آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مقتولہ کی سوشل میڈیا ریلز جن سے قاتل کو پتا چلا کہ وہ کہاں ہے: ’وہ اسی علاقے میں سابقہ بیوی کو تلاش کرتا‘
- مصنف, بالا ستیش
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس مضمون میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں
’مہیش کینیڈا اور آسٹریلیا میں کام کر رہا تھا۔ مگر ان مقدمات کی وجہ سے وہ کام پر نہیں جا پا رہا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ان مقدمات اور ہراسانی سے تنگ آ گیا تھا۔‘
یہ کہنا تھا پولیس حکام کا جو سنیتا نامی اس خاتون کے قتل کی تفتیش کر رہے تھے جن کی اپنی سوشل میڈیا ریلز ان کے قاتل کے لیے جرم آسان بنا گئیں۔
وانستھالی پورم کے انسپکٹر مہیش نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ ایک انتقامی قتل ہے۔‘
سنیتا کی دادی ویلوچاوارم گاؤں سے تھیں اور اسی لیے سنیتا اور دیوراکونڈا مہیش کی ملاقات ہوئی جو جان پہچان سے محبت میں بدل گئی۔
وہ 2022 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ شادی کے بعد مہیش کام کے سلسلے میں بیرونِ ملک چلا گیا۔
سنیتا کا ویزا تاخیر کا شکار ہوا۔ اس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا۔ تاہم بعد میں سنیتا بھی بیرونِ ملک گئی مگر پھر واپس آ گئی۔ دونوں کے درمیان جھگڑے مقدمات سے طلاق تک جا پہنچے۔
سنیتا نے پولیس کے پاس شکایت درج کرائی کہ مہیش اور اس کے گھر والے اسے ہراساں کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے بتایا کہ دن بہ دن مہیش کے غصے میں اضافہ ہو رہا تھا، اور اس کا کہنا تھا کہ سنیتا کی وجہ سے اس کی نوکری چلی گئی اور اس کے خاندان کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کہ اس نے اپنی والدہ کی موت کا الزام بھی سنیتا پر ڈالا، اور بقول اس کے اس کی والدہ ذہنی کرب کی وجہ سے فوت ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ مہیش کسی بھی طرح اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ حیدرآباد میں 18 فروری کی دوپہر کو پیش آیا۔
پولیس کی طرف سے دی گئی تفصیلات کے مطابق اس معاملے کے ملزم، دیوراکونڈا مہیش کا تعلق ویلوچاورم گاؤں کا ہے تاہم وہ حیدرآباد میں ایک ہاسٹل میں رہ رہا تھا۔
مرنے والی سنیتا کا تعلق مہاراشٹر کے چندر پور ضلع سے ہے جو تلنگانہ کی سرحد کے قریب ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود تصاویر اور ویڈیوز سے پتہ معلوم کیا
مہیش اور سنیتا کی 2024 میں طلاق ہو گئی تھی۔ سنیتا نے 2025 میں ایک اور شخص سے شادی کر لی۔
اپنی والدہ کی موت پر دل میں کینہ رکھنے والے مہیش نے سنیتا کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔
وہ حیدرآباد آئے اور ایک ہاسٹل میں رہنے لگے۔ تاہم، مہیش کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سنیتا اپنے شوہر کے ساتھ کہاں رہ رہتی ہیں۔
لیکن سنیتا تک پہنچنے کے لیے ان کے ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مہیش کے لیے کارآمد ثابت ہوئے۔
سنیتا اکثر اپنی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تھی۔
پولیس نے بتایا ’اگر وہ مندر جانے کی کوئی ریل ڈالتی، تو مہیش اسے دیکھ کر اس علاقے میں تلاش کرتا۔‘
انسپکٹر مہیش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس نے سنیتا کا پتہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے لگایا۔‘
پولیس نے بتایا کہ اس کے بعد مہیش اس کے گھر میں جا کر چھپ گیا، چند دن تک سنیتا کی نقل و حرکت اور حالات کا جائزہ لیا اور پھر 18 فروری کو اسے قتل کر دیا۔
سنیتا کے شوہر نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’میری والدہ نے مجھے 18 فروری کو دوپہر 12 بجے فون کیا۔ جب میں گھر گیا تو میں نے اپنی بیوی کو باتھ روم میں خون میں لت پت شدید زخمی حالت میں پڑا پایا۔ تقریباً 11:30 بجے ایک شخص گھر میں داخل ہوا تھا، جس نے اندر سے دروازہ بند کیا اور میری بیوی کو قتل کر دیا۔‘
خودکشی کی دھمکی
انسپکٹر مہیش نے بتایا کہ جب تک پولیس وہاں پہنچی، مہیش نے اپنے اوپر پٹرول چھڑک لیا تھا اور کہا کہ اگر کوئی قریب آیا تو وہ خود کو آگ لگا دے گا۔ اسے سمجھایا گیا، پرسکون کیا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس نے بتایا: ’چھریوں کے ساتھ ساتھ ملزم کے بیگ میں برقی آری بھی ملی۔ اگر سنیتا نے دروازے بند کر دیے ہوتے، تو وہ انھیں کاٹنے کے لیے آری لے کر آیا تھا۔‘
پولیس نے کہا کہ سنیتا زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی اور انھوں نے ملزم سے ایک موبائل فون، ایک سویفٹ ڈیزائر کار اور ہتھیاروں سے بھرا بیگ ضبط کیا ہے۔
بی بی سی نے مہیش کے اہلِ خانہ اور اس کے وکیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
سائبر کرائم ماہرین اکثر مشورہ دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات اور روزمرہ سرگرمیوں جیسی تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