آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کے جوہری پروگرام میں کیا باقی بچا ہے اور کیا یہ اب بھی ایک ’خطرہ‘ ہے؟
- مصنف, لوئس باروچو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ایران کا جوہری پروگرام ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
امریکہ نے خطے میں بڑے پیمانے پر طیارے اور جنگی بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں جو بظاہر اس صورت میں حملے کے لیے تیار ہیں اگر تہران اپنی جوہری سرگرمیوں پر کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے 19 فروری کو دھمکی دی کہ اگر ایک ’بامعنی معاہدہ‘ نہ ہوا تو ’بری چیزیں‘ ہوں گی۔ اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے انھوں نے کہا: ’سادہ سی بات ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔ اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں تو مشرق وسطیٰ میں امن نہیں آ سکتا۔‘
ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن جوہری نگرانی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سمیت کئی ملک ایران کا یہ موقف تسلیم نہیں کرتے۔
ایران کا جوہری پروگرام اس وقت کس حال میں ہے؟
گزشتہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال پوری طرح واضح نہیں ہے۔
امریکہ کچھ وقت کے لیے جنگ میں شامل ہوا اور تین جوہری مقامات پر حملے کیے۔ اصفہان میں ایران کے سب سے بڑے جوہری تحقیقاتی مرکز سمیت نطنز اور فردو کی وہ تنصیبات نشانہ بنائی گئیں جہاں یورینیم افزودہ کی جاتی ہے، یعنی مخصوص آئسوٹوپس کا تناسب بڑھایا جاتا ہے تاکہ اسے جوہری ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
حملوں کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنصیبات ’تباہ‘ کر دی گئی ہیں۔ ایک ہفتے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا کہ حملوں سے شدید نقصان تو پہنچا ہے لیکن تنصیبات ’مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں‘ جس سے اشارہ ملتا ہے کہ چند ہی ماہ میں کسی حد تک افزودگی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
آئی اے ای اے کا تخمینہ ہے کہ جب اسرائیل نے 13 جون کو فضائی حملے شروع کیے تو ایران کے پاس 440 کلوگرام یورینیم کا ذخیرہ موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ تھا۔ یعنی ہتھیار کے لیے درکار 90 فیصد کے درجے تک پہنچنے سے بس چند تکنیکی قدم دور۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رافائل گروسی نے اکتوبر میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ’یہ مقدار اگر مزید افزودہ کی جائے تو 10 جوہری بموں کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔‘
نومبر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اکانومسٹ کو بتایا کہ یورینیم کی افزودگی ’اب رک چکی ہے۔‘ گذشتہ ماہ انھوں نے فاکس نیوز کو کہا تھا: ’آپ نے تنصیبات اور مشینیں تو تباہ کر دیں لیکن ٹیکنالوجی اور عزم کو بمباری کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔‘
جنوری میں روئیٹرز سے گفتگو میں گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے ایران کی ان 13 جوہری تنصیبات کا معائنہ کر پایا ہے جو بمباری کا نشانہ نہیں بنیں، لیکن ان تین اہم مقامات کا معائنہ نہیں کر سکا جو بمباری سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ آخری بار آئی اے ای اے نے ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی تصدیق سات ماہ قبل کی تھی۔
اب ذخیرہ کس جگہ موجود ہے، کس حالت میں ہے اور جن جگہوں پر یورینیم افزودہ کیا جا رہا تھا، ان کی حالت کیسی ہے؟ ان تمام اہم سوالات پر غیر یقینی اب بھی برقرار ہے۔
ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟
ایرانی حکومت اصرار کرتی ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف عوامی مقاصد کے لیے ہیں۔
ملک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے۔ یہ معاہدہ طب، زراعت اور توانائی جیسے عوامی مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کے حصول پر پابندی عائد کرتا ہے۔
تاہم، آئی اے ای اے کی ایک دہائی تک جاری رہنے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے 1980 کی دہائی کے آخر سے 2003 تک ’جوہری ہتھیار تیار کرنے کے متعلق متعدد سرگرمیاں‘ انجام دیں۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’آمد پراجیکٹ‘ نامی یہ پروگرام بعد میں روک دیا گیا۔ تاہم سنہ 2009 میں مغربی خفیہ ایجنسیوں نے فردو کی تنصیب کی نشاندہی کی۔
سنہ 2015 میں آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسے ’2009 کے بعد ایران میں جوہری ہتھیار کی تیاری سے متعلق کوئی قابل اعتبار معلومات نہیں ملیں۔‘
سنہ 2015 میں ہی ایران نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت سخت نگرانی کے بدلے اپنی جوہری سرگرمیوں پر سخت پابندی قبول کی گئی۔ اس معاہدے نے افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود کر دیا۔ یعنی صرف اتنی مقدار جس سے جوہری توانائی حاصل کی جا سکے۔ اور سخت نگرانی میں فردو میں افزودگی روک دی گئی۔
تاہم، سنہ 2018 میں صدر ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہو گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ ایران کی بم بنانے کی راہ نہیں روکتا۔ انھوں نے پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔ جواب میں ایران نے بھی معاہدے کی پاسداری روک دی، یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا، جدید سینٹری فیوجز نصب کیے اور فردو میں افزودگی دوبارہ شروع کر دی۔
