جائیداد کا لالچ اور ویلینٹائن ڈے کا ’زہریلا‘ تحفہ: ’مقتول کو شک تھا اس کی بیوی اسے زہر دے رہی ہے‘

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک خاتون نے بچوں کے لیے ایک کتاب شائع کی جس میں انھوں نے اپنے شوہر کی اچانک موت کے بعد اس تکلیف دہ تجربے کو بیان کیا، جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن پیر کے روز سے وہ خاتون اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہی تھیں۔

تین بچوں کی والدہ کوری رچنز نے مارچ 2022 کی ایک رات پولیس کو اطلاع دی کہ ان کے شوہر ایرک رچنز کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔

کوری رچنز نے حکام کو بتایا کہ اپنے شوہر کے لیے انھوں نے واڈکا کاک ٹیل تیار کی تھی، اس کے چند گھنٹے بعد انھوں نے اپنے شوہر کو بے ہوش پایا۔

موت کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کرنے والے افسر کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ رچنز کی موت فینٹینل کی زیادتی سے ہوئی تھی۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ فینٹینل کی جو مقدار خطرناک سمجھی جاتی ہے، رچنز کے جسم میں اس حد سے بھی پانچ گنا زیادہ فینٹینل موجود تھی۔

نشہ آور دوا

فرد جرم کے مطابق دسمبر 2021 سے فروری 2022 کے درمیان اسی خاتون نے ایک ایسے شخص کو ٹیکسٹ پیغام بھیج کر درد کش ادویات مانگیں، جو منشیات میں ملوث رہ چکا تھا۔

دوائیں حاصل کرنے کے تین دن بعد، ویلنٹائن ڈے پر، انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ رات کا کھانا کھایا جس کے بعد وہ بیمار ہو گئے۔

عدالتی دستاویزات میں درج ہے کہ ’ایرک کا خیال تھا انھیں زہر دیا گیا ہے۔ انھوں نے ایک دوست سے کہا تھا کہ انھیں لگتا ہے ان کی بیوی انھیں زہر دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

الزام کے مطابق، اس کے بعد خاتون نے مزید فینٹینل حاصل کی۔

مقدمے کے وکلاء استغاثہ کے مطابق، چار مارچ 2022 کو کوری رچنز نے آدھی رات کے وقت پولیس کو بلا کر کہا کہ ان کے شوہر بے ہوش پڑے ہیں۔

کوری نے حکام کو بتایا کہ رات بستر پر انھوں نے اپنے شوہر کو ’ماسکو میول‘ دی تھی، جو کہ ایک واڈکا کاک ٹیل ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ سونے چلی گئی تھیں جو ڈراؤنے خواب کی وجہ سے خوف محسوس کر رہا تھا۔

بعد میں جب وہ اپنے کمرے میں واپس آئیں تو ان کے شوہر کا جسم ٹھنڈا پڑا ہوا تھا۔

کتاب اور جائیداد

کوری رچنز نے بچوں کے لیے ایک تصویری کتاب شائع کی جس کا عنوان تھا ’کیا تم میرے ساتھ ہو؟‘

کتاب کا مقصد ایسے بچوں کی مدد کرنا تھا جنھوں نے کسی پیارے کو کھو دیا ہو۔ کتاب شائع ہونے کے دو ماہ بعد ان پر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔

رچنز نے مقامی ریڈیو سٹیشن کے پی سی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ کتاب ان کے لیے اور ان کے تینوں بچوں کے لیے ’سکون‘ کا باعث بنے گی۔

کے پی سی ڈبلیو کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا: ’ہم نے یہ کتاب لکھی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے، بلکہ انھی حالات کا سامنا کرنے والے دیگر خاندانوں کے لیے بھی تسلی کا باعث بنے گی۔‘

انھوں نے کتاب کا انتساب اپنے شوہر کے نام کیا: ’میرے شاندار شوہر اور ایک بہترین والد کے نام‘۔

پیر کے روز مقدمے کے آغاز پر وکیل استغاثہ نے جیوری کو بتایا کہ کوری رچنز پر 45 لاکھ ڈالرز کا قرضہ تھا اور ان کا خیال تھا کہ شوہر کی موت کے بعد وہ ان کی 40 لاکھ ڈالرز مالیت کی جائیداد کی وارث بن جائیں گی۔

استغاثہ کے مطابق کوری رچنز کے ایک اور مرد کے ساتھ تعلقات تھے اور وہ انھی کے ساتھ زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔

جبکہ کوری رچنز کا دفاع کرنے والے وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ ایرک رچنز لائم بیماری میں مبتلا تھے، درد کش ادویات کے عادی تھے اور زیادہ مقدار میں دوا لینے کی وجہ سے فوت ہوئے۔

کوری رچنز پر تین درجن کے قریب الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں سنگین قتل، قتل کی کوشش، جعل سازی، رہن (مورگیج) میں دھوکہ دہی اور بیمہ میں دھوکہ دہی جیسے الزامات شامل ہیں۔ صرف قتل کے الزام پر ہی 25 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کے مطابق، اپنے شوہر کی موت سے کئی سال قبل رچنز نے ایرک کی لا علمی میں ان کے نام پر مختلف لائف انشورنس پالیسیاں حاصل کی تھیں، جن کے مجموعی فوائد 20 لاکھ ڈالرز کے قریب بنتے تھے۔

عدالتی ریکارڈ میں یہ بھی درج ہے کہ کوری رچنز کے بینک اکاؤنٹ میں منفی بیلنس تھا اور ان کے خلاف ایک قرض خواہ نے مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