آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش، ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہے
- مصنف, ڈینیئل بش
- عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی واشنگٹن
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ایران پر حملہ اور رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بہت بڑا داؤ کھیلا ہے کہ وہ امریکی فوجی طاقت کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دے پائیں گے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس میں امریکہ کے سابق صدور ناکام رہے ہیں۔
اگر امریکہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کی جوہری طاقت کو مکمل تباہ کر دیتا ہے اور تہران میں حکومت تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیں گے۔ چاہے واشنگٹن کے پاس اس کے بعد کا کوئی لائحہ عمل نہ بھی ہو۔
پینٹاگون نے اسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔ اگر یہ فوجی حملہ ناکام ہوتا ہے یا خطے میں بڑے پیمانے پر ایسی آگ بھڑکا دیتا ہے جس میں رہنا طویل عرصے تک شامل رہنا امریکہ کی مجبوری بن جائے تو اس سے نہ صرف ٹرمپ کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر ریپبلکنز کے کنٹرول کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
سنیچر کی صبح ایران میں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ اس معاملے پر کتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا: ’امریکی ہیروز کی جانیں جا سکتی ہیں۔‘ ان کی دلیل تھی کہ ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔ وہ حکومت، ٹرمپ کے مطابق، جس نے سنہ 1979 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں انتشار پھیلا رکھا ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’47 سال سے ایرانی حکومت امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا رہی ہے۔ ہم یہ مزید برداشت نہیں کریں گے۔‘
دنیا یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ اپنے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت پر ایرانی حکومت کا رد عمل کیا ہو گا۔ لیکن ابھی یہ دیکھنا بھی باقی ہے کہ ٹرمپ ایک طویل المدتی عسکری مہم سے بچ پاتے ہیں یا نہیں۔
امریکہ کے جو شہری اپنے ملک کی بیرون ملک مداخلت کے خلاف ہیں، خاص طور پر وہ جو ٹرمپ کے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے والے نظریے کے حامی ہیں، کیا ڈونلڈ ٹرمپ انھیں مشرق وسطیٰ میں ایک اور مداخلت پر قائل کر پائیں گے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ عمل ٹرمپ کے اپنے ملک میں ان کے حامیوں کو بد ظن کر سکتا ہے، ایسے وقت میں جب مہنگائی اور دیگر اندرونی مسائل کی وجہ سے ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سینیئر اہلکاروں نے ایران میں بڑے فوجی آپریشن پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ یہ بات ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق سینئر اہلکار نے بتائی۔
یہ سینیئر اہلکار اب بھی ٹرمپ کی ٹیم کے قریب ہیں اور اہم پالیسی معاملات کا علم رکھتے ہیں۔
جب ٹرمپ نے سر عام ایران پر حملے کی دھمکی دی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی بڑھانے کا حکم دیا تو یہ اختلافات نجی طور پر سامنے آئے تھے۔
حملے کا فیصلہ کرنے اور کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کے بعد سنیچر کے روز ٹرمپ نے اپنے مشن پر اعتماد کا ظاہر کیا۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے ایسے مبہم اشارے بھی دیے جن سے امریکی جنگی مقاصد کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
انھوں نے ایکزیوس کو بتایا: ’میں طویل جنگ بھی لڑ سکتا ہوں اور پورے ملک پر قبضہ بھی کر سکتا ہوں یا اسے دو سے تین دن میں ختم کر کے مزید حملوں کی دھمکی برقرار رکھ سکتا ہوں۔‘
بعد میں انھوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’درست اہداف پر بھاری بمباری بلا تعطل جاری رہے گی، پورا ہفتہ، یا جتنی دیر بھی ضروری ہوا۔‘
ان بیانات نے ناقدین کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کوئی سمت نہیں اور وہ بڑے فوجی حملوں سے پہلے کانگریس اور عوام کو اعتماد میں لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
تاہم ان کے حامیوں کے مطابق یہی غیر روایتی انداز ان کے لیے غزہ میں جنگ بند کروانے اور نیٹو کے لیے یورپ کے مالی تعاون بڑھانے جیسی کامیابیاں دلانے میں مدد گار رہا ہے۔
ٹرمپ نے پہلے سے امریکی عوام کو یہ سمجھانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنا ان کے مفاد میں کیوں ہے۔ صدر چاہتے تو گذشتہ ہفتے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دلائل پیش کر سکتے تھے، مگر انھوں نے ایسا نہ کیا۔
صدر نے کانگریس کی منظوری لیے بغیر ہی فوجی مہم کا آغاز کر دیا۔ تاہم سنیچر کے روز زیادہ تر ریپبلکن رہنماؤں نے اس کارروائی کی حمایت کی۔
سپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا: ’ایران اپنے برے اقدامات کے سنگین نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔ ایرانی حکومت کے جوہری عزائم، دہشت گردی اور اپنے عوام کے ساتھ ساتھ امریکیوں کے قتل کا راستہ روکنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر امن اور سفارتی کوششیں کرتی رہی۔‘
لیکن کانگریس کے ساتھ عدم مشاورت نے ڈیموکریٹس اور خود ٹرمپ کی پارٹی کے اُن ارکان کو بھی ناراض کر دیا، جو امریکی حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
سابق نائب صدر اور سنہ 2024 کی ڈیموکریٹک امیدوار کمالا ہیرس نے ایک بیان میں کہا: ’ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ ٹرمپ کی اپنی پسند کی جنگ کے لیے ہماری فوج کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔‘
سینٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا کہ انتظامیہ نے کانگریس اور عوام کو ’خطرے کی حدود اور نوعیت کے بارے میں اہم تفصیلات‘ فراہم نہیں کیں۔ انھوں نے کہا: ’صدر ٹرمپ کا بے ربط غصہ اور وسیع تر تنازع کا خطرہ مول لینا کوئی قابل عمل حکمت عملی نہیں ہے۔‘
ڈیموکریٹس کے اس سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ایک سیاسی لڑائی بھی لڑنی پڑ سکتی ہے، خاص طور پر جب نومبر کے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل پرائمری الیکشن شروع ہونے والے ہیں۔
دو باخبر ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹس اتوار کی شام ایک اجلاس طلب کر رہے ہیں تاکہ فوجی مہم پر اپنا رد عمل طے کر سکیں۔
ہاؤس کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ ڈیموکریٹس آئندہ ہفتے ایران میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹ کروانے کی کوشش دوبارہ شروع کریں گے۔
ایک سینئر ڈیموکریٹک معاون نے کہا: ’کسی دوسرے ملک کے لیڈر کو گرفتار کرنا تو آسان ہے، جیسے وینیزویلا میں کیا گیا، لیکن اس کے بعد کے دنوں میں آپ کیا کریں گے؟ انتظامیہ نے نہ کوئی حکمت عملی بیان کی ہے، نہ کوئی ہدف بتایا ہے۔‘
ادھر ٹرمپ نے سنیچر کی صبح ایران کے بارے میں این بی سی کو بتایا کہ ’آخر کار وہ مجھے کال کریں گے اور پوچھیں گے کہ میں کسے (لیڈر) دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں صرف تھوڑا سا طنز کر رہا ہوں۔‘
نومبر کے وسط مدتی انتخابات یہ طے کرنے کے لیے اہم ہیں کہ ٹرمپ اپنی باقی مدت صدارت میں کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ماضی کے صدور نے دیکھا، مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی عسکری کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ ان کے لیے کہیں گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