ٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟

    • مصنف, جیریمی بوون
    • عہدہ, انٹرنیشنل ایڈیٹر
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان سنیچر کو شروع ہونے والی جنگ کا آغاز ہوئے تین دن مکمل ہو چکے ہیں۔

ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایہ خلیجی ممالک پر جوابی حملے کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی یہ جنگ علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

برطانیہ نے بھی بالآخر امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے مگر سپین نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔

جنگ اب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اور میرے فون پر مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔ میں نے ابھی ابھی امریکی سینٹرل کمانڈ کی ایک پریس ریلیز پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تین امریکی ایف-15 لڑاکا طیاروں کو کویت کی فضائی دفاعی افواج نے ’بظاہر دوستانہ فائرنگ‘ کے واقعے میں میں مار گرایا ہے۔

جب تک میں یہ تحریر مکمل کروں گا، تب تک مزید میزائل فائر کیے جا چکے ہوں گے اور ایسے مزید لوگ مارے جا چکے ہوں گے، جو (یہ تحریر لکھتے وقت) زندہ ہیں۔

ابھی اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہو گی۔ ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو ان پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن مندرجہ ذیل کچھ نتائج ہیں جو اس جنگ کو شروع کرنے والے حاصل کرنا چاہیں گے۔

ٹرمپ کے لیے کامیابی کا کیا مطلب ہے؟

صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر فلمائے گئے ایک ویڈیو پیغام میں جنگ شروع ہونے کا اعلان کرنے کے بعد، ہمیشہ کی طرح امریکی فوجی طاقت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسرے صدور شاید اس اعلان کے لیے اوول آفس میں ریزولوٹ ڈیسک کے پیچھے سے ایک خطاب کا انتخاب کرتے مگر ٹرمپ نے مار اے لاگو کا انتخاب کیا۔

ٹرمپ نے جب اس جنگ کا اعلان کیا تو اس وقت انھوں نے سفید بیس بال کیپ پہن رکھی تھی۔ انھوں نے ایک طویل چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ ایران 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ کے لیے ایک فوری خطرہ رہا ہے۔

ٹرمپ کبھی بھی اپنا ذہن بدل سکتے ہیں، لیکن اس تقریر میں، انھوں نے اپنا تصور پیش کیا کہ ان کی نظر میں فتح کیا ہو گی۔

اور یہ ایک فہرست جیسی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ان (ایران) کے میزائلوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں اور ان کی میزائل انڈسٹری کو ختم کر دیں گے۔ اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ ہم ان کی بحریہ کو تباہ کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے جا رہے ہیں کہ خطے کے دہشت گرد پراکسی اس کے بعد خطے یا دنیا کو غیر مستحکم نہ کر سکیں، اور ہماری افواج پر حملہ کرنے کے قابل نہ رہیں، اور آئی ای ڈیز یا سڑک کے کنارے بموں کا استعمال نہ کر سکیں، جس میں ہزاروں لوگ بشمول امریکی مارے جاتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جس کے متعلق امریکہ کے پاس کوئی ٹھوس انٹیلیجنس شواہد موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قریب ہے۔ یہ دعویٰ گذشتہ سال موسم گرما میں صدر ٹرمپ کے اپنے اس بیان کی نفی کرتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو صفحہ ہستی سے ’مٹا دیا‘ ہے۔

ٹرمپ کا ماننا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تہران کی حکومت کو ختم کر سکتا ہے۔ اور اگر ایرانی حکومت نہیں جھکتی، تو اسے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا جائے گا کہ ایرانی عوام کے پاس کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ اپنے ملک میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا بہترین موقع ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’جب ہمارا کام ختم ہو جائے گا تو وہ (ایرانی عوام) اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔ یہ آپ کا حق ہو گا۔ شاید یہ آپ کو کئی نسلوں ملنے والا واحد موقع ہو گا۔ کئی سالوں سے، آپ امریکہ سے مدد مانگتے آئے ہیں جو آپ کو کبھی نہیں ملی۔ کوئی سابق صدر یہ کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں آج رات کرنے کو تیار ہوں۔ اب آپ کے پاس ایک صدر ہے جو آپ کو وہ دے رہا ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ تو دیکھتے ہیں آپ (ایرانی عوام) اس کا کیسے جواب دیتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے حکومت کی تبدیلی کی ذمہ داری ایرانی عوام پر ڈال کر، حالانکہ وہ براہ راست انھیں اس کی ترغیب دے رہے ہیں، اپنے لیے ایک راہ کھلی رکھی ہے، یعنی اگر ایرانی حکومت بچ جاتی ہے تو وہ کنی کترا کر نکل سکتے ہیں۔

