بریکنگ, تہران کے شمال اور مشرق میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا میں تہران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ایران کی سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے شمال اور مشرق میں کئی نئے دھماکے سنے گئے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور متعدد میزائل دانشگاہ سٹریٹ اور جمہوری کے علاقوں میں گرے۔
ایرانی میڈیا میں تہران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ایران کی سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے شمال اور مشرق میں کئی نئے دھماکے سنے گئے۔
بی بی سی کو تہران سے تصویریں موصول ہوئی ہیں جن میں جمہوری سکوائر اور حسن آباد سکوائر پر دھوئیں کے بادل بلند دیکھے جا سکتے ہیں۔
اِسرائیل نے ایران کے خلاف ایک ایسا حملہ شروع کیا ہے جسے وہ ’پری ایمپٹو/قبل از وقت حملہ‘ قرار دے رہا ہے۔
آج صبح جاری کردہ ایک بیان میں، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پورے اسرائیل میں ’خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کئی میزائلوں نے دانشگاہ سٹریٹ اور ریپبلک کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ „
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’یورینیم کی افزودگی نہ کرے۔‘ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ ایسے مواد کی تیاری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ اس دوران کئی ممالک نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔ تاہم فی الحال امریکہ کے بجائے اسرائیل نے پہلے ایران پر میزائل داغ دیے ہیں۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تہران کے مرکز میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد میزائل دانشگاہ سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں گرے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں سفارتی راستے سے مثبت پیغامات آرہے ہیں، جن کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم پورے خطے میں انتہائی تشویشناک فوجی نقل و حرکت دیکھ رہے ہیں اور اس کے واضح طور پر دو ممکنہ راستے ہیں۔
دوجارک نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے حوالے سے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت کے جاری رہنے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک پائیدار معاہدے کی طرف عزم اور نیک نیتی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق، گوٹیریس نے ایرانی جوہری مسئلے کے کسی بھی کامیاب حل کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی طرف سے مکمل اور جامع تصدیق کو بھی ضروری سمجھا۔
متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کے لیے کہا ہے، جن میں برطانیہ، کینیڈا اور انڈیا بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ’یورینیم افزودہ کرنے سے بالکل باز رہنا چاہیے‘۔
خیال رہے امریکہ کے تہران کے ساتھ حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔
رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے مطمئن نہیں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار نہ کرے۔
ٹرمپ کے بیانات نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پرایران پر کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ امریکی شہریوں کو ایران اور اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جنیوا مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی کہا کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
البوسعیدی کے مطابق، تمام مسائل ’دوستی اور مکمل طور پر‘ تین ماہ کے اندر حل کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کی فوجی صلاحتیوں میں کافی نمایاں فرق ہے۔
پاکستانی مسلح افواج، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے، دنیا کی 15 بڑی فوجی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کے پاس نہ تو کافی فوجی وسائل ہیں اور انھیں دیگر مشکلات کا سامنا بھی ہے۔
طالبان کے پاس موجود فوجی ہتھیاروں کی بڑی تعداد تین ذرائع سے آتی ہے: سابق افغان فوج کے چھوڑے گئے ہتھیار، غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت چھوڑے گئے ہتھیار، اور ایسے نئے ہتھیار جو طالبان نے مختلف ذرائع بشمول بلیک مارکیٹ سے حاصل کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی سرحدی جھڑپوں کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افواج نے زیادہ تر ہلکے ہتھیار پاکستانی افواج کے خلاف استعمال کیے ہیں۔
تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کو گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
اس حوالے سے بی بی سی اُردو نے حال ہی میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے ذیل میں دے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے جواب میں بڑے شہروں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی تنصیبات اور بڑے تجارتی مراکز دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔
امریکی مشن نے اپنے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کرتے وقت، خاص طور پر رش کے اوقات میں، انتہائی احتیاط برتیں۔ امریکی شہریوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی کے بہترین اقدامات اپنائیں، جیسے اپنے ارد گرد کی خبر رکھنا، بھیڑ سے گریز، اور اپنی سٹیپ رجسٹریشن کو اپ ڈیٹ رکھنا۔
امریکی شہریوں کے لیے تجاویز:
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ اب تک آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری کی صبح تک:
وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
