خلیفہ المتوکل کا قتل جس کے بعد ان کے غلام ترک سپاہی پہلے عباسی خلیفہ گر اور پھر مملوک خلیفہ بنے

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق

سنہ 861 میں شہر سامراء میں دسمبر کی اُس سرد رات عباسی خلیفہ جعفر بن محمد بن ہارون (خطاب: المتوکل علی اللہ) کے دربار کی فضا میں انجانی سی بے چینی تھی۔

مائیکل بونر اپنی کتاب ’دی نیو کیمبرج ہسٹری آف اسلام‘ میں لکھتے ہیں کہ خلیفہ المتوکل شراب و طرب کی محفل سجائے ہوئے تھے۔

مؤرخ المسعودی نے شاعرِ دربار ’البحتری‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رات گہری ہوئی تو خلیفہ نشے میں ڈوب چکے تھے جب اچانک ایک ترک افسر بغا الصغیر اپنے دس سپاہیوں کے ساتھ تلواریں ہاتھ میں لیے تخت کی طرف بڑھے۔ اُس وقت تک خلیفہ المتوکل کے بیٹے المنتصر وہاں سے نکل چکے تھے۔

ولیم میور اپنی کتاب ’الخلافہ: عروج، زوال اور سقوط‘ میں بتاتے ہیں کہ المنتصر کو ولی عہد بنایا گیا تھا لیکن جب خلیفہ المتوکل کا جھکاؤ اپنے دوسرے بیٹے المعتز کی طرف ہوا، تو المنتصر اس پر سخت ناراض ہوئے۔

’ایک روز حد سے زیادہ شراب نوشی کے بعد، (خلیفہ) المتوکل نے اُن (المنتصر) کے ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک کیا۔ اس پر المنتصر نے پہلے سے بددل ترک محافظوں کو اپنے باپ کے قتل پر آمادہ کر لیا۔ بعض اعلیٰ ترک سرداروں کو برطرف کر دیا گیا تھا اور اُن کی جائیدادیں ضبط کر کے خلیفہ جعفر نے اپنے پسندیدہ افراد کو دے دی تھیں۔‘

المسعودی لکھتے ہیں کہ ترک افسر بغا الصغیر کی سربراہی میں ترک سپاہی جیسے ہی خلیفہ المتوکل کی جانب بڑھے تو اُن کے مشیر الفتح بن خاقان چیخ اٹھے: ’یہ کیسی جرات ہے؟ یہ تمھارے آقا ہیں!‘

اس موقع پر غلام، مصاحب، سب بھاگ گئے، سوائے الفتح کے جو خلیفہ کی ڈھال بن کر تنِ تنہا تلواروں کے وار روکتے رہے، سپاہیوں کو دھکیلتے رہے اور بالآخر جان سے گئے۔

پھر وہ چیخ سنائی دی— دسویں عباسی خلیفہ المتوکل کی آخری چیخ۔

ترک افسر نے اُن پر اُسی تلوار سے وار کیا تھا جو کبھی اُسی خلیفہ نے انھیں عطا کی تھی۔ پہلے دائیں جانب، پھر بائیں، جسم کمر تک چاک ہو گیا۔

المسعودی کی کتاب ’مروج الذہب‘ میں لکھا ہے کہ غیرروایتی مسلم فرقوں اور غیرمسلم گروہوں کے خلاف سخت گیر خلیفہ المتوکل اور اُن کے مقرب کی لاشیں اُسی قالین میں لپیٹ دی گئیں جس پر وہ قتل ہوئے تھے۔ پوری رات اور اگلا دن لاشیں یونہی پڑی رہیں، یہاں تک کہ خلافت المنتصر کو منتقل ہو گئی۔

عباسی خلافت میں ترک محافظ ابتدا میں طاقت کے تحفظ کے لیے لائے گئے تھے مگر وقت کے ساتھ وہ خود طاقت کی اصل صورت بن گئے۔

آدم علی نے اپنی تحقیق ’دی سلیوز دیٹ رولڈ این ایمپائر: مائٹی مملوکس‘ میں بتایا ہے کہ اُموی دور (664–750) ہی میں مشرق میں تعینات گورنر اور فوجی کمانڈر جنگ میں گرفتار کیے گئے قیدیوں میں سے اپنے محافظ دستے تشکیل دینے لگے تھے۔

’سنہ 750میں عباسی خلافت کے قیام تک یہ بات غیر معمولی نہ رہی کہ حکمرانوں، فوجی سرداروں، گورنروں اور دیگر سماجی و سیاسی اشرافیہ کے پاس ذاتی مسلح محافظ دستے ہوں، جو اکثر غلام سپاہیوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ 13ویں صدی تک وہ مملوک کہلانے لگے۔‘

آدم علی کے مطابق نویں صدی میں خلیفہ ہارون الرشید کے دو بیٹوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی جس میں خلیفہ الامین کے مقابلے میں بالآخر المأمون فاتح ٹھہرے، اور مشرق سے بغداد واپسی پر وہ ایک نئی فوج ساتھ لائے، جس میں مشرقی ایرانی اور ترک کرائے کے سپاہی اور غلام فوجی شامل تھے۔

’اپنے بھائی الواثق کے بعد خلافت پر فائز ہونے سے پہلے ہی تیسرے بھائی المعتصم کے زیرِ کمان چار ہزار منتخب ترک غلام سپاہی تھے۔

’اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے عرب قبائلیوں اور خراسان کے ایرانیوں پر مشتمل جز وقتی اور نیم پیشہ ور پرانی فوج کو تحلیل کر دیا اور پیشہ ور سپاہیوں پر مشتمل ایک مستقل فوج قائم کی‘۔

سولومن اے نیگوسین کی کتاب ’اسلام: اٹس ہسٹری، ٹیچنگ اینڈ پریکٹسز‘ میں لکھا ہے کہ المعتصم اگرچہ خلافت میں بقا کے لیے ضروری اپنی عسکری اور سیاسی صلاحیتوں کے باعث یاد کیے جاتے ہیں لیکن وہ نادانستہ طور پر اپنی ہی سلطنت کے زوال کے معمار بن گئے۔

انھوں نے دارالخلافہ کو بغداد سے شمال کی جانب سامراء منتقل کیا۔

جیمز واٹرسن اور جان مین نے اپنی کتاب ’دی نائٹس آف اسلام: دی وارز آف مملوکس‘ میں لکھا ہے کہ سنہ 836 میں بنا یہ شہر فصیل بند احاطوں پر مشتمل تھا، جن میں رہائشی عمارتوں، صحنوں، گھڑ دوڑ کے میدانوں اور شکارگاہوں، وسیع ہالوں، حرموں، اور شاہراہوں اور ذیلی گلیوں کے جال نما نظام کے لامتناہی سلسلے تھے، جو شہر کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے تھے۔

’اس شہر کو خود کفیل بنانے اور حکمران کو رعایا سے الگ رکھنے اور مملوک فوجی اشرافیہ کو ان ممکنہ فتنہ انگیز اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جو انھیں خلیفہ سے وفاداری توڑنے پر آمادہ کر سکتے تھے۔‘

سامراء کے اندر بھی مملوکوں کو ایسے خود مختار رہائشی حصوں میں بسایا گیا تھا جو شہری علاقوں سے بالکل الگ تھے۔

ان فوجی بیرکوں جیسے محلّوں میں، جیسا کہ الیعقوبی کا بیان ہے، مملوکوں کی شادیاں درآمد کی گئی لونڈیوں سے کرائی جاتی تھیں کیونکہ مقامی شہری عورتوں سے ان کی شادی ممنوع تھی۔ مملوکوں کے لیے علیحدہ مساجد بھی تعمیر کی گئیں؛ حتیٰ کہ نماز کو بھی عام آبادی کے ساتھ ادا کی جانے والی سرگرمی نہیں سمجھا جاتا تھا۔‘

آدم علی کے مطابق ’ترک غلام فوجیوں کی بڑی تعداد کے علاوہ اس نئی فوج میں مشرق (خراسان اور ماوراءالنہر) اور شمال (بحیرۂ کیسپین کے علاقے) سے تعلق رکھنے والے ایرانی بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ ایک دستہ مغاربہ (یعنی مغربی لوگ) کے نام سے بھی موجود تھا، جو مصر کے عرب قبائلیوں اور شمالی افریقہ کے بربروں پر مشتمل تھا۔‘

المعتز کی جانشینی کو الفتح سمیت روایتی عباسی اشرافیہ کی تائید، جبکہ المنتصر کو ترک اور مغاربہ محافظ دستوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔

سنہ 861 کے اواخر میں المعتصم کے بیٹے المتوکل کے لیے صورتِ حال فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی۔

ایم گورڈن کی کتاب ’دی بریکنگ آف اے تھاؤزینڈ سورڈز‘ اور ہیو کینیڈی کی کتاب ’دی پرافٹ اینڈ دی ایج آف دی کیلیفیٹس‘ سے علم ہوتا ہے کہ ’اکتوبر میں المتوکل نے ترک جنرل واصف کی جاگیر ضبط کر کے الفتح کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ خود کو دیوار سے لگا ہوا محسوس کرتے ہوئے ترک قیادت نے خلیفہ کے قتل کی سازش شروع کر دی۔

اس منصوبے میں جلد ہی، یا کم از کم خاموش رضامندی کے ساتھ، المنتصر بھی شامل ہو گئے، جو خلیفہ کے ہاتھوں مسلسل ذلت آمیز سلوک پر دل برداشتہ تھے۔ اس دوران میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ واصف اور دیگر ترک سرداروں کو 12 دسمبر کو گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے گا، چنانچہ سازشیوں نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔

سامراء انتشار

کینیڈی کے مطابق المتوکل کے قتل سے اس نو سالہ پُرآشوب دور کا آغاز ہوا جو تاریخ میں ’سامراء انتشار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس نے عباسی خلافت کو انہدام کے دہانے تک پہنچا دیا۔

’اگرچہ المعتصم کی نئی پیشہ ور فوج عسکری اعتبار سے نہایت مؤثر ثابت ہوئی تھی لیکن اس نے عباسی اقتدار کے استحکام کے لیے ایک ممکنہ خطرہ بھی پیدا کر دیا۔ معاشرے کے عمومی دھارے سے کٹی اس فوج کے سپاہی اپنی بقا کے لیے عطا (ریاستی وظیفہ) پر منحصر تھے۔ چنانچہ تنخواہوں کی ادائیگی میں ناکامی یا ان کے مقام کو خطرے میں ڈالتی پالیسیاں پُرتشدد ردِعمل کا سبب بنتی تھیں۔

کینیڈی لکھتے ہیں یہ وہ زمانہ تھا جب ریاستی آمدنی تیزی سے کم ہونے لگی، ایک طرف صوبوں میں خود مختار خاندانوں کے ابھرنے کے باعث اور دوسری طرف عراق کے نشیبی علاقوں کی زرعی پیداوار میں کمی کی وجہ سے، جو روایتی طور پر ٹیکس آمدنی کا بڑا ذریعہ تھے۔

’المعتصم کی وفات کے ایک صدی سے بھی کم عرصے میں یہی عمل عباسی حکومت کی دیوالیہ پن کی صورت اختیار کر گیا اور بالآخر خلیفاؤں کی سیاسی طاقت زائل ہو گئی۔ اس کا واضح مظہر خزر النسل فوجی افسر ابنِ رائق کا امیر الامرأ کے منصب تک پہنچنا تھا، جس نے خلافتی اقتدار کے زوال پر مہر ثبت کر دی۔‘

سامراء جلد ہی اقتدار کا مرکز بن گیا۔ المتوکل کے قتل نے اس تبدیلی پر آخری مہر ثبت کر دی۔ اگلے نو برسوں میں چار خلفاء یا تو قتل ہوئے یا تخت سے اتار دیے گئے، اور ہر تبدیلی کے پیچھے ترک سپاہیوں کا سایہ نمایاں رہا۔

گورڈن کے مطابق المنتصر کی خلافت سے ان کے قریبی ساتھیوں کو فائدہ پہنچا، جن میں ان کے مشیر احمد بن الخصیب (بطور وزیر) اور ترک جنرل واصف شامل تھے، جو غالباً المتوکل کے قتل میں اہم کردار ادا کر چکے تھے۔

المنتصر کی حکومت چھ ماہ سے بھی کم رہی۔ وہ سات جون 862 کو 24 برس کی عمر میں نامعلوم بیماری سے وفات پا گئے، بعض روایات کے مطابق انھیں زہر آلود نشتر سے فصد لگائی گئی تھی۔

تاریخ ِ طبری سے پتا چلتا ہے کہ المنتصر کے بعد، ترک فوجی قائدین نے مشاورت سے احمد بن محمد (المعتصم کے پوتے) کو خلیفہ منتخب کیا، جنھوں نے المستعین کا لقب اختیار کیا۔ ساڑھے چار برس حکومت کی، مگر عباسی خانہ جنگی کے بعد بالآخر المعتز کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ عملاً انھیں بغداد میں نظر بند رکھا گیا۔ 17 اکتوبر 866 کو المعتز کے حکم پر انھیں قتل کر دیا گیا۔

کینیڈی نے لکھا ہے کہ المتوکل کے نامزد جانشینوں میں شامل ہونے کے باوجود، المعتز کو پہلے دستبرداری اور قید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوری 866 میں ترک فوج اور المستعین کے درمیان خانہ جنگی کے دوران میں وہ خلیفہ بنے۔ انھوں نے ترک فوج پر خلافت کی بالادستی بحال کرنے کی کوشش کی، مگر شدید مالی بحران کے باعث ناکام رہے۔ فوج کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہ رہی، اور بغداد اور اطراف میں بدامنی پھیل گئی۔

