چھ ہزار سال پہلے معدوم ہونے والے ’مقدس‘ جانور کی دریافت، جس کا مقامی لوگ ’شکار نہیں کریں گے‘

    • مصنف, لانا لام
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

لگ بھگ چھ ہزار سال پہلے کرہ ارض سے معدوم ہو جانے والے دو جانوروں کی دوبارہ دریافت کو زبردست سائنسی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چھ ہزار سال پہلے دُودھ پلانے والا جانور پوسم اور درختوں پر پائے جانے والے رنگ ٹیلڈ گلائیڈرز کو اب انڈونیشیا کے صوبے ویسٹ پاپوا میں دیکھا گیا ہے۔

یہ دونوں جانور ویسٹ پاپوا کے برساتی جنگلوں میں دیکھے گئے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چھ ہزار سال قبل معدوم ہونے والے جانوروں کی زندہ مثالیں تلاش کرنا نایاب ہے لیکن دو جانوروں کی یہ دریافت ’قابل ذکر‘ واقعہ ہے۔

ان سائنسدانوں نے آسٹریلین جریدے ’ریکارڈز‘ میں اپنے نتائج شائع کیے ہیں۔

اس طرح کی دریافتوں کو ’لزارس ٹیکسن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح بائبل کی ایک شخصیت سے متاثر ہے جو مُردوں میں سے جی اٹھا تھا۔

ممتاز آسٹریلوی سائنسدان پروفیسر ٹِم فلانری کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی دریافت ہے۔ ٹِم فلانری سنہ 2005 میں لکھی گئی اپنی کتاب ’دی ویدر میکرز‘ کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔

اُن کے بقول ’دو معدوم ہو جانے والی جانوروں کی نسل کی دریافت جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں سال سے معدوم ہے چکے ہیں، یہ واقعی قابلِ ذکر بات ہے۔‘

پہلے دریافت ہونے والا جانور پوسم ہے جو اپنے ہاتھوں کی لمبی اُنگلیوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایک دھاری دار چوہے کی طرح دکھنے والا جانور ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آسٹریلیا میں برفانی دور کے دوران غائب ہو گیا تھا۔ اس کا وزن 200 گرام بتایا گیا ہے۔

اس جانور کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ہاتھوں کی چوتھی اُنگلی باقی اُنگلیوں کے مقابلے میں بڑی ہے، جو اسے خوراک کی تلاش میں مدد دیتی ہے۔

دوسری دریافت ہونے والی قسم دم دار گلائیڈر کی ہے اور یہ گھنے درختوں کے کھوکھلے حصوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

نیو گنی کے دور دراز مقامات کا دورہ کرنے سے پہلے سائنسدانوں نے کئی دہائیوں پرانے فوسلز، نایاب تصاویر اور پرانے نمونوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک پہیلی کے کچھ حصوں کو جوڑ کر یہ دریافتیں کیں۔

پروفیسر ٹِم فلانری کے ساتھ ایک اور شریک مصنف کرس ہیلگن اور پاپاؤ یونیورسٹی کے محققین نے اس حوالے سے مقامی قبیلوں کے بزرگوں سے بات کی، جن میں سے کچھ کا صرف 1960 کی دہائی سے جدید دنیا سے رابطہ رہا۔

محققین کے مطابق ان افراد کی مدد کے بغیر ان دریافت ہونے والی انواع کی شناخت ممکن نہیں تھی۔

پروفیسر ٹِم فلانری کہتے ہیں کہ یہ بہت روایتی لوگ ہیں اور گلائیڈر کو بہت مقدس مانتے ہیں۔ ’وہ اس کا شکار نہیں کریں گے بلکہ اس کا نام بھی نہیں لیں گے۔‘

پروفیسر ٹِم فلانری کہتے ہیں کہ اس علاقے میں جنگلوں کی کٹائی کی وجہ سے گلائیڈرز کا مسکن تیزی سے خطرے میں آ رہا تھا۔

اُن کے بقول اسی کے پیشِ نظر سائنسدانوں اور جنگی حیات کے گروہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مقامی لوگوں کی رضا مندی کے بغیر درختوں کی کٹائی نہیں کی جا سکتی۔