آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’بولنے کی اجازت تھی نہ کوئی راستہ تھا‘: خاتون کو اجنبیوں کے ساتھ سیکس پر مجبور کرنے والے شخص کو 16 برس قید کی سزا
- مصنف, کلیئر وارڈن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانیہ میں ایک خاتون کو گذشتہ تین دہائیوں میں 100 سے زیاد اجنبی افراد کے ساتھ سیکس کرنے پر مجبور کرنے کے الزامات پر ایک شخص کو کم از کم 16 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ روڈنی جونسٹن نے خاتون کو دھمکایا تھا اور ان سے نواحی علاقے میں متعدد مقامات، کاروں اور ہوٹلوں میں مردوں کے ساتھ جنسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
سڑسٹھ سالہ روڈنی کا تعلق نورفک کاؤنٹی کے علاقے سٹارسٹن سے ہے اور ان پر عدالت میں گذشتہ برس ستمبر میں الزامات ثابت ہوئے تھے۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ روڈنی نے خاتون کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔
ناروچ کراؤن کورٹ میں روڈنی کو قید کی سزا سناتے وقت جج ایلس روبنسن کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کا بیان ’پریشان کُن‘ تھا اور اس سے ان کی ’زندگی پر پڑنے والے شدید اثرات‘ کا اندازہ ہوتا ہے۔
پولیس کو روڈنی کے قبضے سے 30 ہزار تصاویر اور ویڈیوز بھی ملی تھیں، جن میں خاتون کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے شواہد موجود تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون کو مجبور کرنے کے لیے زبانی اور جسمانی طور پر دھمکایا گیا تھا۔
’دہائیوں میں پہلی مرتبہ خود کو آزاد محسوس کر رہی ہوں‘
جج کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کو ہفتے میں متعدد مرتبہ ’باہر جانے پر‘ مجبور کیا گیا۔
’باہر جانے کے الفاظ دراصل اجنبیوں سے ریپ کروائے جانے کے متبادل بن گئے تھے۔ اسے ریپ کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جج روبنسن نے مزید کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ روڈنی زندگی بھر کے لیے متاثرہ خاتون کے لیے ایک خطرہ بن گئے ہیں۔
پولیس کو دیے گئے بیان میں متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں محسوس ہوا کہ وہ ’استعمال‘ کی گئی ہیں اور وہ اس استحصال کے سبب ’خوفزدہ‘ ہیں۔
’مجھے نہ بولنے کی اجازت تھی اور نہ میرے پاس کوئی راستہ تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’میں مستقبل کے حوالے سے پریشان ہوں لیکن کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ خود کو آزاد بھی محسوس کر رہی ہوں۔‘
روڈنی کو 1994 سے 2024 کے درمیان متعدد الزامات ثابت ہونے پر قصوروار پایا گیا تھا۔
تقریباً سات ہفتے جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران 67 سالہ شخص نے تمام الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ تمام سرگرمیاں متاثرہ خاتون کی مرضی سے ہوئی تھیں۔
تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ ثبوت متاثرہ خاتون کے بتائے گئے واقعات کو سچ ثابت کرتے ہیں اور یہ کہ انھوں نے کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ انھیں مجبور کیا گیا تھا۔
روڈنی نے بالغ افراد کے لیے بنائے گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں سے روابط قائم کیے اور لاتعداد پیغامات بھیج کر وقت اور مقامات کی تشہیر کی جہاں مرد اس خاتون کے ساتھ سیکس کر سکتے تھے۔
نورفک پولیس کے مطابق روڈنی نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک ’خیالوں کی دنیا میں رہ رہے تھے‘ اور یہ ’مذاق‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق انھیں ہزاروں تصاویر اور پیغامات، جن میں متاثرہ خاتون کی طرف سے ایک دوست کو بھیجے گئے بھی شامل ہیں، خاتون کے بیان کردہ واقعات کو ثابت کرتے ہیں۔
اپنے بیان میں متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ روڈنی انھیں ایک ہفتے میں پانچ راتوں کو ’باہر‘ ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لے کر جاتے تھے، حالانکہ متاثرہ خاتون نے متعدد مرتبہ ایسا کرنے سے انکار بھی کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں روڈنی نے نہ صرف دھمکایا بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سزا بھی دی۔
تفتیش کار متاثرہ خاتون کے شکر گزار
پولیس کا کہنا ہے کہ روڈنی نے متاثرہ خاتون کو اس وقت مزید پریشان کیا جب انھوں نے جولائی 2024 میں اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔
سینیئر انویسٹیگیٹنگ آفیسر ڈنکن وڈہمز کے مطابق روڈنی کو دی گئی سزا ’سخت محنت کا نتیجہ ہے جو کہ بہت سارے ثبوتوں کی موجودگی کے سبب کرنا پڑی اور متاثرہ خاتون نے بھی بہت ہمت دکھائی اور سب بتایا جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا تھا۔‘
’بھروسہ کرنے پر ہم ان (متاثرہ خاتون) کے شکر گزار ہیں، جس سے ہمیں روڈنی کی طویل، پریشان کن اور افوسناک سرگرمیوں کو ثابت کرنے کا موقع ملا۔‘