مائیکروسافٹ کے مشہور وال پیپر ’بلس‘ کے پیچھے محبت کی کہانی

2000 کی دہائی کے آغاز میں دنیا بھر کی لاکھوں کمپیوٹر سکرینیں ایک ہی منظر سے روشن ہوتی تھیں ’سر سبز پہاڑی ڈھلوان، نیلا آسمان اور اس پر چھائے سفید بادلوں کی نرم اور میٹھا احساس دلانے والی ٹھنڈی سی تہہ۔‘

یہ پرسکون منظر دفاتر کی بلند و بالا عمارتوں سے لے کر گھروں تک ہر جگہ دکھائی دیتا تھا، بالکل اس وقت جب ٹیکنالوجی تیزی سے عام زندگی میں داخل ہو رہی تھی۔

مائیکروسافٹ کو ’ونڈوز ایکس پی‘ کے لیے ایسی تصویر درکار تھی جو اُمید، سکون اور جدیدیت کا پیغام دے۔ یہ سادہ سی تصویر گویا یہ ظاہر کرتی تھی کہ ٹیکنالوجی کا مستقبل خوشگوار اور دوستانہ ہو سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ تصویر جسے ابتدا میں بکولک گرین ہلز کہا گیا اور بعد میں بلس کے نام سے شہرت ملی، دنیا کا سب سے مشہور وال پیپر بن گیا۔

لیکن اس تصویر کے خالق فوٹوگرافر چک او ریئر کے لیے یہ محض ایک مختصر لمحہ تھا، ایک اتفاقی منظر جو سڑک کے کنارے دکھائی دیا۔ یہی لمحہ بعد میں نہ صرف ڈیجیٹل دور کی ایک علامتی تصویر بن گیا بلکہ فوٹوگرافر کی ذاتی زندگی کو بھی اس سبز پہاڑی سے ہمیشہ کے لیے جوڑ دیا۔

امریکہ سے بی بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے فوٹوگرافر چک او ریئر نے اس مشہور تصویر کے بارے میں بتایا اُن کا کہنا تھا کہ ’میں سڑک کے کنارے رکا، کیمرہ نکالا، چند تصاویر لیں، دوبارہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔‘

یہی مختصر سا لمحہ بعد میں دنیا کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی کمپیوٹر سکرین کا منظر بن گیا۔

وال پیپر کے پیچھے چھپی محبت کی کہانی

سنہ 1996 میں جب فوٹوگرافر چک او ریئر نے یہ تصویر لی، وہ سان فرانسسکو کے شمالی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ ہر جمعے کو وہ تقریباً 80 کلومیٹر کا سفر کر کے وادی ناپا جاتے، جہاں وہ سابقہ صحافی ڈافنی لارکن سے ملاقات کرتے جن کے ساتھ وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے تھے۔

چک او ریئر اس وقت تک 25 سال نیشنل جیوگرافک کے لیے کام کر چکے تھے اور ان کی تصاویر دو بار اس مشہور جریدے کے سرورق پر بھی شائع ہوئیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انھوں نے کئی مہمات کیں، جن میں ایک الٹرا لائٹ جہاز اڑانا اور ایک موقع پر ’آدم خوروں کے ہاتھوں کھائے جانے کے قریب‘ ہونا بھی شامل تھا۔

تاہم ان کی زندگی کو سب سے زیادہ بدلنے والی تصویر وہی تھی جو بعد میں ونڈوز ایکس پی کے مشہور وال پیپر ’بلس‘ کے نام سے دنیا بھر میں پہچانی گئی۔

چک او ریئر یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ میں کیا سوچ رہا تھا اور میں وہاں کیا کر رہا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ میں ڈافنی سے ملنے جا رہا تھا۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو یہ تصویر کبھی لی ہی نہ جاتی۔‘

یوں ’بلس‘ کی غیر متوقع کامیابی کے پیچھے ایک محبت کی کہانی بھی چھپی ہے، جو اس تصویر کو مزید یادگار بنا دیتی ہے۔

بدقسمتی میں چھپی خوش نصیبی

ڈافنی اور چک او ریئر کی ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں یہ یقین کھو بیٹھے تھے کہ وہ دوبارہ کبھی محبت میں مبتلا ہوں گے۔

ان کے راستے پہلی بار سنہ 1994 میں ملے جب وہ وادیِ ناپا میں ایک مشترکہ دوستوں کے اہتمام کردہ دوپہر کے کھانے پر ملے۔ ڈافنی یاد کرتی ہیں کہ ’دوستوں نے سوچا کہ چونکہ ہم دونوں صحافی ہیں، ہمیں ملنا چاہیے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ میرے لیے یہ پہلی نظر کی محبت تھی۔‘