12 جون 2025 کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے دو دہائیوں میں پہلی بار باضابطہ طور پر کہا کہ ایران عدم پھیلاؤ کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ اگلے ہی دن اسرائیل نے فضائی حملے شروع کیے۔
کیا ایران اب بھی اپنی جوہری تنصیبات پر کام کر رہا ہے؟
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں نطنز اور اصفہان، دونوں مقامات پر کام جاری ہے۔
امریکہ میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی (آئی ایس آئی ایس) نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا۔ تجزیے کے مطابق یوں لگتا ہے اصفہان کی تنصیب میں سرنگوں کے تمام داخلی راستے اب مٹی سے بند کر دیے گئے ہیں اور ایک نئی چھت بھی بنائی گئی ہے۔ تصاویر یہ بھی دکھاتی ہیں کہ نطنز کے مقام پر بھی ایک نئی چھت بنائی گئی ہے۔
آئی ایس آئی ایس نے حال ہی میں لی گئی تصاویر کا بھی تجزیہ کیا۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک زیر زمین کمپلیکس ماؤنٹ کولنگ گاز لا کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اسے پک ایکس ماؤنٹین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ نطنز کی جوہری تنصیب سے تقریباً دو کلومیٹر جنوب میں واقع اس مقام کو اسرائیل یا امریکہ نے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔
ایران کو جوہری ہتھیار بنانے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟
ہتھیار بنانے کے لیے درکار یورینیم افزودہ کرنا اور قابل استعمال جوہری ہتھیار بنانا، یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہتھیار بنانے کے لیے مزید کئی تکنیکی مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
اسرائیلی اور امریکی حملوں سے پہلے، گذشتہ سال مئی میں امریکہ کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اس درجے کا افزودہ یورینیم تیار کر سکتا ہے جس سے ہتھیار بنائے جا سکیں۔
تاہم، اس بارے میں مختلف آراء ہیں کہ کیا ایران افزودہ یورینیم کو ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا نہیں۔
ڈی آئی اے کے اس تجزیے میں یہ بھی کہا گیا: ’ایران تقریباً یقینی طور پر جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس نے ایسی سرگرمیاں ضرور کی ہیں جن سے وہ اگر چاہے تو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ گیا ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس نے ایسی انٹیلیجنس جمع کر لی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’ایرانی حکومت جوہری بم کے لیے مخصوص ہتھیاروں کے پرزے تیار کرنے کی جو کوشش کر رہی تھی، اس میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔‘
ہتھیاروں پر کنٹرول کی غیر جانبدار ماہر ڈاکٹر پیٹریشیا لیوس کہتی ہیں: ’سنہ 2003 میں جب یہ پروگرام بظاہر روکا گیا، اس وقت ایران نے کسی حد تک وارہیڈ ڈیزائن کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔‘
تاہم، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’سنہ 2015 میں جوہری معاہدہ ختم ہونے اور کسی نئے معاہدے تک پہنچنے میں مسلسل ناکامی کے بعد ممکن ہے کہ ایران دوبارہ وارہیڈ بنانے کی صلاحیت پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کر چکا ہو۔‘
18 فروری کو جب آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی سے پوچھا گیا کہ کیا ایجنسی کو فعال جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے شواہد ملے ہیں؟ تو فرانسیسی نشریاتی ادارے ٹی ایف ون کو انھوں نے بتایا: ’نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ اور ایران، دونوں طرف ’ایک معاہدے تک پہنچنے میں آمادگی‘ دیکھ رہے ہیں۔
ایک ایرانی جوہری ہتھیار کی اہمیت آخر کیوں ہو گی؟
مغربی رہنما طویل مدت سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ٹرمپ نے مئی 2025 میں کہا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو ’دنیا تباہ ہو جائے گی۔‘ سنہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ اس کا مطلب ہو گا ’ایک بالکل ایک مختلف دنیا، ایک بالکل مختلف نوعیت کی مذاکراتی صورتحال‘ اور اسرائیل ’ختم ہو جائے گا‘۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے جوہری صلاحیت رکھنے والے ایران کو ’خطے میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دیا۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (روسی) میں مشرق وسطیٰ کے ماہر ڈاکٹر ایچ اے ہیلیئر کہتے ہیں کہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور بحران کا حل پیچیدہ ہو جائے گا، خاص طور پر ’اسرائیل اور امریکہ کے لیے۔‘
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ایران علاقائی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے، چین اور روس کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو تقویت مل سکتی ہے اور ممکن ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ بھی شروع ہو جائے۔
اسرائیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، اگرچہ اسرائیل اس کی تصدیق کرتا ہے اور نہ تردید۔
ہیلیئر کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو ’ممکنہ طور پر‘ یہ بات کسی تصادم کو بڑھانے کے بجائے روک دے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ خطے کے زیادہ تر ممالک کے نزدیک فوری سکیورٹی خدشہ وہ ’اسرائیلی طاقت‘ ہے جو سب کو نظر آ رہی ہے نہ کہ ایران کا مفروضہ جوہری بم۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے ایران سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہو گا کہ ’محاذ آرائی کے دوران وہ اندازے کی غلطی‘ کر جائے۔