آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاکستان کے مختلف حصوں میں شدید برفباری: مری میں غیر مقامی افراد کا داخلہ بند، وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے مشکلات کا شکار

پاکستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برفباری اور شدید بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، مالم جبہ میں اب تک 38 انچ، کالام میں 30 جبکہ مری میں 11.5 انچ برف پڑ چکی ہے۔ دوسری جانب خیبرپخونخوا کے علاقے تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن کے پیش نظر نقل مکانی کرنے والے شہری جمعرات کی شب شدید برفباری میں پھنس گئے جبکہ شدید موسمی حالات کے باعث مری میں غیر مقامی افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔

خلاصہ

  • ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف جارہا ہے لیکن امید ہے اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دی گئی 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی
  • گرین لینڈ کے ایسے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت ہم جو چاہے کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ
  • روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات آج متحدہ عرب امارات میں، 'جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات تقریباً تیار ہیں': زیلنسکی
  • امریکی صدر نے غزہ 'بورڈ آف پیس' کا باقاعدہ اعلان کر دیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کر دیے

لائیو کوریج

  1. شدید موسمی حالات کے باعث مری میں غیر مقامی افراد کا داخلہ بند، گاڑیوں کے لیے سنو چین اور ونٹر ٹائر لازمی قرار

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مری میں شدید موسمی حالات کے باعث شہر میں داخلے کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مری کے داخلی راستے صرف مقامی افراد کے لیے کھولے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ہی انٹری کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دیگر ہر قسم کی ٹریفک کو مری میں داخلے سے روکا گیا ہے۔

    انتظامیہ نے سیاحوں کو موسم بہتر ہونے تک مری کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    دوسری جانب، مری پولیس کے ایکس ہینڈل سے مری میں داخل ہونے والے سیاحوں کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    مری پولیس کا کہنا ہے کہ مری میں گذشتہ 15 گھنٹوں سے مسلسل برفباری جاری ہے جس کے باعث سڑکوں پر شدید پھسلن اور حدِ نگاہ بہت کم ہو گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مری میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں میں سنو چین اور ونٹر ٹائر کا ہونا لازمی ہے اور حفاظتی انتظامات کے بغیر مری میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    مری پولیس نے لوگوں کو مری کا غیر ضروری اور بالخصوص رات کے وقت سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  2. برفباری کے باعث خیبر پختونخوا میں کون کون سی شاہراہیں متاثر ہیں؟

    شدید سردی اور برفباری کی حالیہ لہر کے باعث پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی کئی شاہراہیں بند ہیں جبکہ کئی مقامات پر انتظامیہ نے سڑکیں بحال کر دی ہیں۔

    صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبے کی مختلف شاہراہوں کی صورتحال کے متعلق ایڈائزری جاری کی ہے۔

    ضلع بونیر

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، برفباری کے باعث شاہی دوسر روڈ، چاغرزئی کولائی روڈ گدیزی پر ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ تاہم کسی بھی سیاح یا مقامی آبادی کے پھنسنے کی اطلاع نہیں جبکہ انتظامیہ بحالی کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ضلع شانگلہ

    ضلع شانگلہ کی مرکزی سوات۔بشام روڈ اور یخ تانگی روڈ برفباری سے متاثر ہے۔ علاقے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔ سڑکوں کی بحالی کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔

    ضلع سوات

    ضلع سوات میں کالام روڈ، مالم جبہ روڈ اور گلیشیئر تا مہو ڈنڈ روڈ پر برفباری ہوئی ہے۔ کالام اور مالم جبہ روڈ بحال کر دی گئی ہیں جبکہ گلیشیئر تا مہو ڈنڈ روڈ پر کام جاری ہے۔ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ سیاح یا آبادی متاثر نہیں ہوئی ہے۔

    ضلع چترال لوئر

    لواری ٹنل نارتھ، شیشی کوہ، مدک لشٹ، دروش۔لسپور، آیون۔بونی، چترال۔گرم چشمہ، گرم چشمہ تا گوبور، چترال۔بونی اور بونی روڈ پر برفباری کے باعث آمدورفت متاثر ہے۔

    ضلع چترال اپر

    ضلع چترال اپر میں مختلف رابطہ سڑکیں برفباری سے متاثر ہوئی ہیں۔ کسی سیاح کے پھنسنے کی اطلاع نہیں جبکہ بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع دیر لوئر

    شاہی روڈ اور کالپانی لنک روڈ برفباری سے متاثر ہے جسے مشینری کے ذریعے کھولنے کا عمل جاری ہے۔

