوسٹوں کے ساتھ ’خواتین، زندگی، آزادی‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں جو 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران استعمال کیا جاتا تھا۔

    بہت سے افراد احتجاج کے طور پر 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل استعمال ہونے والے ایرانی جھنڈے کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جس میں سورج اور شیر بنا ہوتا ہے۔

    کئی نوجون ایرانی صارفین مشہور احتجاجی دھنوں کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

    کچھ صارفین ایرانی گلوکار مہاستی کے گانے ’میں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا، آپ کا صبر ختم ہو گیا‘ کو شیئر کرتے ہوئے معنی خیز انداز میں سکیورٹی ایجنسیوں کو چیلنج کرتے نظر آرہے ہیں۔

    چونکہ ایرانی حکام کی جانب سے کئی شہروں کو ’سرد موسم‘ کے باعث بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کچھ صارفین بنا احتجاج کا ذکر کیے لوگوں کو معلومات فراہم کر رہے ہیں کہ کیسے ٹی شرٹس، ہوڈیز اور سکارف کو استعمال کرتے ہوئے اپنے چہروں کو ڈھانپا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ سرد موسم کی وجہ سے حکومتی بندشوں کو احتجاج پر قابو پانے کی کوششوں سے منسوب کر رہے ہیں۔

    کئی افراد جن میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں نہ صرف مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں جبکہ لوگوں کو احتجاج کے دوران آنے والی چوٹوں کی مرہم پٹی کے متعلق بھی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ ایران میں سوشل میڈیا پر احتجاجی مواد شیئر کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں جس میں قانونی مقدمات اور طویل حراست سے لے کر گھروں پر چھاپے، بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے اور سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ پر پابندی تک شامل ہے۔

    کچھ صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر احتجاج کے متعلق بات کرنے پر انھیں گمنام کالیں موصول ہوئی ہیں جن کے انھوں نے سکرین شاٹس شیئر کیے ہیں۔

  16. کینیڈا کے وزیرِ اعظم کی ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت: ’ایرانی عوام کی پکار سننے کی ضرورت ہے‘

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایرانی ریاست کی جانب سے ’مظاہرین کو ہلاک کرنے، تشدد کے استعمال، گرفتاریوں اور اپنی ہی عوام کو ڈرانے کے لیے مختلف حربوں‘ کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ان کا ملک ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ’ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں، جن کی پکار سننے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ آزادی اور وقار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی جانب سے جاری ایک مشترکہ اعلامیے میں ایرانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

  17. خیبرپختونخوا کے دو مقامات پر کارروائیوں کے دوران 11 شدت پسند مارے گئے ہیں: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آٹھ جنوری کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    سنیچر کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے ضلع میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران، سکیورٹی فورسز نے خوارج کے مقام پر مؤثر حملہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ خوارج کو ہلاک کیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک اور مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ضلع کرم میں کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں، پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے جبکہ یہ افراد دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں بھی ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان می کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں ’عزم استحکام‘ کے تحت علاقے میں موجودہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

  18. صدر ٹرمپ کا آئل کمپنیوں سے وینزویلا میں 100 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا مطالبہ, نتالی شرمن، بی بی سی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں تیل اور گیس کی صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ وینزویلا میں تیل کی صنعت پر کم از کم 100 ارب ڈالرز خرچ کریں۔

    لیکن جمعے کو وائٹ ہاؤس آنے والے ایک ایگزیکٹو نے متنبہ کیا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت اس وقت ’سرمایہ کاری کے قابل‘ نہیں ہے۔

    اجلاس میں شریک امریکہ میں تیل کی بڑی کمپنیوں کے مالکان نے تسلیم کیا کہ وینزویلا میں توانائی کے وسیع ذخائر ہیں اور یہاں بہت سے مواقع میسر ہیں۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ خطے کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔

    صدر ٹرمپ کی جانب سے بلائے گئے اس اجلاس میں کسی بھی کمپنی کی جانب سے کوئی بڑا وعدہ سامنے نہیں آیا۔

    صدر ٹرمپ نے تین جنوری کو امریکی فورسز کی کارروائی کے بعد صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کی گرفتاری اور امریکہ منتقلی کے بعد کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا سے تیل نکالے گا۔

    صدر ٹرمپ کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ اس سے امریکہ میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔

    امریکی آئل کمپنی ایگزون کے چیف ایگزیکٹو ڈیرن ووڈس نے کہا کہ ’ہمارے وہاں وینزویلا میں اثاثے دو مرتبہ ضبط ہو چکے ہیں۔ لہذا ہم تیسری مرتبہ وہاں سرمایہ کاری کے لیے کچھ ضمانتیں چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ابھی وہاں سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔‘

    وینزویلا میں ایک صدی قبل تیل دریافت ہوا تھا، اس کے بعد سے لے کر آج تک اس کے تیل کمپنیوں کے ساتھ تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔

    شیورون واحد امریکی تیل فرم ہے جو اب بھی ملک میں کام کر رہی ہے۔

    سپین کی ریپسول اور اٹلی کی ای این آئی سمیت دیگر ممالک کی کچھ کمپنیوں کے نمائندے بھی وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک تھے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ کن فرمز کو وینزویلا میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    صدر کا کہنا تھا کہ ’آپ ہمارے ساتھ براہ راست معاملہ کر رہے ہیں۔ آپ وینزویلا کے ساتھ بالکل بھی معاملہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ وینزویلا کے ساتھ معاملہ کریں۔‘

