آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راجیو کی لاعلمی، لڑاکا طیاروں کی چال اور جی ایچ کیو کی بے چینی: وہ ’غیرمعمولی مشق‘ جس نے انڈیا اور پاکستان کو جنگ کے دہانے لا کھڑا کیا
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
یہ 1986 کا موسم سرما تھا۔ ہزاروں انڈین فوجی پاکستان کی مغربی سرحد کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ راجستھان کی طرف جانے والی ہر سڑک پر فوجی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ ریل گاڑیاں بھی ہتھیار اور ٹینک سرحد کی طرف لے جا رہی تھیں۔
آپریشن ’براس ٹیکس‘ شروع ہو چکا تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اس پیمانے کی سب سے بڑی فوجی مشقیں تھیں۔
پربل داس گپتا اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’جنرل براسٹیکس، دی سندرجی سٹوری‘ میں لکھتے ہیں کہ اسی وقت میں، پاکستان دو فوجی مشقیں، ’صف شکن‘ اور ’فلائنگ ہارس‘ کر رہا تھا۔ ’صف شکن‘ میں پاکستانی فوج کے ریزرو دستے شامل تھے اور اس کا مرکز بھی راجستھان کی سرحد کے دوسری جانب واقع بہاولپور کے علاقے میں تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’پاکستانی فوج، جو انڈین فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی، کی قیادت کو اتنی بڑی تعداد میں انڈین فوجیوں کی سرحد کی طرف نقل و حرکت نے چونکا دیا تھا۔‘
انڈین آرمی چیف کا منصوبہ
اس وقت کے انڈین آرمی چیف جنرل سندر جی امریکی فوج کے فضائی اور زمینی جنگ کے تصور سے متاثر تھے اور انھوں نے اسی کو ذہن میں رکھ کر انڈین فوج کے کچھ انفنٹری ڈویژن کی تنظیم نو بھی کی۔
جنرل سندر جی چاہتے تھے کہ انڈین فوج کی یہ مشق نیٹو کی حال ہی میں منعقدہ جنگی مشق سے بھی بڑی ہو۔
فوجی تاریخ دان ایئر وائس مارشل ارجن سبرامنیم اپنی کتاب ’انڈیاز وارز 2 (1972-2020)‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سندر جی نے بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی مشق کی منصوبہ بندی کی تھی، جو تین مرحلوں میں منعقد ہونا تھی اور اس کا اختتام راجستھان سیکٹر میں ہونا تھا۔‘
ان کے مطابق اس مشق کا بنیادی مقصد یہ اندازہ لگانا تھا کہ انڈین فوج رات کے اندھیرے میں کتنی تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹینکوں کا کامیاب تجربہ
لیفٹیننٹ جنرل پروین بخشی اس وقت T-72 ٹینکوں کی ایک رجمنٹ ’سکنر ہارس‘ میں میجر تھے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ہمارے ٹینکوں نے رات میں 60 کلومیٹر کا فاصلہ آسانی سے طے کیا۔‘
ان کے مطابق ’ہم نے ٹینکوں میں اصلی ہتھیار نہیں لوڈ کیے، وہاں جانے کا مقصد صرف جنگ کی مشق کرنا تھا اور یہ جانچنا تھا کہ ہم مستقبل کی ممکنہ جنگ کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔‘
لیکن انڈین فوج کے اس اقدام نے راولپنڈی اور واشنگٹن، دونوں جگہ ہی خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور جواب میں پاکستانی فوج نے پنجاب اور کشمیر کی سرحد پر تعینات فوج کی تعداد بڑھا دی۔
ادھر انڈین انٹیلی جنس ذرائع تک یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ پاکستان کے جنوبی علاقے سے ریزرو فوجی بہاولپور میں مشق کے بعد سے اپنی بیرکوں میں واپس نہیں لوٹے اور ابھی تک جنگی حالت میں ہیں۔
انڈین لڑاکا طیاروں نے سرحد پار کی
انڈین فضائیہ کے واحد الیکٹرانک وارفیئر سکواڈرن، نمبر 35، نے بھی 1986 میں ہونے والی اس مشق میں حصہ لیا تھا۔ اس میں کینبرا اور MiG-21 لڑاکا طیارے شامل تھے جن میں سویڈش ساختہ EW pods کو لے جانے کے لیے تھوڑی سی ردوبدل کی گئی تھی۔
1986 کے اوائل میں پورے سکواڈرن کو ہریانہ میں امبالا اور راجستھان میں بیکانیر کے قریب منتقل کر دیا گیا تھا۔ آپریشن Brasstacks کے دوران، ان طیاروں Jaguar اور MiG-27 طیاروں کی حفاظت میں دو مہینے گزارے۔
ائیر وائس مارشل ارجن سبرامنیم لکھتے ہیں کہ ’کئی بار یہ طیارے پاکستانی فضائی دفاع کی تیاری کا اندازہ لگانے کے لیے جان بوجھ کر سرحد پار کرتے تھے۔ جیسے ہی ریڈار وارننگ ریسیورز پر بیپ کی آواز سنائی دیتی تھی یا ریڈیو پر وارننگ سنائی دیتی تھی، وہ واپس انڈین سرحد کی طرف مڑ جاتے۔ یہ بلی اور چوہے کا کھیل تقریباً دو ماہ تک جاری رہا۔‘
