امریکی
اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات
کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ
ایران پر حملہ کریں گے۔
یہ بات
چیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے سب سے بڑے اضافے کے دوران ہو رہی ہے،
جو 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ ایران نے اعلان
کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔
ان
مذاکرات کو ممکنہ تصادم کو روکنے کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے، لیکن کسی معاہدے
کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔
ٹرمپ
نے کہا ہے کہ وہ بحران کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ
بھی کہا ہے کہ وہ ایران پر محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کی قیادت کو
معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
صدر نے
ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مذاکرات میں کیا مطالبات کر رہے ہیں اور آٹھ ماہ
بعد فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جب کہ امریکہ نے اسرائیل اور ایران
کی جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
ایران
نے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی روکنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے،
لیکن اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں کچھ رعایت
دینے پر تیار ہو سکتا ہے۔
جیسا
کہ اس ماہ کے اوائل میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے پچھلے دو ادوار کے مذاکرات
میں ہوا تھا، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکہ کی
نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔
حالیہ
ہفتوں میں امریکہ نے ہزاروں فوجی اور وہ ’آرماڈا‘ بھیج دیا ہے جسے ٹرمپ نے بیان
کیا تھا، جس میں دو طیارہ بردار جہاز، دیگر جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور ایندھن
بھرنے والے جہاز شامل ہیں۔
ٹرمپ
نے پہلی بار گزشتہ ماہ ایران کو بمباری کی دھمکی دی تھی جب ایرانی سکیورٹی فورسز
نے مبینہ طور پر حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا اور ہزاروں افراد کو
ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ان کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہو
گئی ہے، جو مغرب کے ساتھ ایک طویل تنازعے کا مرکز رہا ہے۔
دہائیوں
سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام
لگاتے رہے ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم
خدشات ہیں کہ وہ واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں لیکن اس نے یورینیم
کو ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کر رکھا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد اس کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں رک گئی ہیں، اگرچہ اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے کہ ’ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘۔‘
تاہم، اس تقریر سے چند گھنٹے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا‘۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایک ’تاریخی موقع‘ موجود ہے جس کے ذریعے ایک بے مثال معاہدہ کیا جا سکتا ہے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات حاصل کرے۔
ٹرمپ کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں ’بڑے جھوٹ‘ دہرا رہا ہے۔
ایران کی تجاویز عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں، لیکن جنیوا میں ہونے والی بات چیت میں یورینیم افزودگی کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم بنانے اور ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں بات شامل ہو سکتی ہے۔ بدلے میں، ایران توقع کرتا ہے کہ اس کی معیشت کو مفلوج کرنے والی پابندیاں ختم کی جائیں۔
تاہم اریان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریلیف سے مذہبی حکمرانوں کو سہارا ملے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کن شرائط کو معاہدے کے لیے قابلِ قبول سمجھیں گے۔ ایران پہلے ہی اپنے میزائل پروگرام پر پابندیوں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے پر بات کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ یہ اتحاد، جسے تہران ’محورِ مزاحمت‘ کہتا ہے، میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق کی ملیشیائیں اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ آنے والے دنوں میں ایران کی انقلابی گارڈز یا جوہری تنصیبات پر ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایرانی قیادت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر اتنا آگے جا سکتے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہٹانے کی مہم شروع کر دیں۔
امریکی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے خطرناک ہو سکتے ہیں اور امریکہ کو طویل جنگ میں الجھا سکتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ جنرل ڈین کین کا ماننا ہے کہ یہ جنگ ’آسانی سے جیتی جا سکتی ہے۔‘
دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