آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ خاتون جس نے بوائے فرینڈ کے قتل کے بعد اُس کی ’لاش سے شادی‘ کی: ’میرے والدین اسے مار کر بھی ہار گئے‘
- مصنف, مستان مرزا
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
’میرا بوائے فرینڈ مر کر بھی جیت گیا اور میرے والدین اسے مار کر بھی ہار گئے۔‘
یہ کہنا ہے انڈین ریاست مہاراشٹرا کے شہر اندیڑ کی رہائشی 21 سالہ اچل مامیدوار کا جنھوں نے مبینہ طور پر اپنے اہلخانہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے اپنے بوائے فرینڈ کی ’لاش کے ساتھ شادی‘ کر کے اسی کے گھر پر رہنے کا انوکھا فیصلہ کیا ہے۔
اندیڑ شہر میں اس قتل کی واردات نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے قتل کے بعد پیش آنے والے واقعات کے بعد صدمے کا اظہار کیا ہے۔
20 سالہ سکشم اور 21 سالہ اچل کے درمیان تین برس سے مراسم تھے تاہم اچل کے گھر والے اس تعلق کے سخت مخالف تھے۔
سکشم کے قتل کے بعد اچل نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ سکشم کے گھر پر ہی رہیں گی اور اس دوران شادی کی چند روایتی رسموں کو بھی ادا کیا گیا۔
اچل کہتی ہیں کہ ’میرے گھر والوں نے اس وجہ سے اس رشتے کی مخالفت کی کیونکہ ہم دونوں مختلف ذاتوں سے تعلق رکھتے تھے۔‘
اچل نے میڈیا کو بتایا کہ ’سکشم کچھ عرصہ قبل جیل سے رہا ہوا تھا اور اس کے بعد اسے میرے گھر والوں کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔‘
مبینہ طور پر جمعرات کی شام تقریباً پونے چھ بجے اچل کے گھر والوں نے سکشم پر حملہ کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اچل کے والد اور بھائیوں سکشم کو گولی ماری اور پھر اسے شدید ضرب لگا کر ہلاک کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’قتل سے پہلے دھمکی‘
قتل سے دو گھنٹے قبل اچل کی ماں سکشم کے گھر گئی تھیں اور اسے دھمکی دی تھی۔ متوفی کے اہلخانہ نے اس کی اطلاع پولیس کو دے دی ہے۔
اچل نے میڈیا کو بتایا: ’سکشم اور میں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن، میرے گھر والوں نے یہ بات قبول نہیں کی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’سکشم کے جیل سے رہا ہونے کے بعد ہی اسے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ میرے والدین اور بھائیوں کو پھانسی پر لٹکا دو۔ یہ قتل ذات پات اور نفرت کی وجہ سے کیا گیا تھا۔‘
اچل نے مزید کہا کہ ’سکشم اب نہیں رہے، لیکن میں پھر بھی اس سے پیار کرتی ہوں۔ میں اس کے گھر ہی رہوں گی۔‘
سکشم کی والدہ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اچل کے والد سمیت چھ لوگوں کے خلاف قتل اور تشدد کا مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تمام ملزمان کو صرف 12 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا۔
اچل کی ماں، باپ اور بھائی، سبھی زیر حراست ہیں۔ بی بی سی مراٹھی نے ملزم کے اہلخانہ یا وکلاء سے بیان لینے کی کوشش کی لیکن وہ ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔
اچل نے کہا کہ ’میرے والد اور میرے بھائی اسے مار کر بھی ہار گئے ہیں جبکہ سکشم مر کر بھی جیت گیا ہے۔ کیونکہ ہماری محبت ابھی تک زندہ ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’میری گذشتہ تین برس سے سکشم کے ساتھ دوستی تھی۔‘
انچل کہتی ہیں کہ ’میرے والد کہتے تھے کہ تم کسی اور سے بات کر سکتی ہو، میں تمھاری شادی کر دوں گا، لیکن اس سے بات کرنا بند کرو۔‘
پولیس کے مطابق ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کیا کہتی ہے؟
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرشانت شندے کے مطابق اس معاملے میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مجموعی طور پر چھ ملزمان زیرِ حراست ہیں۔