یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق

’وہ جو دیوار نہ چاٹ سکے۔۔۔‘ انسانوں میں لالچ اور مکاری کے موضوع پر یہ تمثیلی افسانہ مصنف انتظار حسین کا ہے۔ اس کے مرکزی کردار یاجوج اور ماجوج ہیں۔

جس دیوار کو وہ چاٹ چاٹ کر ختم کرنا چاہتے ہیں، اسے ادب میں سد سکندری کہا جاتا ہے۔ مجازی معنوں میں کہیں تو ایسی دیوار یا روک جو نہایت مضبوط اور مستحکم ہو۔

سکندر یونانی سے اس دیوار کے جُڑنے کی روایات بہت کم ہیں کیونکہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن میں لکھا ہے کہ یہ دیوار ذوالقرنین نے بنائی جو ابوالکلام آزاد اور بہت سے اور شارحینِ قرآن کے مطابق سائرسِ اعظم کا لقب ہے۔

انسائیکلوپیڈیا برِٹینیکا سے منسلک رچرڈ این فرائے کی تحقیق ہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 590 سے 580 برس پہلے پیدا ہونے والے سائرسِ اعظم نے آخمینی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کا مرکز فارس تھا۔ سائرس ان کا نام تھا یا لقب، واضح نہیں لیکن فرائے کہتے ہیں کہ ’وہ ایک روادار اور مثالی بادشاہ تھے۔‘

بائبل میں ان کا ذکر ’بابل میں قید یہودیوں کو آزاد کروانے والے‘ کے طور پر کیا گیا۔

عبرانی اور عربی میں ’قرن‘ کا معنیٰ سینگ ہے۔ پس ’ذوالقرنین‘ کا مطلب ہوا ’دو سینگوں والے۔‘ یہ ان کے جنگی خود یا ہیلمٹ کی جانب اشارہ ہے۔

آزاد لکھتے ہیں کہ ذوالقرنین کا سراغ بنی اسرائیل کے نبی دانیال کی کتاب میں ملتا ہے جس میں انھوں نے خواب میں دو سینگوں والے بکرے کو پوری دنیا فتح کرتے دیکھا تھا جو حضرت دانیال کے ہم عصر سائرسِ اعظم تھے۔ ایک آیت کے مطابق ذوالقرنین کو اللہ نے براہِ راست مخاطب کیا اور شروع کے مفسرین انھیں نبی قرار دیتے ہیں۔

بعد میں آنے والے ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد حافظ ابن کثیر بھی اسی تفسیر کی تائید کرتے ہیں۔

اب یہ جان لیتے ہیں کہ ذوالقرنین نے وہ دیوار کیوں بنائی جسے بہت سے مفسرینِ قرآن نے سدِ ذوالقرنین کہا۔

دیوار کیوں بنائی گئی

اپنی فتوحات کے زمانے میں ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں قرآن کے مطابق پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم آباد تھی جو کسی کی بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔

کسی مترجم کے ذریعے وہ گفتگو ہوئی ہو گی جس کا احوال قرآن کی اٹھارہویں سورہ الکہف کی آیات کے اس ترجمے میں ہے:

’ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں۔ بھلا ہم آپ کے لیے خرچ (کا انتظام) کر دیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دیں۔‘

’ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا، وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمھارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا۔

’تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کر دیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان میں (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔‘

’پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔ بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔‘

اسلام سے پہلے آنے والے مذاہب کے پیروکاروں میں بھی اس واقعے کے حوالے سے روایت موجود تھی۔

محقق میٹ سٹیفن بتاتے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج سے منسلک سب سے اہم روایتوں میں سے ایک سدِ سکندری کی روایت تھی۔ سکندر یونانی نے دیوار ان ’غیر مہذب اور وحشی لوگوں‘ کو آخری وقت تک قید کرنے کے لیے بنائی تھی۔

اب مذہب اور روایات کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ یہ ’غیر مہذب اور وحشی لوگ‘ کون ہیں۔

گوگ میگوگ، یاجوج اور ماجوج کون ہیں؟

میٹ سٹیفن کی انسائیکلوپیڈیا برِٹینیکا کے لیے تحقیق ہے کہ عبرانی بائبل میں ’گوگ‘ (جوج) وہ ہے جس کے اسرائیل پر حملہ آور ہونے کی پیشگوئی کی گئی اور ’میگوگ‘ (ماجوج) وہ سرزمین ہے جہاں سے وہ آیا۔ (اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب ہے جو یہود کے بارہ خانوادوں (اسباط) کے جد اعلیٰ ہیں (انھی کی نسبت سے یہود بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔)

