آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مخبری اور ’مہارت سے زیادہ قسمت‘: فوٹوگرافر نے سابق برطانوی شہزادے اینڈریو کی گرفتاری کی تصویر کیسے کھینچی؟
- مصنف, رمینا جہانگیر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے حیرت زدہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی ایک تصویر دنیا بھر کے اخباروں اور نیوز ویب سائٹس میں شہ سرخیوں کا حصہ بنی ہے۔
یہ تصویر روئٹرز کے ایک فوٹوگرافر نے کھینچی تھی۔ لیورپول میں پیدا ہونے والے فِل نوبل کا کہنا تھا کہ ان کا اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لینا مہارت سے زیادہ قسمت کا کھیل تھا۔
جب جمعرات کی صبح یہ خبر آئی کہ پولیس نے شاہ چارلس کے بھائی اینڈریو کو حراست میں لیا ہے تو نوبل مانچسٹر میں اپنے گھر سے چھ گھنٹوں کا سفر طے کر کے نورفک پہنچے جہاں سابقہ شہزادے کی رہائش گاہ ہے۔
عام طور پر نوبل مختلف طرح کی خبروں کے لیے تصویریں بناتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے سیلاب کی تباہ کاریوں سے لے کر فٹبال کے میچز کی تصویریں بنائی تھیں۔
مگر انھوں نے جمعرات کے واقعات کو انتہائی اہم سمجھا جب جدید تاریخ میں پہلی بار برطانوی شاہی خاندان کے ایک سینیئر فرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پرانے وقتوں جیسا تھا۔ ایک شخص گرفتار ہوا۔ (ہم نے سوچا) ہم کسے کال کر سکتے ہیں، ہم نے انھیں ٹریک کیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کیا یہ میری زندگی کی بہترین تصویر ہے؟ نہیں۔ کیا یہ سب سے اہم تصاویر میں سے ہے؟ 100 فیصد۔‘
سابق برطانوی شہزادے کو اپنے عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جمعرات کی صبح آٹھ بجے پولیس کی غیر مارک شدہ گاڑیاں ان کے گھر پہنچیں۔ دو گھنٹوں بعد اس خبر کی تصدیق ہوئی اور عوام کو اس سے آگاہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اینڈریو کو پھر تفتیش کے لیے نورفک پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔ اس روز ان کی 66ویں سالگرہ بھی تھی۔
گھنٹوں کا سفر اور مہارت سے زیادہ قسمت
چونکہ اینڈریو کو تھیمز ویلی پولیس کے افسران نے حراست میں لیا تھا، اس لیے جنوب مشرقی انگلینڈ میں ایسے ممکنہ 20 یا اس سے بھی زیادہ پولیس سٹیشنز تھے جہاں انھیں لے جایا جا سکتا تھا۔
ایک خفیہ اطلاع یعنی مخبری کے بعد فوٹو گرافر نوبل اینڈریو کے گھر سے ایک گھنٹے دور ایلشم ٹاؤن کے پولیس سٹیشن پہنچے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں شمالی انگلینڈ میں رہتا ہوں۔ یہ نورفک سے کافی دور تھا۔ بغیر ٹریفک کے بھی کار پر یہاں پہنچنے میں ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔‘
نوبل کہتے ہیں کہ وہاں میڈیا کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے مگر کچھ خاص نہیں چل رہا تھا۔
سردی میں چھ گھنٹوں تک انتظار اور رات ڈھلنے کے بعد انھیں لگا کہ شاید وہ مخبری غلط تھی۔
نوبل نے سامان باندھا اور سڑک کنارے ہوٹل کی طرف چل پڑے جہاں انھیں رات گزارنی تھی۔
لیکن کچھ منٹ بعد انھیں روئٹرز میں اپنی ساتھی مریسا ڈیویسن کی کال موصول ہوئی جو پولیس سٹیشن کے باہر انتظار کر رہی تھیں۔ انھیں بتایا گیا کہ اینڈریو کی گاڑیاں ابھی ابھی پہنچی ہیں۔
نوبل واپس بھاگے۔ اس وقت دو گاڑیاں تیز رفتار سے گزر رہی تھیں۔
اگلی گاڑی میں دو پولیس افسران تھے تو نوبل نے اپنی کیمرے اور فلیش کا رُخ کار کی پچھلی نشست کی طرف رکھا۔
نوبل کا کہنا ہے کہ طویل دن کی تھکاوٹ کے باوجود انھیں اپنی توجہ برقرار رکھنی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو کوشش کرنی ہوتی ہے اور اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ وہ کہاں بیٹھے ہوں گے، آگے یا پیچھے؟‘
’یہ قسمت کی بات ہے، آپ کو فلیش بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ میں نے اس انداز میں آزمائشی تصویریں کھینچی تھیں تاکہ کچھ آئیڈیا ہو سکے۔‘
انھوں نے مجموعی طور پر اس وقت چھ تصویریں کھینچیں۔ دو میں پولیس موجود تھی، دو خالی تھیں اور ایک میں کیمرے کا فوکس ٹھیک نہیں تھا۔
مگر ایک واحد تصویر میں سب ہی نظر آ رہا تھا۔ اینڈریو کار کی پچھلی نشست پر ہکا بکا ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں ان کی آنکھ کیمرے کی فلیش لائٹ ظاہر کر رہی ہے جسے عموماً ’ریڈ آئی ایفیکٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اینڈریو کے چہرے پر فوکس بھی واضح ہے۔ یہی تصویر دنیا بھر میں اینڈریو کی گرفتاری کی کوریج کا حصہ بنی ہے۔
نوبل کہتے ہیں کہ ’آپ منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور اپنا تجربہ استعمال کر سکتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہو گا۔ لیکن پھر بھی ہر چیز کا وقت پر ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘
’جب آپ گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کی تصویر بناتے ہیں تو اس میں مہارت سے زیادہ قسمت کا تعلق ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ناقابل یقین تھا کہ یہی تصویر اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے عالمی سطح پر استعمال ہو گی۔ ’ایک ایسا ماحول جہاں ہر طرف فوٹوگرافر موجود ہیں، یہ بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ صرف ایک ادارہ ایسے اہم لمحے کو محفوظ کر سکے۔‘
جمعے کی صبح نوبل اینڈریو کی رہائش گاہ پہنچے جہاں سابقہ شہزادے کی رہائی کے بعد واپسی ہوئی تھی۔
اینڈریو نے 2001 سے 2011 کے درمیان برطانیہ کے تجارتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دی تھیں اور اس گرفتاری کا تعلق بھی اسے عہدے سے ہے۔
بی بی سی کو الزامات کی نوعیت کا علم نہیں ہے لیکن تحویل میں لیے جانے سے قبل میڈیا پر ایسے دعوے رپورٹ ہو چکے ہیں کہ انھوں نے تجارتی دوروں کی سرکاری دستاویزات اور افغانستان میں سرمایہ کاری سے متعلق خفیہ بریفنگ کی معلومات بدنام جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے ذاتی کاروباری روابط والے ایک شخص کے ساتھ تجارتی بریفننگ کی معلومات شیئر کی۔
اینڈریو نے ہمیشہ ایپسٹین سے متعلق خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کی ہے۔