آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی افغانستان میں کارروائی اور کابل کی ’مناسب وقت پر‘ ردعمل کی دھمکی: ’یہ افغان طالبان کے لیے ایک وارننگ تھی‘
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان میں عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بیس فضائی حملوں میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں اسی سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اُدھر افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔
طالبان حکومت کے ننگرہار صوبے کے اطلاعات و ثقافت کی وزارت کے ترجمان عمرو قریشی بدن کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں، جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد ہیں۔
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی دری کو بتایا کہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے مدرسے کی عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی دری کو حاصل ہونے والی ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا ہے جبکہ وہاں موجود کتابوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ’ٹھوس شواہد‘ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ اسی ماہ چھ فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی اور ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دینے کا بیان
افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ’پاکستانی حکام کو واضح طور پر بتایا گیا کہ افغانستان کی فضائی حدود کا تحفظ اسلامی امارت کی شرعی ذمہ داری ہے اور ایسے حملوں کے سنگین نتائج کی ذمہ داری مخالف فریق پر عائد ہوگی۔‘
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔'
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
جہاں پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرنے کا الزام کرتا ہے وہیں افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکام اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت گذشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
’یہ افغان طالبان کے لیے وارننگ تھی‘
پاکستان اور افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے آصف درانی نے بی بی سی نیوز اردو کے اعظم خان کوبتایا کہ جو ہوا یہ ہونا ہی تھا۔
ان کے مطابق ’پاکستان میں ایک تسلسل سے دہشتگردی کے واقعات ہوئے، جن میں بڑی اموات ہوئیں اور اب جو افغانستان میں حملے ہوئے یہ افغان طالبان کے لیے ایک وارننگ تھی۔‘
آصف درانی کے مطابق ’یہ ایک محتاط مگر واضح پیغام ہے کہ سرحد پار پناہ گاہوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
’ان اقدامات سے اسلام آباد کی یہ توقع واضح ہوتی ہے کہ طالبان حکام کو تردیدوں سے آگے بڑھ کر ایک ذمہ دار حکومت کا کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔‘
آصف درانی کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے افغان طالبان ایک ریاست کے بجائے شدت پسند گروپ کی طرح روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ہونے والے تمام حملوں میں افغان شہری ہی ملوث نکلتے ہیں، جو کہ عام بات نہیں ہے اور نہ وہ عام شہری ہو سکتے ہیں۔
ان کی رائے میں اس وقت افغان طالبان بندوق کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم ٹی ٹی پی طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے تو یہ خود افغان طالبان کے لیے بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔ تاہم ان کی رائے میں اس گروپ نے ہیبت اللہ اخوند کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے اور وہ افغان طالبان سے باہر نہیں ہیں۔
کابل یونیورسٹی کے پروفیسر فیض زالند نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان طالبان کے درمیان تعلقات ناقابل یقین حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک پاکستان ایک دوست ملک کے طور پر طالبان کا حمایتی رہا اور مدد فراہم کرتا رہا مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق جب افغان طالبان اقتدار میں آئے تھے تو ٹی ٹی پی پر ان کا کنٹرول ضرور تھا مگر پھر جب انھیں لگا کہ پاکستان کی طرف سے ان کے ساتھ وہ تعاون نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وہ امید رکھتے تھے تو پھر انھوں نے اس پالیسی پر نظرِثانی شروع کر دی۔
تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ٹی ٹی پی افغان طالبان کے کنٹرول سے باہر نکل چکی ہے۔
افغانستان کے ردعمل پر فیض زالند کا کہنا تھا کہ پاکستان کو طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی صلاحیت کے بارے میں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی طالبان کے ساتھ کشیدگی کی تاریخ مختصر جبکہ تعاون اور دوستی کی داستان زیادہ طویل ہے۔
ایک اور افغان تجزیہ کار نے کہا کہ اس زہر کا تریاق بھی پاکستان کے پاس ہے مگر اب وہ نو آبادیاتی دور کی طرح پڑوسی ملک پر حملے کر رہا ہے۔
پاکستان اس صورتحال سے کیسے نمٹ سکتا ہے؟
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب رویہ اپنائے۔‘
افغانستان کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات پاکستان کے افغان سرزمین پر حملے باعثِ تشویش ہیں اور ہم ان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایسے اقدامات افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور یہ عدم استحکام اور بحران کو بڑھا دیں گے۔‘
عبداللہ عبداللہ نے مزید کہا کہ ’بمباری، شہریوں کو نشانہ بنانا اور تشدد کوئی حل نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور مذاکرات کا رستہ ہے۔‘
سابق پاکستانی سفیر آصف درانی کی رائے میں پاکستانی فیصلہ سازوں کو عوام کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا کیونکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ ہی ایسے عناصر کا صفایا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
آصف درانی کے مطابق ’اگر قابلِ اعتبار کارروائی سامنے نہ آئی تو پاکستان کو مجبوراً افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مزید سخت جوابی اقدامات اختیار کرنے پڑ سکتے ہیں۔۔ اگرچہ دیرپا علاقائی استحکام بالآخر تعاون پر منحصر ہے، نہ کہ کشیدگی پر۔‘
تاہم فیض زالند کی رائے میں پاکستان نے بارڈر مینجمنٹ سے متعلق کچھ اقدامات اٹھائے ہیں اور اب مزید اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق پشتون قبائل کے ذریعے بھی پاکستان شدت پسند گروہوں کے چیلنج سے نمٹ سکتا ہے۔ افغان تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کو سفارتکاری کے ذریعے بھی آگے بڑھنا ہوگا اور دستیاب تمام علاقائی پلیٹ فارمز کو متحرک کرنا ہوگا۔