آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
1500 روپے کا سودا، مذہب کی تبدیلی اور لاہور ریلوے سٹیشن پر خودکشی: ’بوٹا سنگھ اور زینب‘ حقیقت میں کون تھے؟
- مصنف, جے دیپ وسانت
- عہدہ, بی بی سی گجراتی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’سمجھ سکے نہ لوگ سیانے عشق کا رتبہ‘
’عشق کا رتبہ، عشق ہی جانے‘
فلم ’شہیدِ محبت بوٹا سنگھ‘ کے آخری حصے میں پاکستان کے نامور گلوکار نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ قوالی سنائی دیتی ہے، جو فلم ختم ہو جانے کے بعد بھی ذہن میں مسلسل گونجتی رہتی ہے۔
قوالی کے ساتھ سکرین پر ایک تحریر ابھرتی ہے: ’یہ فلم ان تمام مردوں اور عورتوں کے نام، جن کا انجام بوٹا سنگھ اور زینب جیسا ہوا ہے۔‘
’سچے واقعے کی ڈرامائی پیشکش‘ ہونے کا دعویٰ کرنے والی اس فلم میں پنجابی گلوکار گرداس مان اور اداکارہ دیویا دتّا نے مرکزی کردار ادا کیے۔
تو پھر بوٹا سنگھ اور زینب کون تھے، جن کی محبت کی کہانی نے فلم انڈسٹری میں تاریخ رقم کرنے والی کئی فلموں کو بنیاد فراہم کی؟
بوٹا سنگھ اور زینب کون تھے؟
لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر کی کتاب ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں بوٹا سنگھ اور زینب کی کہانی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُس وقت بوٹا سنگھ کی عمر تقریباً 55 برس تھی اور انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ہمراہ برما کے محاذ پر دوسری عالمی جنگ لڑی تھی۔
ستمبر 1947 کے آس پاس ایک دن بوٹا سنگھ امرتسر میں اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے کہ ایک نوجوان لڑکی دوڑتی ہوئی آئیں۔ چند سکھ نوجوان اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ لڑکی نے بوٹا سنگھ سے مدد مانگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجربہ کار بوٹا سنگھ کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے مسلمانوں کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تھا جس پر حملہ ہوا تھا اور یہ مسلمان لڑکی جان بچا کر بھاگ رہی تھیں۔
بوٹا سنگھ نے فوراً پوچھا: ’کتنے؟‘
سامنے سے جواب آیا: ’15 سو روپے۔‘
بوٹا سنگھ نے کوئی بحث کی نہ ہی بھاؤ تاؤ۔ وہ سیدھے گھر کے اندر گئے اور رقم لا کر حملہ آوروں کے حوالے کر دی۔ یہ رقم دراصل اُس لڑکی کو خریدنے کی قیمت تھی۔
لڑکی کا نام زینب تھا اور وہ 17 برس کی تھیں۔ ان کا خاندان راجستھان میں چھوٹے سے رقبے پر کاشتکاری کرتا تھا۔
اب زینب کا مستقبل ان کے ’نئے مالک‘ کے ہاتھ میں تھا۔
بوٹا سنگھ عمر رسیدہ تھے، ان کا گھرانا غریب تھا، اسی لیے وہ کبھی دلہن نہیں خرید سکے تھے اور نہ ہی اپنی شرمیلی طبیعت کے باعث شادی کی کوئی کوشش کر پاتے تھے۔
کولنز اور لاپیئر لکھتے ہیں کہ زینب کی آمد سے تنہا رہنے والے بوٹا سنگھ اور ان کے جھونپڑی نما گھر کو جیسے نئی زندگی مل گئی۔ وہ دن بھر کھیتوں میں کام کرتے اور کبھی کبھی زینب کے لیے ساڑھی، صابن یا زری والی جوتی لے آتے۔ ان سب باتوں پر زینب بھی شکر گزار تھیں۔
جلد ہی وہ بوٹا سنگھ کی زندگی کا اہم حصہ بن گئیں۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان فاصلے مٹتے چلے گئے۔
ایک شام گاؤں والے اور رشتہ دار اکٹھے ہوئے اور گرنتھی صاحب کی موجودگی میں دونوں کی شادی ہو گئی۔
ایک دن زینب نے بتایا کہ وہ امید سے ہیں۔ شادی کے 11 ماہ بعد ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام بوٹا سنگھ نے تنویر رکھا۔
بوٹا سنگھ کے لیے یہ سب کسی معجزے سے کم نہ تھا کیوں کہ زندگی کے کسی مرحلے پر انھوں نے شادی کی امید ہی چھوڑ دی تھی۔