مسیحی صحیفوں (نیا عہد نامہ) میں، گوگ اور میگوگ کو خدا کے لوگوں کے خلاف بری طاقتیں کہا گیا۔

امریکہ میں غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ ڈیلَس سے منسلک محقق نعیم احمد بلوچ کے مطابق اکثر الہامی روایات پر یقین رکھنے والے محققین کے نزدیک یہ حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں۔

بلوچ کہتے ہیں کہ یاجوج ماجوج کوئی مافوق الفطرت قوم نہیں۔

’یہ یورپ اور ایشیا کے سنگم (موجودہ ترکی) میں آباد ہوئے۔ مرکزی تہذیبی روایات سے دور ہونے کی وجہ سے ان قبائل نے لوٹ مار، شکار اور غارت گری کو اپنا پیشہ بنایا۔‘

’پانچ سو سے چھ سو قبل مسیح کے درمیان یہ قبائل قفقاز کے علاقے کے لوگوں کے لیے درد سر بن گئے۔ تب اس وقت کے ایک عادل بادشاہ ذوالقرنین، جو ابوالکلام آزاد سمیت متعدد محققین کے نزدیک سائرس اعظم تھے، نے ایک دھاتی دیوار ایک درے کو بند کرنے کے لیے بنائی۔‘

’اس سے ان کی غارت گری سے نجات مل گئی۔ اس واقعے کی تفصیل ہمیں قرآن کی سورۃ کہف میں ملتی ہے۔‘

ابوالکلام آزاد ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں کہ یاجوج اور ماجوج کے نام پہلی بار عہد نامہ عتیق میں آئے ہیں۔ اس کے بعد یہ نام ہمیں مکاشفاتِ یوحنا میں بھی ملتے ہیں۔

اسلامی سکالر جاوید احمد غامدی کے مطابق یہ دونوں حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں جو ایشیا کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئی۔

’پھر انھی کے بعض قبائل یورپ پہنچے اور اس کے بعد امریکہ اورآسٹریلیا کو آباد کیا۔‘

’صحیفۂ حزقی ایل میں ان کا تعارف روس، ماسکو اور بالسک کے فرماں روا کی حیثیت سے کرایا گیا۔‘

روایت ہے کہ ’اور خداوند کا کلام مجھ پرنازل ہوا کہ اے آدم زاد، جوج کی طرف جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش اور مسک اور توبل کا فرماں روا ہے متوجہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر۔‘ (حزقی ایل 38: 1۔2)

’پس اے آدم زاد تو جوج کے خلاف نبوت کر اور کہہ: خداوند خدایوں فرماتا ہے: دیکھ اے جوج، روش، مسک اور توبل کے فرماں روا، میں تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے پھرا دوں گا اور تجھے لیے پھروں گا اور شمال کی دور اطراف سے چڑھا لاؤں گا۔‘ (حزقی ایل39: 1۔2)

یوحنا کے مکاشفہ (20:7-10) میں یاجوج اور ماجوج ناموں کا اطلاق شیطانی قوتوں پر ہوتا ہے جو وقت کے اختتام پر عظیم جدوجہد میں شیطان کے ساتھ شامل ہوں گی۔

گوگ اور میگوگ کے بارے میں بائبل کے حوالہ جات بعد کے مفسرین کی توجہ کا مرکز بن گئے جنھوں نے انھیں مخصوص افراد اور مقامات کے ساتھ جوڑنے کی بار بار کوشش کی۔

یہودیوں اور مسیحیوں دونوں کی قیامت سے متعلق کتابوں اور دیگر ایسی تحریروں میں، ان کی شناخت اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے بھی کی گئی۔

سٹیفن کے مطابق بائبل میں گوگ اور میگوگ کے حوالے اگرچہ نسبتاً کم ہیں لیکن انھوں نے قیامت سے متعلق ادب اور قرون وسطیٰ کے قصے کہانیوں میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔

تواریخ 5:4 میں یاجوج کی شناخت یوئیل نبی کی اولاد کے طور پر کی گئی جسے خدا نے ’اسرائیل کی سرزمین کو فتح کرنے کے لیے بلایا۔‘