لیفٹیننٹ آر کے بھدوریا، جو بعد میں انڈین فضائیہ کے سربراہ بنے اور اس وقت ’چھوٹو‘ کے نام سے جانے جاتے تھے ان کارروائیوں میں حصہ لینے والے سب سے کم عمر افسر تھے۔
کانتی باجپائی اپنی کتاب 'Brasstacks and Beyond' میں لکھتے ہیں، 1983-84 میں، ’پاکستان کے اس وقت کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف جنرل کے ایم عارف اور انڈیا کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ویدیا نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر انڈیا یا پاکستان ایک دوسرے کی سرحد کے قریب کوئی بڑی فوجی مشق کریں گے تو وہ ایک دوسرے کو مطلع کریں گے۔‘
بظاہر جنرل سندر جی اس بات سے بے خبر تھے۔
پربل داس گپتا لکھتے ہیں کہ ’وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اپنے وزراء کو کابینہ کے اجلاس کے لیے بلانے کے لیے ایک طیارہ بھیجا تو پاکستان کے صدر جنرل ضیاء نے فرض کر لیا کہ کابینہ کا اجلاس پاکستان پر حملے پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، کیونکہ اس وقت پاکستانی سرحد پر انڈین فوجیں پہلے سے موجود تھیں۔‘
شجاع نواز اپنی کتاب 'Crossed Swords, Pakistan, Its Army and the War Within' میں لکھتے ہیں کہ ’راولپنڈی میں پاکستانی فوج کی قیادت میں سوچ یہ تھی کہ انڈیا شمال میں بہاولپور اور جنوب میں خیرپور کے شہروں کو Brasstacks کے ذریعے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ انڈیا سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر تلا ہوا ہے۔‘
انڈین فوجی مشق کے لیے ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ لیفٹیننٹ جنرل روڈریگز اور ان کی ٹیم کو امپائر بنایا گیا تھا۔ پربل داس گپتا لکھتے ہیں کہ ’مشق کی غرض سے دو فوجیں، ریڈ اور بلیو، تشکیل دی گئیں جن میں سے ریڈ ٹیم پاکستانی فوج کا کردار ادا کر رہی تھی۔ اس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وی این شرما تھے۔ ریڈ آرمی نے جوہری ہتھیاروں کے آپشن کو استعمال کرنے کی اجازت کی درخواست کی تھی، جسے امپائرز نے مسترد کر دیا۔‘
1971 کی جنگ کے بعد 15 سال میں یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کی فوجیں جنگ کے اتنے قریب آ گئی تھیں۔ کشیدگی اور خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مغربی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ سندر جی پاکستان کو انڈیا کے خلاف کارروائی کے لیے اکسا رہے تھے، تاکہ انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے کا بہانہ مل جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل پی این ہون، جو اس وقت ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ تھے اور آپریشن براسٹیکس کا ایک اہم حصہ تھے، کا خیال ہے کہ براسٹیکس کا مقصد ہی پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنا تھا۔
سندر جی کے ناقد جنرل ہون اپنی کتاب 'Unmasking Secrets of Turbulence' میں لکھتے ہیں کہ ملک کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو جس طرح متحرک کیا گیا وہ صرف جنگ کی تیاری میں ہوتا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’جب میں نے جنرل سندر جی سے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم اور انڈین حکومت کو فوجی مشق کی تفصیلات اور پیشرفت سے آگاہ کیا گیا ہے، تو انھوں نے غصے سے جواب دیا ’بطور کمانڈر آپ کا کام مغربی کمانڈر کا ہے یا نہیں؟ وزیر اعظم کو اس بارے میں بتایا گیا ہے یا نہیں، یہ میرا کام ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ ضروری تھا وہ کر دیا ہے۔‘
وزیراعظم راجیو گاندھی کی لاعلمی
اپنی کتاب میں جنرل ہون نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ مشق جنگ جیسی صورتحال میں بڑھ گئی ہے۔
جنرل ہون لکھتے ہیں کہ ’میں 15 جنوری کو دلی میں آرمی ڈے کی پریڈ میں موجود تھا جب راجیو گاندھی میرے پاس آئے اور پوچھا کہ ’مغربی کمان کیسی چل رہی ہے؟‘