لیکن اسے امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کی تبدیلی کا عمل مکمل ہو۔ تاہم اس سے ایک ایسے صدر کے فیصلوں کو کتنا متاثر کیا جا سکتا ہے جو یہ مانتا ہے کہ ڈیل یا معاہدہ کبھی بھی ہو سکتا ہے۔

دنیا میں کہیں بھی صرف فضائی طاقت کے استعمال کی مدد سے کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی یا جنگ جیتنے کی نظیر نہیں ملتی ہے۔

سنہ 2003 میں امریکہ اور برطانیہ کو اپنے اتحادیوں کے ہمراہ صدام حسین کو ہٹانے کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوجیں عراق بھیجنی پڑی تھییں۔ سنہ 2011 میں لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو طاقت کی مدد سے مسلح باغی افواج نے ہٹایا تھا جنھیں نہ صرف نیٹو اور خلیجی ممالک نے مسلح کیا تھا بلکہ اُن کی فضائی افواج نے باغیوں کو تحفظ بھی فراہم کیا تھا۔

ٹرمپ شاید یہ امید کر رہے ہیں کہ ایرانی عوام یہ کام خود کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کا منصوبہ ایک بہت بڑا جوا ہے۔ صرف بمباری کے ذریعے حکومت کی تبدیلی جیسا بڑا مقصد حاصل کرنے کے راستے میں بہت سی مشکلات کھڑی ہیں۔

کیا ایران کے اندر سے ہی کوئی مغرب نواز بغاوت سامنے آ سکتی ہے؟ یہ ناممکن تو نہیں، لیکن جنگ کے تین دن پورے ہونے کے بعد اس کے بہت زیادہ امکان دکھائی نہیں دے رہے۔

اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ لوگ جو ابھی حکومت چلا رہے ہیں وہ اپنے اس نظریے اور یقین پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہ امریکہ، اسرائیل یا عرب خلیجی ریاستوں سے زیادہ تکلیف سہہ سکتے ہیں، اپنے جگہ پر ڈٹے رہیں اور مزید میزائل فائر کرتے رہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف ایرانی عوام کو سہنی پڑے گی۔ لیکن اس معاملے میں ان کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا ہے۔

نیتن یاہو کے لیے یہ اپنی کرسی کا سوال ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی ایسے بیانات جاری کیے ہیں جس میں انھوں نے ایرانیوں کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی ترغیب دی ہے۔

لیکن اگر وہ ایرانی حکومت کی بے رحم سکیورٹی فورسز پر قابو نہیں پا سکیں گے تو نیتن یاہو کی ترجیح ایران کی عسکری صلاحیت اور خطے میں ایسی مسلح گروہوں اور ملیشیاؤں کو دوبارہ کھڑا ہونے کی صلاحیت کو تباہ کرنا ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

کئی دہائیوں سے بنیامن نیتن یاہو ایران کو اسرائیل کا سب سے خطرناک دشمن قرار دیتے آئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے حکمران یہودی ریاست کو تباہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتے ہیں۔

اتوار کے روز جب جنگ کا دوسرے دن تھا، نیتن یاہو نے تل ابیب میں ایک چھت پر کھڑے ہو کر، جو کہ شاید وزارت دفاع کی عمارت تھی، بتایا کہ وہ اس جنگ کو کیسے ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر ’وہ کچھ کر پائیں گے جو میں گذشتہ 40 برسوں سے کرنا چاہتا ہوں - یعنی دہشت گردوں کی حکومت کو مکمل طور پر کچلنا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک وعدہ ہے جسے وہ حقیقت بنا کر رہیں گے۔

جنگوں کا ہمیشہ ایک مقامی سیاسی پہلو بھی ہوتا ہے۔ ٹرمپ کی طرح نیتن یاہو کو بھی اس سال کے آخر میں اسرائیل میں انتخابات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کے برعکس، ان کی اپنی کرسی کو خطرہ ہے۔

بہت سے اسرائیلی نیتن یاہو کو ان سکیورٹی کی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جس کی وجہ سے حماس کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے کا موقع ملا۔ انھیں انتخابات میں ایک طرح کی معافی حاصل ہو سکتی اگر وہ اس وقت یہ کہہ سکیں کہ انھوں نے اسرائیل کو ایران پر فیصلہ کن فتح دلائی ہے۔

پھر شاید کوئی انھیں شکست بھی نہ دے سکے۔

ایران کے لیے بقا میں فتح

رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی مشیروں کی ہلاکت ایران کے لیے ایک کاری ضرب تھی۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایران میں موجودہ حکومت کا خاتمہ (رجیم چینج) ہو جائے گا۔

لگ بھگ 50 برس قبل ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی اور اُن کے ساتھیوں نے ایران میں ادارے اور نظام حکومت اس نہج پر تشکیل دیا تھا کہ یہ جنگوں اور قتل و غارت کے باوجود یہ قائم رہ سکے۔ یہ ایک شخص پر مبنی یا اس کے گِرد گھومتا نظام نہیں ہے۔ شام اور لیبیا کی ریاستیں اسد اور قذافی کے خاندانوں کے گرد بُنی گئی تھیں اور جیسے ہی یہ خاندان ختم ہوئے تو ان ممالک میں حکومتیں بھی ڈھیر ہو گئیں۔

ایران کا نظام ایک مضبوط ریاستی ڈھانچے پر مبنی ہے، جو سیاسی اور مذہبی اداروں کے ایک پیچیدہ اور گھنے جال پر قائم ہے، ان اداروں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے اوورلیپ کرتی ہیں۔ یہ نظام جنگوں اور رہنماؤں کے قتل کے باوجود طویل عرصے تک قائم رہنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ یہ لازماً قائم ہی رہے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں رائج کا نظام اپنے اب تک کے سب سے سخت امتحان کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس نے اس لمحے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

اس حکومت کی فتح کی تعریف صرف بقا ہے، یعنی اگر رجیم قائم رہ گیا تو یہی اس جنگ میں ایران کی فتح ہو گی۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے موجودہ رجیم نے اپنے گرد ایک نہایت مضبوط حفاظتی حصار قائم کر رکھا ہے۔

ایران کے پاس جبر اور دباؤ کے اصول پر چلنے والی ایک طاقتور اور بے رحم سکیورٹی فورس ہے، جس نے گذشتہ ماہ سڑکوں پر احتجاج کی غرض سے نکلنے والے ہزاروں مظاہرین کو قتل کرنے کے احکامات پر من و عن اور بلاہچکچاہٹ عمل کیا۔ تاحال، اور جیسا کہ میں بار بار کہہ رہا ہوں یہ ابھی جنگ کا صرف چوتھا دن ہے، کوئی ایسے آثار نہیں ہیں کہ ایران کی مسلح افواج یا سکیورٹی فورسز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں، جیسا کہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی افواج اُن کے ماسکو فرار ہونے کے بعد تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی تھیں۔

ایران میں مسلح افواج اور بھاری اسلحہ رکھنے والی پولیس کے علاوہ، پاسداران انقلاب کور (IRGC) بھی ہے، جس کا واضح مقصد موجودہ حکومت کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پاسداران انقلاب ولایتِ فقیہ کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ولایت فقیہ ایران کے اسلامی انقلاب کا بنیادی نظریہ ہے اور شیعہ مذہبی رہنماؤں کی ایران پر حکمرانی کو جائز قرار دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاسداران انقلاب کے 190,000 فعال یا حاضر سروس اہلکار ہیں اور تقریباً 600,000 ریزرو (یعنی جنھیں ضرورت پڑنے پر طلب کیا جا سکتا ہے)۔ پاسداران انقلاب مذہبی نظریے کے علاوہ معیشت کے بڑے حصے کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔ چنانچہ اس کے رہنماؤں کے پاس مالی اور نظریاتی دونوں وجوہات ہیں کہ وہ رجیم سے وفادار رہیں۔

پاسداران انقلاب کو 'بسیج' کی حمایت حاصل ہے۔ بسیج ایران کی ایک نیم فوجی فورس ہے جو رضاکاروں پر مشتمل ہے۔ بسیج کے اراکین کی تعداد لگ بھگ 450,000 ہے، یہ فورس حکومت کے ساتھ وفاداری اور غنڈہ گردی پر مبنی اپنی کارروائیوں کے لیے شہرت رکھتی ہے۔

