آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب افغانستان سے پاکستان پر سکڈ میزائلوں کی بارش ہوئی
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سات اپریل 1989 کی صبح جس سوویت ساختہ سکَڈ میزائل نے پاکستانی سرحدی علاقے طور خم میں ڈاک خانہ تباہ کیا، وہ کابل سے داغا گیا تھا۔
پاکستان نے اس حملے کو کابل حکومت کی جانب سے اشتعال انگیزی کا ایک کھلم کھلا اقدام قرار دیا۔ افغانستان نے یہ تو مانا کہ ایسا ’حادثاتی‘ طور پر ہوا تھا لیکن اس پر معذرت سے انکار کیا۔
اس وقت تک سنہ 1979 میں ’مجاہدین‘ کہلانے والے جنگجوؤں کے خلاف ماسکو نواز افغان حکومت کی مدد کو آئی سوویت یونین کی فوج کا آخری دستہ اس سکَڈ حملے سے پونے دو ماہ پہلےآمو دریا پر بنے حیرتان پل کو عبور کر کے وطن واپس جا چکا تھا۔
لیکن سوویت یونین، پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے مابین اپریل 1988 کے جن جنیوا معاہدوں کے تحت یہ انخلا شروع ہوا، ان کی خلاف ورزی جاری تھی۔
یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل (یو پی آئی) کےجیرالڈ نیڈلر کی 2 نومبر 1988 کی رپورٹ کے مطابق سوویت یونین نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کو اپنے جدید ترین ہتھیار، جن میں درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں، فراہم کر رہا ہے تاکہ ان مزاحمتی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو صدر نجیب اللہ کی کابل حکومت کے مطابق ’پاکستان کی پشت پناہی سے کیے جا رہے ہیں۔‘
نیڈلر نے لکھا کہ ’امریکہ نے ان ہتھیاروں کی شناخت مائع ایندھن استعمال کرنے والے زمین سے زمین پر مار کرنے والے سکَڈ میزائلوں کے طور پر کی، جو پاکستان تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ساتھ ہی اسلام آباد کی ’مکمل حمایت‘ جاری رکھنے کا واضح اعلان کیا۔‘
اقوامِ متحدہ کا ایک مشن برائے افغانستان و پاکستان مئی 1988 میں قائم ہوا تاکہ افغانستان سے متعلق معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور خلاف ورزیوں کی جانچ کی جا سکے۔
یہ مشن مارچ 1990 تک فعال رہا، اور ’دی آکسفرڈ ہینڈ بک آف یونائٹڈ نیشنز پیس کیپنگ آپریشنز‘ کے مطابق مشن کے آغاز ہی سے کابل اور اسلام آباد نے ایک دوسرے کی مداخلت پر شکایات کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہینڈ بک میں مشن کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’افغانستان نے مجاہدین کی سرحدی نقل و حرکت اور 1989 کی بہار سے ان کی فوجی کارروائیوں، جن میں سب سے اہم افغان حکومت کو گرانے کے لیے افغان شہر جلال آباد کے خلاف تھیں، کی شکایت کی۔ پاکستان کو فضائی حدود کی خلاف ورزی، افغان انٹیلیجنس (خاد) سے منسوب دہشت گرد حملوں، اور پاکستانی علاقے میں میزائل حملوں کی شکایات تھیں۔‘
لیکن مشن کے مطابق اس کے پاس نہ سیاسی حمایت تھی اور نہ وسائل۔ اس لیے وہ ’تنازع میں شامل فریقوں کی شکایات کو بغیر تحقیق کے صرف لکھ ہی کر سکتا تھا اور انھیں معاہدوں کی پابندی پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔‘
جنگ کے بعد سے لاکھوں افغان پاکستان اور ایران میں مہاجر تھے۔ سوویت انخلا کے بعد توقع کی جارہی تھی افغان میں ماسکو نواز صدر نجیب اللہ کی حکومت گر جائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔
مائیکل کلاڈفیلٹر نے اپنی کتاب ’وارفیئر اینڈ آرمڈ کنفلکٹس‘ میں لکھا ہے کہ خاد کے سابق سربراہ اور افغان صدر نجیب اللہ کی حکومت سوویت انخلا کے بعد جلد گرنے کی توقع تھی۔
’سنہ 1986 میں سوویت انٹیلی جنس نے اندازہ لگایا تھا کہ نجیب حکومت صرف 6 سے 18 ماہ تک قائم رہ سکے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘
انھوں نے لکھا ہے کہ ’اس 18 نسلی گروہوں اور پانچ مختلف زبانیں بولنے والوں پر مشتمل حکومت نے اپنے اندر اختلافات کے باوجود کمیونسٹ نظریات رکھنے والے کچھ دھڑوں کو الگ رکھنے میں کامیابی حاصل کی، جو بعض اوقات آزادی سے زیادہ کمیونزم میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘
’سنہ 1987 میں افغان فوج نے حیرت انگیز طور پر ’مجاہدین‘ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔‘
کلاڈفیلٹر کے مطابق ’مارچ 1989 میں، جلال آباد کی سب سے بڑی اور خونریز جنگ شروع ہوئی لیکن چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد، مجاہدین افغان فوج کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔‘
یوپی آئی کے محمد ضیاالدین کی رپورٹ کے مطابق کابل کے جلد سقوط کی امید میں افغان ’مجاہدین‘ کے رہنما اور وزیرِ خارجہ گلبدین حکمت یار ڈھاکہ میں تھے تاکہ بنگلہ دیش سے اپنی عبوری حکومت تسلیم کروا سکیں، جب پاکستان پر اپریل کی ابتدا میں سکڈ حملہ ہوا۔
اس سے پہلے یو پی آئی کی 16 نومبر 1988 کی ایک خبرمیں، حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ افغانستان سے داغا گیا ایک میزائل پاکستان کے ایک سرحدی گاؤں پر گرا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ لیکن تب یہ طے نہیں پایا تھا کہ یہ میزائل سوویت یونین کی جانب سے افغان فوج کو فراہم کیا گیا سکڈ میزائل تھا یا نہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکےخصوصی نامہ نگار جان ایف برنز نے لکھا کہ پاکستان نے تصدیق کی کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا سکڈ میزائل سات اپریل 1989 کو پاکستانی حدود میں اس مقام کے قریب گرا جہاں جلال آباد اور پشاور کے درمیان سڑک سرحد کو عبور کرتی ہے۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایک غیر معمولی اعتراف میں، افغان حکومت نے کہا کہ ’میزائل غلطی سے پاکستان کی سرحد کے پار داغا گیا‘ جبکہ مجاہدین کے خلاف جھڑپیں ابھی جاری تھیں۔
سوویت حکام نے کہا کہ جلال آباد کے دفاع میں حکومتی فورسز کی کامیابی سکڈ میزائلوں کی وجہ سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میزائلوں سے گوریلاؤں کو جلال آباد ایئرپورٹ سے پیچھے دھکیلنے میں کامیابی حاصل ہوئی، جب وہ ایئرپورٹ کی بیرونی حد کے اندر تک پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میزائل استعمال کر کے شہر سے 15 میل جنوب مشرق میں واقع سرکاری فوجی چھاؤنی سمرخیل سے بھی گوریلاؤں کو نکالا گیا جس پر انھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔
تاہم افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں سکڈ حملے جاری رہے۔
چار مئی 1989 کو صبح 8:20 پر ایک سکڈ میزائل ضلع بنوں میں واقع افغان پناہ گزین کیمپ کے قریب گرا، جس سے تین افغان شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔
22 مئی 1989 کو ایک سکڈ صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر کے قریب گرا۔ برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کے مطابق یہ تیسرا حملہ تھا جس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سخت تناؤ پیدا کر دیا، اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔
جون 23 ، 24 اور 26 کو دن کے مختلف اوقات میں افغانستان سے داغے گئے سکڈ پاکستانی حدود میں گرے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تین اگست کو شام 5:20 پر ایک سکڈ ہری پور کے قریب نرتوپا گاؤں میں گرا۔ چھ شہری زخمی ہوئے، چار گھر مکمل تباہ جبکہ 13 کو جزوی نقصان پہنچا۔