(تواریخ کی کتاب کے دو حصے ہیں۔ تواریخ کے مولف علمائے یہود کے مطابق عزرا ہیں اور متعدد راسخ العقیدہ مسیحی علما بھی اس نظریہ سے متفق ہیں۔ یہ دونوں کتابیں 450 قبل مسیح سے 425 قبل مسیح کے درمیان تالیف کی گئیں۔ ان کتابوں میں بعض ایسے ماخذوں کا ذکر موجود ہے جو شاہان یہوداہ اور شاہان اسرائیل کے واقعات پر مشتمل تھے جن کی مدد سے عزرا نے ان کتابوں کی تالیف کی۔ ان کتابوں کے بعض واقعات سموئیل اور سلاطین کی کتابوں میں لکھے واقعات سے ملتے جلتے ہیں لیکن مولف نے اپنی اس تالیف میں کئی اور ماخذوں کے نام بھی درج کیے ہیں جو بائبل میں شامل نہیں۔)

اس میں مزید ہے کہ ’دنیا بھر کی افواج کے ایک عظیم اتحاد کے ساتھ، یاجوج اور اس کی پوری فوج اسرائیل پر زمین کو ڈھانپنے والے بادل کی طرح حملہ کریں گے اور شہروں کو تاراج کریں گے اور لوٹ مار کریں گے۔‘

مکاشفہ یوحنا میں لکھا ہے: ’شیطان 1,000 سال تک جکڑے رہنے کے بعد رہا ہو جائے گا اور خدا کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا۔ وہ نکلے گا اور دنیا کی قوموں — یاجوج اور ماجوج — کو دھوکہ دے گا اور ان کو بڑی تعداد میں اکٹھا کر کے سینٹس اور خدا کو پسند شہر یروشلم پر حملہ کرے گا۔‘

اینٹی کرائسٹ، ضدِ مسیح یا دجال اور آخری شہنشاہ کے قرون وسطیٰ کے قصوں میں بھی ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا شیطان کی فوجوں کے ساتھ اتحاد ہوگا۔

اور پیشگوئیاں ہیں کہ یاجوج اور ماجوج، دجال سے پہلے اس کے آنے کی علامت کے طور پر دجال کے زیرِ قیادت ظلم و ستم میں حصہ لیں گے یا آخری فیصلے سے پہلے کی جدوجہد میں دجال کی شکست کے بعد ابھریں گے۔

ماہر الہیات، فیور کے یوآخم کے مطابق، گوگ ’آخری دجال‘ ہے۔ یوآخم کے خیال میں گوگ آخری فیصلے سے بالکل پہلے آئے گا لیکن صرف پہلے کے دجال کی شکست اور ہزار سالہ امن کے دور کے بعد۔

اسلام میں یاجوج ماجوج سے متعلق کیا تصورات ہیں؟

اسلامی تعلیمات میں یاجوج اور ماجوج دو دشمن، بدعنوان قوتیں ہیں جو دنیا کے خاتمے سے پہلے زمین کو تباہ کر دیں گی۔

ان کا تذکرہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن کی سورتوں 18 (کہف) اور 21 (الانبیا) میں کیا گیا ہے۔

قرآن کے مطابق یاجوج اور ماجوج سے خوفزدہ کچھ لوگوں نے ذوالقرنین کو یاجوج اور ماجوج کو روکنے کے لیے دیوار تعمیر کرنے پر آمادہ کیا۔ اس دیوار سے نہ تو پار اترا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد کی ایک حدیث ہے کہ وہ ہر رات فرار ہونے کی کوشش میں دیوار کے نیچے کھودتے ہیں، مگر ہر صبح یہ معلوم ہوتا ہے کہ دیوار اللہ (خدا) نے بحال کر دی۔

بعد کی کچھ روایات یاجوج اور ماجوج کی تصویر کو وسعت دیتی ہیں، ان کی مختلف وضاحتیں فراہم کرتی ہیں۔

سٹیفن کہتے ہیں کہ ان روایات کے مطابق کچھ یاجوج اور ماجوج دیودار کی طرح لمبے ہیں اور کچھ اپنے کانوں کو خود پر لپیٹ لیتے ہیں۔

غامدی کہتے ہیں کہ یوحنا کے مکاشفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خروج کی ابتدا پیغمبر اسلام کی بعثت کے ایک ہزار سال بعد کسی وقت ہو گی۔ اس زمانے میں یہ زمین کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔

اور جب ہزار برس پورے ہو چکیں گے تو شیطان قید سے چھوڑ دیا جائے گا اور ان قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف ہوں گی، یعنی جوج وماجوج کو گمراہ کر کے لڑائی کے لیے جمع کرنے کو نکلے گا۔

ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہو گا اور وہ تمام زمین پر پھیل جائیں گی اور مقدسوں کی لشکر گاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی۔‘ (مکاشفہ 20: 7۔9)