    ضلع دیر اپر

    ضلع دیر اپر میں لواری ٹنل عارضی طور پر بند ہے جبکہ کُمراٹ روڈ متاثر ہے۔ بحالی کے لیے مشینری سرگرم ہے۔

    ضلع مانسہرہ

    کاغان ناران روڈ اور بٹال روڈ (اپر) برفباری سے متاثر ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایک سیاح کے پھنسنے کی اطلاع ہے۔ سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع ایبٹ آباد

    ضلع ایبٹ آباد کی مرکزی نتھیاگلی۔مری روڈ، ٹھنڈیانی روڈ، جی ڈی اے اور سی این ڈبلیو ٹاون روڈ برفباری سے متاثر ہیں۔

    ضلع بٹگرام

    الائی بننہ روڈ اور اوغی۔کنڈاؤ روڈ، شملی روڈ، ترنڈ روڈ، شرکول ٹاپ تا چترال (کے کے ایچ) اور بٹال ٹنل کے اطراف برفباری سے سڑکیں متاثر ہیں جنھیں بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ضلع کولئی پالس

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ علاقے میں شراکوٹ روڈ، کولئی روڈ اور خیلی یار روڈ برفباری کے باعث متاثر ہیں جس کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع تورغر

    برفباری کے بعد ٹیلی روڈ بند ہے۔ برفباری رکنے کے بعد کلیئرنس شروع کی جائے گی۔

    ضع صوابی

    ضع صوابی میں بیر گلی روڈ متاثر ہوئی تھی جسے بحال کر دیا گیا ہے۔

    ضلع خیبر

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ میرابان تا تیراہ ویلی روڈ پر برفباری کے باعث وادی تیراہ سے نقلی مکانی کرنے والے افراد پھنس گئے ہیں۔ ریلیف اور سڑک کھولنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    ضلع مہمند

    پی ڈی ایم کا کہناہے کہ ضلع مہمند میں کوئی سڑک متاثر نہیں اور صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

    جنوبی وزیرستان (اپر)

    لادھا روڈ برفباری سے متاثر ہے جسے کھولنے کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔

    ضلع باجوڑ

    برفباری کے باعث ضلع باجوڑ کی بارنگ روڈ پر آمدورفت متاثر ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، سڑک کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    ضلع شمالی وزیرستان

    شمالی وزیرستان میں رزمک روڈ ڈنکن کے مقام پر متاثر ہے۔ پی ڈی ایم کا دعویٰ ہے کہ ایک طرفہ ٹریفک بحال کر دی گئی ہے جبکہ مکمل بحالی کا عمل جاری ہے۔

    ضلع کرم

    مختلف سڑکیں برفباری سے متاثر ہیں جن کی بحالی کے لیے مشینری کے ذریعے کام جاری ہے۔

    ضلع اورکزئی

    ضلع اورکزئی میں سن پوگ روڈ، کالایا روڈ اور غلجو تا ڈبوری روڈ برفباری سے متاثر ہیں۔ انتظامیہ سڑکوں کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

    ضلع کوہستان اپر

    کوہستان اپر میں قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) داسو کے آگے متعدد مقامات پر بند ہے۔ مشینری کے ذریعے سڑک کو کھولنے کا عمل جاری ہے۔

  3. پاکستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کے بعد کے مناظر

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور شدید برفباری کا امکان ہے۔

    اب تک صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں اور پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں شدید برفباری ہوئی ہے۔

  4. برفباری، راشن کی قلت اور بے سروسامانی: تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    ’ہمارا آدھا گھریلو سامان باہر بڑا ہے۔۔۔آدھا اب ہم گاڑیوں میں ڈال چکے ہیں اور اس دوران شدید سردی میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ دو روز کے لیے رُک جائیں، ہم تو پھنس چکے ہیں، اُدھر علاقے میں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کے لیے راشن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔‘

    یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ کے رہائشی محمد فدا کا۔

    رواں ماہ آٹھ جنوری کو پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    مقامی آبادی کا انخلا کا عمل گذشتہ روز بھی جاری تھا جب اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور سڑکیں بند ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث درجنوں افراد سڑکوں پر موجود اپنی گاڑیوں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    گذشتہ رات خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں علاقے سے لوگوں کے انخلا کے عمل ’زبردستی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انخلا کے دوران لوگ بر فباری میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اُن کی مدد کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا تھا کہ ’تقریباً تین جگہوں پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کُچھ لوگوں کو نزدیک واقع گھروں میں اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائئ گئے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کے ساتھ سگنلز نہ ہونے اور راستہ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