بالآخر ترک فوج کے دباؤ پر جولائی 869 میں انھیں معزول کر کے قید کیا گیا، جہاں تین دن کے اندر ان کی موت واقع ہو گئی۔

محمد بن جریر طبری نے ’تاریخ الرسل والملوک‘ میں لکھا ہے کہ ترکوں‌ نے معتز کو سوئیوں، لوہے کی لاٹھیوں، طمانچوں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ انھیں شدید دھوپ میں کھڑا کیا یہاں تک کہ بادشاہ نے خلافت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

الذھبی کے مطابق شدید گرمی کے باعث خلیفہ کی حالت نازک ہو چکی تھی۔ سخت پیاس کی حالت میں انھیں برفیلا اور شدید ٹھنڈا پانی پلایا گیا۔ وہ پانی پیتے ہی المعتز بااللہ کی وفات ہو گئی۔

کینیڈی اور دیگر مؤرخین کے مطابق المعتز کے قتل کے بعد ترک محافظوں نے المہتدی کو خلیفہ منتخب کیا۔ انھیں عوامی حمایت حاصل ہوئی تاہم اصل خطرہ ترک فوجی سردار ہی رہے۔ موسیٰ بن بغا اور ان کے بھائی محمد کے ساتھ تصادم کے بعد حالات بگڑے تو ترک فوج نے دارالحکومت پر چڑھائی کی اور بالآخر 21 جون 870 کو المہتدی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد المعتَمِد خلیفہ بنے۔

خاندان عباسیہ نے 500 سال سے زائد عرصے تک حکومت کی۔ واثق باللہ (842-847) اور متوکل (847-861) عباسیوں کے عہد عروج کے آخری دو خلفا تھے جن کے دور میں سلطنت کی عسکری طاقت میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم المتوکل کے بعد خلافت زوال کی جانب گامزن ہو گئی اور ان کی وسیع و عریض سلطنت کی حدود کم ہوتی چلی گئیں۔

مؤرخ ہیو کینیڈی کے مطابق، بعد کی نسبتی بحالی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ ترکوں کو شکست دی گئی، بلکہ اس لیے کہ انھیں ریاستی ڈھانچے میں ایک مستقل حصہ دے دیا گیا۔ مگر یہ شراکت کمزوری کی بنیاد پر تھی، طاقت کی ایسی تقسیم جس میں خلافت ایک علامت بن کر رہ گئی اور اختیار بکھر گیا۔

یوں خلیفہ المعتمد، جنھیں عباسی خاندان کے بانی کے نام پر ’السفّاح ثانی‘ کہا گیا، نے ترک خطرات اور جنوبی دلدلی علاقوں میں زنجیوں کی شدید بغاوت کے باوجود 22 برس حکومت کی۔ ان کی کامیابی کو ان کے غیر معمولی بھائی الموفق نے سہارا دیا، جنھیں ان کی افسانوی بہادری، قوت اور فہم و فراست کے باعث ’المنصور ثانی‘ کہا گیا۔

زنج بغاوت میں غلاموں اور آزاد افراد، افریقی اور عرب، نے حصہ لیا۔ یہ بغاوت بے حد خونریز ثابت ہوئی اور دسیوں ہزار جانیں گئیں، یہاں تک کہ بالآخر اسے کچل دیا گیا۔ الطبری اور المسعودی جیسے مؤرخین نے اسے عباسی دور کی ’سب سے سفاک اور ہولناک بغاوتوں‘ میں شمار کیا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ مملوک مختلف مسلم معاشروں میں ایک طاقتور عسکری طبقے کے طور پر اُبھر آئے، خصوصاً مصر اور شام میں۔ عثمانی سلطنت، بلادِ شام، بین النہرین اور ہندوستان میں بھی مملوکوں نے سیاسی اور فوجی طاقت حاصل کی۔ بعض مواقع پر وہ سلطان کے منصب تک پہنچے، جبکہ دیگر حالات میں انھوں نے امیر یا بیگ کی حیثیت سے علاقائی اقتدار سنبھالا۔

سب سے نمایاں طور پر مملوک گروہوں نے مصر اور شام میں قائم سلطنت پر قبضہ کر کے وہاں مملوک سلطنت (1250–1517) کی بنیاد رکھی اور اس پر حکومت کی۔ مملوک سلطنت نے جنگِ عین جالوت میں ایلخانی منگول سلطنت کو تاریخی شکست دی۔ اس سے قبل انھوں نے 1154–1169 اور 1213–1221 کے درمیان مغربی یورپی صلیبیوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور بالآخر انھیں مصر اور بلادِ شام سے مؤثر طور پر بے دخل کر دیا۔