  19. ’رات نو بجے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں‘: بی بی سی نے فردس سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں کیا دیکھا؟, فرزاد سیفقران، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی فارسی کو ایران کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جمعرات کی رات ہونے والے مظاہرے کافی پرتشدد تھے اور سکیورٹی اداروں کی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہروں کی ایک بڑی تعداد زخمی اور ہلاک ہوئی۔

    بی بی سی فارسی کو دو ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فردس شہر کی ہیں۔ دونوں ویڈیوز ایک ہی شخص نے بنائی ہیں۔

    ویڈیو بنانے والے شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آج 8 جنوری (کو) فردس (میں) دیکھیں انھوں نے لوگوں کے ساتھ کیا کِیا۔ رات نو بجے انھوں نے لوگوں پر گولیاں چلائی۔‘

    بی بی سی فارسی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں ویڈیوز اس سے پہلے انٹرنیٹ پر اپلوڈ نہیں کی گئی ہیں اور یہ جمعرات کی رات ایران میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق ہیں تاہم بی بی سی ان ویڈیوز میں دی گئی معلومات کی تاحال تصدیق نہیں کر سکا۔

    ان ویڈیوز میں آٹھ سے دس افراد کو زمین پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کے جسموں سے خون بہہ رہا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد ان افراد کے ساتھ کیا ہوا۔

    ویڈیو بظاہر کسی پارکنگ لاٹ میں بنائی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ افراد وہیں زخمی ہوئے تھے یا انھیں زخمی ہونے کے بعد وہاں لایا گیا تھا۔

    بی بی سی اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جمعرات کی رات فردس میں مظاہروں اور فائرنگ کئی ویڈیوز شائع ہوئی تھیں جن میں سے دو فردس کی شہدا سڑک کی ہیں جس میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نظر آرہی ہے۔

    اس سے قبل بی بی سی فیکٹ چیک کی ٹیم نے جن ویڈیوز کو جائزہ لیا، ان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے مختلف شہروں میں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔

  20. کابل کے قریب گرنے والے امریکی ساختہ ڈرون کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, سید عبداللہ نظامی، بی بی سی

    طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت کابل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرنے والا فوجی ڈرون MQ-9 تھا۔ یہ طیارہ امریکی ساختہ ہے اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی پشتو کو بتایا کہ ایک ڈرون تکنیکی خرابی کی وجہ سے میدان وردک صوبے میں طالبان کے سپیشل فورسز کے ہیڈ کوارٹر اور ٹریننگ سینٹر کے قریب گر کر تباہ ہوا۔

    ان ذرائع کے مطابق طیارہ گرنے کے وقت فضا میں ایک اور ڈرون بھی دیکھا گیا۔

    طالبان حکومت نے باضابطہ طور پر ڈرون حادثے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے ایک تحقیقاتی ٹیم کو علاقے میں بھیج دیا ہے، طیارے کے ملبے کو کابل منتقل کر دیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکی ڈرون ہے۔‘

    طالبان کے ایک اور سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو اس ڈرون طیارے کی مختلف تصاویر بھی دکھائیں اور بتایا کہ یہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرون ہے جو اس سے پہلے افغانستان میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں ڈرون گرنے کے بارے میں بی بی سی کو دیے گئے مختصر ردِعمل میں اس واقعے کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔

    پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہمارے پاس اس پر کہنے کو کچھ نہیں ہے۔‘

    بی بی سی نے گرنے والے ڈرون طیارے کی تصاویر کا بھی جائزہ لیا اور پتہ چلا کہ تصاویر اصلی تھیں، ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی تھی اور یہ MQ-9 طیارے سے کافی مشابہت رکھتی ہیں۔

    ڈرون طیارے کے انٹینا ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اور ان پر ایک ہی طرح کے فوسیلج نصب ہوتے ہیں۔ سامنے کی طرف ایک ڈش کی شکل کا اینٹینا نظر آتا ہے جو مواصلاتی رابطوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    MQ-9 کس قسم کا ڈرون ہے؟

    امریکی فضائیہ کی سرکاری معلومات کے مطابق یہ ڈرون طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہدف کو پہچان کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پہلے مرحلے میں اسے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے متحرک اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    طویل مدت تک فضا میں موجود رہنے، وسیع سینسرز، متعدد قسم کے مواصلاتی آلات اور درستگی سے نشانہ بنانے والے ہتھیار اسے اہداف کو ٹھیک طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔

    یہ ڈرون امریکہ کے ساتھ ساتھ نیٹو کے کچھ رُکن ممالک برطانیہ، فرانس، سپین اور اٹلی بھی استعمال کرتے ہیں۔ سنہ 2024 میں انڈیا نے امریکہ سے ان طیاروں کی خریداری کے لیے چار ارب ڈالرز کے معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔

    سنہ 2011 میں ایک MQ-9 طیارے کے مکمل پیکج کا تخمینہ لگ بھگ 56 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، جس میں چار ڈرونز بشمول سینسر، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن اور پریڈیٹر کا مرکزی سیٹلائٹ لنک شامل تھا۔