آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میڈیکل میں داخلے کا دباؤ اور جھگڑا: ’بیٹے نے باپ کو قتل کرنے کے بعد لاش کے ٹکڑے گھر میں ڈرم میں چھپا دیے‘
- مصنف, سید معیز امام
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس تحریر کے کچھ حصے قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں
’20 فروری کو باپ بیٹے کا جھگڑا ہوا تھا۔ پھر بیٹے نے باپ کو گولی مار دی۔‘
یہ واقعہ انڈیا کے لکھنؤ شہر کا ہے جہاں پانچ دن سے لاپتہ شخص کی لاش اسی کے گھر میں ایک ڈرم سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے تھے جن میں سے کچھ کو شہر کے ایک حصے میں پھینک دیا گیا تھا۔
یہ شخص 49 سالہ مانویندر پرتاپ سنگھ تھے جو لکھنؤ میں کاروبار کرتے تھے۔ پولیس نے ان کے قتل کے الزام میں ان کے بیٹے 21 سالہ اکشت پرتاپ سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اکشت نے اس سے قبل پولیس کو درخواست دی تھی کہ اس کے والد لاپتہ ہیں۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس وکرانت ویر نے دعویٰ کیا ہے کہ اکشت نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران اس نے بتایا کہ 20 فروری کو اس کا والد سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد اس نے اپنے باپ کو گولی مار دی۔‘
پولیس نے کیس میں درج ایف آئی آر کی تفصیلات شیئر نہیں کیں لیکن ایک بیان میں کہا کہ ملزم کو پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ضروری تفتیش اور قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
’گولی مارنے کے بعد لاش کے ٹکڑے کر دیے‘
مقامی تھانے کے ایس ایچ او چھترپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ آلہ قتل بھی برآمد کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق ’ملزم نے اپنے والد کی لائسنس یافتہ رائفل سے ہی گولی ماری، جسے برآمد کر لیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق مانویندر پرتاپ سنگھ اور ان کے بیٹے، جو بی کام کے طالب علم ہیں، کے درمیان تعلیم کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی سی پی سنٹرل وکرانت ویر نے کہا ہے کہ ’پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مانویندر سنگھ اپنے بیٹے پر میڈیکل کے میدان میں کیریئر بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ اس معاملے پر باپ بیٹے کے درمیان تناؤ رہتا تھا اور ان میں اکثر جھگڑا ہوتا تھا۔‘
پولیس کے مطابق 20 فروری کی صبح ساڑھے چار بجے کے قریب دونوں میں ایک اور بحث ہوئی۔ ’اس دوران اکشت نے مبینہ طور پر اپنے والد کو رائفل سے گولی مار دی۔ پھر وہ لاش کو تیسری منزل سے نیچے گراؤنڈ فلور پر لایا، اور ایک خالی کمرے میں رکھ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔‘
پولیس کے مطابق ملزم نے ’لاش کے ٹکڑوں کو پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کیا، کچھ کو سدارونہ کے علاقے کے قریب پھینکے دیا، جبکہ باقی کو گھر کے اندر ایک نیلے ڈرم میں رکھا گیا۔‘
ایس ایچ او چھترپال سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہم نے لاش کے تمام اعضاء برآمد کر لیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم کا اپنے والد سے پڑھائی کے حوالے سے اکثر جھگڑا رہتا تھا۔‘
گمشدگی سے قتل تک
لکھنؤ سینٹرل کے ڈی سی پی وکرانت ویر کے مطابق اکشت نے 20 فروری کو ہی آشیانہ پولیس سٹیشن میں اپنے والد کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروائی تھی۔
پولیس نے مانویندر کی تلاش شروع کی لیکن اسی دوران چند مقامی افراد نے ملزم اور مقتول کے گھر سے تیز بدبو کی شکایت کی۔
یہ اطلاع ملنے پر پولیس کی ایک ٹیم 23 فروری کو جائے وقوعہ پر پہنچی اور گھر کی تلاشی لی تو گراؤنڈ فلور پر ایک کمرے میں رکھے ڈرم سے مانویندر کی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق مانویندر سنگھ کے دو بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹا اکشت اور ایک بیٹی ہے جو مقامی سکول میں پڑھتی ہے۔
مانویندر پرتاپ سنگھ کے رشتہ داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکشت نے دو بار میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے امتحان دیا تھا لیکن وہ پاس نہیں ہو سکا۔
یونٹی کالج لکھنؤ میں نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر شمسی اکبر کہتی ہیں کہ ’گھر میں مسلسل لڑائی، خاندانی دباؤ، غصہ یا طویل تناؤ بعض اوقات پرتشدد رویے کا باعث بن سکتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’دباؤ یا زبردستی ایک محرک کا کام کر سکتا ہے، لیکن یہ بذات خود کسی سنگین ذہنی بیماری کی علامت نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’نفسیات میں اس طرح کے معاملات کو کئی ممکنہ وجوہات کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسے معاملات میں ڈاکٹروں یا طبی ماہرین نفسیات کی تفصیلی جانچ کے بعد ہی کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔‘