آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان، امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ کمپنیوں کے لیے امید کی کرن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عالمی ٹیرف کالعدم قرار دیے جانے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت وہ 150 روز تک ٹیرف عائد کر سکتے ہیں جس کے بعد کانگریس مداخلت کر سکتی ہے۔

خلاصہ

  • سربیا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت
  • ’ایران کے حوالے سے تمام تر صورتحال سے آگاہ ہیں‘: اسرائیلی فوج اپنے دفاع کے لیے الرٹ ہے، ترجمان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے سے 'انتہائی مایوس' ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینیئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد ہلاک
  • امریکہ نے افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کی درخواست نہیں کی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

لائیو کوریج

  1. سربیا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    سربیا کی حکومت نے ایران میں موجود اپنے تمام شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، سربیا کی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ہدایت کی وجہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ، جرمنی، پولینڈ اور بیلجیئم سمیت متعدد یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا کہا تھا۔

    جمعرات کے روز، امریکی صدر نے ایران کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بامعنی معاہدے‘ تک پہنچنے زیادہ سے زیادہ 15 دن کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران ’بری چیزوں‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

    اسی تناظر میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔

    اس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’فوجی جارحیت‘ کا جواب دے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ تصادم کی صورت میں خطے میں ’دشمن طاقت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔

  2. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینیئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد ہلاک

    جمعہ کے روز مشرقی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک سینیئر حزب اللہ رہنما سمیت کم از کم 12 افراد مارے گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تداد 10 ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ اور اس کے فلسطینی اتحادی حماس کو نشانہ بنایا ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں مشرقی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اپنے ایک رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ گروپ نے حملے میں مارے جانے والے رہنما کی شناخت محمد ياغی صادق کے نام سے کی ہے۔

    دوسری جانب لبنانی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ’وادی بیکا میں متعدد مقامات پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہوئے ہیں‘۔ وزارت صحت کے مطابق، زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق، یہ حملے ملک کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  3. ’ایران کے حوالے سے تمام تر صورتحال سے آگاہ ہیں‘: اسرائیلی فوج اپنے دفاع کے لیے الرٹ ہے، ترجمان

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ’دفاعی الرٹ‘ کی پوزیشن پر ہے تاہم شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈفرین کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے، ’ہم خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے حوالے سے تمام صورتحال سے آگاہ ہیں۔ اسرائیلی فوج دفاعی الرٹ کی پوزیشن پر ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ’پہلے سے کہیں زیادہ، آپریشنل صورتحال میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا جواب دینے کے لیے ہماری انگلی ٹریگر پر ہے۔‘

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فی الحال شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  4. ایران میں مظاہرین کی ہلاکت: مختصر وقت میں 32 ہزار افراد مارے گئے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قلیل عرصے میں 32,000 افراد مارے گئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک بہتر معاہدے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے لیڈروں سے بہت مختلف ہیں۔ ’یہ ایک بہت، بہت، بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ مختصر عرصے میں، 32,000 لوگ مارے گئے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ ’وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اس ہی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے، ’وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔‘

  5. عالمی ٹیرف برقرار مگر کمپنیوں کے لیے امید کی کرن, نیٹلی شرمین، نیو یارک بزنس رپورٹر/بی بی سی

    کئی کاروبار ٹیرف ادا کرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن کئی کمپنیوں کے لیے اتنی ہی پریشان کن بات یہ تھی کہ انھوں نے گذشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے عالمی ٹیرف عائد کیے جانے کی توقع نہیں کی تھی۔

    اب جبکہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ٹیرف برقرار رہیں گے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 150 روز تک نئے قانون کے ذریعے ٹیرف عائد کریں گے۔ اس قانون میں صرف 150 دنوں کی گنجائش ہے جس کے بعد کانگریس مداخلت کر سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ کے پاس جو متبادل راستے ہیں ان میں کئی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں، جیسے تحقیقات، نوٹس، جواب مانگنے کا مرحلہ وغیرہ۔

    یوں کمپنیوں کو منصوبہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے اور یہی ان کے لیے امید کی کرن ہے۔

  6. سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ٹیرف کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کے لیے سچ کا ساتھ دے سکیں۔‘

    خیال رہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔

    ٹرمپ نے ان ججز کی تعریف کی ہے جنھوں نے اختلافی رائے دی ہے۔

    امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔

    انھوں نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ’کسی بھی ملک سے ایک ڈالر بھی وصول کرنے سے روکا ہے۔۔۔ (یعنی) میں تجارت تباہ کر سکتا ہوں، ملک تباہ کر سکتا ہوں۔ لیکن ان سے فیس وصول نہیں کر سکتا۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ٹیرف عائد کرنے کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے استعمال سے متعلق فیصلہ دیا ہے، یعنی سپریم کورٹ نے انھیں اس ایکٹ کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے سے روکا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ملک کو تحفظ دینے کے لیے‘ وہ پھر بھی عالمی ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ جاری رکھیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک صدارتی حکمنامے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    اس سوال پر کہ کیا جو اب تک ٹیرف سے آمدن حاصل کی گئی ہے اسے واپس کیا جائے گا، ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’اس بارے میں بات نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ کئی برسوں تک عدالت میں چلے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم شاید اگلے پانچ سال تک عدالت میں رہیں گے۔‘

  7. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تہران سے ’اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام کو روکنے کے لیے نہیں کہا۔‘
    • پاکستان میں غربت کی شرح میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
    • جمعہ کی شب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    • ناروے کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت نے سلامتی کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اپنے تقریباً 60 فوجی اہلکاروں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