’ہمارا آدھا گھریلو سامان باہر بڑا ہے۔۔۔آدھا اب ہم گاڑیوں میں ڈال چکے ہیں اور اس دوران شدید سردی میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ دو روز کے لیے رُک جائیں، ہم تو پھنس چکے ہیں، اُدھر علاقے میں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کے لیے راشن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔‘
یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ کے رہائشی محمد فدا کا۔
رواں ماہ آٹھ جنوری کو پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
مقامی آبادی کا انخلا کا عمل گذشتہ روز بھی جاری تھا جب اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور سڑکیں بند ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث درجنوں افراد سڑکوں پر موجود اپنی گاڑیوں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئے۔
گذشتہ رات خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں علاقے سے لوگوں کے انخلا کے عمل ’زبردستی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انخلا کے دوران لوگ بر فباری میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اُن کی مدد کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ’تقریباً تین جگہوں پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کُچھ لوگوں کو نزدیک واقع گھروں میں اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائئ گئے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کے ساتھ سگنلز نہ ہونے اور راستہ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘
وادی تیراہ سے آنے والے تاجر شیر افگن نے بی بی سی کو بتایا کہ تیراہ کے علاقے میں شدید برف پڑ رہی ہے اور بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس چکی ہیں اور برفباری کی وجہ سے گھریلو سامان سے لدی گاڑیاں پھسل رہی ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق اسی صورتحال کے باعث جمعرات کو ایک گاڑی کھائی میں جا گری جس سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کے دو افراد ہلاک ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا لوگوں کو آئندہ دو روز کے لیے سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بارشیں اور برفباری کا سلسلہ رُک جائے تو پھر سفر کیا جا سکتا ہے۔
اُن کے بقول علاقے میں سرکاری عملہ موجود ہے اور اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔
اب تک تیراہ سے کتنے افراد نقل مکانی کر چکے ہیں؟
اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ تفصیل نہیں بتائی جا رہی۔
بی بی سی نے اس بارے میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس منصوبے کے لیے رجسٹریشن اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے حکام بھی اس بابت کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔
سرکاری طور پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 15 جنوری تک نقل مکانی کرنے والے چھ ہزار 775 خاندانوں کی رجسٹریشن کی جا چکی تھی۔
مقامی افراد کے مطابق اس علاقے میں 30 ہزار خاندان آباد ہیں۔
برفباری، بارش اور بے سروسامانی
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ بہت سے خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں مگر اب بھی بڑی تعداد میں لوگ تیراہ کے علاقے میں موجود ہیں۔
شیر افگن نے بتایا کہ گذشتہ دنوں کے دوران یہاں بہت زیادہ برف پڑ چکی ہے اور لوگوں کے پاس گاڑیوں کے ٹائروں پر لگانے کے لیے زنجیریں بھی نہیں ہے جس وجہ سے گاڑیاں بہت آہستہ حرکت کر رہی ہیں اور راستوں میں پھنسے افراد، جن میں حواتین، بچے اوربزرگ بھی شامل ہیں، کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چند روز قبل تیراہ باغ سے نقل مکانی کر کے باڑہ پہنچنے والے محمد کاشف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ راستوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاروں کی وجہ سے کم سے کم ایک رات اور دو دن راستے میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔
تیراہ کے رہائشی جماعت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مکان مرکزی سڑک سے کافی دُور ہے۔ اس لیے انھیں گھریلو سامان کی منتقلی کے لیے پہلے خچروں اور گدھوں کا انتظام کرنا پڑا تاکہ سامان کو اُوپر سڑک تک لایا جا سکے۔
اُن کے بقول اُن کے گاؤں میں 20 سے 25 گھرانے ہیں، جو سب خچروں اور گدھوں کا انتظام کر رہے تھے تاکہ سامان سڑک تک لے جائیں جہاں سے پھر گاڑیوں میں سامان لادنا تھا تاکہ علاقے سے نکل سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب بھی آدھا سامان گھروں میں پڑا ہے وہ ابھی لانا ہے۔
نقل مکانی کرنے والے صاحب جان نے بتایا کہ باڑہ اور پشاور میں کرائے کا مکان حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، یہاں کرائے زیادہ ہیں اور سردی سے بچنے کا انتظام نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے علاقوں میں سردی سے بچاؤ کے انتظام کیے ہوتے ہیں مگر یہاں اگر ’ہم گیس اور بجلی کا زیادہ استعمال کریں گے تو بھاری بل دینے پڑیں گے۔‘
مقامی تاجر رہنما شیر افگن نے بتایا کہ جب سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد سے تیراہ میں اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ادھر ڈپٹی کمشنر خیبر کے فیس بک پیج پر ایسے پیغامات بھی جاری کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ دو روز کے لیے وہ روانہ نہ ہوں کیونکہ راستے میں بارش اور برفباری سے حادثات پیش آ رہے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی اور حکومت کے ترجمان شفیع جان کل رات تیراہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ متاثرین کی باعزت اور محفوظ نقل مکانی کے لیے اقدامات کریں گے۔