یاد رہے پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر تک فضائی حملے کیے گئے ہیں تاہم دونوں ملکوں درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
سینیئر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف خبردار کیا ہے۔
انھوں نے ایکس پر لکھا، ’یہ معاہدہ سینیٹ میں پیش ہونا چاہیے اور اس پر مکمل غور کیا جانا چاہیے۔‘
سینیٹر گراہم، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور اہم ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے مزید کہا، ’جب ان مسائل کی بات آتی ہے تو یہ میرے لیے کسی سیاسی یا متعصبانہ موقف کا سوال نہیں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ کون پیش کرتا ہے؛ میں سخت اور واضح سوالات ضرور کروں گا۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ اور اس کے رہنما کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، اور عمانی وزیر خارجہ کے امریکہ کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’عمان سے آنے والے پیغامات سے محتاط رہیں۔‘
گراہم، جنھوں نے ماضی میں ایران میں مظاہرین کی حمایت میں امریکی مداخلت کا بارہا مطالبہ کیا ہے، نے لکھا، ’میرے لیے یہ بات واضح ہے کہ بہترین اور واحد طویل مدتی حل یہ ہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے اور حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جائے۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ جوہری پروگرام کے مذاکرات کے نتائج سے خوش نہیں ہیں، تاہم انھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا ملک پر فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔
جنیوا میں جمعرات کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا، ’میں اس بات سے خوش نہیں کہ وہ ہمیں وہ فراہم نہیں کر رہے جو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اس لیے میں خوش نہیں ہوں۔‘
امریکی صدر نے زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن کہا کہ بعض اوقات ’یہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر متعدد ممالک نے جمعے کو اپنے شہریوں کو خطے سے نکلنے یا محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
فرانس نے اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
علاقائی تناؤ میں اضافے کے باعث متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے یا وہاں موجود افراد کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
اٹلی کی بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت
جمعے کے روز اطالوی حکومت نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران چھوڑ دیں اور مشرقِ وسطیٰ کے سفر سے گریز کریں۔
اطالوی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’وہ اطالوی شہری جو ایران میں سیاحت کے لیے موجود ہیں یا جن کی وہاں موجودگی ناگزیر نہیں ہے، ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔‘
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ عراق اور لبنان کا سفر بالکل تجویز نہیں کیا جاتا۔
اسرائیل میں موجود اطالوی شہریوں کو بھی ’زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے‘ کی ہدایت کی گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کی وارننگز جاری کی ہیں۔ برطانیہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر ایران سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی ہے۔
سکیورٹی واقعات کے تناظر میں امریکی سفارت خانہ بغیر پیشگی اطلاع مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بلوچستان بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگرانی، جاسوسی، ممنوعہ اشیا اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ، حساس اور اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور اہم شخصیات و قافلوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان بھر میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کو پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں ایران کو ’ناجائز حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک‘ قرار دیا ہے اور ایک بار پھر امریکی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔
’ناجائز حراستوں کا سرپرست ملک‘ ایک نئی بلیک لسٹ ہے جو بالآخر سفری پابندی کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکی سرکاری درجہ بندی کے مطابق اس سے مراد ایسا ملک ہے جو سیاسی مقاصد کے لیے غیر ملکی شہریوں کو کسی جائز قانونی بنیاد کے بغیر حراست میں لیتا ہے اور انھیں دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا ’ایرانی حکومت کو یرغمال بنانے کا عمل بند کرنا ہوگا اور ایران میں ناحق قید تمام امریکیوں کو رہا کرنا ہوگا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ دہائیوں سے ایران بے گناہ امریکیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو ’بے دردی‘ سے حراست میں لیتا رہا ہے تاکہ انھیں دوسرے ممالک کے خلاف سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا ’یہ قابلِ نفرت عمل ختم ہونا چاہیے۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق، ’اگر ایران نے یہ عمل بند نہ کیا تو ہم مزید اقدامات پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے، جن میں امریکی پاسپورٹ ہولڈر کے ایران جانے، ایران سے گزرنے یا ایران سے واپسی کے لیے استعمال پر جغرافیائی پابندیاں عائد کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔‘
پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف ’اعلان جنگ کرنے کی ضرورت نہیں‘ تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم کے ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے۔