جب انڈیا اور پاکستان نے لوگوں کو ملوانے کا عمل شروع کیا
سپریم کورٹ کے نامور وکیل کے ٹی ایس تلسی نے ’دی ٹریبیون‘ میں فلم ’شہیدِ محبت‘ کے بارے میں لکھا۔
وہ لکھتے ہیں: یہ فلم چھ دسمبر 1947 کو ہونے والی انٹر ڈومینیئن ٹریٹی اور اغوا شدہ افراد کی بازیابی اور بحالی کے قانون مجریہ 1949 کے مقصد اور نفاذ پر سوال اٹھاتی ہے۔
اس قانون کے مطابق، یکم مارچ 1947 کے بعد اگر کوئی عورت کسی دوسرے مذہب والے مرد کے ساتھ رہ رہی ہوئی یا اس کے ساتھ شادی ہو چکی ہوئی، تو یہ فرض کر لیا جائے گا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور اس کا ریپ کیا گیا ہے۔
اس تاریخ کے بعد ہونے والی تمام شادیاں اور مذاہب کی تبدیلیاں جبری قرار دے دی گئیں اور حکومت نے انھیں تسلیم نہ کیا۔ ایسی خواتین کو ان کے اپنے خاندانوں کے پاس واپس بھیج دیا جانا تھا، خواہ وہ عورت احتجاج کرے یا کچھ بھی کہے۔ اس معاملے پر اس کی کوئی مرضی نہ تھی۔
اس تاریخ کے بعد پیدا ہونے والے بچوں، اُن کے اغوا، یا ان سے متعلق کسی بھی معاملے کے لیے کوئی بھی شق نہ تھی۔ اس قانون کے نفاذ پر بھی سوالات سامنے آئے۔
فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مطابق: چند سال بعد بوٹا سنگھ کی جائیداد کے لالچ میں ان کے بھتیجوں نے ہی زینب کے بارے میں معلومات حکومت کو دے دیں۔ ایک دن حکام آئے اور زینب کو ساتھ لے جا کر کیمپ میں بھجوا دیا۔
دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے معاہدے کے مطابق، یہاں سے زینب کو پاکستان واپس بھیجا جانا تھا۔ بوٹا سنگھ فوراً دہلی پہنچے۔
انھوں نے اپنے بال (کیس) کٹوا دیے اور اسلام قبول کر کے اپنا نام جمیل احمد رکھ لیا تاکہ پاکستان کے ہائی کمیشن میں اپنی بیوی کی واپسی کے لیے درخواست دے سکیں۔ تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے فیصلے پر سختی سے قائم تھیں۔
اسی دوران خبر ملی کہ زینب کے اہل خانہ مل گئے ہیں، اس لیے انھیں پاکستان روانہ کر دیا گیا ہے۔
بوٹا سنگھ نے مسلمان ہونے کی حیثیت سے پاکستان جانے کی درخواست دی لیکن ہائی کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
آخرکار بوٹا سنگھ نے اپنی بیٹی کا نام سلطانہ رکھا اور غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو گئے۔ بیٹی کو لاہور میں چھوڑ کر وہ زینب کے گاؤں نورپور کی طرف روانہ ہوئے۔
دو زندگیاں، دو انجام
کولنز اور لاپیئر لکھتے ہیں: بوٹا سنگھ کو معلوم ہوا کہ پاکستان پہنچتے ہی زینب نے اپنے کزن سے شادی کر لی ہے۔
زینب کے شوہر اور کزنز نے بوٹا سنگھ کو بری طرح مارا اور غیر قانونی در انداز کہہ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
مقدمے کے دوران بوٹا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان ہیں اور فریاد کی کہ ان کی بیوی واپس کی جائے۔ جج ان کی بات سننے پر آمادہ بھی ہو گئے۔ ایک ہفتے بعد مقدمے کی سماعت ہوئی تو زینب گواہی دینے عدالت میں حاضر ہوئیں۔
مقامی اخبارات میں اس مقدمے پر بہت زیادہ بحث ہو رہی تھی اس لیے عوام اور صحافیوں میں شدید تجسس تھا۔ اس سکینڈل کی وجہ سے زینب کے گھر والوں کو بوٹا سنگھ پر غصہ تھا۔
بھری عدالت میں زینب نے قبول کیا کہ بوٹا سنگھ ان کے پہلے شوہر ہیں۔ تاہم، زینب نے ان کے ساتھ انڈیا جانے سے انکار کر دیا۔ یہ سن کر بوٹا سنگھ ٹوٹ کر رہ گئے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی سلطانہ کو اس کی ماں زینب کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور اپنے پاس موجود رقم بھی دینا چاہی۔
لیکن زینب نے کچھ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ بوٹا سنگھ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کچھ دیر بعد وہ عدالت سے باہر نکلے اور لاہور کی داتا گنج بخش درگاہ (حضرت علی ہجویری کی درگاہ) میں پناہ لی۔
