سربیا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت
سربیا کی حکومت نے ایران میں موجود اپنے تمام شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، سربیا کی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ہدایت کی وجہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ، جرمنی، پولینڈ اور بیلجیئم سمیت متعدد یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا کہا تھا۔
جمعرات کے روز، امریکی صدر نے ایران کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بامعنی معاہدے‘ تک پہنچنے زیادہ سے زیادہ 15 دن کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران ’بری چیزوں‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
اسی تناظر میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔
اس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’فوجی جارحیت‘ کا جواب دے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ تصادم کی صورت میں خطے میں ’دشمن طاقت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