اس بارے میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے تاکہ پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے عوام۔۔۔ کا افغان سرزمین سے آنے والی دہشتگردی سے دفاع کیا جا سکے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف شدت پسندی کو افغان طالبان کی عبوری حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
اس سوال پر کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کیسے بحال ہو گا، مشرف زیدی نے کہا کہ ’ہم اعتماد قائم نہیں کریں گے بلکہ آگ کی دیوار تعمیر کریں گے تاکہ اپنی سرزمین اور عوام کو تحفظ دے سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ افغان طالبان اور انڈیا کو اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کو دوحہ معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں درج ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔
مشرف زیدی نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین پر شدت پسندی کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کریں گے تو یہ کام پاکستان کرے گا۔ ’ہم یہ (کارروائیاں) جاری رکھیں گے جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکریٹری ایلیسن ہوکر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔‘
ایکس پر ایک پیغام میں ہوکر کا کہنا تھا کہ ان کی جمعے کی شب پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے گفتگو ہوئی ہے جس دوران انھوں نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں جانوں کے ضیاع پر ہمدردی ظاہر کی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب شدت پسندوں کی جانب سے پشاور سمیت صوبے بھر کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے گئے جن میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک تھانے پر ’دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوا‘۔ جبکہ تھانہ متنی کی حدود میں بھی ’دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔‘
ان کے مطابق خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے پولیس کی تنصیبات پر ’ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے حملے کیے۔‘ جبکہ شدت پسندوں نے بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر ’مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے حملہ کیا۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا جہاں پولیس کی ’جوابی کارروائی کی‘ اور فائرنگ ’15 منٹ تک جاری رہی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر ’نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم پھینکا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان سبھی حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ’یہ شرپسند صرف جھاڑیوں میں چھپ کر وار کرنا جانتے ہیں اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ سامنے آ کر مقابلہ کر سکیں۔ جیسے ہی انھیں پولیس کی جانب سے بھرپور اور آہنی جواب ملتا ہے، یہ بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔‘
پاکستان میں کالعدم قرار دیے جانے والے شدت پسند گروہوں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین نے پاکستان میں حملوں میں تیزی لانے کی دھمکی دی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان شدت پسند گروہوں سے منسوب پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنے جنگجوؤں کو ہدایت دیتے ہیں کہ پاکستان میں حملے تیز کیے جائیں۔
اپنے بیانات میں ان گروہوں نے افغانستان کے ساتھ ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔
پاکستان اور افغانستان نے تاحال ان بیانات پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرنے کے دوران دیا۔
ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ ’پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی ہے، کیا انھوں نے آپ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے؟‘
اس پر ٹرمپ کا جواب تھا کہ وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔ ان کا وزیر اعظم عظیم ہے، وہاں عظیم جنرل ہے، عظیم رہنما ہے۔‘
’وہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت عزت کرتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران اب تک ’افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ، 18 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں ’29 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔‘
پاکستانی وزیر اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں افغان طالبان کے 297 اہلکار ہلاک اور 450 زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
طالبان کا سرحد پار ’جوابی حملے‘ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دوسری طرف افغان طالبان کے حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب پاکستان پر حملے دوبارہ شروع کیے گئے ہیں۔
جنوب مشرقی افغانستان میں طالبان کی 203ویں منصوری کمان کے ترجمان عبدالحق فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے وقفے کے بعد خوست اور ٹانک میں آپریشن بحال کیا گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔‘
پاکستانی حکام نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا۔
خیال رہے کہ طالبان حکومت نے سرحد پار پوسٹوں پر حملوں میں 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جمعے کی شب طورخم سرحد کے مقام پر فائرنگ میں شدت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے طورخم ایکسپورٹ ٹرمینل سمیت متعدد مقامات کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