    وادی تیراہ سے آنے والے تاجر شیر افگن نے بی بی سی کو بتایا کہ تیراہ کے علاقے میں شدید برف پڑ رہی ہے اور بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس چکی ہیں اور برفباری کی وجہ سے گھریلو سامان سے لدی گاڑیاں پھسل رہی ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق اسی صورتحال کے باعث جمعرات کو ایک گاڑی کھائی میں جا گری جس سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کے دو افراد ہلاک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا لوگوں کو آئندہ دو روز کے لیے سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بارشیں اور برفباری کا سلسلہ رُک جائے تو پھر سفر کیا جا سکتا ہے۔

    اُن کے بقول علاقے میں سرکاری عملہ موجود ہے اور اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔

    اب تک تیراہ سے کتنے افراد نقل مکانی کر چکے ہیں؟

    اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ تفصیل نہیں بتائی جا رہی۔

    بی بی سی نے اس بارے میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    اس منصوبے کے لیے رجسٹریشن اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے حکام بھی اس بابت کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

    سرکاری طور پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 15 جنوری تک نقل مکانی کرنے والے چھ ہزار 775 خاندانوں کی رجسٹریشن کی جا چکی تھی۔

    مقامی افراد کے مطابق اس علاقے میں 30 ہزار خاندان آباد ہیں۔

    برفباری، بارش اور بے سروسامانی

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ بہت سے خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں مگر اب بھی بڑی تعداد میں لوگ تیراہ کے علاقے میں موجود ہیں۔

    شیر افگن نے بتایا کہ گذشتہ دنوں کے دوران یہاں بہت زیادہ برف پڑ چکی ہے اور لوگوں کے پاس گاڑیوں کے ٹائروں پر لگانے کے لیے زنجیریں بھی نہیں ہے جس وجہ سے گاڑیاں بہت آہستہ حرکت کر رہی ہیں اور راستوں میں پھنسے افراد، جن میں حواتین، بچے اوربزرگ بھی شامل ہیں، کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    چند روز قبل تیراہ باغ سے نقل مکانی کر کے باڑہ پہنچنے والے محمد کاشف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ راستوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاروں کی وجہ سے کم سے کم ایک رات اور دو دن راستے میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔

    تیراہ کے رہائشی جماعت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مکان مرکزی سڑک سے کافی دُور ہے۔ اس لیے انھیں گھریلو سامان کی منتقلی کے لیے پہلے خچروں اور گدھوں کا انتظام کرنا پڑا تاکہ سامان کو اُوپر سڑک تک لایا جا سکے۔

    اُن کے بقول اُن کے گاؤں میں 20 سے 25 گھرانے ہیں، جو سب خچروں اور گدھوں کا انتظام کر رہے تھے تاکہ سامان سڑک تک لے جائیں جہاں سے پھر گاڑیوں میں سامان لادنا تھا تاکہ علاقے سے نکل سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب بھی آدھا سامان گھروں میں پڑا ہے وہ ابھی لانا ہے۔

    نقل مکانی کرنے والے صاحب جان نے بتایا کہ باڑہ اور پشاور میں کرائے کا مکان حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، یہاں کرائے زیادہ ہیں اور سردی سے بچنے کا انتظام نہیں ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے علاقوں میں سردی سے بچاؤ کے انتظام کیے ہوتے ہیں مگر یہاں اگر ’ہم گیس اور بجلی کا زیادہ استعمال کریں گے تو بھاری بل دینے پڑیں گے۔‘

    راشن کی قلت

    مقامی تاجر رہنما شیر افگن نے بتایا کہ جب سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد سے تیراہ میں اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ادھر ڈپٹی کمشنر خیبر کے فیس بک پیج پر ایسے پیغامات بھی جاری کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ دو روز کے لیے وہ روانہ نہ ہوں کیونکہ راستے میں بارش اور برفباری سے حادثات پیش آ رہے ہیں۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی اور حکومت کے ترجمان شفیع جان کل رات تیراہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ متاثرین کی باعزت اور محفوظ نقل مکانی کے لیے اقدامات کریں گے۔

  5. پاکستان میں سردی کی تازہ لہر: اب تک سب سے زیادہ برفباری کہاں ہوئی ہے؟

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی ملک کے کئی حصوں میں 21 سے 24 جنوری کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں اور شدید برفباری کے متعلق خبردار کر دیا گیا تھا۔

    محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، سردی کی حالیہ لہر کے دوران، سب سے زیادہ برفباری خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مالم جبہ میں اب تک 38 انچ جبکہ وادی کالام میں اب تک 30 انچ برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ چترال اور پاڑا چنار میں بالترتیب 16 اور 15 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے علاقوں قلات اور کوئٹہ میں بھی بالترتیب 1.6 اور 1.5 انچ برفباری ہوئی ہے۔

  6. مری میں 12 انچ تک برفباری ریکارڈ، آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں اور شدید برفباری کی پیشگوئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں گذشتہ رات سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور حکام کے مطابق اب تک تقریباً 12 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔

    صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مری میں اس وقت بھی برفباری جاری ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور شدید برفباری کی پیشگوئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، مری اور گردونواح میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    حکام کی جانب سے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حکام کنٹرول روم سے موسم کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب مری پولیس کا کہنا ہے کہ برفباری کے باعث ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح مری کا رخ کر رہے ہیں۔

    سیاحوں کے لیے اہم ہدایات

    مری پولیس نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے آنے والے سیاحوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں:

    • سیاح سفر سے قبل موسم اور ٹریفک صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
    • گاڑیوں میں برف کے لیے موزوں ٹائر، چین اور ایمرجنسی سامان لازمی رکھیں۔
    • غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف مجاز راستوں کا استعمال کریں۔
    • سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرنے سے اجتناب کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔
  7. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں، معمولاتِ زندگی متاثر, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    گذشتہ روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ہونے والی بارش اور برفباری کے بعد سے یخ بستہ تیز سائبیرین ہوائوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھاُ جو کہ تاحال جاری ہے۔

    شدید سردی کی وجہ سے نہ صرف سڑکوں اور زمین پر پانی جم گیا ہے بلکہ گھروں کی ٹینکیوں اور نلکوں میں بھی پانی جم گیا ہے جس کے باعث لوگوں کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کوئٹہ، قلات، مستونگ، سوراب، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی سمیت متعدد وسطی اور شمالی علاقوں کا شمار بلوچستان کے سرد علاقوں میں ہوتا ہے۔

    صوبے کے جن علاقوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس کی سہولت دستیاب ہے ان میں کوئٹہ، قلات، مستونگ، زیارت، پشین اور چند دیگر علاقے شامل ہیں تاہم گیس کے پریشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث بیشر علاقوں میں لوگ گیس ہیٹر استعمال نہیں کر پا رہے۔

    دوسری جانب بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور ایندھن کے دیگر سستے ذرائع نہ ہونے کے باعث شدید سردی نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔

    گذشتہ شب برفباری کی وجہ سے سیرو تفریح کے لیے زیارت جانے والے متعدد خاندان پھنس گئے تھے تاہم پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے ۔

  8. ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے طاقتور ممالک کی جانب سے اقتصادی انضمام کو بطور ہتھیار اور محصولات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کھل کر مذمت کی تھی۔

    جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ براہ کرم اس خط کو اس بات کی باضابطہ اطلاع سمجھیں کہ بورڈ آف پیس کی جانب سے آپ کو کینیڈا کی شمولیت کے حوالے سے دیا گیا دعوت نامہ واپس لیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کی۔

    پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بورڈ میں دُنیا کے مختلف ممالک کے کئی ذہین رہنما شریک ہیں اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ مل کر غزہ میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔

  9. گرین لینڈ کے ایسے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت ہم جو چاہے کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مجوزہ معاہدے کے متعلق کہنا ہے کہ اس معاہدے پر بات چیت ابھی جاری ہے۔

    سوئڑٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس سے واپسی پر سرکاری جہاز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کر سکیں۔ ہم فوج [تعینات] کر سکیں، ہم جو چاہیں کر سکیں گے، اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ اچھا ہی ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں، یہ ہمیشہ کے لیے ہو گا۔

    ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا مجوزہ معاہدے سے امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جو چاہے کریں گے۔ ہم سب مل کر کام کرنے جا رہے ہیں، اور درحقیقت نیٹو بھی ہمارے ساتھ شامل ہونے جا رہا ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے جا رہے ہیں اور اصل میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں امریکہ کا گولڈن ڈوم کی تعمیر کے علاوہ کوئی خرچہ نہیں ہوگا۔

    ایک سوال پر کہ مجوزہ گرین لینڈ معاہدہ موجودہ صورتحال سے کتنا مختلف ہوگا، ’یہ بہت زیادہ تفصیلی ہے.. یہ ایک بہت زیادہ فراخدل معاہدہ ہے جو کہ اسے ہونا بھی چاہیے۔ ہم گولڈن ڈوم بنا رہے ہیں، اور آپ دیکھیں کہ یہ جیسے کام کرتا ہے یہ ہمارے اور یورپ کے لیے بہت بہتر ہے - برف کے اس ٹکڑے کو گولڈن ڈوم سے تحفظ فراہم کرنا۔

