آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دوا کے ’مضر اثرات‘ کے باعث لاکھوں گنوانے والوں کی کہانیاں: ’پہلے کبھی بیوی کو دھوکہ دیا نہ ہم جنس پرستوں سے سامنا ہوا‘
- مصنف, نول ٹیتھریج
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ایما کو سمجھ نہیں آ رہا تھی کہ وہ اچانک جوئے کی لت میں کس طرح مبتلا ہو گئیں، پھر اُنھوں نے بی بی سی نیوز کا ایک مضمون پڑھا۔
گذشتہ ایک برس کے دوران اُنھوں نے جوئے میں ہزاروں پاؤنڈ گنوا دیے، لیکن اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کی وجہ وہ دوا ہے جو وہ استعمال کر رہی ہیں۔
ایما اُن 250 افراد میں شامل ہیں، جنھوں نے جوئے کی لت میں مبتلا ہونے کے بعد ہم سے رابطہ کیا ہے۔ ان افراد کو اُن کے ڈاکٹرز کی جانب سے اعصابی مسائل سے نمٹنے کے لیے دوائیں تجویز کی گئی تھیں، جنھوں نے ان افراد میں سیکس اور غیر ضروری شاپنگ کے رجحان کو بھی بڑھایا۔
جن افراد نے ہمارے ساتھ رابطہ کیا، ان میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے افسران بھی شامل تھے۔ ان میں پولیس افسر، نرسز، ڈاکٹرز اور ایک بینک کے ڈائریکٹر بھی شامل تھے۔
تقریباً ایک سال بعد جب ہم نے پہلی بار اس طرح کے تباہ کن رویوں کو رپورٹ کیا تو بہت سے مریضوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اُنھیں ’ڈوپامائن ایگونسٹ‘ کے مضر اثرات کے بارے میں بتانے میں ناکام رہے۔
برطانیہ میں ’ریسٹلیس لیگز سنڈروم‘ کے علاج کے لیے اس دوا کو تجویز نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم اب بھی برطانیہ میں یہ نسخہ تجویز کرنے کی شرح پر کوئی کوئی فرق نہیں پڑا۔
گذشتہ ہفتے برطانوی پارلیمان کی سلیکٹ کمیٹی برائے صحت نے برطانوی ڈرگ ریگولیٹر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان ادویات کے مضر اثرات کے بارے میں انتباہ کا جائزہ لے۔ دوسری جانب حکومت نے بی بی سی کی تحقیقات کو نہایت پریشان کن قرار دیا ہے۔
’میری زندگی تباہ ہو گئی‘
بہت سی خواتین کی طرح ایما کو بھی حمل کے دوران پہلے ’ریسٹلیس لیگز سنڈروم‘ (ٹانگوں میں بے چینی اور درد کی شکایت) ہوئی۔ یہ علامات جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آنے والے برسوں میں اُن کی حالت خراب ہونے لگی اور ڈاکٹر نے اُنھیں برطانوی دوا ساز فرم ’جی ایس کے‘ کی تیار کردہ ’روپینیرول‘ تجویز کی۔
ایما کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اُنھوں نے جوا کھیلنا شروع کر دیا اور فضول چیزیں خریدنا شروع کر دیں، ایسا لگ رہا تھا کوئی ہے ’جو مجھے کنٹرول کر رہا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے ان دوائیوں پر تحقیق کی اور پھر کچھ مضمون ہماری نظر سے گزرے۔ میں نے انھیں پڑھا اور مجھے اندازہ ہوا کہ ’اوہ میرے خدا، یہ میں ہوں۔‘
ایما کہتی ہیں کہ جب وہ طبی ماہر سے وقت لینے کے لیے آن لائن فارم پُر کرتی ہیں تو اُنھیں وہاں یہ لکھنا پڑتا ہے کہ وہ پہلے کون سی دوائیں لے رہی ہیں۔
لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس کے باوجود اُنھیں جوئے کی لت لگ گئی تھی اور وہ ’روپینیرول‘ لے رہی تھی۔ ایما کا کہنا ہے کہ ان کے ڈاکٹر نے کبھی بھی اُن کے رویے کو اس دوا کا اثر قرار نہیں دیا۔ بلکہ ایما نے جوا کھیلنا جاری رکھا، بعدازاں بی بی سی کی اس حوالے سے رپورٹس پڑھنے کے بعد اُنھوں نے ڈاکٹر سے اپنی دوائیں تبدیل کرنے کی درخواست کی، تاہم اُس وقت تک وہ 30 ہزار پاؤنڈ گنوا چکی تھیں۔
’میری زندگی تباہ ہو چکی ہے۔ میں قرضوں میں ڈوب چکی ہوں اور نہیں جانتی کہ انھیں کیسے ادا کرنا ہے۔‘
یہ دوا ’ڈوپامائن‘ کی سرگرمی کو بڑھا دیتی ہے اور یہ ادویات کے ان خاندان سے تعلق رکھتی ہے جسے جی ایس کے کے علاوہ دیگر دوا ساز کمپنیاں بھی تیار کرتی ہیں۔
ڈوپامائن ایک ایسا کیمیکل ہے جو جسم کو حرکت دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ حوصلہ افزائی اور انعام کے جذبات کو بھی اُبھارتا ہے، جو ان ادویات کے استعمال سے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
برطانیہ سے بہت سے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح کی دواؤں کے مضر اثرات نے شادیوں کے ٹوٹنے، قرضوں، مجرمانہ رویوں اور خود کشی کے خیالات کو جنم دیا۔
ہم نے بہت سے ایسے مریضوں کے بارے میں بھی سنا جو بہت زیادہ کھانے، عجیب و غریب کپڑے پہننے اور لاپرواہی سے سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہوئے۔ جبکہ کچھ لوگوں نے پہلی مرتبہ ہم جنس پرستی پر مبنی تعلقات بھی قائم کیے۔
کچھ معمر خواتین نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہروں نے کئی دہائیوں بعد اُن کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کے لیے زبردستی کی۔
یہ دوائیں استعمال کرنے والوں کی اس طرح کے رویوں کی کوئی تاریخ نہیں تھی اور نہ ہی اُن کے خاندان والوں کو احساس ہوا کہ یہ دوا کے مضر اثرات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
گذشتہ ہفتے ہم نے ایک ایسے خاندان کی کہانی شائع کی تھی جہاں بیٹے اور باپ نے اپنی جانیں لے لیں جب باپ کے جذباتی رویے کی وجہ سے وہ اپنے گاہگوں سے چھ لاکھ پاؤنڈ چرا کر سیکس اور نوادرات کی ادائیگی کے لیے لے گیا۔
بہت سے افراد نے اس کے بعد ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ بھی اسی طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں اور بہت زیادہ سیکس کے عادی ہو رہے ہیں۔
مائیکل جن کا نام ہم نے تبدیل کر دیا ہے، حال ہی میں یہ دوائیں تجویز کیے جانے کے بعد سیکس کے عادی ہوئے اور سیکس ورکرز کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے رہے۔
’مجھے لگتا ہے کہ میں جنسی تعلقات قائم کرنے کے جنون میں ہوں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود 20 مردوں اور 20 عورتوں کے ساتھ سو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے میں نے کبھی اپنی بیوی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی ہم جنس پرستوں کا سامنا ہوا۔‘
بہت سے افراد، جن سے ہم نے بات کی، کا کہنا تھا کہ شروع میں اُنھوں نے اس رویے سے لطف اُٹھایا، لیکن بعد میں اُنھیں محسوس ہوا کہ وہ ایک جال میں پھنس رہے ہیں۔
مائیکل کہتے ہیں کہ ’مجھے پتہ تھا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن جو لوگ میری مدد کر سکتے تھے، میں اُن سے بات نہیں کر پا رہا تھا۔ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔‘
برطانیہ میں بہت سے فلاحی ادارے اور نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ اس طرح کی ادویات لے رہے ہیں اور اُنھیں ان مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اُنھیں ڈاکٹر سے رُجوع کرنا چاہیے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ’جی ایس کے‘ کو سنہ 2000 میں پیڈو فیلیا کے ایک کیس کے بارے میں معلوم ہوا تھا، جو اس کی دوائی سے منسلک تھا۔
’روپینیرول‘ لینے والے ایک 63 سالہ شخص کو سات سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
جی ایس کے کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 2004 میں ریگولیٹر کے ساتھ اپنی رپورٹ شیئر کی تھی اور اسے چند ہی دنوں میں پیڈوفیلیا کیس کے بارے میں بتایا تھا۔
’جی ایس کے‘ نے اس دوا کے مضر اثرات میں ’سیکس کی خواہش کو بڑھنے،‘ ’نقصان دہ رویے‘ اور ’تبدیل ہوتی جنسی خواہشات‘ کو شامل کیا۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جب جی ایس کے اس دوا کے حوالے سے نتائج مرتب کر رہا تھا تو ساتھ ہی وہ اسے دوا کو ایک اور بیماری کے علاج کے لیے بھی تجویز کر رہا تھا۔
اس کے بعد اس نے امریکہ کے ایک نجی ہسپتال کے ساتھ بھی تعاون کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کی دوا 2005 میں جنسی کمزوری کے علاج کے طور پر کارآمد ہے۔
’جی ایس کے‘ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی دوا کا بڑے پیمانے پر تجربہ کیا گیا۔ دنیا بھر کے ریگولیٹرز کے ذریعے اس کی منظوری جاری ہے اور اس کے مضر اثرات واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس نے 2005 کے ٹرائل کو سپانسر یا ڈیزائن نہیں کیا۔
ایک بیان میں میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) نے کہا کہ سنہ 2007 کے انتباہات کو ظاہر ہونے میں کئی سال لگے کیونکہ اس طرح کے فیصلے کے لیے تمام دستیاب شواہد پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بی بی سی سے رابطہ کرنے والے بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اُنھیں لگتا ہے کہ ان کے پاس ایسے ضمنی اثرات کے لیے انصاف کا کوئی سہارا نہیں ہے جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں مناسب طریقے سے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم، برطانیہ سے باہر متعدد قانونی مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں معاوضے کے دعووں سے لے کر فوجداری مقدمات تک بات جا پہنچی تھی۔
ایک سال پہلے بیلجیئم کی ایک عدالت نے ایک ایسے شخص کو بری کر دیا تھا جس نے اپنی چار سالہ پوتی کے ساتھ اس بنیاد پر جنسی زیادتی کی تھی کہ اس کی ’روپینیرول‘ دوائی اس کے پیڈو فیلک رویے کا سبب بنی تھی۔
اگلے مہینے فرانس کی عدالت میں ایک بڑا فیصلہ متوقع ہے، جس میں ایک شخص نے مریضوں کو دوا کے مضر اثرات سے متعلق مناسب طور پر آگاہ کرنے میں ناکامی پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ اس دوا نے اس کی ساتھی کے اس ان کے تعلقات کو تباہ کر دیا اور اُنھوں نے جوئے کی لت میں پڑ کر 90 ہزار یورو گنوا دیے۔ وہ ہرجانے کی درخواست کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کمپنی ذمے داری کو قبول کرے۔