آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیکوبار جزائر: چین کی طرز پر انڈیا کا متنازع ’سٹریٹیجک‘ منصوبہ کیا ہے؟
- مصنف, اپسانا بھٹ
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انڈیا کے ایک ادارے نے بحرِ ہند میں واقع ماحولیاتی لحاظ سے حساس نیکوبار جزائر میں ایک بڑے منصوبے کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے اور ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں ماحول کو پہنچنے والے ممکنہ بڑے نقصان کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
منصوبے کی سٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) نے زور دے کر کہا ہے کہ حکومت نے منصوبے کو ماحولیاتی کلیئرنس دیتے وقت کافی ’حفاظتی اقدامات‘ کو مدنظر رکھا ہے۔
مقامی میڈیا اس جزیرے کو دفاعی اور بحری مرکز کے طور پر تیار کرنے کے حکومتی اصرار کی وجہ علاقائی سیاست کو قرار دے رہا ہے کیونکہ خطے میں چین اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔
اس منصوبے میں ایک بندرگاہ کی تعمیر شامل ہے جو کہ ایک اہم بحری گزرگاہ ’آبنائے ملاکا‘ سے محض 40 ناٹیکل میل (74 کلومیٹر) دور ہوگی۔
نمایاں میڈیا اور ماحولیاتی کارکنوں نے اس فیصلے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ سٹریٹیجک مفادات این جی ٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
اس بڑے منصوبے کو منظوری کیوں دی گئی؟
این جی ٹی، جو ماحولیاتی کیسز سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ ایک عدالتی ادارہ ہے، نے 16 فروری کو ’گریٹ نیکوبار ہولیسٹک ڈویلپمنٹ پروجیکٹ‘ کی منظوری دی۔
ٹربیونل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی ماحولیاتی کلیئرنس میں ’مناسب حفاظتی اقدامات‘ فراہم کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کو ’دفاعی اور سٹرٹیجک نکتہ نظر سے انڈیا کے لیے اہم‘ قرار دیتے ہوئے، این جی ٹی نے ماحولیاتی گروپس کی جانب سے دائر کردہ قانونی اعتراضات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان ’حفاظتی اقدامات‘ کی موجودگی میں ٹربیونل کے لیے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ’کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منظوری نے 810 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی راہ ہموار کر دی ہے، جس کے تحت انڈمان اور نیکوبار کے جزائر میں واقع ’گریٹ نیکوبار آئی لینڈ‘ کی ’گلیتھیا بے‘ پر ایک بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ پورٹ تعمیر کی جائے گی۔
اس منصوبے کے حصے کے طور پر شہری اور فوجی افعال کا حامل ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ، 450-MVA (میگا وولٹ ایمپیئر) کا گیس اور شمسی توانائی پر مبنی پاور پلانٹ اور ایک رہائشی بستی قائم کرنا بھی تجویز کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ اہم کیوں ہے؟
حکومت نے ماحولیات کے تحفظ کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے اس منصوبے کی سٹرٹیجک اہمیت پر زور دیا ہے۔
ستمبر 2025 میں وزیرِ ماحولیات بھوپیندر یادو نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ ’سٹرٹیجک، دفاعی اور قومی اہمیت کا حامل ہے، جسے بحرِ ہند کے خطے میں بحری اور فضائی رابطے کے ایک بڑے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’گریٹ نیکوبار جزیرے کو تیار کرنے کا فیصلہ اس کے ماحولیاتی، سماجی اور سٹرٹیجک پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد لیا گیا ہے‘ اور حکومت ’معیشت اور ماحولیات کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
منصوبے کی ’سٹریٹیجک‘ اہمیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ، نیشنل گرین ٹربیونل نے براہِ راست چین کو بھی ایک اہم عنصر کے طور پر بیان کیا ہے۔
این جی ٹی کے حکم نامے میں ان میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ’یہ علاقہ چین کی سٹرنگ آف پرلز حکمتِ عملی کے دائرے میں آتا ہے، جس کا مقابلہ انڈین حکام انڈیا کی ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے تحت کرنا چاہتے ہیں۔‘
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’بحرِ ہند انڈیا اور چین کے سٹریٹیجک مفادات کے ایک اہم سنگم کے طور پر ابھرا ہے۔۔۔ یہ منصوبہ جزیرے میں بنیادی ڈھانچے کے فرق کو ختم کرنے اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے میں مدد دے گا، جس سے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر بڑی رقم کی بچت ہوگی۔‘
میڈیا اس منصوبے کا کس طرح جائزہ لے رہا ہے؟
انڈین میڈیا نے بھی جزیرے کے 'سٹریٹیجک' محلِ وقوع پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کے پیشِ نظر حکومت اس علاقے کو ایک دفاعی اور بحری مرکز کے طور پر تیار کرنا چاہتی ہے۔
انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ پر 17 فروری کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا:
’اصل تصور یہ ہے کہ 'آبنائے ملاکا' سے قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گریٹ نیکوبار کو جنوب مشرقی ایشیا کے قائم شدہ مراکز (Hubs) کے مدمقابل کھڑا کیا جائے۔۔۔ چین کی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ انڈیا اس وقت ٹرانس شپمنٹ کے لیے غیر ملکی بندرگاہوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس مجوزہ مرکز کا مقصد مشرق سے مغرب کی طرف جانے والے بحری راستوں پر کارگو کا ایک بڑا حصہ اپنے قبضے میں لینا ہے۔‘
