آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کچھ لوگوں کو سفر کے دوران متلی اور قے کیوں آتی ہے اور اس کا حل کیا ہے؟
- مصنف, افتخار علی
- عہدہ, بی بی سی
کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ گاڑی، بس یا ٹرین میں بیٹھے ہوں اور سفر شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد متلی سی محسوس ہونے لگے حتیٰ کہ قے (الٹی) بھی آ جائے؟
اکثر لوگوں کے ساتھ ناہموار راستوں اور اونچے نیچے پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران ایسا زیادہ ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کو ہوائی جہاز اور پانی کے سفر کے دوران بھی ایسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور اسے موشن سکنس (حرکت کی وجہ سے ہونے والی بیماری) کہتے ہیں۔
آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ہوتا کیوں ہے اور آیا اس سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کی جا سکتی ہے۔
موشن سکنس کیا ہے؟
موشن سکنس سے مراد کار، بس، ٹرین، بحری یا ہوائی سفر کے دوران کسی کو متلی، الٹی، بے چینی یا سر درد کی شکایت ہونا ہے۔ اکثر لوگوں کو پہاڑی علاقوں یا ناہموار راستوں پر سفر کے دوران اس کی زیادہ شکایت ہوتی ہے۔
دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال سے منسلک سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ جب ہم سفر کرتے ہیں تو ہمارے دماغ کو دراصل آنکھوں اور کانوں سے مختلف سگنل وصول ہو رہے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر محسن ولی کے مطابق جب آپ گاڑی یا بس میں سفر کے دوران نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں یا کوئی کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کی آنکھیں دماغ کو سگنل بھیجتی ہیں کہ آپ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔
’لیکن آپ کے کانوں میں موجود توازن کا نظام دماغ کو بتاتا ہے کہ آپ کا جسم حرکت کر رہا ہے۔ یہ سگنلز جسم کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ شاید کوئی زہریلا مواد آپ کے جسم میں داخل ہو گیا ہے اور آپ کے جسم کو معلوم ہے کہ اس سے کیسے نمٹنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے بچنے کا ایک طریقہ کھڑکی سے باہر دور دیکھتے رہنا ہے۔ اس سے آپ کی آنکھوں اور کانوں سے دماغ کو پہنچنے والے سگنلز کو تال میل میں لانے میں مدد ملتی ہے جس سے موشن سکنس میں کمی آتی ہے۔
بی بی سی کی 2015 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص موشن سکنس سے متاثر ہو سکتا ہے۔
نامہ نگار کاٹیا موسکووچ نے اپنی رپورٹ میں پایا کہ یہ بتانا ممکن نہیں کہ کب اور کون اس سے متاثر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس بیماری کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے نیورولوجی ڈپارٹمنٹ کی ڈاکٹر منجری ترپاٹھی بتاتی ہیں ’موشن سکنس اس لیے ہوتی ہے کہ ہمارے جسم کے توازن کا نظام ٹھیک طرح سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا۔ یہ نظام بنیادی طور پر کان کے اندر موجود بیلنس آرگن (ویسٹیبلر سسٹم) سے جڑا ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ جب ہم بس، کار، ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں تو ہمارے دماغ کو آنکھوں، کانوں اور جسم کے دیگر حصوں سے مختلف قسم کی معلومات حاصل ہو رہی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے جسم کو توازن برقرار رکھنے میں مدد دینے والے ریسیپٹرز زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، دماغ کے بعض حصے، جیسے برین سٹیم اور ہائپوتھیلمس، محرک ہو جاتے ہیں جس سے چکر اور متلی کی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔
اگر آسان لفظوں میں کہا جائے تو موشن سکنس کان کے اندر توازن کے نظام اور جسم کی حرکت کو محسوس کرنے والے رسیپٹرز میں خلل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ترپاٹھی کہتی ہیں ’ہمارے جسم میں مخصوص سینسرز ہوتے ہیں جنہیں ریسیپٹرز کہتے ہیں۔ یہ بیرونی اور اندرونی تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں اور اس کے متعلق دماغ کو آگاہ کرتے ہیں۔‘
ہمیں سفر کے دوران الٹی کیوں آتی ہے؟
سفر کے دوران متلی کا مسئلہ ہر کسی کو ایک طرح سے متاثر نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کو سفر شروع ہوتے ہی بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے جب کہ کچھ لوگوں کو لمبے سفر کے بعد ایسی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔
کچی سڑکیں، پہاڑی راستے، گاڑی میں مسلسل جھٹکے لگنا اور گاڑی کے اندر بدبو بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہے۔
ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں ایک سیال ہوتا ہے اور سفر کے دوران جب یہ سیال حرکت میں آتا ہے تو اس کی ارتعاش (وائبریشن) گردن تک پہنچ جاتی ہے۔ گردن کی حرکت کے ساتھ ساتھ یہ وائبریشن سر تک پہنچ جاتی ہے۔
ان کے مطابق یہ عمل دماغ کے توازن میں خلل ڈالتا ہے جس کی وجہ سے متلی، چکر آنا اور بے سکونی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ حالت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو اس سے قے بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر محسن کہتے ہیں کہ ان تمام علامات کے مجموعے کو موشن سکنس کہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سفر کے دوران معدے کی حالت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مثال کے طور پر جو لوگ خالی پیٹ سفر کرتے ہیں ان کے معدے میں موجود ویگس اعصاب زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ یہ دل اور گردن کے اعصاب سے جڑا ہوا ہوتا ہے جو دماغ اور جسم متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چکر آنے کا احساس ہوتا ہے۔
جو لوگ بھاری کھانا کھا کر سفر کرتے ہیں انھیں قے آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ڈاکٹرز سفر سے پہلے ہلکا کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
محسن ولی بتاتے ہیں کہ موشن سکنس صرف سفر کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ کسی دماغی بیماری کی علامت یا دوائیوں کے اثر کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں، یہ دماغ کے ٹیومر کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
اس لیے سفر کے دوران بار بار الٹیاں آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔
کیا موشن سکنس خواتین میں زیادہ عام ہے؟
ڈاکٹر ترپاٹھی کے مطابق مردوں کے مقابلے میں خواتین میں موشن سکنیس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کئی جسمانی اور ہارمونل وجوہات پائی جاتی ہیں۔
ماہرین کے خیال میں خواتین کا طرز زندگی مردوں سے مختلف ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر محسن ولی بتاتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر ہے۔ مردوں کو عام طور پر خواتین کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ بلڈ پریشر ہوتا ہے۔
کم بلڈ پریشر کی صورت میں موشن سکنس کی علامات جلد ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
ایک اور وجہ پوسٹچرل ہائپوٹینشن ہے۔ پوسٹچرل ہائپوٹینشن میں اچانک کھڑے ہونے کی صورت میں بلڈ پریشر میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سی خواتین گھر کے کام کے دوران خاص طور پر کچن میں دیر تک کھڑی رہتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں یہ مسئلہ پیش آسکتا ہے اور اس سے چکر آنا، متلی اور موشن سکنس جیسی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محسن ولی کہتے ہیں کہ خواتین کے جسم میں باقاعدگی سے رونما ہونے والی ہارمونل تبدیلیاں بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ماہواری کے دوران جسم میں نمک، پانی اور الیکٹرولائٹس کا توازن مسلسل بدلتا رہتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماہواری میں بہت زیادہ خون بہنے سے بلڈ پریشر گر سکتا ہے، جس سے موشن سکنس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر ولی کہتے ہیں کہ خواتین کے دماغ کا حجم اوسطاً مردوں کے مقابلے میں تقریباً 150 ملی لیٹر چھوٹا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں اس کی وجہ سے خواتین کے دماغ پر بیرونی اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محسن ولی کے مطابق کم بلڈ پریشر، پوسٹچرل ہائپوٹینشن، ہارمونل تبدیلیاں، اور جسمانی ساخت یہ سب خواتین میں موشن سکنس زیادہ ہونے کا سبب ہیں۔
سفر کے دوران قے نہ آنے کے لیے کیا کریں؟
اگر آپ چاہتے ہیں کہ سفر کے دوران آپ کو قے نہ آئے تو آپ کو مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:
- سفر سے قبل ہلکا کھانا
ڈاکٹر ولی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ سفر کے دوران قے سے بچنا چاہتے ہیں تو سفر سے پہلے بہت زیادہ نہ کھائیں۔
تاہم وہ خالی پیٹ سفر سے گریز کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سفر پر نکلنے سے قبل ہلکا کھانا یا ناشتہ ضرور کریں۔
اگر ضرورت محسوس ہو تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق قے نہ آنے کے لیے دوائیں بھی لی جا سکتی ہیں۔
- چلتی گاڑی میں نہ سوئیں
نیند کے دوران آپ کا توازن بگڑ جاتا ہے اور قے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے کوشش کریں کہ سفر کےد وران نہ سوئیں۔
- متلی محسوس ہونے کی صورت میں فوراً رک جائیں
اگر آپ کو متلی محسوس ہو تو فوراً گاڑی کو سائیڈ پر روکیں، ہو سکے تو اسے تھوڑا ریورس میں چلائیں اور پھر سفر دوبارہ شروع کریں۔
- کتاب یا موبائل فون سے پرہیز کریں
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق چلتی گاڑی میں پڑھنے سے موشن سکنس میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لیے چلتی گاڑی میں پڑھنے یا موبائل فون استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔
- جسم کی پوزیشن مستحکم رکھیں
سفر کے دوران سر، کندھوں، کمر اور گھٹنوں کی حرکات جتنی ہو سکے کم کریں۔ اگر ممکن ہو تو سامنے والی نشست یا سامنے کے رخ والی نشست کا انتخاب کریں۔ اگر ممکن ہو تو گاڑی خود چلائیں۔
- نیکوٹین سے پرہیز
تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو دوران سفر قے ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
- خوشگوار موسیقی سنیں
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہلکی پھلکی، خوشگوار موسیقی سننے سے متلی کم ہوتی ہے اور سفر آرام دہ ہوتا ہے۔