میں نے بسیج کے اہلکاروں کو تہران میں سنہ 2009 کے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران دیکھا تھا جب وہ مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو ڈنڈوں اور ربڑ کی لاٹھیوں سے مار اور دھمکا رہے تھے۔ بسیج کے اہلکار اس کارروائی میں سب سے اگے تھے اور اُن کے پیچھے بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکار اور پاسداران انقلاب کے آدمی موجود تھے۔ بسیج کے اہلکار بڑی تعداد میں تہران بھر میں گشت کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے تھے اور شہر میں گھوم کر بغاوت کے واقعات اور احتجاجیوں کو کچلتے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب اور بسیج کو ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں ایک ایسی 'یقینی موت' کی دھمکی دی ہے جو اُن (ٹرمپ) کے مطابق 'بالکل بھی اچھی نہیں ہو گی۔' تاہم اس بات کا تاحال کوئی امکان نہیں ہے کہ ٹرمپ کی یہ دھمکیاں حکومت کے مسلح اہلکاروں کے ذہن بدل دیں گی یا انھیں ہتھیار چھوڑنے پر مجبور کر دیں گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور شیعہ اسلام شہادت کے تصور سے سرشار ہے۔ اتوار کو ابتدا میں تو چند گھنٹوں تک ایران میں سرکاری سطح پر دعوے کیے گئے کہ سپریم لیڈر محفوظ اور خیریت سے ہیں مگر پھر ریاستی ٹی وی پر نم آنکھوں اور بھری ہوئی آواز کے ساتھ نیوز اینکر نے خامنہ ای کی موت کا اعلان ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ انھوں نے 'شہادت کا میٹھا اور پاکیزہ جام نوش' کر لیا ہے۔

ایران کے کچھ سنجیدہ تجزیہ کاروں کو شک ہے کہ جب دنیا کا بڑا حصہ سمجھ رہا تھا کہ خامنہ ای پر حملہ ہونے والا ہے تب بھی آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں اپنے کمپاؤنڈ میں سیینئر مشیروں کے ساتھ ملاقات صرف اس لیے جاری رکھی کیونکہ وہ شہادت چاہتے تھے۔

ان مسلح تنظیموں اور گروہوں کے علاوہ موجودہ ایرانی رجیم کے پاس وفادار شہریوں پر مشتمل ایک بنیادی اور بڑا حلقہ ہے۔ سپریم لیڈر کے قتل کے بعد ہزاروں لوگ تہران کی سڑکوں پر نکل آئے اور باقاعدہ روئے، وہ چوک چوراہوں پر جمع ہوئے، شمعیں اور اپنے موبائل فونز کی لائٹس جلائیں، اس سے قطع نظر کہ اس وقت تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث متعدد مقامات پر مسلسل دھواں اٹھ رہا تھا۔

ماضی کی ناکامیاں

امریکیوں کا یقین ہے کہ اس بار، اسرائیل کے ساتھ مل کر اور بھرپور طاقت استعمال کر کے، وہ کوئی بڑی تباہی پیدا کیے بغیر دشمن پر رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) مسلط کر سکتے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے سابقہ مثالیں حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ سنہ 2003 میں عراق میں صدام حسین کو ہٹانے کے نتیجے میں ایک المیے نے جنم لیا، برسوں طویل جنگ نے ایسی جہادی انتہا پسند تحریکوں کو جنم دیا جو آج بھی موجود ہیں۔

لیبیا کے پاس تیل کے اتنی دولت موجود ہے کہ وہ اپنی چھوٹی سی آبادی کو انتہائی معیاری زندگی فراہم کر سکتا ہے۔ مگر یہ آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور یہاں انتہائی غربت ہے۔ معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹائے جانے اور قتل کیے جانے کے 15 سال بعد بھی لیبیا ایک ناکام ریاست ہے۔ وہ مغربی ممالک جنھوں نے لیبیا میں قذافی کے زوال کو ممکن بنایا تھا اور اس پر جشن منایا تھا، وہ آج اس ملک کے شہریوں کو درپیش المناک صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں۔

ایران ایک بڑا ملک ہے، عراق سے تقریباً تین گنا بڑا، اور اس کی آبادی 9 کروڑ سے زیادہ ہے جو مختلف نسلی گروہوں پر مشتمل ہے۔ اگر ایران میں حکومت واقعی گر جاتی ہے تو خوفناک منظرنامہ یہ ہو گا کہ اس کے بعد پیدا ہونے والا انتشار، افراتفری اور خونریزی شام اور عراق میں (رجیم چینج کے بعد) ہونے والی خانہ جنگیوں کی ہم پلہ ہو گی، وہ خانہ جنگیاں جن میں لاکھوں افراد مارے گئے۔

امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کچل رہی ہیں۔ چاہے ایران میں رجیم چینج نہ بھی ہو تب بھی یہ کارراوئیاں مشرقِ وسطیٰ میں توازن کو بدل دیں گی۔

بہت سے لوگ، جن میں غالب اکثریت ایرانیوں کی ہی ہو گی، حکومت کے گرنے پر خوشی منائیں گے۔ لیکن زبردستی ہٹائی گئی حکومت کی جگہ ایک پُرامن اور مربوط متبادل قائم کرنا ایک نہایت بڑا چیلنج ہو گا۔