گریٹ نیکوبار، 'آبنائے ملاکا' سے قریب ترین انڈین علاقہ ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا کہ ان جزائر سے 'نگرانی' اور 'تیز رفتار تعیناتی' کی صلاحیت انڈو-پیسیفک خطے میں انڈیا کی بحری موجودگی کو تقویت دے گی، اور یہاں موجود بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بحری و فضائی آپریشنز کے لیے لاجسٹکس کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
مضمون میں یہ بھی کہا گیا: 'ایک ایسے خطے میں جہاں چین کے بحری اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، نئی دہلی گریٹ نیکوبار پروجیکٹ کو 'فورس ملٹی پلائر' (طاقت میں کئی گنا اضافہ کرنے والا عنصر) کے طور پر دیکھتی ہے۔ لہٰذا، یہ منصوبہ سٹرٹیجک منطق کے عین مطابق ہے۔ یہ محض ایک معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک اپ گریڈ ہے جسے مرکزی حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے۔'
روزنامہ دی انڈین ایکسپریس میں 19 فروری کو شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، مجوزہ بندرگاہ کے علاوہ حکومت پہلے ہی ان جزائر میں دفاعی بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔
ماحولیات کے حوالے سے تحفظات کیا ہیں؟
وفاقی کابینہ نے 2021 میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی، لیکن ماحولیاتی گروپوں نے ماحولیات کو پہنچنے والے بڑے نقصان کی وارننگ دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔
نیکوبار جزائر 'سنڈالینڈ بائیو ڈائیورسٹی ہاٹ سپاٹ' کا حصہ ہیں۔
میڈیا رپورٹس اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے 130 مربع کلومیٹر جنگلاتی اراضی کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ درخت کاٹے جائیں گے۔
یہ منصوبہ کئی نایاب انواع کے مسکن کو متاثر کرے گا۔ ان میں جائنٹ لیدر بیک سمندری کچھوے جن کی کے انڈے دینے کی جگہوں کو نقصان پہنچے گا۔
اس کے علاوہ نیکوبار میگا پوڈ نامی پرندہ صرف اسی علاقے میں پایا جاتا ہے اور اس کے قدرتی ٹھکانے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے سے وہاں کے قدیم اور مقامی قبائل، 'شومپن' اور 'نیکوباری' کمیونٹیز کی زندگی اور ثقافت بری طرح متاثر ہوگی۔
میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ گریٹ نیکوبار ایک انتہائی حساس زلزلے والے زون میں واقع ہے اور 2004 کے سونامی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔
اتنی بڑی تعمیرات اس خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
غیر منافع بخش تنظیم 'کنزرویشن ایکشن ٹرسٹ' کے ڈیبی گوئنکا جنھوں نے نیشنل گرین ٹربیونل (NGT) میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا وہ کہتے ہیں 'یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک ایسا ٹربیونل جسے ہمارے ماحول کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا، وہ کام نہیں کر رہا جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔'
اپوزیشن کی کانگریس پارٹی کے رہنما جیرام رمیش نے 16 فروری کو این جی ٹی کے فیصلے کو 'انتہائی مایوس کن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات تباہ کن ہوں گے۔'
اپنی طرف سے، ٹربیونل نے حکومت کی فراہم کردہ یقین دہانیوں پر زور دینے کی کوشش کی ہے۔
میڈیا اداروں اور ماحولیات پر توجہ مرکوز کرنے والے جرائد، جیسے کہ 'ڈاؤن ٹو ارتھ' نے لکھا کہ این جی ٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انتہائی حساس ماحولیاتی ساحلی علاقوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہو گی۔
ٹربیونل کے دائرہ اختیار پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟
کچھ ماہرین اور نامور میڈیا اداروں نے نیشنل گرین ٹربیونل کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا ہے، کیونکہ ٹربیونل نے بار بار اس منصوبے کی سٹریٹیجک اہمیت پر زور دیا ہے۔
روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے 18 فروری کو لکھا کہ قومی سلامتی اور تجارت جیسے معاملات این جی ٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
اخبار نے اس بات پر زور دیا کہ این جی ٹی کو اپنی توجہ ’بنیادی مسئلے‘ یعنی حیاتیاتی تنوع، ماحول اور کمزور قبائل پر پڑنے والے اثرات پر مرکوز کرنی چاہیے تھی اور منصوبے کے بارے میں ایک 'غیر سمجھوتہ پسندانہ موقف' اختیار کرنا چاہیے تھا، لیکن 'اس نے ایسا نہیں کیا۔'
اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ 'ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ آیا یہ منصوبہ معاشی طور پر سودمند ہے بھی یا نہیں' اخبار نے کہا کہ 'اس کیس میں حیاتیاتی تنوع کا جو نقصان ہوگا، اس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں ہے۔'
ماحولیاتی وکیل رتوک دتا نے کہا: ’اگر سٹریٹیجک اور قومی مفاد ہی ماحولیاتی فیصلوں کی بنیاد بن جائیں، تو تقریباً 90 فیصد منصوبوں کو معاشی یا سکیورٹی کے لحاظ سے 'سٹریٹیجک' قرار دے کر (ماحولیاتی قوانین سے) استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق، درخواست گزار این جی ٹی کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، جبکہ اسی منصوبے سے متعلق ایک اور کیس پہلے ہی کلکتہ ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