وہاں بوٹا سنگھ روتے رہے اور دعا مانگتے رہے۔ اس دوران باپ اور بیٹی کو نیند نے آ لیا۔ صبح ہوئی تو بوٹا سنگھ نے قریبی بازار لے جا کر بیٹی کو نئے کپڑے اور جوتیاں دلائیں۔ پھر دونوں لاہور کے شاہدرہ ریلوے سٹیشن جا پہنچے۔ کچھ دیر بعد ایک ٹرین وہاں آئی۔ بوٹا سنگھ نے اپنی بیٹی سلطانہ کو بانہوں میں اٹھایا اور ٹرین کے سامنے کود گئے۔
ایک انجام، کئی کہانیاں
بوٹا سنگھ کا جسم مسخ ہو گیا۔ ریلوے سٹیشن پر ہلچل مچ گئی۔ لیکن سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سلطانہ کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ پولیس کو بوٹا سنگھ کے جسم کے پاس سے خون آلود آخری چِٹّھی ملی، جس میں انھوں نے نورپور گاؤں میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
بوٹا سنگھ کی خود کشی کے بعد لاہور کے لوگوں میں جذبات کا سیلاب آ گیا۔
22 فروری 1957 کو انھیں نورپور گاؤں میں دفنانے کی کوشش کی گئی لیکن زینب کے دوسرے شوہر اور مقامی لوگوں کی مخالفت کے باعث میت کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
فساد اور ہنگامے کے خدشے کے باعث حکام نے میت لاہور واپس لے جانے کا حکم دیا۔
انھیں لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن کیا گیا۔ وہاں بھی جب ان کی قبر کو دوبارہ کھودنے کی کوشش ہوئی تو ہزاروں لوگ اس کی حفاظت کے لیے خود آگے آ گئے۔
بوٹا سنگھ اور زینب کی کہانی کی کئی روایات ملتی ہیں۔ اروشی بٹالیا اپنی کتاب ’دی ادر سائیڈ آف سائلنس: وائسز فرام دی پارٹیشن آف انڈیا‘ میں لکھتی ہیں کہ اس جوڑے کی دو بیٹیاں تھیں۔
اروشی بٹالیا کے مطابق جب حکام زینب کو لے گئے تھے تو وہ چھوٹی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ زینب کو پاکستان بھیج دیا گیا تو بوٹا سنگھ نے اپنی زمین بیچ کر پاکستان جانے کی کوشش شروع کی۔ انھیں پاکستان سفر کے لیے مختصر مدت کا ویزا ملا تھا۔
زینب کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔ زینب اور ان کی بہن کو لائلپور (اب فیصل آباد) میں زمین دی گئی تھی۔
قریب ہی ان کے خاندان کی زمین تھی۔ زینب کی شادی اپنے کزن سے کر دی گئی تاکہ زمین خاندان میں ہی رہے۔ چونکہ وہ پہلے ایک سکھ مرد کے ساتھ رہ چکی تھیں اس لیے زینب کے کزن ان سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تاہم انھیں مجبوراً ایسا کرنا پڑا۔
بٹالیا کے مطابق، چونکہ بوٹا سنگھ لاہور پہنچ کر پولیس کو اطلاع نہیں دے سکے تھے، اس لیے جب زینب کے نئے شوہر اور گاؤں والوں نے انھیں مار مار کر پولیس کے حوالے کیا، تو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔
عدالت میں زینب نے نہ صرف بوٹا سنگھ کے ساتھ جانے سے انکار کیا بلکہ دوسری بیٹی کو بھی واپس کرنے کی پیشکش کی۔
کچھ روایات کے مطابق، جب بوٹا سنگھ نے تنویر کو لے کر ٹرین کے سامنے چھلانگ لگائی (تنویر کو بچا لیا گیا) تو یہ واضح نہیں کہ دوسری بیٹی کا کیا ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ کی ایک خاتون وکیل نے پانچ سالہ تنویر کو گود لیا، تعلیم دلائی اور ان کی شادی بھی کروائی۔
بعد میں تنویر کی شادی لیبیا میں مقیم ایک انجینیئر سے ہوئی اور وہ تین بچوں کی ماں بنیں۔
’غدر: ایک پریم کتھا‘ اور ’ویر زارا‘ جیسی فلموں میں سرحد پار محبت کرنے والوں کی داستانیں تخلیقی انداز میں بیان کی گئی ہیں۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ زینب نے ضرور خاندان کے دباؤ میں آکر وہ بیان دیا ہو گا۔ لیکن زینب خود کیا چاہتی تھیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