آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سخوئی لڑاکا طیارے کا حادثہ، پاکستان کے خلاف آپریشن میں شامل پائلٹ کی ہلاکت اور انڈین فضائیہ کو درپیش مشکل
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈین فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ ایس یو-30 ایم کے آئی ریڈار سے غائب ہوتے ہی تشویش کی لہر شروع ہو چکی تھی۔ یہ تشویش اس وقت درست ثابت ہوئی جب بعد میں یہ علم ہوا کہ یہ طیارہ جمعرات کی رات کو کاربی اینگلونگ کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے تھے۔
اس طیارے نے آسام ریاست میں جورہٹ کے فضائی اڈے سے پرواز بھری تھی اور سات بج کر 42 منٹ پر اس سے آخری بار رابطہ ہوا تھا جس کے بعد انڈین فضائیہ نے ایک بیان جاری کیا کہ اس کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ بعد میں جورہٹ سے 60 کلومیٹر دور طیارہ گرنے کی تصدیق ہوئی تھی۔
انڈین فضائیہ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ جنگی جہاز ایک تربیتی مشن پر تھا‘ تاہم اس کے گرنے کی وجہ کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ انڈین فضائیہ نے اس حادثے کی جانچ کے لیے ایروناٹکس کے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی ہے جو حادثے کے اسباب کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ کرے گی۔
انڈین ایئرفورس کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹوں میں سکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹینینٹ پوریش دراگکر شامل تھے۔ خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے فلائٹ لیفٹینینٹ پوریش کے والد رویندرا دراگکر نے بتایا کہ ان کا بیٹا پاکستان کے خلاف مئی میں ہونے والے آپریشن میں بھی شریک تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کو پاکستان کے خلاف آپریشن میں اپنے بیٹے کی شمولیت کے بارے میں 15 دن بعد علم ہوا تھا۔ ’ہمیں تو 15 دن بعد اس وقت علم ہوا جب اس نے بتایا کیوں کہ اس دوران تو اس کے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا اور ہمارا کوئی رابطہ نہیں تھا۔‘
پوریش کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے نے ملک کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان دی ہے۔‘
یہ حادثہ کیوں پیش آیا؟
ایس یو-30 ایم کے آئی جنگی جہاز کو انڈین فضائیہ کی جنگی فلیٹ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 1990 کے اواخر میں فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔
ابتدا میں سخوئی کمپنی کا ایس یو – ایم کے 30 جہاز براہ راست سویت یونین سے برآمد کیا گیا تھا لیکن بعد میں لائسنس حاصل کرنے کے بعد انڈیا میں سرکاری ادارے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ یعنی ہال نے بنگلور اور ناسک میں یہ جہاز بنانا شروع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین ایئرفورس کے پاس ایس یو ایم کے آئی 30 ساخت کے 272 فائٹر جہاز تھے لیکن اب یہ کم ہو کر 260 کے آس پاس رہ گئے ہیں کیونکہ 2009 سے مختلف حادثات میں ایک درجن سے زیادہ ایس یو-30 ایم کے آئی جہاز گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ملٹی رول فائٹر جہاز ہے اور یہ فرنٹ لائن کے فائٹر فلیٹ کی بنیاد ہے۔ اس کا کریش ہونا بہت گمبھیر معاملہ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا انجن بھی اب انڈیا میں ہی بنتا ہے۔‘ راہل کا کہنا تھا کہ ’فضائیہ نے اس کی انکوائری شروع کی ہے اور چار پانچ مہینے میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا اور اسی وقت یہ پتہ چلے گا کہ کریش کا سبب کیا تھا۔‘
’یہ انڈین فضائیہ کے لیے بہت مشکل صورتحال ہو گی‘
یاد رہے کہ پچھلے 15-16 برس میں انڈین فضائیہ کے ایک درجن سے زیادہ ایس یو -30 جہاز کریش ہوئے ہیں۔
ان حادثوں کی نوعیت کے بارے میں پوچھے جانے پر راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’انڈین فضائیہ جہازوں کے کریش ہونے کی جو جانچ کرتی ہے اس کے بارے میں وہ ماہرین کی رپورٹ کو عام نہیں کرتی۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’انڈسٹری ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کہ اس طیارے کے انجن میں کچھ خرابی ہو سکتی ہے۔‘
راہل بتاتے ہیں کہ ’اس سے پہلے انڈین فضائیہ کا مگ -21 جنگی جہازوں کا تجربہ رہا ہے۔ گزشتہ 50 – 55 برس میں تقریباً 470 مگ جنگی جہاز کریش ہوئے۔ مگ-21 کے انجن میں بھی خامیاں تھیں لیکن اس وقت سوویت یونین اور بعد میں روس نے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔‘
’چند برس قبل ایس یو – ایم کے آئی کے انجن میں خرابی کا کچھ ذکر سامنے آیا تھا لیکن یہ بحث آگے نہیں بڑھ سکی یا اس معاملے کو دبا دیا گیا۔‘
آسام میں انڈین لڑاکا طیارے کے کریش کا تازہ حادثہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا نے حال ہی میں دبئی ایئر شو کے دوران ایک تیجس طیارے کے کریش کی انکوائری کے بعد فضائیہ میں شامل سبھی تیجس جنگی طیاروں کی پرواز کو روک دیا ہے۔
راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’یہ انڈین فضائیہ کے لیے بہت تشویش کا معاملہ ہے۔ فضائیہ کے پاس اس وقت 45 سکواڈرن جنگی جہاز ہونے چاہییں لیکن اس وقت ان کی تعداد کم ہو کر صرف 29 سکواڈرن رہ گئی ہے۔‘
ان کے مطابق’ فضائیہ میں دیسی ساخت کے 30 سے 32 تیجس جہاز ہیں اور اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو یہ تعداد اور بھی کم ہو جائے گی۔ اگر ایس یو-30 ایم کے آئی میں بھی انکوائری کے بعد کوئی کمی نکل کر آتی ہے تو یہ انڈین فضائیہ کے لیے بہت مشکل صورتحال ہو گی۔‘