اس وقت چک اپنے کام کے سلسلے میں سال کے تقریباً 11 ماہ سفر میں گزارتے تھے۔ دوسری جانب ڈافنی نے صحافت سے کارپوریٹ دنیا کا رخ کر لیا تھا۔ اقوامِ متحدہ میں ایک دہائی تک صحافی رہنے کے بعد وہ ویلز فارگو بینک میں سینئر نائب صدر برائے کارپوریٹ کمیونیکیشنز کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

دونوں پہلے ہی طلاقوں کا سامنا کر چکے تھے اور انھوں نے معذور بچوں کی پرورش کی کٹھن حقیقت کا تجربہ کیا تھا۔ یہی مشترکہ پس منظر اُن کے درمیان ایک تعلق اور رشتے کی وجہ بن گیا، جس نے انھیں زندگی کو زیادہ ہمدردی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنا سکھایا۔

چک او ریئر کے بیٹے جو اب 65 برس کے ہیں، پیدائش سے ہی چلنے میں مُشکلات کا سامنا کرتے تھے اور انھیں ہر وقت ہی دیکھ بھال کے لیے کسی نہ کسی کی ضرورت ہوتی تھی۔ دوسری جانب ڈافنی کا بیٹا لوسیئن صرف 10 برس کی عمر میں وفات پا گیا جب ایک ناکام اوپن ہارٹ سرجری کے بعد اس کی صحت مسلسل بگڑتی رہی۔

ڈافنی یاد کرتی ہیں کہ ’لوسیئن نے چار برس کی عمر میں دل کی اوپن سرجری کروائی جو ناکام رہی۔ اس کے پھیپھڑے متاثر ہوئے اور اپنی زندگی کے آخری چھ برس اس نے آکسیجن اور ٹریکیوٹومی کے ساتھ گزارے۔‘

اس مشکل دور میں ڈافنی نے اپنی بیٹی زوئی کی پرورش کی ذمہ داری بڑی حد تک خود سنبھالی، کیونکہ اس وقت ان کے شوہر انھیں چھوڑ کر جا چُکے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی بھی جاری رکھتی رہیں۔

ڈافنی نے اس کٹھن تجربے کو ایک مثبت سمت دی اور معذور بچوں کے والدین کے موضوع پر آواز بلند کرنے والی اولین شخصیات میں شامل ہوئیں۔ انھوں نے اس موضوع پر ’پیرنٹنگ‘ میگزین کے لیے کالم لکھے۔ یہ وہ دور تھا جب اس مسئلے پر بہت کم لکھا جاتا تھا اور بات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔

جب ڈافنی کو بالکل امید نہ تھی اس وقت چک او ریئر ان کی زندگی میں آئے۔ دونوں نے اپنی مشترکہ سمجھ اور تجربات کے باعث ایک ایسا رشتہ قائم کیا جو محض دوستی یا رومانس سے بڑھ کر تھا اور ان کی زندگی کی بنیاد بن گیا۔

ڈافنی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جیسا کہ کسی نے کہا تھا، ہم بدقسمت خوش نصیب تھے۔‘

ڈافنی چار برس سے طلاق یافتہ تھیں جبکہ چک ابھی ابھی اس سب سے گُزرے تھے اور کسی سنجیدہ تعلق کے لیے تیار نہ تھے۔ ڈافنی نے بھی اُن سے جلد بازی میں کوئی بات نہیں کی اور اُنھیں اس سے باہر نکلنے کا موقع دیا اور صبر کیا۔ وہ ایک سال تک دوست رہے اور جب چک نیشنل جیوگرافک کے کام سے فارغ ہوتے تو ڈافنی کو کھانے پر مدعو کرتے۔

سال کے اختتام پر چک نے کہا ’مجھے ایک سال کے لیے دنیا بھر میں انگور کی فصل کی تصویریں لینے کا کام ملا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ آنا چاہو گی؟‘

ڈافنی نے وعدہ کیا کہ وہ پیرس میں ان سے ملیں گی اور یہی ان کی محبت کی شروعات تھی۔ اس کے بعد دونوں نے کئی ماہ دنیا بھر کا سفر کیا، شراب کے مزے لیے اور دونوں کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔

وہ تصویر جس نے محبت اور ایک نسل کو شکل دی

امریکہ واپسی کے بعد، چک او ریئر ہر ہفتے باقاعدگی سے اپنی ساتھی ڈافنی سے ملنے جاتے۔ وہ سینٹ ہیلینا میں اپنے گھر سے نکل کر تقریباً ایک گھنٹہ اور پندرہ منٹ کا سفر طے کر کے کاؤنٹی مارِن پہنچتے اور یہ معمول ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

انہی روزمرہ کے سفر کے دوران جب ان کا رشتہ آہستہ آہستہ مضبوط ہو رہا تھا چک نے وہ مشہور تصویر لی جو بعد میں دنیا بھر میں ’بلس‘ کے نام سے جانی گئی۔

یہ تصویر نہ صرف ان کی ذاتی محبت کی کہانی کا حصہ بنی بلکہ ایک پوری ڈیجیٹل نسل کی علامت بھی ثابت ہوئی۔

ڈافنی یاد کرتی ہیں کہ ’ہم نے تیسری بار جلدی شادی کرنے میں بہت احتیاط برتی اور میرا خیال ہے کہ اگر چھ سال کا طویل رشتہ نہ ہوتا تو ’بلس‘ کبھی لی ہی نہ جاتی۔‘

چک او ریئر کے لیے راستے میں رک کر مناظر کی تصویریں لینا ایک عام بات تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ڈافنی کو اس مشہور تصویر کے بارے میں علم ہی نہیں تھا، یہاں تک کہ پانچ سال بعد سنہ 2001 میں جب ان کی شادی سے ایک دن پہلے چک کے ایجنٹ نے فون کر کے بتایا کہ مائیکروسافٹ نے یہ تصویر خرید لی ہے۔

خریداری کی رقم چھ ہندسوں پر مشتمل تھی لیکن اس کی درست تفصیل آج تک ظاہر نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس پر رازداری کا معاہدہ موجود ہے۔

چک اور ڈافنی نے اپنی مشترکہ دلچسپی کو تخلیقی منصوبوں میں ڈھالا۔ دونوں نے مل کر امریکہ کی مختلف شراب پیدا کرنے والی وادیوں پر کئی کتابیں شائع کیں۔ یہ ایک ایسی شراکت تھی جس میں چک کی فوٹوگرافی کی نظر اور ڈافنی کی تحریری صلاحیت یکجا ہو کر شراب کی ثقافت پر ان کا منفرد نقش چھوڑ گئی۔

تاہم، دونوں مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ’بلس‘ ان کی شادی کی ذمہ دار تھی۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ یہ تصویر کس طرح غیر متوقع طور پر ان کے بعد کے سفر میں بھی ان کے ساتھ رہی۔

چک او ریئر کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ تصویر بے شمار جگہوں پر دیکھی۔ یونان کے فیریوں میں، انڈیا کے کسی مقام پر۔‘

ڈافنی اضافہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اور دنیا بھر کے ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں میں بھی۔‘

آج کل چک او ریئر اور ڈافنی امریکی ریاست کارولائنا کے بلیو رج پہاڑوں میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ قدرتی مناظر سے گھِری ایک محفوظ علاقے شیرووڈ فاریسٹ میں جھیل کے کنارے پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

دہائیوں پر محیط سفر اور منصوبوں کے بعد اب چک صرف اپنے موبائل فون سے تصویریں لیتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ڈافنی یادداشت نویسی سکھاتی ہیں اور ایک مقامی اخبار میں کالم لکھتی ہیں جہاں کبھی کبھار اپنی اور چک کی زندگی کی کہانیاں بھی بیان کرتی ہیں۔

ڈافنی نے اپنی محبت اور زندگی پر ایک طویل تحریر بھی لکھی ہے اور ان کا خواب ہے کہ اسے ایک فلمی سکرپٹ میں ڈھالا جائے۔

چک اور ڈافنی کی زندگی آج کل پرسکون انداز میں گزر رہی ہے۔ ان کے دن طویل چہل قدمیوں سے شروع ہوتے ہیں اور گرمیوں میں وہ دوپہر کے وقت اپنے گھر کے قریب جھیل میں تیراکی کرتے ہیں۔ ایک قریبی اور دوستانہ کمیونٹی کے درمیان، وہ محسوس کرتے ہیں کہ تمام نشیب و فراز کے بعد بالآخر انھوں نے ایک ساتھ مکمل زندگی گزارنے کا راستہ پا لیا ہے۔

تاہم، ’بلس‘ اب بھی ان کی یادوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ڈافنی کہتی ہیں کہ ’جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو یہ آپ کی اپنی کہانی بن جاتی ہے، کیونکہ آپ سوچتے ہیں کہ اس وقت آپ کیا کر رہے تھے۔۔۔ ’مجھے یاد ہے، میں یونیورسٹی میں تھا، فلاں کمپنی میں کام کر رہا تھا، یا طلاق کے مرحلے سے گزر رہا تھا‘۔۔۔ یہ سب کی کہانی ہے، صرف ہماری نہیں اور یہی مجھے حیرت انگیز لگتا ہے۔‘