15 اگست کو صبح 8:45 پر سکڈ میزائل کرم ایجنسی، یکم اکتوبر 1989 کو رات 8:15 پر شمالی وزیرستان ایجنسی میں آدم خیل کے قریب اور 27 اکتوبرکو کرم ایجنسی کے علاقے ٹیڑی منگل میں گرا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کلاڈ فیلٹر کے مطابق مزاحمت کاروں کا کابل پر قبضہ کرنے کا آخری منصوبہ دسمبر 1989 میں شروع ہوا، لیکن یہ بھی ناکام رہا، کیونکہ حکومتی افواج نے اس حملے کو پسپا کر دیا۔
’بعد ازاں، مزاحمت کاروں کی قیادت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ مختلف دھڑے اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ گئے۔ کابل میں راشن کی قلت اور افلاس بڑھتا گیا۔ ملک میں بغاوتیں جاری رہیں۔ 1990 تک، افغانستان ایک برباد ملک بن چکا تھا۔‘
لیکن افغان حملے 1990 میں بھی جاری رہے۔
10 جنوری کو سہ پہر 1:40 پر افغانستان سے داغا گیا ایک سکڈ میزائل ضلع اٹک کے گاؤں حصار میں گرا۔
14 جون کو صبح 2 بجے سکڈ میزائل کرم ایجنسی کے ٹیڑی منگل میں گرا، جس سے ایک افغان پناہ گزین زخمی ہوا۔ 26 جون کو شام 4:15 پر ایک سکڈ میزائل کرم ایجنسی کے پیوار کوتل میں گرا، جس سے چار افغان شہری زخمی ہوئے۔ 13 ستمبر کو ایک سکڈ کرم ایجنسی کے علاقے شاہدل اور 20 نومبر کو صبح 10:35 پر خیبر ایجنسی کے علاقے اول خان کے قریب گرا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
28 نومبر کو سہ پہر 3:40 پر افغانستان کی جانب سے داغے گئے دو سکڈ میزائل کرم ایجنسی کے ٹیڑی منگل میں گرے۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر افغان جانب سے کیا گیا سب سے بڑا اور ہلاکت خیز حملہ تھا۔اس میں 28 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین افغان شہری بھی شامل تھے، جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔
مجموعی طور پر 17 میزائل پاکستان میں آ کر گرے، جن کے نتیجے میں 35 سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
افغان حکومت کے حملے افغانستان کے اندر بھی نہیں رکے تھے۔
مزاحمت کاروں کے مطابق اگلے سال 21 اپریل1991 کو تین سکڈ حملوں میں شمال مشرقی افغانستان میں ان کے زیر قبضہ کنڑ صوبے کے دارالحکومت اسعد آباد میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور 400 سے 500 زخمی ہوئے۔
مبصرین نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ اس لیے تھی کہ بہار کی کاشت کے موسم میں بہت سے پناہ گزین افغانستان میں موجود تھے۔ ہر سال بڑی تعداد میں یہ لوگ سرحد پار کر کے فصلیں بوتے ہیں، پھر گرمیوں کے لیے پاکستان میں موجود کیمپوں میں واپس آ جاتے ہیں اور خزاں کی فصل کی کٹائی کے لیے دوبارہ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔
کلاڈ فیلٹر کے مطابق نجیب اللہ کی حکومت سوویت انخلا کے بعد تین سال تک برقرار رہی۔ جنگ نے پورے ملک کو تباہ کر دیا۔
’آخرکار، 16 اپریل 1992 کو، نجیب اللہ نے حکومت چھوڑ دی۔ افغان مزاحمت کار باہمی جنگ میں الجھ گئے۔ داخلی خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ مختلف دھڑے ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ کابل 13 ماہ تک جنوری 1994 سے فروری 1995 تک، توپوں کے گولوں اور راکٹ حملوں کا شکار رہا۔‘
سی۔ کرسٹین فیئر، سارہ جے واٹسن کی ترتیب دی گئی کتاب ’پاکستانزاینڈیورنگ چیلنجز‘ کے مطابق نجیب اللہ کی حکومت کئی برس تک توقع سے زیادہ مستحکم رہی، لیکن اس کی حکمتِ عملی کا دارومدار روسی حمایت کے تسلسل پر تھا اور جب دسمبر 1991 میں سوویت یونین تحلیل ہوا تو یہ حمایت ختم ہو گئی۔
’نجیب اللہ کی حکومت تیزی سے گر گئی اور ملک خانہ جنگی میں ڈوب گیا۔ طالبان اسی انتشار انگیز ماحول سے اُبھرے۔‘