دھوئیں کے بادل، خون آلود بستے اور چیختے لوگ: ایران میں سکول پر حملے کی ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر کیا بتاتی ہیں؟

    • مصنف, مارلین تھامس، شایان سرداریزادے، باربرا میڈزلر
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

​انتباہ: اس خبر میں شامل تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا جائے تو تہران کے جنوبی حصے میں ایک سکول کے اردگرد متعدد حملوں اور جلنے کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔ ان نشانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس مقام کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والے اس حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے۔

تصدیق شدہ ویڈیوز اور سیٹلائیٹ تصاویر میں میناب کے پرائمری سکول ’شجرہ طیبہ‘ اور اس کے ساتھ واقع پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمپاؤنڈ کے اردگرد شدید تباہی دکھائی دیتی ہے۔

اسلحے کے ماہر تجزیہ کار این آر جنزن جونز کہتے ہیں کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے کو کئی بار بیک وقت یا یکے بعد دیگرے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

تصاویر میں دو عمارتیں واضح طور پر متاثر نظر آتی ہیں جن میں سے ایک آئی آر جی سی کا کمپاؤنڈ ہے جو مکمل طور پر تباہ ہو چکا جبکہ دوسری سکول کی عمارت جو جزوی طور پر منہدم ہے۔

حملے کے فوری بعد کی تصدیق شدہ فوٹیج میں لوگوں کو گھبراہٹ میں چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور لوگ ملبے تلے متاثرین کو تلاش کر رہے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں لوگ بچوں کے بستے اور کتابیں اٹھائے دکھائی دیتے ہیں۔

تین دن بعد جو فضائی مناظر سامنے آئے اس میں کم از کم 100 قبروں کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں جو یا تو نشان زدہ تھیں یا تازہ کھودی گئی تھیں۔

ایرانی حکام نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا تاہم دونوں ممالک نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے اس علاقے میں کسی کارروائی کا علم نہیں جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ’کبھی بھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتا‘ اور ساتھ ہی کہا کہ واشنگٹن اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ایران میں جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے اس واقعے کی تفصیلات کو آزادانہ طور پر جانچنا بھی مشکل بنا دیا۔

حملے کے اصل ہدف کی قیاس آرائیاں

اس بارے میں شدید قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ایران میں اس حملے کا اصل ہدف کیا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:45بجے ہوا۔ بی بی سی ویریفائی نے سنیچر کی صبح سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں حملے کے فوری بعد کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

ایک ویڈیو میں ایک شخص پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمپاؤنڈ کے شمال مشرق میں واقع سکول کے صحن میں داخل ہوتے ہوئے ریکارڈنگ کرتا ہے۔

ویڈیو میں داخلی دروازے کے اوپر لگے بورڈ کا ایک حصہ نظر آتا ہے جس پر فارسی میں ’پرائمری سکول‘ کے لفظ کے ابتدائی تین حروف واضح ہیں۔

سکول کے صحن کے اندر سے سیاہ دھوئیں کے چار بادل دکھائی دیتے ہیں جن میں سے دو نسبتاً چھوٹے ہیں اور مرکزی سکول کی عمارت کی بالائی منزل کی کھڑکیوں سے نکل رہے ہیں۔

سکول کی دیواروں پر بچوں کی تصویریں سجی ہیں اور فارسی حروفِ تہجی میں عبارات لکھی ہیں اور یہاں کا صحن عمارت کو پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمپاؤنڈ سے الگ کرتا ہے۔

چلتی گاڑی سے فلمائی گئی ایک اور ویڈیو میں آئی آر جی سی کمپاؤنڈ کا جنوبی کونہ واضح ہے اور جس میں داخلی راستے پر لگا بورڈ دکھائی دیتا ہے۔

اس ویڈیو میں داخلی راستوں پر ’سید الشہدا ایجوکیشنل اینڈ کلچرل کور‘ اور ایک میڈیکل کلینک کے دو واضح لوگو(نشان) نظر آتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کا تعلق آئی آر جی سی نیوی سے ہے۔

فوٹیج میں کم از کم تین ستونوں کی شکل میں سیاہ دھواں دکھائی دے رہا ہے۔ دو داخلی راستے کے قریب اور تیسرا میڈیکل کلینک کے پیچھے کچھ فاصلے سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے۔

تصدیق شدہ ویڈیوز میں دھوئیں کے بادل اسی جگہ سے اٹھ رہے ہیں جہاں سیٹلائٹ تصاویر میں واضح اور شدید نقصان دکھائی دیتا ہے۔

اس کے اگلے روز بنائی گئی فوٹیج میں صاف نظر آتا ہے کہ سکول کی عمارت تباہ حال ہے۔

امدادی ٹیمیں ملبے میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں جبکہ پریشان حال خاندان صحن میں آہستہ آہستہ حرکت کرتے نظر آتے ہیں جن میں سے بعض رو رہے ہیں۔

بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ پر دکھایا گیا ہے جو ملبے کے نیچے سے ایک بچے کا کٹا ہوا بازو نکالتے ہیں۔ ملبے تلے سکول کی کتابیں اور خون آلود بستے بھی ویڈیو کا حصہ ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر کیا دکھاتی ہیں؟

جائے حادثہ سے مزید فوٹیج کی عدم دستیابی یا عینی شاہدین تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سیٹلائٹ تصاویر واقعات کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

چار مارچ کو یعنی اس واقعے کے چار دن بعد پلانٹ لیبز کی جانب سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں اس سے زیادہ وسیع پیمانے پر تباہی دکھائی دے رہی ہے جتنی پہلے تصدیق شدہ ویڈیوز میں نظر آئی تھی۔

علاقے کی کئی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور بی بی سی ویریفائی نے کم از کم پانچ ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی، جن پر جلنے کے سیاہ نشانات واضح ہیں۔

یہ تمام علامتیں وہاں بار بار حملوں کے امکانات کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔

اوریگن سٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ سیٹلائٹ تصاویر کے ماہر جیمون وین ڈن ہوک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دیکھا جائے توحملے کے مقامات کا اتنا زیادہ قریب ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک یا زیادہ اہداف ایک دوسرے کے قریب واقع تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس علاقے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا تاہم یہ معلوم نہیں کہ وہ کس چیز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔‘

میکینزی انٹیلیجنس سروسز کے ایک سینیئر تجزیہ کار نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ دو منزلہ سکول کی عمارت کی نچلی منزل پر موجود گڑھا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید خاص قسم کا گولہ بارود استعمال کیا گیا تھا جو ’عمارت کی گہرائی تک پہنچ سکے۔‘

کیا سکول آئی جی آر سی کی عمارت سے الگ تھا؟

سکول کی عمارت پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمپاؤنڈ کے قریب واقع ہے۔

سنہ 2013 کی سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دیتا ہے کہ سکول کی عمارت اسی کمپاؤنڈ کا حصہ تھی جبکہ 2016 کی تصاویر میں ایک دیوار نظر آتی ہے جو اسے (آئی آر جی سی) سے الگ کرتی ہے۔

حملے کی ذمہ داری

ایران کا الزام ہے کہ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل نے کیا تاہم اسرائیل اور امریکہ دونوں نے ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اسرائیل نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ اسے اس علاقے میں اسرائیلی فوج کے کسی آپریشن کی ’خبر نہیں‘ تاہم وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ ابھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم کبھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک وضاحتی نقشہ پیش کیا گیا جس میں ایران کے ساتھ جنگ کے ’ابتدائی 100 گھنٹوں‘ کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس نقشے میں جنوبی ساحل کے ساتھ ایران کے فضائی دفاعی نظام اور حملوں کے مقامات کو دکھایا گیا اور اس میں میناب کا علاقہ بھی شامل ہے۔

گولہ بارود اور ہتھیاروں کے باقی ماندہ حصوں کی مزید فوٹیج کے بغیر یہ واضح طور پر بتانا ممکن نہیں کہ اس حملے کا اصل ذمہ دار کون ہے۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ایک تصویر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ دھماکہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ناکام میزائل کی وجہ سے ہوا۔

تاہم اس تصویر کا تعلق میناب سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور واقع زنجان میں پیش آنے والے واقعے سے پایا گیا۔

آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر جینزن جونز کہتے ہیں کہ ’یہاں نظر آنے والا شدید دھماکہ ایرانی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی وجہ سے ہونے کا امکان اس لیے نہیں کہ اس میں نسبتاً چھوٹے دھماکہ خیز وار ہیڈز ہوتے ہیں۔‘

مارے جانے والے کون تھے؟

ایرانی حکام کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 168 افراد میں سے زیادہ تر بچے تھے تاہم بی بی سی ویریفائی دستیاب فوٹیج کے ذریعے ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

یہ بھی واضح نہیں کہ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے کسی رکن کی موت ہوئی ہو یا وہاں اس وقت کون موجود تھا۔

ایران کی وزارتِ تعلیم کے مطابق اس سکول میں کل 264 طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔

ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی ہاتھ سے لکھی گئی ایک فہرست میں ہلاک ہونے والے 56 افراد کے نام درج اور تاریخِ پیدائش بھی درج ہیں۔

ان میں سے 48 کی عمریں چھ سے گیارہ سال کے درمیان ہیں۔

بی بی سی ویریفائی ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا تاہم کم از کم تین نام ایک اور ویڈیو میں بھی دکھائی دیتے ہیں جہاں تابوتوں پر فہرست والے نام درج ہیں۔

تصاویر میں تین بچوں کی لاشیں بظاہر بیگز میں رکھی دکھائی دیتی ہیں۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (ہرانا) کے مطابق اس جنگ کے آغاز سے اب تک 1,114 ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 183 بچے شامل ہیں۔

حملے کے چند دن بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے جنازے کے جلوس کی فوٹیج نشر کی جس میں ہزاروں افراد سڑکوں پر قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔

اس فوٹیج میں ایرانی پرچم میں لپٹے کچھ تابوت بچوں کی جسامت کے بھی ہیں جبکہ جنازے میں موجود خواتین نے بھی بچوں اور بچیوں کی تصاویر تھام رکھی تھیں۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے ایک تصویر شائع کی اور لکھا کہ اس حملے میں 14 سکول اساتذہ بھی ہلاک ہوئے۔

اس مضمون میں اضافی رپورٹنگ پال براؤن کی جانب سے کی گئی۔