’میں نے جواب دیا: سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہو رہا ہے اور فوجیں جنگ کی جگہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔‘ راجیو نے مجھ سے پوچھا، جنگ کی جگہ سے تمھارا کیا مطلب ہے؟ ہم جنگ میں کیسے جا سکتے ہیں؟‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم کو اس مشق کے بارے میں پوری طرح سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔‘
’جب میں واپس پہنچا تو مجھے پریشان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، لیفٹیننٹ جنرل روی مہاجن کا فون آیا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ آرمی چیف جنرل سندر جی فوری طور پر دلی میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جب میں دلی پہنچا تو سندر جی نے مجھے کہا کہ مشق کا رخ تبدیل کیا جائے جس کے بعد فوجیوں کو بیکانیر واپس بلایا گیا۔‘
کانتی باجپائی لکھتے ہیں جب پاکستان نے آپریشن Brasstacks کے جواب میں اپنی فوجی مشقیں جاری رکھیں تو آرمی چیفس اور وزیر مملکت برائے دفاع نے مشترکہ طور پر راجیو گاندھی کو مطلع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فوجیں پیچھے ہٹانے پر اتفاق
اسی دوران پاکستان میں آدھی رات کو انڈین ہائی کمشنر کے گھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور پاکستانی وزارت خارجہ نے انھیں وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ملاقات کے لیے طلب کیا۔
اس ملاقات میں نورانی نے ایس کے سنگھ کو صدر ضیا کا پیغام دیا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ انڈیا کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مائیکل کریپن اور نیٹ کون اپنی کتاب ’کرائسز ان ساؤتھ ایشیا‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے انڈین سرحد پر فوجوں کی تعیناتی میں اضافے کے جواب میں، سندر جی نے دفاعی انداز میں بین الاقوامی سرحد پر انڈین فوجیوں کو تعینات کیا اور اپنے ریزرو فوجیوں کو بھی بلایا۔ ’اس اقدام سے حالات مزید خراب ہوگئے اور جموں اور پنجاب کی سرحد پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آ گئیں۔‘
’انڈین وزیر اعظم کے دفتر نے آرمی چیف جنرل سندر جی کو ایک پریس کانفرنس کرنے کی ہدایت کی اور انڈیا کے اس اقدام کے پیچھے وجہ دنیا کو بتانے کی ہدایت کی۔‘
18 جنوری 1987 کو وزیر مملکت برائے دفاع ارون سنگھ اور جنرل سندر جی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا فارورڈ سرحد سے فوجیں واپس بلانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ پاکستان ایسا کرے۔‘
جنرل ضیاء کا دورہ
اس کے فوراً بعد انڈیا اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن بحال ہوگئی۔ Brasstacks کے دوران یہ ہاٹ لائن 45 دن سے استعمال نہیں ہوئی تھی۔
کانتی باجپائی لکھتے ہیں کہ ’رابطے کی اس کمی نے قیاس آرائیوں کو مذید ہوا دی کہ انڈیا پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پورے واقعے کا حقیقت پسندانہ جائزہ بتاتا ہے کہ انڈیا نے جان بوجھ کر معلومات کو روکے رکھا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، پاکستان کو غیر یقینی اور بے چینی کی حالت میں رکھا۔‘
21 فروری 1987 کو پاکستانی فضائیہ کا ایک طیارہ دہلی میں اترا جس میں پاکستان کے جنرل ضیا سوار تھے جو بظاہر جے پور میں پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ دیکھنے آئے تھے۔ انھوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راجیو گاندھی کو امن کی تجویز پیش کی جسے راجیو گاندھی نے قبول کر لیا۔
میڈیا نے اسے ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ قرار دیا۔ آپریشن Brasstacks نومبر 1986 میں شروع ہوا اور مارچ 1987 میں ختم ہوا۔
عسکری تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آپریشن براسٹیکس نے انڈیا کی عسکری صلاحیتوں کا اس قدر موثر مظاہرہ کیا کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرنے پر مجبور ہو گیا۔
اس وقت انڈیا کی فوج میں 1.1 ملین فوجی تھے اور اس نے اپنے دفاعی بجٹ پر تقریباً 8 بلین ڈالر خرچ کیے، جو اس کے کل بجٹ کا 20 فیصد تھا۔