    ایک صحافی کی جانب سے سوال پر کہ کیا گرین لینڈ کے کچھ حصوں پر امریکہ کو خودمختاری حاصل ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں بہت سی بہترین چیزیں شامل ہیں جو کہ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے لیے بھی بہتر ہوں گی۔ ’کیونکہ جب ہم اچھے ہوں گے، تو وہ بھی اچھے ہوں گے۔ اور اگر ہم اچھے نہیں ہوں گے، تو یہ ان کے لیے صحیح نہیں ہو گا.... ہم سب اس میں ایک ساتھ ہیں۔‘

  10. ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف جارہا ہے لیکن امید ہے اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔

    سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلد اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکہ واپسی سے پہلے ایئر فورس پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑی فوج ایران کی طرف جارہی ہے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا لیکن ہم ان پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے ایران میں 800 سے زائد پھانسی رکوانے کا دعویٰ کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایران میں جمعرات کو 837 افراد جن میں زیادہ تر مرد نوجوان شامل تھے کی پھانسیاں رکوائی ہیں۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے [ایران سے] کہا تھا کہ اگر آپ ان لوگوں کو پھانسی دیتے ہیں، تو آپ پر اتنا سخت حملہ ہو گا جتنا آپ پر آج تک نہیں ہوا ہے اور اس کے مقابلے میں ایرانی جوہری پروگرام پر حملہ بالکل معمولی محسوس ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پھانسی سے محض ایک گھنٹہ قبل اس خوفناک اقدام کو منسوخ کر دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب جا رہا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

  11. روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات آج متحدہ عرب امارات میں، ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات تقریباً تیار ہیں‘: زیلنسکی

    ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سب کو تیار ہونا ہوگا، صرف یوکرین نہیں۔ یہ کسی بھی قسم کے مکالمے نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘

    زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو اپنی ملاقات کو ’انتہائی اہم‘ اور مثبت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے امریکہ کا ’بہت مضبوط‘ کردار ضروری ہے، جبکہ یورپ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے مگر اسے وقت درکار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات ’تقریباً تیار‘ ہیں۔‘

    زیلنسکی نے کہا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایک ’انتہائی مہنگا کام‘ ہے۔ انھوں نے عالمی کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین میں سرمایہ کاری کریں اور اس یقین کے ساتھ آئیں کہ امن قائم ہوگا۔

    زیلنسکی نے کہا کہ ’نوکریاں، سرمایہ، سرمایہ کاری – یہ سب یوکرین کو پیش کریں۔‘

    یورپ اور امریکہ پر تنقید

    زیلنسکی نے یورپ اور امریکہ کو روس کو میزائل پرزہ جات فروخت کرنے سے نہ روکنے پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یورپ خاموش ہے، امریکہ تقریباً خاموش ہے، اور پوتن میزائل بنا رہا ہے۔‘

    زیلنسکی کے مطابق یورپ ایک ’خوبصورت مگر منتشر کالیڈوسکوپ‘ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔

    یورپ کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی

    زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اپنی حفاظت کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کئی ممالک نے دفاعی وعدے اس وقت پورے کیے جب ٹرمپ نے دباؤ ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ پیغام پوتن اور چین کو کیا دیتا ہے؟‘ اور مزید کہا کہ صرف چند فوجی بھیجنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

    ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی‘

    یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی تیل کی آمدنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو، تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی۔‘ انھوں نے تجویز دی کہ یورپ کو اپنی مسلح افواج قائم کرنی چاہئیں کیونکہ نیٹو صرف اس یقین پر قائم ہے کہ امریکہ مدد کرے گا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’لیکن اگر امریکہ (مدد) نہ کرے تو کیا ہوگا؟‘

  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک نے نیٹو سے آرکٹک خطے میں زیادہ موجودگی کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق ’ہمیں آرکٹک خطے میں، بشمول گرین لینڈ کے ارد گرد، نیٹو کی مستقل موجودگی کی ضرورت ہے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔افغانستان میں شدید برفباری کی وجہ سے کابل کو مختلف صوبوں سے ملانے والی کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ کابل اور مختلف صوبوں میں دو روز سے جاری شدید برف باری کی وجہ سے کابل اور ملحقہ اضلاع میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے جانے والی انڈین فوج کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں 10 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