سورہ کہف میں بیان کیے گئے مکالمے کے آخری حصے میں ذوالقرنین کے الفاظ ہیں کہ ’یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آ پہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے۔‘

اگلے حصے میں قرآن کے الہامی الفاظ ہیں: (اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کر لیں گے۔

نعیم بلوچ کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ قبائل جب اس دیوار کو توڑ ڈالیں گے یا چاٹ جائیں گے تو قیامت قریب ہو گی۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کی ایک دوسری سورت الانبیا میں قرب قیامت کی نشانی کے طور پر کہا گیا کہ جب دنیا بھر کی یاجوج ماجوج یعنی یافث کے بیٹوں کی نسل کا تسلط قائم ہو جائے گا تو قیامت قریب ہو گی۔

’اور ممکن نہیں کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے اور وعدۂ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آنے لگے گا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا تھا۔ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم خطاکار تھے۔‘ (سورہ الانبیا آیات 95 تا 97)

ابو سعید خدری سے پیغمبر اسلام کی حدیث روایت ہے کہ: یاجوج و ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت الحرام کا حج اور عمرہ ہوتا رہے گا۔

غامدی اس سے یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ یاجوج و ماجوج کا فتنہ اگرچہ بہت بڑا ہو گا لیکن اِس زمانے میں بھی اللہ کے بندے موجود رہیں گے جو اِن مراسم عبودیت کو اپنے پروردگار کے لیے قائم رکھیں گے۔ اِس میں مبتلا ہو کر ہر شخص خدا کے دین سے برگشتہ نہیں ہو جائے گا۔

سٹیفن لکھتے ہیں کہ اسلامی روایات کے مطابق وہ قدیم دنیا کے شمال مشرق میں بڑی تعداد میں اختتام کی علامت کے طور پر نمودار ہوں گے، پھر جنوب کی طرف بڑھیں گے، دجلہ اور فرات کے دریاؤں یا گلیل کے سمندر کا پانی پییں گے اور راستے میں سب کو مار ڈالیں گے۔ جب ان کے تیروں کے لیے کوئی انسانی ہدف باقی نہیں رہے گا، یاجوج اور ماجوج آسمان کو تباہ کرنے کی امید میں آسمان پر تیر انداز ہوں گے۔

بلوچ کے مطابق الہامی مذاہب کی روایات پر یقین رکھنے والے محققین کے نزدیک روس، چین، انڈیا اور یورپ کی قومیں اصل میں یافث ہی کی اولاد ہیں اور دنیا کے خاتمے کے وقت انھی قوموں کو عروج حاصل ہو گا۔

یاجوج ماجوج کا خاتمہ کیسے ہو گا؟

لیکن پھر ہر عروج کی طرح برائی کے اس عروج کو بھی زوال ہو گا۔

تواریخ میں ہے کہ ’خدا خوفناک قدرتی آفات بھیجے گا جو یاجوج اور اُس کی افواج کو تباہ کر دے گی۔ یاجوج کی شکست خدا کی عظمت اور تقدس کو ظاہر کرے گی اور خدا اور اس کے لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات بحال کرے گی۔‘

یوحنا کے مکاشفہ کے مطابق ان کا فساد جب انتہا کو پہنچے گا تو ایک آگ آسمان سے اترے گی اور قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔

مکاشفہ میں لکھا ہے کہ خدا ان کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے آگ بھیجے گا (اور آسمان پر سے آگ نازل ہو کر انھیں کھا جائے گی) اور پھر آخری فیصلہ برپا کرے گا۔

اسلامی روایات ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں پر کیڑے ڈالے گا جو ان کے کان اور ناک کو بھر دیں گے، اس طرح وہ ہلاک ہو جائیں گے۔

پیغمبر اسلام سے منسوب ایک روایت ہے کہ وہ ’آسمانوں کی جانب تیر پھینکیں گے جو خون آلود پلٹیں گے۔ بالآخراللہ تعالیٰ ان کی گُدیوں پر ایسا کیڑا پیدا فرما دیں گے جس سے ان کی ہلاکت واقع ہوجائے گی‘ لیکن اس روایت کو ابن کثیر اور محدثین کی بڑی اکثریت نے ضعیف قرار دیا۔

بہرحال غامدی لکھتے ہیں کہ انسان اُن کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

’اللہ تعالیٰ ہی اپنی طرف سے کوئی آفت اُن پر مسلط کریں گے جس کے نتیجے میں دنیا والوں کو اُن کی غارت گری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔‘