آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران میں کہاں کہاں بمباری ہوئی اور کن امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے کیے گئے؟
امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں بمباری کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات پر ایرانی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ اور وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاعی نظام تباہ ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ فوجی کارروائیاں ’پورے زور و شور کے ساتھ‘ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک واشنگٹن کے تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔
جبکہ کچھ روز قبل ایران نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حملے میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے ہیں۔
تہران میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تہران میں کیے گئے حملوں کا ہدف اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات کے اجتماعات تھے۔
ایرانی دارالحکومت سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں سنیچر کے روز شہر کے اوپر بڑے پیمانے پر دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔
بی بی سی ویریفائی نے اسی صبح شہر کی سیٹلائٹ کی مدد سے لی جانے والی تصاویر حاصل کیں، جن میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر، لیڈرشپ ہاؤس کے کمپاؤنڈ کے ایک حصے کو نمایاں طور پر پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا۔
بی بی سی ویریفائی اب تک تہران کے 13 مختلف مقامات پر حملوں کے ویڈیو شواہد کی تصدیق کر چکا ہے، جبکہ ایران کے 12 دیگر قصبوں اور شہروں میں بھی حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایران کے باقی حصوں میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی میں کم از کم 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس حملے کے دوران چھ امریکی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ شدید زخمی بھی ہوئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سنیچر کے روز ملک کے جنوبی شہر میناب میں ایک بچیوں کے ایک سکول پر تین میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 153 افراد ہلاک ہوئے۔ بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
کرمانشاہ اور تبریز میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ملک کے جنوب میں کنارک میں ایرانی بحریہ کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے نو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور ان کے بحریہ کے ہیڈکوارٹر کو ’بڑی حد تک تباہ‘ کر دیا ہے۔
لبنان میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
لبنان میں پیر کے روز کم از کم 31 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کیے تھے۔
یہ حملے اس گروپ کی جانب سے اسرائیلی شہر حیفہ پر راکٹ داغے جانے کے بعد کیے گئے تھے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ایک روز قبل ایک ایرانی میزائل اسرائیل کے ایک شہر میں پناہ لینے والے افراد پر آ گرا، جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔
اسرائیل کی فضائی کارروائی نے لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ شہر کے ہوائی اڈے کے قریب علاقوں کو بھی ہدف بنایا گیا۔
ایران نے کن مقامات کو نشانہ بنایا؟
ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی اور خلیجی ممالک پر فضائی حملوں کا الزام بھی اسی پر عائد کیا گیا ہے۔
قطر کے ایک بڑے گیس پلانٹ پر ایران کے نئے حملوں کی اطلاع ملیں جہاں وزارتِ دفاع نے بعد میں بتایا کہ اس نے دو ایرانی طیارے، سات میزائل اور پانچ ڈرون مار گرائے۔
ریسکیو اداروں کے مطابق اتوار کے روز ایک میزائل اسرائیلی شہر بیت شیمش پر آ گرا جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق دبئی اور ابوظہبی میں حملوں کے دوران اتوار کو تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
کویت کی وزارتِ صحت نے اتوار کو ایک ہلاکت کی اطلاع دی۔ حکام کے مطابق علی السالم فضائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جنھیں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پیر کے روز ملک کی فوج نے ’بظاہر دوستانہ فائرنگ کے واقعے‘ میں تین امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام چھ اہلکار بحفاظت طیاروں سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔
ہمسایہ ملک عراق میں پیر کے روز اربیل ایئرپورٹ کے اوپر تین جنگی ڈرون مار گرانے کی اطلاعات بھی ہیں، جہاں امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج تعینات ہیں۔
بحرین کے نیشنل کمیونیکیشن سینٹر نے سنیچر کے روز بتایا کہ امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے سروس سینٹر کو ’میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔‘
بحرین ہی میں ایک تصدیق شدہ ویڈیو کلپ جو ایک چلتی گاڑی سے فلمایا گیا میں اس لمحے کو دکھایا گیا ہے کہ جب ایک میزائل ہدف سے ٹکراتا ہے۔ اس کے بعد ایک دھماکہ ہوتا ہے جس سے بہت سا ملبہ فضا میں بکھر جاتا ہے۔
ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اتوار کی شام امریکی بحری اڈے پر ڈرون حملے سے شدید آگ بھڑک اٹھی تاہم جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘
عہدیدار کے مطابق بحرین میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سعودی عرب میں سرکاری حکام کے مطابق راس تنورہ آئل ریفائنری جو ملک کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے زیرِ انتظام ہے کو دو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اس میں لگنے والی آگ پر پیر کے روز قابو پا لیا گیا تھا۔اسرائیل کے ہمسایہ مُلک اردن کے حکام نے بتایا کہ اس کی مسلح افواج نے اس کی جانب داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا۔
جبکہ عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو اطلاع دی کہ دقم کی کمرشل بندرگاہ کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک کارکن زخمی ہوا۔
قبرص میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس نے اعلان کیا کہ اتوار کو رات 10 بجے ایک ایرانی ڈرون برطانوی رائل ایئر فورس کے اڈے آکروتیری سے ٹکرا گیا۔
کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور اڈے کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا، تاہم برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر حملے کا نشانہ بننے والے علاقے سے محفوظ مقام کی جانب منتقل کر دیا گیا۔
پیر کے روز قبرص کی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ آر اے ایف آکروتیری کی جانب بڑھنے والے مزید دو ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا۔
یہ تنازع عالمی معیشت کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟
پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جبکہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور گیس کی پیداوار سے منسلک کمپنیوں، انشورنس اداروں اور شپنگ کمپنیوں کو بھی شدید اثرات کا سامنا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پیدا کرنے والے ادارے قطر انرجی کے اپنی پیداوار روکنے کے اعلان کے بعد یورپی گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
قطر دنیا بھر میں ایل این جی کی مجموعی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کئی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