آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سفر کے دوران نامناسب انداز میں چھونے کا الزام: وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی خودکُشی، ویڈیو پوسٹ کرنے والی خاتون گرفتار
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
انڈیا کی ریاست کیرالہ میں مبینہ جنسی ہراسانی سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے وائرل بعد اُس میں نطر آنے والے شخص نے خودکشی کر لی ہے۔
ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اس معاملے میں پولیس کو تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے والی خاتون کے خلاف ’خودکشی پر اُکسانے‘ جیسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔
مذکورہ خاتون نے گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص انھیں ’نامناسب انداز میں چُھو رہا تھا۔‘
ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی جانب سے اپنی جان لینے کے بعد، اُن کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والی خاتون نے الزام لگایا تھا کہ بس میں سفر کے دوران ویڈیو میں نظر آنے والے شخص نے اُن کی ’حدود‘ کی خلاف ورزی کی اور جانتے بوجھتے انھیں نامناسب طریقے سے چھوا۔
یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور بہت سے صارفین نے ویڈیو میں نظر آنے والے شخص پر تنقید کی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا نام دیپک ہے۔ دیپک کے دوست اصغر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگلے دن مجھے بھی وہ سوشل میڈیا پوسٹ ملی جسے میں نے دیپک کے ساتھ شیئر کیا۔ دیپک مہذب انسان تھا، وہ کبھی کسی کو بھی، خاص طور پر خواتین کو، تکلیف پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘
ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اس معاملے پر پولیس کو ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ذہنی اذیت‘
دیپک ایک ٹیکسٹائل ہول سیل کمپنی میں سیلز نمائندہ کے طور پر کام کرتے تھے اور جس روز یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تب وہ گھر واپس آ رہے تھے۔
گذشتہ سنیچر کو اُن کی 42ویں سالگرہ تھی۔ اُن کے دوست اصغر کے مطابق بظاہر ’بس میں بہت زیادہ ہجوم ہونے کی وجہ سے دیپک یہ نہیں دیکھ سکتا تھا کہ اُس کے پیچھے کون کھڑا ہے۔‘
تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اتوار کے روز دیپک نے ایک مقامی وکیل سے ملاقات کی تھی جہاں یہ مواد پوسٹ کرنے والی خاتون کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کی بات بھی زیر بحث آئی تھی۔
دیپک کے کزن جیجل وجے کے مطابق ’وہ (دیپک) اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والدین غم سے نڈھال ہیں اور اس پوزیشن میں بھی نہیں کہ اُن کی بات کی جا سکے۔‘۔
دوسری جانب الزام عائد کرنے والی خاتون نے ابتدا میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے تھے۔
خاتون کا موقف
تاہم بعدازاں خاتون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک الگ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے اپنا سابقہ موقف برقرار رکھا اور کہا کہ انھوں نے یہ ویڈیو ’ویوز‘ کے لیے نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور ذہنی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے بنائی۔
خاتون نے ویڈیو میں کہا کہ ’میں نے ایک شخص کی ویڈیو پوسٹ کی، جس میں جان بوجھ کر میرے جسم کو چھوا، یہ نہ تو کوئی حادثہ تھا اور نہ ہی کسی غلط فہمی کا نتیجہ۔ کیا کسی کو بغیر اجازت کے کسی کے جسم کو چھونے کا حق ہے؟‘
انھوں نے مزید کہا ’کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ (دیپک) کیا پیغام بھیج رہا تھا؟ اُس کا رویہ یہ تھا کہ کوئی میرا کچھ نہیں کر سکتا۔ میں یہ اس لیے کہہ رہی ہوں کہ میں نے اپنے سامنے ایک لڑکی کو دیکھا جو اس کی حرکتوں سے پریشان تھی۔ اسی وقت میں نے کیمرہ کھول کر اس کی حرکتیں ریکارڈ کرنا شروع کیں۔ اس نے مجھے ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا۔‘
’لیکن میں نے اسے دوبارہ وہی رویہ دہراتے دیکھا۔ تو ہمیں اس کے رویے سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہیے؟ اس کا پیغام یہ تھا کہ اسے ویڈیو کی بھی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اسے جاری رکھے گا۔‘
خاتون نے مزید کہا کہ ’جب میں نے ویڈیو بنائی تو میرا مقصد اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا تھا۔ معاشرے کو ایسے افراد سے سوال کرنا چاہیے۔ اس کے گھر والوں اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو یہ ویڈیو دیکھنی چاہیے۔‘
خاتون نے کہا کہ ’اگر معاشرہ اس رویے کو معمول کا سمجھ کر قبول کر لے تو کوئی بھی انسان اپنے اس نوعیت کے رویے میں تبدیلی نہیں لائے گا۔ تب شکار کو صرف نشانہ بنایا جائے گا اور وہ اپنی حرکتیں دہراتے رہیں گے۔‘