آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ کا سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔ اس سے قبل وٹکوف نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکہ کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے۔

خلاصہ

  • پوتن نے تیسری عالمی جنگ شروع کر دی ہے اور انھیں روکنا ضروری ہے، یوکرینی صدر
  • ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ کا سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل
  • صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ میں داخل ہونے والا مسلح شخص ہلاک، امریکی صدر اور خاندان محفوظ ہیں: حکام
  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور خضدار سے تعمیراتی کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے 14 مزدور اغوا
  • تیراہ میں فورسز کی فائرنگ سے چار شہریوں کی ہلاکتیں سکیورٹی اہلکاروں کی نااہلی ہے: وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
  • ایران میں ایک مرتبہ پھر طلبہ سڑکوں پر، احتجاجی مظاہروں کے دوران 'آمر مردہ باد کے نعرے

لائیو کوریج

  1. پاکستانی فوج کی بلوچستان کے ضلع پشین میں کارروائی، خودکش بمبار سمیت پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقے پشین میں کارروائی کے دوران ایک مبینہ خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ چار دیگر شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سوموار کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ko 22 فروری کو سکیورٹی فورسز نے ضلع پشین میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد خودکش بمبار خوارجی نے بزدلانہ انداز میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا‘۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چار دیگر ’انڈین سپانسرڈ خوارج‘ کا تعاقب کر کے انھیں ہلاک کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدت پسند عناصر علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے علاقے میں کسی بھی دوسرے شدت پسند کی موجودگی کے امکان کو خارج کرنے کے لیے کارروائیاں جا ری ہیں۔

  2. امریکہ میں موسمِ سرما کا شدید طوفان، کئی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ

    شمال مشرقی امریکہ میں موسم سرما کے ایک شدید طوفان سے تقریباً چھ کروڑ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کئی ریاستوں میں ہنگامی حالات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

    میساچوسس، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، نیو جرسی اور رہوڈ آئی لینڈ سمیت متعدد امریکی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ کئی ریاستوں نے طوفان کے باعث لوگوں کے سفر کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

    موسم کی پیش گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ طوفان سے شمال مشرقی امریکہ اور کینیڈین میری ٹائمز کا بیشتر حصہ متاثر ہو گا۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تقریباً ایک دہائی میں آنے والا سب سے زیادہ طاقتور طوفان ہے جو خطے کے بیشتر حصوں میں برف باری، تیز ہواؤں اور ساحلی سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

    طوفان کے نتیجے میں نیو جرسی پہلے ہی 20 ہزار سے زائد افراد کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔ بجلی کی ترسیل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پاور آؤٹیجز کے مطابق، ورجینیا، ڈیلاویئر اور میری لینڈ میں بھی ہزاروں لوگ بجلی سے محروم ہیں۔

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائیٹ ویئر کے مطابق اتوار کو تقریباً تین ہزار 900 امریکی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ سینکڑوں تاخیر کا شکار ہیں۔

  3. ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ کا سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کرنے والے سٹیو وٹکوف نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکہ کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے۔

    وٹکوف نے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور آ کر صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے؟

    اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیوں نہیں جھکتے، کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔‘

  4. پوتن نے تیسری عالمی جنگ شروع کر دی ہے اور انھیں روکنا ضروری ہے، یوکرینی صدر

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے تیسری علامی جنگ شروع کر دی ہے اور انھیں روکنے کا واحد طریقہ بھرپور فوجی اور معاشی دباؤ ہے۔

    بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی کا کہنا تھا، ’میرا ماننا ہے پوتن یہ [تیسری عالمی جنب] پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کتنے علاقے پر قبضہ کر سکیں گے اور انھیں کیسے روکا جائے... روس دنیا پر ایک مختلف طرز زندگی مسلط کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کی اپنی پسند کی زندگیوں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے یوکرین سے اس کے مشرقی علاقے ڈونیٹسک کے 20 فیصد حصے اور جنوبی علاقوں کھیرسن اور زاپوریزہیا کے کئی علاقوں کا مطالبہ ایک معقول درخواست نہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کا نتکہ نظر مختلف ہے اور وہ اسے محض زمین کے ٹکروں کے طور پر نہیں دیکھتے۔

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اس سے ہماری پوزیشن کمزور ہو گی اور یہ وہاں رہنے والے ہمارے لاکھوں لوگوں کا ساتھ چھوڑ دینے کے مترادف ہو گا۔ ’میرا ماننا ہے کہ یہ 'انخلاء' ہمارے معاشرے کو تقسیم کر دے گا۔‘

    زیلنسکی اکثر کہتے ہیں کہ یوکرین یہ جیت سکتا ہے، لیکن فتح کیسی ہوگی؟

    ’مجھے یقین ہے کہ آج پوتن کو روکنا اور انھیں یوکرین پر قبضہ نہ کرنے دینا پوری دنیا کے لیے فتح ہو گی۔ کیونکہ پوتن صرف یوکرین پر نہیں رکیں گے۔‘

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے: عمانی وزیرِ خارجہ

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے۔

    عمان دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کرتا آیا ہے۔ عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔

    17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیادی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔‘

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا تھا کہ واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔‘

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔‘

  6. انڈیا کی افغانستان میں فضائی حملوں کی مذمت: ’یہ پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین پر پاکستان کے اُن فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ سنیچر کی شب پاکستان کی وزاتِ اطلاعات کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    جس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘

    طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

  7. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے دونوں ملکوں کے سرحدی علاقے میں ’پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں پر حملوں‘ کو افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
    • طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
    • امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے محفوظ حصے میں داخل ہوا۔ عوامی شیڈول کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ’تیراہ میں ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے عام شہری نشانہ بنے ہیں، جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘ وزیر اعلیٰ کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں چار اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے مجموعی طور پر 14 مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