شوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘

    • مصنف, گری کیپتی اماکانت
    • عہدہ, بی بی سی ایسوسی ایٹس

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کی ایک خاتون پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے قریبی دوست کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کیا۔ لیکن اس مقدمے میں ایک بیوی پر شوہر کے قتل کے الزام کے ساتھ ساتھ ایک اور الزام بھی ہے اور وہ یہ کہ اپنے خاوند کو زہر دینے کے بعد وہ خود ساری رات پورن ویڈیوز دیکھتی رہیں۔

یہ معاملہ ریاست آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے ایک گاؤں میں پیش آیا جہاں ڈوگیرالا تھانے کے تفتیشی افسر وینکٹا روی نے بی بی سی کو اس واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

بی بی سی نے مقتول اور ملزمہ کے رشتہ داروں سے بھی بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ معاملہ کیا ہے۔

45 سالہ لوکم نے 2007 میں لکشمی مادھوری سے شادی کی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ اس وقت لوکم ایک پرائیویٹ ملازمت کرتے تھے۔ وہ ساتھ میں پیاز کے کاروبار سے بھی منسلک تھے۔ تاہم مادھوری کو اپنے شوہر کا پیاز کا کاروبار پسند نہیں تھا۔

لوکم کے رشتہ داروں کے مطابق ان کی اہلیہ مادھوری پانچ سال پہلے ایک سنیما ہال میں کام کرتی تھی اور بعد میں ایک پرائیویٹ مارٹ میں کام کرتی تھیں۔

لوکم کے اہلخانہ کا الزام ہے کہ اسی دوران مادھوری کی ملاقات گوپی نامی شخص سے ہوئی۔ ان کے مطابق ’مادھوری نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ گوپی کے ساتھ کار ٹریول کا کام کرے جس پر لوکم راضی ہو گیا اور حیدرآباد چلا گیا۔‘

لوکم کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب وہ حیدرآباد میں تھے تو ان کو شک ہوا کہ ان کی غیر حاضری میں گوپی ان کے گھر آتا ہے۔ لوکم نے اپنا کام چھوڑ دیا اور گھر واپس آ کر دکانوں پر سامان سپلائی کرنے کا چھوٹا کاروبار شروع کر دیا۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان تنازع بڑھ گیا۔‘

دوسری جانب سے کچھ اور حقائق بھی سامنے آئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق مادھوری نے اپنے شوہر کے خاف تین ماہ قبل پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں خاندانوں کو بلایا گیا اور ان کی موجودگی میں جوڑے کی کونسلنگ کی گئی اور پھر گھر بھیج دیا۔ تاہم مقتول کے والد اور رشتہ داروں کے مطابق کونسلنگ کے بعد بھی ان کی شادی شدہ زندگی میں تناؤ اور جھگڑے جاری تھے۔

تفتیشی افسر نے لوکم کے والد کی مدعیت میں درج شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’الزام یہ ہے کہ مادھوری نے اپنے قریبی ساتھی گوپی کے ساتھ مل کر لوکم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور 18 جنوری کی رات انھوں نے بریانی میں 20 نشہ آور گولیاں ملا کر لوکم کو کھلائیں۔‘

پولیس کے مطابق ’مقتول کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ لوکم کی موت کی تصدیق کے بعد گوپی وہاں سے چلا گیا اور مادھوری صبح 4 بجے تک اپنے فون پر پورن ویڈیوز دیکھتی رہی۔ اس کے بعد اس نے لوگوں کو جگایا اور کہا کہ اس کے شوہر کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔‘

لوکم کے بھائی شیو کرشنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہمارے رشتہ دار وہاں پہنچے تو انھیں کچھ شک ہوا کیونکہ لوکم کے ناک اور کانوں سے خون نکل رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔‘

تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا اور سینے کی ہڈیوں کا ٹوٹنا بھی سامنے آیا ہے۔‘ ان کے مطابق ملزمہ کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی تحریری شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

’میرا شوہر مجھے پورن ویڈیوز دکھاتا تھا اور ہراساں کرتا‘

پولیس نے بتایا کہ مادھوری نے تفتیش کے دوران کہا کہ اس کے مقتول شوہر نے اسے ’پورن ویڈیوز دیکھنے کا عادی بنا دیا تھا۔‘

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے رشتہ دار قتل کے الزامات کو مسترد کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے رشتہ دار کہہ رہے ہیں کہ ’ان کی بیٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔‘

سی آئی وینکٹا برہمم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مکمل تفتیش کے بغیر کچھ بھی واضح نہیں کیا جا سکتا اور سچ تب ہی سامنے آئے گا جب گوپی، جو کہ ملزمہ کا ساتھی بتایا جاتا ہے، سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔‘

مادھوری کی والدہ نے بی بی سی کو انٹرویو کے دوران کہا کہ ’میری بیٹی کے خلاف بہت غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی اور داماد کے درمیان اختلافات تھے، کبھی کبھار وہ گھر آتی تھی لیکن پھر یہ کہہ کر واپس چلی جاتی تھی کہ بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ تین ماہ پہلے ان کے مسائل پر پنچایت ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب کیا ہوا ہے، لیکن بہت غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، میری بیٹی کبھی ایسا کام نہیں کر سکتی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ ایسے لکھ رہے ہیں جیسے سب کچھ ثابت ہو گیا ہو، یہ بہت بڑی ناانصافی ہے، وہ ایک خاتون کو بدنام کر رہے ہیں۔‘